Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 012 (The Sanhedrin questions the Baptist)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

ب ۔ مسیح اپنے شاگردوں کو توبہ کے دائرہ سے نکال کر شادی کی خوشی میں لیجاتے ہیں (یُوحنّا ۱: ۱۹ ۔ ۲: ۱۲)٠

١ - یہودیوں کی عدالتِ عالیہ کا وفد بپتسمہ دینے والے یُوحنّاسے سوال کرتا ہے (یُوحنّا ۱: ۱۹۔۲۸)٠


یُوحناّ ۱: ۲۲۔۲۴
۔۲۲ پس اُنہوں نے اُس سے کہا :پھر تُو کون ہے؟ تاکہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں۔ تُو اپنے حق میں کیا کہتا ہے؟ ۲۳ اُس نے کہا، میں جیسا یسعیاہ نبی نے کہا ہے بیابان میں پکارے والے کی آواز ہُوں کہ تُم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔ ۲۴ یہ فریسیوں کی طرف سے بھیجے گیے تھے۔

وفدنے اپنے سوالات نوک دار تیروں کی طرح بپتسمہ دینے والے یُوحنّا کے اوپر برسائے۔یہ سوالات اُن بدعتوں کے متعلق تھے جن کی مسیح کی حقیقی آمد سے پہلے اُبھر آنے کی توقع تھی۔لیکن جب یُوحنا ّنے مسیح، ایلیا یا موسیٰ نے پیش گوئی کیے ہُویے نبی ہونے سے انکار کر دیا تو ان کی نظر میں یُوحنّا کی اہمیت اور اُن کی طرف سے کوئی خطر ہ نہ رہا ۔لیکن پھر بھی انہوں نے یہ جاننے پر اصرار کیا کہ وہ کون ہیں اور یہ پیغام کس نے اُن کے سپرد کیا؟ان کا مقصد تھا کہ صورتِ حال کا مکمل جائزہ لیے بغیروہ عدالتِ عالیہ کے پاس لَوٹ کر نہ جائیں گے۔

ان سوالات کا یسعیاہ کی پیشگوئ سے کوئی تعلق نہ تھا (یسعیاہ ۴۰: ۳)لیکن پاک رُوح نے یُوحنّا کا دھیان اِس متن کی طرف مبذول کیا۔اُنہوں نے اپنے آپ کو بیابان میں پکارنے والی آواز بتایا جو کہہ رہی تھی کہ خدا کے لیے راہ تیار کرو۔اگر اُنہوں نے اِس وفد کو مقدّس نوشتوں کا حوالہ نہ دیا ہوتا تو وہ اُن پر الزام لگاتے کہ اُنہوں نے اپنے ہاتھ میں اختیار لے کرخود اپنا کلام ایجاد کیا ہے۔تب وہ اُن پر کفر کا الزام لگاتے۔لہٰذا یُوحناّ نے نہایت حلیمی کے ساتھ پرانے عہدنامہ کا سب سےادنیٰ درجہ اختیار کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ وہ بیابان میں پکارنے والی ایک آواز کے سوا اور کچھ نہیں ہیں۔

ہم سب اپنی دنیا کے بیابان میں رہتے ہیں۔ہمارے اردگرد شورش اور ابتری پھیلی ہُوئی ہے۔لیکن خدا ہماری بے بس دنیا اور اُس میں بسنے والےبدکار لوگوں کوکسی مددگار کے بغیر تنہا نہیں چھوڑتا۔وہ نُوعِ انساں کونجات دینے کے لیے آتا ہے۔آسمان سے زمین کی جانب اُٹھایا ہُوا یہ عملی قدم بہت بڑا فضل ہے۔خدائے قُدُّوس ہمیں برباد نہیں کرتا گو ہم اُسی کے مستحق ہوتے ہیں بلکہ وہ ہم کھوئے ہوؤں کو ڈھُونڈتا ہے۔ اسکی محبت ہمارے دماغ کی قوّت اِدراک سے بعید ہے۔اُس کی آخری نجات میں بیابان کو ہرے بھرےگلزار بنا دینا شامل ہے۔

بپتسمہ دینے والے یُوحنّا نےرُوحُ القُدس کی قدرت سے یہ جان لیا تھا کہ خدا مسیح میں ہوکر ہماری دنیا میں آرہا ہے۔لہٰذااُنہوں نے لوگوں کو پکار کر بلانا شروع کیا کہ وہ ہوش میں آئیں اور آنے والے کے استقبال کے لیے تیار ہوں۔مسیح کے لیے راہ تیار کرنے کے جوش و خروش نے ہماری دنیا کے بیابان میں یُوحنّا کو پکارنے والے کی آوازبنا دیا۔اُنہوں نے اپنے آپ کو نبی یا پیغمبر نہیں کہا بلکہ صرف ایک آواز۔لیکن اِس آواز کوخدا نے اختیاربخشا تھا تا کہ لوگوں کےضمیر محوِ خواب اور اپنے گناہوں میں مُطمئن نہ رہیں۔

یہ آواز کیا کہہ رہی تھی ؟ یُوحنّا کے پیغام کا خلاصہ یہ تھا:‘‘جاگو اور جان لو کہ آسمان کی بادشاہی قریب ہے!اپنی زندگیوں کو درست کرلو!خدا مقدّس ہے اور وہ تمہاری عدالت کرے گا۔تمہارے ہر جھوٹ،چوری،عیب اور گناہ کے لیے خدا تم سے حساب لےگا اور تمہیں جہنم کی آگ میں سزا دیگا۔’’خدا ہمارے گناہوں کو نظرانداز نہیں کرتا۔بدکار اپنے تمام گناہوں کے ساتھ اُس کے حُضور بدکاری کی حالت میں حاضر ہو گا۔اورجو لوگ بظاہر نیک نظر آتے ہیں، بدکاروں سے بہتر نہ ہوں گےکیونکہ اس کی نگاہ میں کوئی بھی بے قصور نہیں ہے۔

بپتمسہ دینے والے یُوحنّا کےاِس مطالبہ کی سنگینی ہمیں خوداپنے باطن کو پرکھنے پر مجبور کرتی ہے تاکہ ہم اپنی بدکاری سے واقف ہوں، اپنےغرور کو پاش پاش کردیں اور اپنے دل اور دماغ میں تبدیلی لائیں ۔ بھائیوں، کیا آپ خودکوبہتر اور خدا کی نگاہ میں مقبول سمجھتے ہو؟خلوص کے ساتھ اپنے گناہوں کا اقرار کرو!اگر آپ نے کسی کا خفیف سا بھی حق مارا ہو تواُسے اُس کے حقیقی مالک کوفوراً لَوٹا دو۔ غرور کو اپنے قریب نہ آنے دو اور خدا کے لیے جیو۔اپنی راہ و روش کو درست کرلو۔پیشانی ٹیک کر سِجدہ کرو کیونکہ آپ نے بدی کی ہے۔

اس وفد میں بہت سے نمائندے فریسی تھے۔وہ پبتسمہ دینے والے یُوحنّاکی جسارت سے بوکھلا گئے تھے کیونکہ وہ راستبازی،پارسائی ،نیکی اورحد سے زیادہ احتیاط اوربڑےاشتیاق سے شریعت کی پابندی کا دعویٰ کرتے تھے۔لیکن وہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہے تھے۔وہ پارسائی کا رُوپ بھرتے تھے لیکن اُن کا باطن بد اخلاق تھا ،ان کی آنکھوں میں فحش تصویروں کا عکس دکھائی دیتا تھااورانکے دل افعی کے گھونسلے کی طرح کینہ پرور خیالات سے پُر رہا کرتے تھے۔

انکے تُرش رُو چہرے یُوحناّکو اُن کی سرزنش کرنے سے باز نہ رکھ سکے اور یہ یا د دلانے سے بھی کہ ہم سب کو خدا کے پاس جانے کی سخت ضرورت ہےاور یہ کہ ہم اپنے پاس جلد آنے والے خداوندکی راہ تیار کریں۔

دعا: اے خدا وند،آپ میرے دل،میرے ماضی اور میرے گناہوں سے واقف ہیں۔میں آپ کے حُضوراپنے ظاہر اور پوشیدہ گناہوں کی وجہ سے نہایت شرمسار ہوں۔میں اپنی تمام بدکاری کاآپ کے حُضوراقرار کرتا ہُوں اور آپ سے معافی کی درخواست کرتا ہوں۔مجھے اپنی حضوری سے دور نہ کیجیے۔میں نے دوسروں کاحق مارا ہو تو اُسے لوٹانے میں میری مدد کیجیے اور جس کسی کا بھی دل دُکھایا ہو اُس سے معافی مانگنے کی توفیق دیجیے۔ اے نہایت رحیم و کریم خداوند،اپنی مہربانی کے طفیل سے میرےغرور کو چکنا چور کر دیجیے اورمجھے اپنے تمام گناہوں سے پاک و صاف کیجیے۔

سوال ۱٦۔ پبتسمہ دینے والے یُوحنّا نے لوگوں کو کس طرح خداوند کی راہ تیارکرنے کی ترغیب دی؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 11:00 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)