Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 013 (The Sanhedrin questions the Baptist)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

ب ۔ مسیح اپنے شاگردوں کو توبہ کے دائرہ سے نکال کر شادی کی خوشی میں لیجاتے ہیں (یُوحنّا ۱: ۱۹ ۔ ۲: ۱۲)٠

١ - یہودیوں کی عدالتِ عالیہ کا وفد بپتسمہ دینے والے یُوحنّاسے سوال کرتا ہے (یُوحنّا ۱: ۱۹۔۲۸)٠


یُوحناّ ۱: ۲۵۔۲۸
۔۲۵ اُنہوں نے اُس سے یہ سوال کیا کہ اگر تُو نہ مسیح ہے، نہ ایلیا، نہ وہ نبی تو پھر بپتسمہ کیوں دیتا ہے؟ ۲٦ یُوحنّا نے جواب میں اُن سے کہا کہ میں پانی سے بپتسمہ دیتا ہُوں۔ تمہارے درمیان ایک شخص کھڑا ہے جسے تُم نہیں جانتے، ۲۷ یعنی میرے بعد کا آنے والا جس کی جوتی کا تسمہ میں کھولنے کے لائق نہیں۔ ۲۸ یہ باتیں یردن کے پار بیت عنیاہ میں و اقع ہُوئیں جہاں یُوحنّا بپتسمہ دیتا تھا۔

توریت سے یہودیوں نے پاکیزگی،طہارت اور کچھ کچھ بپتسمہ کے بارے میں بھی سیکھا تھا۔طہارت سے مراد اخلاقی گندگی کی صفائی تھا،جبکہ بپتسمہ خاص طور پر غیر یہودیوں کو پاک کرنے کے لیے تھا کیونکہ وہ غیرقوموں کو ناپاک سمجھتے تھے۔بہر حال بپتسمہ لینا حلیمی اور خدا کے برگزیدہ لوگوں میں شامل ہونے کی علامت تھا۔

اس سے واضح ہوتا سے کہ یروشلیم سے آیا ہُواوفد حیران کیوں تھا۔‘‘تو ایمانداروں کو توبہ کرنےکے لیے کیوں بلا رہا ہے،خُصوصاًوہ جن کا ختنہ ہو چکا ہے اورجوعہد میں قائم ہو چُکے ہیں؟کیا تُو ہمیں ناپاک سمجھتا ہے یا یہ سوچتا ہے کہ ہم جواپنی قوم کے ذمہ دار رہنما ہیں خدا کے غضب میں کھو گئے ہیں’’؟

یُوحناّ کا پبتسمہ‘‘ پارسا ’’لوگوں کے لیے ٹھوکر کا باعث تھا۔اِس نے لوگوں کو دو جماعتوں میں تقسیم کر دیا۔پہلی جماعت وہ تھی جو توبہ کے بپتسمہ سے پاک ہو چُکی تھی۔انہوں نے مسیح کا استقبال ایک منتخب جماعت کی صورت میں کرنا تھا جو اپنےخداوند سے ملنے کے لیے تیار تھی۔دوسری جماعت نے توبہ کا بپتسمہ لینےسے یہ محسوس کرتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ مسیح کا استقبال کرنےکے قابل ہیں۔وہ یہ مانتے تھے کہ مسیح کی آمد سیاسی اور شرعی مفاد کے لیے ہے۔

ممکن ہے کہ مُبشِّر یُوحناّ اِس با ضابطہ باز پُرسی میں بذاتِ خود موجود تھے۔اس بحث سے وہ بے حد متاثر ہُوئے،خصوصاً وفد نے بپتسمہ دینے والے یُوحنّا کو پُوچھے ہُوئے سوالات سے کیونکہ اُن کے ذریعہ اُنہوں نے بپتسمہ دینے والے یُوحنّا سے اقرارکروایا کہ وہ مسیح ہیں، نہ ایلیاہ اور نہ ہی موعودہ نبی۔یہ جواب پاکر انہوں نے یُوحنّا کی تحقیر کی گویا اُن کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔

بپتسمہ دینے والے یُوحنّا نےنے یہ جاتےی ہوئے کہ کیا کرنا چاہئے،اپنے آپ کو کمتر بناتے ہوئے مسکرا کر کہا،‘‘تم ٹھیک کہہ رہے ہو،میری کوئی حیثیت نہیں ہے۔ میں بغیر کسی جادو یا طاقت کےصرف پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں۔میں جو بھی کرتا ہوں وہ ایک علامت ہے جوآنے والے کی طرف اشارہ کرتی ہے’’۔

تب یُوحناّ جو اپنی اونٹ کی کھال سے بنی پوشاک میں مُلبُّس تھے ،کھڑے ہوکر وفد کے رہنماؤں او ر بھیڑ سے بلند آواز میں پکار کر کہنے لگے،‘‘تم سب اندھے ہو۔تم اپنےبیچ میں ایک تاریخی واقعہ ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔تم نے مجھے پرکھا جو ایک معمولی ہستی ہے۔لیکن دیکھو، مسیح آچکے ہیں۔آپ یہاں، اس تائب بھیڑ کے بیچ میں موجود ہیں۔مُجھ، یُوحناّ بپتسمہ دینے والے میں کوئی طاقت نہیں ہے کہ کچھ کرسکوں۔مجھے صرف ایک خدمت پوری کرنی ہے۔میں ایک آواز ہوں اور رُوحُ القُدس نے مجھے خدا وند کے بارے میں بتایا جواِسی وقت آرہے ہیں۔آپ یہاں ہیں۔آج نجات کا دن ہے۔جلدی توبہ کر لو کیونکہ آخری لمحات گزرتے جارہے ہیں’’۔

اس اعلان کے بعد ساری بھیڑ خوف زدہ ہو گئی۔وہ اس مقصد سے اکٹھے ہوئے تھے کہ مسیح کا استقبال کریں گےلکنا آپ تو پہلے ہی سے آچکے تھےاور انہوں نے آپ کی آمد کو محسوس کیااور نہ ہی آپ کو دیکھا۔وہ ایک دوسرے کی طرف حیرانی سے دیکھنے لگےاور الجھن میں پڑ گئے۔

تب بپتسمہ دینے والے یُوحنّانے ایک گواہی کے ذریعہ مسیح کے بارے میں اپنی مشہورتوصیف بیان کی جواِنجیل کے مُصنِّف نے آیت ۱۵ میں بِالواسطہ بیان کی ہُوئی توصیف سے زیادہ صریح ہے۔‘‘وہ جو میرے بعد آنے والا ہے مجھ سے پہلے ہی موجود تھا’’۔اسطرح بپتسمہ دینے والے یُوحنّا نے مسیح کی ابدیت اورساتھ ہی ساتھ آپ کی لوگوں کے درمیان موجودگی، دونوں کو ظاہر کر دیا۔اُنہوں نے واضح کیا کہ بظاہر مسیح ان کے بیچ میں ایک عام انسا ن کی طرح موجود تھےجو کہ پہچانے نہ گیے کیونکہ آپ کسی حلقۂ نُور ،دیدہ ریز پوشاک یا شعلہ زن آنکھوں کے ساتھ نہ آئے تھے۔وہ بالکل عام انسانوں کی طرح تھے اورآپ میں کوئی نمایاں وصف بھی نہ تھا جولوگوں سے الگ نظر آتے۔لیکن اپنی اصلی فطرت میں آپ دوسروں سے بالکل مختلف تھے: ایک ایسی آسمانی اور ایزدی ہستی جو ازل سے ہے اورجو اُن کے بیچ میں نہایت سادگی کے ساتھ کھڑی تھی۔

بپتسمہ دینے والے یُوحنّا نے اقرار کیا کہ وہ مسیح کے خادم بننے کے بھی لائق نہیں ہیں۔اُن دِنوں میں یہ رواج تھا کہ جب کسی بھی گھر میں مہمانوں کا استباہل کیا جاتا تو ایک خادم پانی سےاُن کے پَیر دھوتا۔یہ دیکھتے ہوئے کہ مسیح بھیڑ میں آچُکے ہیں،بپتسمہ دینے والے یُوحنّانے خُود کو اِس لائق نہ سمجھا کہ آپ کے پاؤں دھونے کے لیے آپ کے جوتوں کے تسمے کھول دیں۔

ان الفاظ نے بھیڑمیں کھلبلی مچا دی۔وہ ایک دوسرے سے پُوچھنے لگے،‘‘ہمارے بیچ میں یہ اجنبی کون آیاہے؟خداوند ایک عام شخص کیسے ہو سکتے ہیں؟اور یہ عظیم بپتسمہ دینے والے یُوحنّا ایسا کیوں کہہ رہے ہیں کہ وہ آپ کے جوتوں کہ تسمے کھولنے کےبھی لائق نہیں ہیں؟’’ہو سکتا ہے کہ یروشلیم سے آئے ہُوئےوفد کے نمائندوں نے حقارت سے مسکرا کر کہا ہوگا: ‘‘یہ خستہ حال بپتسمہ دینے والادغا باز ہے!’’لہٰذا وہ چلے گئے۔ممکن ہے کہ بپتسمہ دینے والے یُوحنّا کے چند پیروبھی یہ سوچتے ہوئے چلے گئے ہوں کہ مسیح اُن کے ملک کے دارالحکومت ،یروشلیم میں نہایت آب و تاب اور جاہ وجلال کے ساتھ آئیں گے نہ کہ اِس طرح جیسے آپ بیابان میں گمنام اور سادہ لَوح انسان کی طرح آئے۔اِس طرح اُنہوں نے خدا کےمسیح سے ملنے کا یہ انوکھاموقع کھو دیا۔

یہ واقعات یردن ندی کے مشرقی کنارے پر پیش آئے۔ یہ علاقہ یہودیوں کی عدالتِ عالیہ کے اختیار سے باہر لیکن ہیرودیس انتیپاس کی سلطنت میں واقع ہے۔اِس لیے وفد کے نمائندےبپتسمہ دینے والے یُوحنّا کو گرفتار کرکے یروشلیم کی عدالت میں پیش کرنے کے لیے نہ لے جا سکے۔

دعا: اے خداوند یسُوع مسیح، ایک حقیقی انسان اور ابدی خدا کی صورت میں ہمارے پاس آنے کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔چونکہ آپ ہمارے قریب آئے اِس لیےہم آپ کی عبادت اور تمجید کرتے ہیں۔آپ جسمانی اعتبار سے اِس قدر حلیم بنے کہ بپتسمہ دینے والے یُوحنّا کے علاوہ کو ئی اور آپ کو پہچان نہ سکا۔آپ حلیم ہیں اور آپ کا دل فروتن ہے۔ہمیں بھی آپ کی طرح حلیم بنائیے اور آپ کے پاک رُوح کی ہدایت کے مطابق آپ کی پیروی کرنے کی توفیق دیجیے۔

سوال ۱۷۔ بپتسمہ دینے والے یُوحنّا نےعدالتِ عالیہ کے وفد کے سامنے مسیح کے متعلق دی ہُوئی گواہی کی انتہا کیاتھی؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 11:00 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)