Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 011 (The Sanhedrin questions the Baptist)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

ب ۔ مسیح اپنے شاگردوں کو توبہ کے دائرہ سے نکال کر شادی کی خوشی میں لیجاتے ہیں (یُوحنّا ۱: ۱۹ ۔ ۲: ۱۲)٠

١ - یہودیوں کی عدالتِ عالیہ کا وفد بپتسمہ دینے والے یُوحنّاسے سوال کرتا ہے (یُوحنّا ۱: ۱۹۔۲۸)٠


یُوحناّ ۱: ۱۹۔۲۱
۔۱۹ اور یُوحنّا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلیم سے کاہن اور لاوی یہ پُوچھنے کو اُس کے پاس بھیجے کہ تُو کون ہے؟ ۲۰ تو اُس نے اقرار کیا اور اِنکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہُوں۔ ۲۱ اُنہوں نے اُس سے پُوچھا، پھر تُو کون ہے؟ کیا تُو ایلیاہ ہے؟ اُس نے کہا میں نہیں ہُوں۔ کیا تُو وہ نبی ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ نہیں۔

یردن کی وادی میں ایک مذہبی تحریک شروع ہُوئی جس کا بنیادی مرکزپتسمہ دینے والے یُوحنّا تھے۔ ہزاروں لوگ اونچے پہاڑوں اور گہری اور گرم وتنگ گھاٹیوں میں سےجنگل کی راہوںکی پروا نہ کرتے ہُوئے نکل پڑے۔وہ یردن کی وادی میں یُوحنّا بپتسمہ دینے والے کے پاس چلے آئے تاکہ اِس نئےنبی کی پکار سنیں اور اپنے گناہوں کی معافی کے لیے اُن سےبپتسہ لیں ۔بھیڑ اکثر جاہل نہیں ہُوا کرتی، جیسا کہ مغروراکثرسوچتے ہیں بلکہ وہ ایزدی رہنمائی کے بھوکے اور مُتمنّی ہوتے ہیں۔ طاقت اور اختیار رکھنے والے لوگوں کو وہ بہت جلد تاڑ لیتے ہیں۔ وہ رسموں اور اُصولوں کے بارے میں سننا نہیں چاہتے بلکہ خدا سے رابطہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔

یہودیوں کی سب سے اعلٰی مذہبی عدالت (عدالتِ عالیہ) کے اراکین اِس مذہبی تحریک سے واقف تھے۔ انہوں نےیُوحنّا کے پاس کاہنوں کا ایک وفد ایسے جفا کش مددگاروں کے ساتھ بھیجا جو قربانی کے جانوروں کو ذبح کیاکرتے تھے ۔ اِس وفد کو بپتسمہ دینے والے یُوحنّاسے سوالات کرنے تھے تاکہ اگر وہ کفر بکتے ہُوئےپائے جاتے تو اُنہیں وہیں ختم کر دیتے۔

ٰذا یُوحناّ اور عدالت عالیہ کے نمائندوں کے درمیان یہ ملاقات نہایت رسمی اوربہت ہی خطرناک تھی۔مُبشِّر یُوحناّ یروشلیم سے آنے والے ان آدمیوں کو یہودی کہتے ہیں۔اس نام کے ذریعہ وہ اپنی اِنجیل کے ایک موضوع کو منظرِ عام پر لاتے ہیں۔کیونکہ اُن دِنوں یہودی شریعت کے سختی سے پابند تھے اور اُن کے خیالات پرتعصب اور کینہ حاوی رہتا تھا اور مزید یہ کہ یروشلیم مسیح کی روح کی مخالفت کا مرکز بننے والا تھا۔حالانکہ پرانے عہد نامہ سے وابستہ سب لوگ نہیں لیکن کاہنوں کا ایک گروہ،خصوصاًفریسی، ہر مذہبی تحریک کے دشمن تھے جو اُن کے منصوبوں اور اختیار سے ہٹ کر ہوا کرتی تھی۔اس وجہ سے وہ بپتمہ دینے والے یُوحنّاکو اپنے سوالوں میں پھنسانا چاہتے تھے۔

۔‘‘تو کون ہے’’ یہ پہلا سوال تھا جو اُنہوں نے یُوحنّا سے پوچھا جو اُس وقت ایک بڑی بھیڑ سے گھِرے ہُوئے تھے جو اپنے گناہوں سے نادم ہوکر نہایت غور سے اُن کا کلام سن رہی تھی۔‘‘تجھے بولنے کا اختیار کس نے دیا؟کیا تو نےشریعت اور دینیات کا مطالعہ کیا ہے؟کیا خدا نے تجھے اِس سِلسِلہ میں اختیار دیا ہے؟ یا کیاتو اپنے آپ کو مسیح سمجھتا ہے’’؟

یُوحناّ کو اِن سوالات میں فریب نظر آیا اور وہ جھوٹ نہیں بولے۔اگر وہ کہتے کہ‘‘میں مسیح ہوں’’ تو وہ اُنہیں مجرم قرار دے کرسنگسار کرتے اور اگر وہ کہتے کہ ‘‘میں مسیح نہیں ہوں’’ تولوگ اُنہیں کوئی اہمیت نہ دیتے ہُوئے ترک کر دیتے۔ابرہام کی نسل اُن دِنوں رُومی حکومت کے زیرِ تسلُّط شرمندگی سے دوچار ہُوئی تھی۔وہ نجات دہندہ کے لیے ترس رہے تھے جو اُنہیں رُومی شکنجہ سے مُخلصی بخشتا۔

بپتسمہ دینے والے یُوحنّا نے علانیہ اقرار کیا کہ نہ تو وہ مسیح ہیں اور نہ ہی خدا کا بیٹا۔اُنہوں نے ایسا کوئی خطاب قبول نہیں کیا جو پاک رُوح کی ہدایت کے مطابق نہ تھا۔وہ اپنی خدمت نہایت حلیمی اور وفاداری سے ادا کرنا چاہتے تھے اورخدا پر بھروسہ رکھے ہُوئے تھے کہ وقت آنے پر وہ اُ ن کے پیغام کی تصدیق کرے گا۔

پہلی ضرب لگانے کے بعدوفد نے اُن سے مزید پوچھا:‘‘ کیا تُو ایلیاہ ہے؟ ’’یہ نام ملاکی ۴: ۵ میں کیے گےع وعدہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں لکھا ہے کہ‘‘مسیح کے آنے سے پہلے ایلیاہ کی صورت میں ایک نبی ظاہر ہوگا جس نے دشمنوں پر فلک سے آگ برسائی اور خدا کی اجازت سے ایک مرُدہ زندہ کیا۔’’ہر کوئی اس نمایاں شخصیت کواپنی قوم کا رہبرتصوّر کرتا تھا۔لیکن یُوحناّ حلیم بنے رہے حالانکہ حقیقت میں وہ وہی موعودہ نبی تھے جن کی تصدیق خُود مسیح نے کی تھی (متی ۱۱: ۱۴)۔

پھر کاہنوں نے اُن سے پو چھا:کیا وہ وہی خصوصی موعودہ نبی ہیں جن کے بارے میں موسیٰ نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ اُن ہی کی طرح ایک نیا اورعظیم عہدبخشے گا(اِستثنا ۱۸: ۱۵)۔ اس سوال کے ذریعے وہ جاننا چاہتے کہ اُنہیں کس نے بھیجا کہ وہ نبی کی طرح بولیں۔لہٰذا انہوں نے بار بار اُن سے پوچھا کہ وہ کون ہیں اور اُن کے پاس کیا اختیار ہے اور کیا اُن کا پیغام اُن کا اپنا ہے یا وہ اُن پر الہام کے ذریعہ نازل ہُوا ہے۔

پبتسمہ دینے والے یُوحنّا نے موسیٰ کا کردار اور درجہ لینے سے انکار کیا۔وہ کسی قسم کا اختیار پائے بغیر خدا کے ساتھ کوئی نیا عہد باندھنا نہیں چاہتے تھے۔اور نہ ہی وہ اپنے لوگوں کو فوج کی طرح فتح دلانا چاہتے تھے۔وہ آزمائش میں ایماندار رہے اورگمان کیا نہ مغرور بنے۔اسی طرح اُنہوں نے عقلمندی سے کام لیا اور اپنے دشمنوں کو اتنے ہی لفظوں میں جواب دیا جتنی ضرورت تھی۔یہ ضروری ہے کہ ہم بھی اپنی زندگی میں اِن ہی اصولوں پر عمل کریں۔

دعا: خداوند یسُوع، ہم آپ کا شکربجا لاتے ہیں کہ آپ نے یُوحنا ّبپتسمہ دینے والے کو ہماری دنیا میں بھیجا ،ایک ایسا اِنسان جس نے کبھی تکبّر نہ کیا۔ہمارےاِس غرور کو معاف فرمائیےجس کی بدولت ہم اپنے آپ کو دوسروں سےاعلیٰ اور اہم سمجھتے ہیں۔ہمیں فہم عطا فرما ئیےتاکہ ہم سمجھ سکںم کہ ہم محض ناچیز خادم ہیں اور صرف آپ ہی عظیم ہیں۔

سوال ۱۵۔ یہودیوں کی عدالتِ عالیہ کے وفد نے پُوچھے ہُوئے سوالات کا اصل مقصد کیا تھا؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:59 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)