Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 032 (Healing of the court official's son)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

ج ۔ مسیح کی یروشلیم میں پہلی تشریف آوری ۔ (یُوحنّا ۲: ۱۳۔ ۴: ۵۴) ۔ حقیقی عبادت کیا ہے؟

۔۵۔ ایک افسر کے بیٹے کا شِفا پانا (یُوحنّا ۴: ۴۳۔۵۴)٠


یُوحناّ ۴: ۴۳۔۴٦ الف
۔۴۳ پھر ان دو دِنوں کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہو کر گلیل کو گیا۔ ۴۴ کیونکہ یسوع نے خود گواہی دی کہ نبی اپنے وطن میں عزت نہیں پاتا۔ ۴۵ پس جب وہ گلیل میں آیا تو گلیلیوں نے اسے قبول کیا۔اس لےو کے جتنے کام اس نے یروشلیم میں عید کے وقت کیےتے انہوں نےانکو دیکھا تھا کیونکہ وہ عید میں گیے تھے۔ ۴٦ الف پس وہ قانایِ گلیل میں آیا جہاں اس نے پانی کو مَے بنایا تھا۔

یسُوع اور آپ کے شاگردوں نے سامریہ میں ابدی زندگی کی قوّت اور نہایت خوشی کے ساتھ اِنجیل کی منادی کی۔ ابھی اورقوموں تک اِنجیل کا پیغام پہنچانے کا وقت نہیں آیا تھا۔آپ کو سب سے پہلے خود اپنے وطن میں بد رُوحوں کو شکست دینی تھی۔ ناصرت کے باشندوں کی تضحیک اور تشدّ د کے امکان کے باوجود آپ براہِ راست گلیل پہنچے۔آپ کے دوست واحباب اور رشتہ دار اب تک آپ کی اُلوہتن پر ایمان نہ لائے تھے،کیونکہ آپ ایک ادنیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔اُن کی نگاہ دولت اور شہرت پر رہتی تھی اور وہ یسُوع کی غُربت کی تحقیر کرتے تھے۔اس بدگمانی کے باعث آپ اُن کے درمیان کوئی معجزہ نہ دکھا سکے۔

بطورشافی ،مسیح کی شہرت دور دراز تک پھیل چکی تھی۔یروشلیم میں آپ نے دکھائے ہُوئے معجزات کی خبریں آپ کے گلیل پہنچنے سے پہلے ہی وہاں پہنچ چُکی تھیں۔ عیدِ فسح کے موقع پر بہت سے گلیلی یروشلیم آئے تھےاور اُنہوں نے وہ سب سُنا اور دیکھا تھا جو یسُوع نے وہاں کیا یا کہا تھاکیونکہ آپ نہایت اختیار کے ساتھ اپنا کلام سُناتے تھے۔جب آپ گلیل کے دیہاتوں میں پہنچے تو لوگوں نے آپ کا نہایت پُر جوش استقبال کیا اور امید رکھتے تھے کہ آپ اُن کے بیچ میں بھی معجزے دکھائیں گے تاکہ اُنہیں کچھ فائدہ ہو ۔یسُوع قانا میں دُلہا کے گھر واپس گئےجہاں آپ نے شادی کی خوشیوں میں اِضافہ کیا تھا۔آپ اُن لوگوں میں اپنی خدمت مکمل کرنا چاہتا تھے جو قانا میں آپ کا پہلا معجزہ کو دیکھنےکے بعدآپ کا احترام کرنے لگے تھے۔

یُوحناّ ۴: ۴٦ ب ۔۵۴
۔۴۶ ب اور بادشاہ کا ایک ملازم تھاجسکا بیٹا کفر نحوم میں بیمار تھا۔ ۴۷ وہ یہ سنکر کہ یسوع یہودیہ سے گلیل میں آگیا ہے ، اسکے پاس گیا اور اس سے درخواست کرنے لگا کہ چل کر میرے بیٹے کو شفا بخش کیونکہ وہ مرنے کو تھا۔ ۴۸ یسوع نے اس سے کہا جب تک تم نشان اور عجیب کام نہ دیکھو ہرگز ایمان نہ لاؤ گے۔ ۴۹ بادشاہ کے ملازم نے اس سے کہا ،اے خداوند، میرے بچہ کے مرنے کے پہلے چل۔ ۵۰ یسوع نے اس سے کہا ،جا تیرا بیٹا جیتا ہے۔اس شخص نے اس بات کا یقین کیا جو یسوع نے اس سے کہی اور چلا گیا۔ ۵۱ وہ راستہ ہی میں تھا کہ اسکے نوکر اسے ملے اور کہنے لگے کہ تیرا بیٹا جیتا ہے۔ ۵۲ اس نے ان سے پوچھا کہ اسے کس وقت سے آرام ہونے لگا تھا؟انہوں نے کہا کہ کل ساتوں گھنٹے میں اسکی تپ اترگئی۔ ۵۳ پس باپ جان گیا کہ وہی وقت تھا جب یسوع نے اس سے کہا تھا ،تیرا بیٹا جیتا ہے اور وہ خود اور اسکا سارا گھرانا ایمان لایا۔ ۵۴ یہ دوسرا معجزہ ہے جو یسوع نے یہودیہ سے گلیل میں آکر دکھایا۔

شاہی محل کا ایک اہم افسرجس نےیسُوع اور آپ کے اختیار کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا،آپ کے پاس آیا۔اُس گاؤں کے لوگوں کو جب اُس افسر کے آمد کی خبر ہُوئی تو کہا:"وہ شافی کے پاس آرہا ہے تاکہ آپ کا بادشاہ سے تعارف کرائے"۔

اس افسر کا بیٹا کفر نحوم میں جھیل کے کنارے بیمارپڑا تھا۔اُس کے باپ نے بہت سے طبیب آزمائے اور کافی دولت بھی خرچ کی مگر اُس کا بیٹا شفا یاب نہ ہُوا۔آخرکاروہ یسوع کے پاس آیا لیکن اُسے یقین نہ تھا کہ آپ اُس کی مدد کریں گے بھی یا نہیں؟۔وہ چاہتا تھا کہ یسُوع قانا سے نکل کر اُس کے ہمراہ کفرنحوم چلیں کیونکہ اُسے امیّد تھی کہ آپ کی محض موجودگی سےہی اسکا بیٹا شفا پائے گا۔

یسُوع نے اس اعلیٰ افسر کے استقبال کرتے وقت اُسے خوامخواہ کوئی اہمیت نہ دی بلکہ آپ کو افسوس ہُوا کیونکہ اُس افسر میں ایمان مطلق نہ تھا۔جب تک کوئی شخص یسُوع کی لاثانی ہستی پریقینی طور پر ایمان نہیں لاتا، آپ اُس کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔کئی لوگ محض دنیاوی مفاد کی خاطر دعا تو کرتے ہیں اور ایمان بھی لاتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ شک بھی کرتے ہیں ۔ خداوند پر ایمان لانے والاحقیقی معتقد مدد ملنے سے پہلے ہی آپ کے کلام پر بنا شرط اعتقاد رکھتا ہے۔

یہ افسر یسُو ع کی سرزنش کے باوجود برہم نہ ہُوا بلکہ نہایت حلیمی کے ساتھ آپ سے "اے خداوند" کہہ کر مخاطب ہُوا جو کہ یونانی روایات کے مطابق اپنے آپکو مسیح کا خادم کہنے کے مترادف تھا۔ اپنے بیٹے کے لےک محّبت اور یسُوع کے لیے احترام نے اسے پھر مجبور کیاکہ وہ دوبارہ یسُوع سے کفرنحوم آنے کو کہےتاکہ اسکے بیٹے کی جان بچ سکے۔

یسُوع نے یہ دیکھتے ہوئے کہ وه افسرآپ کی اُلوہیت پرایمان لانا چاہتاہے، فرمایا، "جا تیرا بیٹا سلامت رہےگا۔" یسُوع نے اُس افسر کے ساتھ کفرنحوم جانے سے الکار کیا لیکن آپ نے باپ کی محبّت کو آزماتے ہوئے اسکے ایمان کو بحال کیا۔کیا اس باپ کویقین تھا کہ اُن کے اور بیمار بچّے کے درمیان اِس قدر طویل فاصلہ ہونے کے باوجودیسُوع اُسے شِفا دے سکتے ہیں؟

اِس گفتگو کے دوران اُس افسر کو یسُوع کی اخلاقی فطرت اور محّبت کا اندازہ ہُوا۔اسے یقین ہُوا کہ یسُوع نہ تو جھوٹ بولیں گے اور نہ ہی اسکا مذاق اڑائیں گے۔اب اُسے یقین ہوگیا حالانکہ اُس نے اپنے بیٹے کی شفایابی خود اپنے آنکھوں سے نہ دیکھی ۔یسُوع کےحکم پرعمل کرتے ہوئے وہ کفر نحوم کو لوٹ گیا۔حکم کی اطاعت کے مطابق اُس کی واپسی سے یسُوع کا احترام ہُوا اور شفایابی کی تصدیق ہُوئی۔وه افسر قائل ہو گیا كہ اگر یسُوع اُس کے قریبُ المرگ بیٹے کو شِفا دے سکتے ہیں تو یقیناً آپ سب سے عظیم ہیں۔یہ شِفا یابی آپ کے اختیار اور اُلوہیت کو ثابت کرتی ہےاوریہ واپسی اُس افسر کے ایمان کے پختہ ہونے کے لیے بھی تربیت کا باعث ٹھہری۔

یسُوع نے ہی اس افسر کے نوکروں کوتوفیق دی کہ وہ جلد از جلد جاکر اپنے مالک کو اسکے بیٹے کی مکمل شفایابی کی خبر سنائیں ۔اِس سے اسکی سب پریشانیاں دور ہوگںیی اور اس نے خدا کی تمجید کی۔وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ اسکے بیٹے کا بخار کب اترا، اِس لیےاُسے بتایا گیا کہ یہ واقعہ دوپہر سے کچھ ہی دیر بعدپیش آیا۔ یہی وہ وقت تھا جب یسُوع کے مُنہ سے شفا بخش الفاظ نکلے تھے۔

اِس افسر نے شکرگزاری کے ساتھ اپنے گھر والوں کو گواہی دی کہ مسیح کی محبّت میں زبردست قوّت تھی۔

یہ دوسرا معجزہ ہے جسے مُبشِّر یُوحنّا نے قلمبند کیاہے۔مسیح کی تاثیر شاہی محل تک بھی پہنچ گئی۔ لوگ نہایت اشتیاق سے اگلے کارناموں کو دیکھنے کے منتظر تھے۔اُنہیں یقین ہوگیا کہ مسیح پر ایمان لانا ہی ایسی عبادت ہے جسے خدا قبول کرتاہے اور اُس کی مختلف نشانیوں اور عظیم کارناموں کے ذریعہ تصدیق کرتا ہے۔

دعا: اے خداوند یسُوع ،ہم آپ کی آمد کیلئے شکرگزار ہیں۔آپ نے کفرنحوم کے قریبُ المرگ بچّے کو شفا بخشی حالانکہ آپ بذاتِ خود اُس سے کافی دور تھے۔آپ نے اس باپ کو اپنا ایمان مستحکم کرنے کی توفیق دی۔ ہمیں بھی آپ کی محّبت اورقوّت پراعتقاد رکھنے کی تلقین کیجیے۔ہم گناہ اور اپنی خطاؤں میں مرے ہُوئے لوگوں کی نجات کے لیے دعا مانگتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ آپ ہماری دعا کا خاطر خواہ جواب دیں گے۔

سوال ۳٦۔ اپنےایمان کی مظبوطی کی خاطر اُس افسر کو کن مرحلوں سےگزرنا پڑا؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 11:06 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)