Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 031 (Jesus leads his disciples to see the ready harvest; Evangelism in Samaria)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

ج ۔ مسیح کی یروشلیم میں پہلی تشریف آوری ۔ (یُوحنّا ۲: ۱۳۔ ۴: ۵۴) ۔ حقیقی عبادت کیا ہے؟

٤ - یسُوع سامریہ میں ﴿يوحنا ۴: ١- ۴٢﴾٠

ب- یسُوع اپنے شاگردوں کو پکی ہُوئی فصل دکھاتے ہیں (یُوحنّا ۴: ۲۷۔۳۸)٠


یُوحناّ ۴: ۳۱۔۳۸
۔۳۱ اتنے میں اسکے شاگرد اس سے یہ درخواست کرنے لگے کہ اے ربّی! کچھ کھالے۔۲۳ لیکن اُس نے اُن سے کہا میرے پاس کھانے کے لیے ایسا کھانا ہے جسے تم نہیں جانتے۔ ۳۳ پس شاگردوں نے آپس میں کہا کیا کوئی اسکے لیے کچھ کھانے کو لایا ہے۔ ۳۴ یسوع نے ان سے کہا میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اسکا کام پورا کروں۔ ۳۵ کیا تم کہتے نہیں کہ فصل کے آنے میں ابھی چار مہینے باقی ہیں۔دیکھو میں تم سے کہتا ہوں اپنی آنکھیں اٹھا کر کھیتوں پر نظر کرو کہ فصل پک گئی ہے۔ ۳٦ اور کاٹنے والا مزدوری پاتا اور ہمیشہ کی زندگی کے لیے پھل جمع کرتا ہے تاکہ بونے والا اور کاٹنے والا دونوں مل کر خوشی کریں۔ ۳۷ کیونکہ اس پر یہ مثل ٹھیک آتی ہے کہ بونے والا اور ہے کاٹنے والا اور۔ ۳۸ میں نے تمہیں وہ کھیت کاٹنے کے لیے بھیجا جس پر تم نے محنت نہیں کی۔اوروں نے محنت کی اور تم انکی محنت کے پھل میں شریک ہوئے۔

اُس گنہگار عورت کی جان کومُخلصی دے کر اُسے ہمیشہ کی زندگی کی جانب راغب کر نے کے بعد یسُوع اپنے شاگردوں سے مخاطب ہوکر اُن کی بھی ایسی ہی خدمت کرنا چاہتے تھے۔اُن شاگردوں کے خیالات اب بھی دُنیوی تھے جو مادّی اشیاء سے وابستہ تھے۔خدا کی رُوح نے اُس عورت کے دل میں جو تغیُّر لایا اُس سے اُنہیں خوشی نہ ہُوئی۔اس میں شک نہیں کہ کھانا اور پینا زندہ رہنے کے لیے ضروری ہیں ،لیکن روٹی سے بھی زیادہ ضروری کوئی غذا ہےاور پانی سے بھی زیادہ تسلّی بخش کوئی اور شَے ہے۔ وہ اِن باتوں کو اب تک سمجھ نہ پائے تھے۔ وہ یسُوع کی پیروی کرکے حاصل کی ہُوئی پاکیزگی کے باوجود اُس عورت سے بہتر نہ تھے کیونکہ جب تک کوئی شخص اُوپر سے پیدا نہیں ہوتا، خدا کی بادشاہی نہیں دیکھ سکتا۔

یسُوع نے انہیں آسمانی یعنی رُوحانی غذا کا مطلب سمجھایا جو دُنیاوی غذا سے زیادہ بہتر طور پر انسان کی بھوک مٹاتی ہے۔یسُوع لوگوں کو برکت دینے اور اپنے باپ کی مرضی پوری کرنے میں زیادہ اطمئنان پاتے تھے۔

یسُوع خداكے رسُول تهے۔وہ ایك آزاد بیٹے تهےلیكن اپنے باپ كے فرمانبردار تهے اور خوشی سے اسکی مرضی پوری کرتے تھےکیونکہ خدا محّبت ہے۔جوشخص محّبت میں بنا رہتا ہے وہ خدا میں بنا رہتاہے۔مسیح کی فرمانبرداری کا یہ مطلب نہیں ہوتاکہ آپ باپ سے کم ترتھے بلکہ یہ آپ کی محّبت کی وسعت کا ثبوت ہے۔بیٹے نے کہا کہ دنیا کی نجات اُسکے باپ کا کام ہے حالانکہ وہ خودآپ نے انجام دیا تھا۔ بیٹے نے اپنے باپ کو جلال بخشاجیسے پہلے باپ نےسب چیزیں بیٹے کو دی تھیں۔ باپ نے اپنے بیٹے کو امتیاز بخشتا ہے اوراُسے اپنے دہنے ہاتھ کو بٹھا لیا ہےاور اُسے آسمان اورزمین پر پورا اختیاربھی دے دیا ہے۔

خدا کی مرضی یہ تھی کہ اِس کنوئیں کے پاس اُس حقیر عورت کو نجات ملے۔نجات صرف یہودیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام نوعِ اِنساں کے لیے ہے۔سب لوگ بدکار تھے اور خدا کے فضل کےبھوکے تھے۔اِس عورت سے ملاقات ہونےکے بعد یسُوع نے اُس میں پُختگی اور اسکےباطن میں معافی پانے کی بھوک پائی۔خدا کی طرف سےمعافی پانے کی تیّاری، یہودیوں سے زیادہ اس عورت میں نظر آئی۔اچانک آپ کو تمام نوعِ اِنساں گویاگندم کی تیار فصل کا وسیع کھیت سا نظر آءی جسے رُوحُ القُدس لہرا رہا تھا۔

لیکن،شاگرد ابھی بھی اس کھیت کو نہ دیکھ سکے جو دنیا کے کھیت کی علامت تھا جس کی فصل کاٹنے کے لیے تیّار تھی۔یسُوع موسمِ سرما میں سامریہ پہنچے تھے اور فصل کئی مہینوں کے بعد کاٹنے کے لیے تیّار ہو تی ہے۔یہاں یہ محسوس ہوتا ہے گویا یسُوع یہ کہتا چاہتے ہوں کہ تم سطحی حالات پر غور کرتے ہو جوواضح ہیں۔انسان کی رُوح کی گہرائی پر نظر ڈالو اور اصل حقیقت جانو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ اِنسان کے باطن میں کتنے سوالات دبے ہُوئے رکھے گئے ہیں، نیز اُس میں فراواں زندگی کی خواہش اور خداکی جُستجو پوشیدہ ہے۔آج فصل کاٹنے کا وقت ہے۔کئی لوگ خدا کے بیٹے کو اپنامُنجّی تسلیم کرنے کے لیے بیقرار ہیں بشرطیکہ نجات کا پیغام اُن تک حِکمت اور محّبت سے پہنچایا جائے۔

ممکن ہے آپ اس رائےسے اتفاق نہ کریں اور یہی سوچیں کہ میرے اِرد گِرد بسے ہُوئے سب لوگ ضدی،متعصّب اور اندھے ہیں۔شاگرد بھی ایسا ہی محسوس کرتے تھے۔ وہ سطحی طور پر پرکھتے تھے۔لیکن یسُوع دلوں کی شناخت کرتے تھے۔آپ نے اُس گنہگار عورت کی مذمّت نہیں کی جس نے شروع میں آپ کو اجنبی قرار دیا۔آپ اُس سے ہم کلام ہونے سے نہ ہچکچائےحالانکہ وہ روحانی گفتگو سمجھ نہ سکتی تھی۔ لیکن آپ نے اُے نہایت سہل اور صاف الفاظ میں ساری باتیں بتائیں۔اِس طرح آپ نےپاک رُوح کی رہنمائی سے اُس کی مدد کی اور اس میں عبادت سے متعلق یادوں اور مسیحیت کی عظمت کو جگایا یہاں تک کہ وہ مُبشِّر بن گئی۔ یہ کیسی غیر معمولی تبدیلی تھی!اب وہ پارسا نِیکودیمُس سے زیادہ ، رُوحُ القُدس کے کاموں کے قریب تھی۔ جوشخص خداوند کی خدمت کرتا ہے اسے یسُوع کی پُر مُحبّت بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے علاقہ میں اُن لوگوں کو دیکھ سکے جو خدا کی راستبازی کے بھوکے ہوتے ہیں۔آپ اُن کی بدتہذیبی اوربےتوجّہی سے پریشان نہ ہوں۔خدا ان سے محبّت کرتا ہے اوریسُوع انہیں بلاتے ہیں۔اُن کے دل رفتہ رفتہ فضل سے روشن خیال ہو جائیں گے۔آپ کب تک ایسی دنیا میں خاموش رہیں گے جہاں لاتعداد لوگ خدا کے متلاشی ہیں؟

جب کوئی شخص مسیح كے پاس آتا ہے تو ابدی زندگی حا صل کرتا ہے اور اُس کادل شادمان ہوجاتاہے۔اسی طرح ایک توبہ کرنے والے گنہگار کے باعث آسمان پر بھی فرشتوں کے سامنے خوشی منائی جاتی ہے۔بہر حال خدا چاہتا ہے کہ سارے انسان نجات پائیں اور سچّائی کی پہچان تک پہنچیں۔ جولوگ خدا کی مرضی پر چلتے ہیں اور اُسی کے مطابق دوسروں کے سامنے نہایت حلیمی سے منادی بھی کرتے ہیں وہ اپنی جانوں کو مطمئن کرتےہیں اور خوش ہوتے ہیں،جیسا کہ یسُوع نےخود اپنے بارے میں کہا، "میرا کھانا یہ ہے کہ جس نے مجھے بھیجا ہے میں اُس کی مرضی پوری کروں اور اُس کا کام انجام دُوں"۔

یسُوع نے شاگردوں سے یہ کہتے ہُوئےاپنا پیغام ختم کیا: "میں تمہیں فصل کاٹنےکے لیے بھیج رہا ہوں۔" بپتسمہ دینے والے یُوحنّانے پہلے ہی سے توبہ کرنے کی منادی کر کے بنجرکھیتوں میں ہل چلایا تھا۔۔۔یسُوع خود گندم کا وہ بیج ہیں جو خدا نے پہلے سے تیارکی ہُوئی زمین میں بویا تھا۔ہم آج آپ کی صلیبی موت کے پھل چُن رہے ہیں۔اگریسُوع آج آپ کوفصل کاٹنے کے لیے بُلائیں تو یاد رکھیں یہ آپ کی فصل نہیں ہے۔یہ خدا کا کام ہے۔رُوح کے پھل مسیح کی قوت سے پک جاتے ہیں۔ہم سب آپ کے ناچیز خادم ہیں پھر بھی آپ ہمیں اپنی ایزدی خدمت میں شریک ہونے کے لیےبلاتے ہیں؛کبھی بیج بونے،کبھی ہل چلانے، تو کبھی فصل کاٹنے کے لیے۔یہ یاد رکھنا اچھی بات ہے کہ ہم خدا کےاوّلین خادم نہیں ہیں ۔ہم سے پہلے بھی کئی لوگوں نے آنسو بہا کر مشقّت کی ہے۔انکی دعائیں آسمان پر درج کی گئی ہیں۔آپ خدا کے دوسرے خادموں سے زیادہ آراستہ نہیں،نہ ہی آپ کا برتاؤ اُن سے بہتر ہے۔آپ ہر لمحہ یسُوع کے فضل سے جیتے ہیں جس کی بدولت آپ معافی پاتے ہیں۔اپنی خدمت میں پاک رُوح کے فرمانبردار رہئے۔فصل کاٹتے وقت تمجیداور شکرگزاری کے ساتھ آپ کی خدمت کیجیے اور فصل کاٹنے والےدوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنے آسمانی باپ کی تعظیم کیجیے جو یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ "تیری بادشاہی آئے؛کیونکہ بادشاہی،قدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں۔" آمین۔


ج- سامریہ میں اِنجیل کی منادی (یُوحنّا ۴: ۳۹۔۴۲)٠


یُوحناّ ۴: ۳۹۔۴۲
۔۳۹ اور اس شہر کے بہت سے سامری اس عورت کے کہنے سے جس نے گواہی دی کہ اس نے میرے سب کام مجھے بتا دئے، اس پر ایمان لائے۔ ۴۰ پس جب وہ سامری اسکے پاس آئے تو اس سے درخواست کرنے لگے کہ ہمارے پاس رہ چنانچہ وہ دو روز وہاں رہا۔ ۴۱ اور اسکے کلام کے سبب سے اور بھی بہتیرے ایمان لائے۔ ۴۲ اور اس عورت سے کہا اب ہم تیرے کہنے ہی سے ایمان نہیں لاتے کیونکہ ہم نےخود سن لیا اور جانتے ہیں کہ یہ فی الحقیقت دنیا کا مُنجّی ہے۔

اس عورت کی گواہی کے باعث لوگوں کی بھیڑ دوڑتے ہُوئے یسُوع کے پاس پہنچی ۔اُن لوگوں میں یسُوع کو وہ سفید کھیت نظر آئے جن کی فصل کٹائی کے لیے تیار تھی ۔آپ نے اُن سے ایمان اور ابدی زندگی کے متعلق کلام کیا اور مکمل دو روز اُن کے بیچ میں رہے۔آپ کےشاگرد رُوحوں کی فصل کاٹنے والوں کے طور پرلوگوں کے گھر گئے۔مسیح کی ہستی اور کلام نے اُس بھیڑ کو بے حد متاثر کیا۔اُنہوں نے محسوس کیا کہ مسیح میں ہوکر خدا ہماری اُداس دنیا میں آیا ہے تاکہ گنہگاروں کو نجات بخشے۔یہی وہ سامری تھے جنہوں نےپہلی باریسُوع کو "دُنیا کا مُنجّی"کہہ کر مادطب کیا۔اُنہیں محسوس ہو اکہ یسُوع صرف اپنے لوگوں کو نجات بخشنے کے لیے ہی نہیں آئے بلکہ آپ سب لوگوں کے گناہ اٹھا رہے تھے۔آپ کی محّبت کی قوت لازوال ہے۔آج بھی آپ گنہگاروں کو نجات بخش کر گناہ کی غُلامی،اور شیطان کی گرفت سے آزاد کر سکتے ہیں۔آپ یقیناً اس دنیا کے مُنصِف ہیں۔قیصرِروم کو"دنیا کا مُنجّی اورمحافظ" کہا جاتا تھا۔ان سامریوں نے دیکھا کہ یسُوع سبھی قیصروں سے اعلٰی تھے جو اپنے لوگوں کو ابدی اِطمئنان بخشتے ہیں۔

دعا: اے یسُوع، ہم آپ کا شکربجا لاتے ہیں کیونکہ آپ نے اس گنہگار عورت کی زندگی کو از سرِ نَو تعمیر کیااور ہم سب کو دکھایا کہ رُوح کی فرمانبرداری ، عبادت سے بہترہے۔ہمیں ایسی توفیق دیجیے کہ بلا تاخیرکیے، ہم بخوشی اور مستعدی سے آپ کی مرضی پوری کریں،اور بھٹکےب ہوئے لوگوں کوآپ کی نجات سے روشناس کریں،تاکہ وہ آپ پر ایمان لائیں اورہمیشہ کی زندگی پائیں۔

سوال ۳۵۔ ہم کس طرح یسُوع کے(فصل کاٹنے والے) کارآمد خادم بن سکتے ہیں؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 11:06 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)