Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 055 (Jesus the light of the world)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ج : یسُوع کی یروشلیم میں آخری آمد۔ (يوحنَّا ۷: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴﴾ تاریکی اور نُور کی علحدگی٠

۔۱۔ عیدِ خیام کے موقع پر یسُوع کا کلام (یُوحنّا ۷: ۱ ۔ ۸: ۵۹)٠

د ۔ یسُوع دُنیا کا نُور ہیں (یُوحنّا ۸: ۱۲۔۲۹)٠


یُوحناّ ۸: ۱۲
۔۱۲ یسُوع نے پھر اُن سے مخاطب ہو کر کہا: دُنیا کا نُور میں ہُوں۔ جو میری پیروی کرے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نُور پائے گا۔

یسُوع ایزدی نُور ہیں۔ جو بھی آپ کے قریب آتا ہے، وہ کھُل جاتا ہے، پرکھ لیا جاتا ہے، واقفیت حاصل کر لیتا ہے اور صحت یاب ہوتا ہے تاکہ مسیح میں نُور بن جائے۔یسُوع کے علاوہ دوسرا کوئی نُور ہمیں منوّر نہیں کر سکتا اور نہ ہمارے بد طینت دلوں کو شفا بخش سکتا ہے۔اگر سبھی فلسفوں اور مذاہب کا جائزہ لیا جائے تو وہ کمزور نظر آئیں گے کیونکہ وہ خیالی نجات اور جنّتوں کے وعدے کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کو اندھے پن کی گہرائیوں میں لے جاکر وہاں باندھ دیتے ہیں۔ یسُوع کا نُور مُنوّر سورج کی مانند ہوتا ہے جو انسان کے جان کی تجدید کرتا ہے لیکن یہ جان کی تجدید ایک شرط پر منحصر ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ ہم ایمان کے ساتھ یسُوع کے پاس پہنچیں اور اپنی نفس کُشی کرکے آپ کی پیروی کریں۔اور اس طرح یسُوع کی مستقل پیروی کرنے سے ہم تاریکی سے نُور کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ ہم آپ کے نُور میں راہ پاتے ہیں جو ہمیں منزلِ مقصود تک پہنچاتی ہے یعنی خدا باپ اور بیٹے کا جلال جو زندگی کی آب و تاب میں حاصل ہوتا ہے۔

یُوحناّ ۸: ۱۳۔۱٦
۔۱۳ فریسیوں نے اُس سے کہا: تُو اپنی گواہی آپ دیتا ہے۔تیری گواہی سچّی نہیں۔ ۱۴ یسُوع نے جواب میں اُس سے کہا:اگرچہ میں اپنی گواہی آپ دیتا ہُوں تو بھی میری گواہی سچّی ہے کیونکہ مُجھے معلوم ہے کہ میں کہاں سے آیا ہُوں اور کہاں کو جاتا ہُوں۔ ۱۵ تُم جسم کے مطابق فیصلہ کرتے ہو۔ میں کسی کا فیصلہ نہیں کرتا۔ ۱٦ اور اگر میں فیصلہ کروں بھی تو میرا فیصلہ سچّا ہے کیونکہ میں اکیلا نہیں بلکہ میں ہُوں اور باپ ہے جس نے مُجھے بھیجا ہے۔

یسُوع کے مستعمل فقرہ، "میں ہُوں" سے یہودیوں کی توہین ہُوئی تھی۔ وہ سوچتے تھے کہ آپ شیخی باز اور مغرور ہو گیے ہیں جو اپنے آپ کو دُنیا کا نُور بتاتے ہیں۔ اُنہوں نے آپ کی گواہی کو غلط اور جھُوٹ قرار دیا جو لوگوں کی جانوں کو بڑے پیمانہ پر دھوکا دے رہی تھی۔

یسُوع نے جواب دیا:"میری خود اپنے بارے میں دی ہُوئی گواہی سچ ہےکیونکہ میں اپنے آپ کو خود اپنے پیمانہ سے نہیں بلکہ خدا کی سچّائی سے ناپتا ہُوں جس کے ساتھ میں ہمیشہ پیوست رہتا ہُوں۔تُم نہیں جانتے کہ مںد باپ کے پاس سے آیا اور اُسی کے پاس لَوٹ کر جاؤں گا۔میں اپنی طرف سے کُچھ نہیں کہتا بلکہ میرا کلام خدا کی سچّائی سے میل کھاتا ہے۔میرا کلام سچ ہے جو قوّت اور برکت سے معمور ہے"۔

۔"تمہاری اپنی باتیں اوپری ہیں کیونکہ انسان کو صرف بھُوسا دکھائی دیتا ہے۔تُم اپنے آپ کو مُنصِف سمجھتے ہو اور صحیح فیصلہ کرنے کی اپنی قابلیت پر یقین رکھتے ہو لیکن تُم غلطی پر ہو۔ تُم نہ چیزوں کے ماخذ کو جانتے ہو۔ نہ ہی اُن کے اضطرار یا نتائج سے واقف ہو۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ تُم مُجھے نہیں جانتے۔تُم مُجھے محض میری انسانیت کے مطابق پرکھتے ہو لیکن میں ہمیشہ خدا میں اقامت گزیں رہتا ہُوں۔ اگر تُم یہ جان سکے تو دنیا کے اصل جوہر کو بھی جان لو گے"۔

مسیح حق ہیں جو مجسِّم ہُوئے اور آپ دنیا کےمُنصِف ہیں۔آپ ہمیں سزا دینے یا تباہ کرنے نہیں بلکہ نجات دینے آئے ہیں۔ آپ نے کسی بھی بدنصیب، مُجرم یا بے خانماں شخص کو نہیں ٹھُکرایا بلکہ ہر کسی کو نجات دینا چاہا اور اُنہیں اپنی محبّت میں کھینچ لینا چاہا۔کسی سے نفرت نہ کرو بلکہ اُس میں وہ عکس دیکھو جس کی یسُوع تجدید یا تخلیق کرنا چاہتے ہیں۔

یُوحناّ ۸: ۱۷۔۱۸
۔۱۷ اور تمہاری توریت میں بھی لکھا ہے کہ دو آدمیوں کی گواہی مل کر سچّی ہوتی ہے۔ ۱۸ ایک تو میں خود اپنی گواہی دیتا ہُوں اور ایک باپ جس نے مُجھے بھیجا میری گواہی دیتا ہے۔

ہماری کمزوریوں کے باعث یسُوع شریعت کی حد تک اُتر آئے لیکن آپ نے اُسے اپنی شریعت قرار دیا یعنی تمہارا نظام جس کی تُم گنہگاروں کو ضرورت ہے۔ اس شریعت کے ماتحت جس شخص کو سچّائی ثابت کرنی ہوتی تھی اُسے اپنے الزام کی سچّائی مفصِّل طور پر ثابت کرنے کے لیے دو گواہ پیش کرنا لازم ہوتا تھا، تب اُس کے مطابق فیصلہ کیا جاتا تھا (استثنا ۱۷: ۶؛ ۱۹: ۱۵)۔یسُوع نے اِس تقاضہ کا احتجاج نہ کیا۔ آپ نے اپنے اعتراف کو پہلا گواہ قرار دیا اور اپنے باپ کو تصدیق کرنے والا گواہ قرار دیا جو اُن دونوں کے درمیان مکمل مطابقت و ہم آہنگی ثابت کرتا ہے۔ باپ کی ہم آہنگی کے بغیر بیٹا کچھ نہیں کر سکتا۔ مُقدّس تثلیث کا یہی راز ہے۔خدا یسُوع کی گواہی دیتا ہے جس طرح کہ یسُوع خدا کی گواہی دیتے ہیں۔

یُوحناّ ۸: ۱۹۔۲۰
۔۱۹ اُنہوں نے اُس سے کہا: تیرا باپ کہاں ہے؟ یسُوع نے جواب دیا: نہ تُم مُجھے جانتے ہو، نہ میرے باپ کو۔اگر مُجھے جانتے تو میرے باپ کو بھی جانتے۔ ۲۰ اُس نے ہیکل میں تعلیم دیتے وقت یہ باتیں بیتُ المال میں کہیں اور کسی نے اُس کونہ پکڑا کیونکہ ابھی تک اُس کا وقت نہ آیا تھا۔

یہودیوں نے یسُوع کو غلط سمجھا اور وہ جاننا بھی نہ چاہتے تھے بلکہ وہ آپ کوعلانیہ کفر بکتے ہُوئے پھنسانا چاہتے تھے۔ اِس لیے اُنہوں نے آپ سے پُوچھا: آپ باپ کہہ کر کسے پُکارتے ہیں؟ یُوسُف کو مرے ہُوئے کافی عرصہ ہو چُکا تھا اور وہ جانتے تھے کہ آپ کس مطلب سے "میرا باپ" کہتے تھے۔لیکن وہ خود آپ کے مُنہ سے سُننا چاہتے تھے کہ خدا آپ کا باپ ہے۔

یسُوع نے اُنہیں براہِ راست جواب نہ دیا کیونکہ یسُوع کو جانے بغیر خدا کو جاننا ممکن نہیں۔ بیٹا باپ میں ہے اور باپ آپ میں ہے۔ جو بیٹے کو مسترد کرتا ہے وہ صحیح معنوں میں خدا کو کیسے جان سکتا ہے؟ لیکن جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے اور اُس سے محبّت رکھتا ہے اسی پر خدا اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ جو بیٹے کو دیکھتا ہے وہ باپ کو بھی دیکھتا ہے۔

یہ الفاظ ہیکل کے اُس کونے میں کہے گیے جہاں عطیات لیے جاتے تھے۔اس میں شک نہیں کہ ہیکل کے چاروں طرف سپاہی طعینات کیے گیے تھے۔اُن سپاہیوں کے ہوتے ہُوئے بھی کسی نے یسُوع کو گرفتار کرنے کی جرأت نہ کی۔ خدا کا بازو آپ کی حفاظت کر رہا تھا۔ آپ کو پکڑوانے کاخدا نے مقرر کیا ہُوا وقت اب تک نہیں آ پہنچا تھا۔ تمہاراآسمانی باپ ہی تمہارا مستقبل طَے کر سکتا ہے۔

دعا: اے مسیح، ہم آپ کی تعظیم کرتے اور آپ سے محبّت کرتے ہیں۔آپ ہمارا انصاف اس طرح نہ کیجیے جیسا کیا جانا چاہیے (جس کے ہم مستحق ہیں) بلکہ ہمیں بچائیے۔آپ دنیا کا نُور ہیں جو آپ کے قریب آنے والے لوگوں کو مُنوّر کرتا ہے۔ اپنی محبّت کی شعاؤں سے ہماری تجدید کیجیے اور ہمارے سخت دلوں کو ملائم کیجیے تاکہ ہم آپ کو جانیں۔

سوال ۵۹۔ یسُوع کی یہ گواہی کہ آپ دنیا کا نُور ہیں، ہمارے آسمانی باپ کے عرفان سے کیا نسبت رکھتی ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:52 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)