Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 010 (The fullness of God in Christ)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

الف۔ خدا کے کلام کی یسُوع میں تجسیم (یُوحنّا ۱: ۱۔۱۸)۔

٣ - مسیح کی تجسیم میں خدا کی معموری ظاہر ہُوئی (یُوحنّا ۱: ۱۴۔۱۸)٠


یُوحناّ ۱: ۱۷۔۱۸
۔۱۷ اِس لیے کہ شریعت تو موسیٰ کی معرفت دی گئی مگر فضل اور سچّائی یسُوع مسیح کی معرفت پہنچی۔ ۱۸ خدا کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا ۔اِکلوتا بیٹا جو باپ کی گود میں ہے ، اُسی نے ظاہر کیا۔

پرانے اور نئے عہدنامہ کے درمیان کےفرق کا موازنہ شریتا کی معرفت ملنے والی راسنتبازی اور فضل کی معرفت ملنے والی راستبازی کے درمیان جوفرق ہےاُس سے کیا جا سکتا ہے۔خدا نے موسٰی کو دس احکام دیے،اور خون بہا قربانیوں کے متعلق تفصیلات دینے کے لیےاور زندگی میں تنظیم لانے کے لیے شریعت دی ۔جس کسی نے اِن احکام پر عمل کیا وہ اپنی زندگی کو کامل بنا لیتالیکن جو شخص اِن احکام میں سے ایک کی بھی خلاف ورزی کرتاوہ موت کا مستحق قرار دیا جاتا۔اس طرح شریعت موت کاباعث بنی کیونکہ کوئی بھی انسان کامل نہیں ہوتا۔زاہد اور مُتّقی لوگوں کے لیے بھی شریعت کےتمام احکام کی پابندی کرنا ناممکن تھااور وہ توبہ کرکے اور پشیمان ہوکر رہ جاتے۔نام نہاد دین دار اپنے آپ کو نیک سمجھتے گویا اُن کی زندگی سے خدا خوش تھا۔اِس تصوّر نے اُنہیں خود غرض اور متعصُّب بنا دیا۔وہ محّبت کو بھول گئے اور اپنے خود غرض اعمال کی راستبازی پر فخر کرنے لگے۔یقیناًشریتا مقدّس ہے کیونکہ وہ خدا کے تقدُّس کا عکس ہے۔لیکن اُس کے مقابل ہر انسان بدکارنظر آتا ہے۔اسطرح شریعت ہمیں سخت تکلیف میں مبتلا کر دیتی ہے اور موت کےمُنہ میں دھکیل دیتی ہے۔

موت کی بدبو سے آلودہ اِس ماحول میں مُبشِّر یُوحناّ پہلی مرتبہ اپنی اِنجیل میں یسُوع مسیح کا ذکر تباہی سے بچانے والے اور خدا کے غضب سے نجات دلانے والے کے طور پر کرتے ہیں۔یسُوع ناصری ہی موعودہ مسیح ہیں جن کا پاک رُوح کی معموری سے مسح کیا گیا ہے۔آپ بادشاہوں کے بادشاہ،خدا کا کلام اور سردار کاہن ہیں۔آپ امیّد اور نجات کے تمام امکانات کی تلخیص ہیں۔

مسیح ہمارے درمیان کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے بلکہ آپ نے ہمیں شریعت کی لعنت سے مخلصی بخشی۔اپنی بے انتہا محّبت کے ذریعہ آپ نے ہماری خاطر شریعت کے تمام تقاضے پورے کیے۔آپ نے ہمارے گناہ اور ساری دنیا کے جرائم اپنے کندھے پراُٹھالیے اور اِس طرح ہمارا خدا سے ملاپ کرا دیا۔اپنے گناہوں کی وجہ سے خدا اب ہمارا دشمن نہ رہا بلکہ اپنے خداوند یسُوع مسیح کی معرفت اب ہم نے خدا کے ساتھ اِطمئنان حاصل کر لیا ہے۔یسُوع نے اپنے آسمانی باپ کے پاس واپس جا کر ہم سب پر اپناپاک رُوح انڈیل دیا ہے۔ہمارے باطنی جذبات کوپاک،صادق اور عالی ظرف خیالات سے معمور کرکے اپنی شریعت کو ہمارے دلوں پرنقش کر دیا۔ اب ہم پہلی شریعت کے ماتحت نہیں رہے بلکہ مسیح ہمارے اندر ہیں۔ اس طرح خدا نے ہمیں اسکی محّبت کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی طاقت بخشی ہے۔

مسیح کی آمد سے فضل کا دور شروع ہوا اور ہم اُسی دور میں جی رہے ہیں۔خدا ہم سے ہدیے،خدمت یا قربانی طلب نہیں کرتا تاکہ ہم اپنی خود راستبازی کو سہارا دیں بلکہ اس نے اپنے بیٹے کو بھیجاتاکہ آپ اپنی ایزدی راستبازی ہم پر نچھاور کر دیں۔جو شخص آپ پر ایمان لاتا ہے وہ ہر لحاظ سے راستباز ٹھہرایا جاتا ہے۔اس وجہ سے ہم آپ سے محّبت کرتے ہیں اور آپ کا شکر بجا لاتے ہیں اوراپنی زندہ قربانی آپ کے حضور پیش کرتے ہیں کیونکہ آپ نے ہماری تقدیس کی ہے۔

مسیح ہمیں یتیم نہیں ہونے دیتے بلکہ آپ ہمارے ساتھ رہتے ہیں اور اپنی نعمتںو ہم پر نچھاور کرتے رہتےہیں۔ہم اپنی گناہوں کی معافی اور نہ ہی رُوحُ القُدس کی شراکت کے مستحق ہوتےہیں۔نہ ہی آپ سےکسی اور نعمت یا برکت پانےکے لائق ہوتے ہیں۔ ہم جو کچھ خدا کی طرف سے پاتے ہیں وہ محض خدا کے فضل کا نتیجہ ہے۔در حقیقت ہم غضب اور تباہی کہ علاوہ کسی اور چیز کے مستحق ہی نہیں ہوتے۔لیکن مسیح پر ایمان لانے کی وجہ سے ہم خدا کے فرزندبن گئے ہیں جن پر وہ اپنا فضل نازل کرتا ہے۔کیا آپ نے گناہ کے غلاموں اور فضل کے فرزندوں کے درمیان فرق محسوس کیا ہے؟

یہ فضل خدائے قُدّوس کے دل میں محض ایک جذباتی احساس کی مانندنہیں ہوتابلکہ یہ وہ محّبت ہے جو قانونی حُقوق پر منحصر ہوتی ہے۔خدا جس گنہگار کو چاہے اپنی مرضی سے معاف نہیں کر سکتا کیونکہ گنہگار کےگناہ کا تقاضا ہے کہ وہ فوراً جان سے مارا جائے۔لیکن ہماری خاطر مسیح کی قائم مقام صلی و مَوت نے راستبازی کے تمام تقاضے پورے کر دیے۔لہٰذا فضل ہمارا حق اور خدا کا رحم و کرم حقیقت بن گیا جو ٹل نہیں سکتے۔مسیح کی معرفت ملنے والا فضل، ہماری خدا کے ساتھ زندگی کی قانونی بنیاد ہے۔

آپ شاید یہ پُوچھیں کہ یہ خدا کون ہے جو سب کر سکتا ہے لیکن پھر بھی اپنے انصاف کی حدود عبور نہیں کرسکتا؟ہم آپکو اس سوال کا جواب دیتے ہیں: کئی مذاہب کے پیروؤں نے نہایت سنجیدگی اورسرگرمی سے خدا کو سمجھنے کی کوشش کی۔لیکن وہ اُن سیڑھیوں کی مانندہیں جوزمین پر رکھی گئی ہیں لیکن آسمان تک نہیں پہنچ پاتیں۔لیکن مسیح اُس ایزدی سیڑھی کی مانند ہیں جوآسمان سے اتر تی ہے اورزمین پر مضبوطی سےٹیکی ہُوئی ہے ۔لہٰذا مسیح کی معرفت ہماری خدا سے ملاقات ہونےمیں کسی شک یا مایوسی کی گنجایش نہیں۔

ابدی خالق کو کسی اِنسان نے نہیں دیکھا کیونکہ ہمارے گناہ ہمیں خدائے قُدّوس سے جدا کرتے ہیں۔خدا کے بارے میں تمام بیانات غیر واضح اور مشکوک قیاس آرائیوں کے سِوا اور کچھ نہیں ہیں۔لیکن مسیح خدا کے بیٹے ہیں جو ازل سےاُس کے ساتھ ہیں اورایزدی مُقدّس تثلیث کا ایک اقنوم ہیں۔لہٰذا بیٹا جانتا تھا کہ باپ کون ہے۔اِس سِلسلہ میں اس سے قبل نازل شدہ الہامی کلام ناکافی تھا۔ مسیح خدا کا کامل کلام اور تمام سچّائی کی تلخیص ہیں۔

مسیح کے پیغام کا مرکز ی نُکتہ کیا ہے؟

آپ نے ہمیں سکھایا کہ دعا کرتے وقت خدا سے اِس طرح مخاطب ہُوا کریں:‘‘اے ہمارے باپ تو جو آسمان پر ہے۔’’خدا سے مخاطب ہونے کا یہ طریقہ بتا کر آپ نے ہم پر واضح کیا کہ خدا کا اصلی جوہر اُس کی ابویت ہے۔خداکوئی حاکمِ مُطلق (ڈِکٹیٹر)، فاتح یا تباہ وبرباد(مسمار) کرنے والی ہستی نہیں ہے۔نہ ہی وہ بے حِس اور لا پروا ہے۔جیسے ایک باپ اپنے بچّہ کی فکر رکھتا ہے اُسی طرح خدا ہمارا خیال رکھتا ہے۔اگر یہ بچّہ کیچڑ میں گر جائے تو باپ اسے اُٹھا لیتاہے، اُسےصاف کرتا ہےا وراسے گناہ کی دنیا میں کھو جانے کے لیے اکیلا نہیں چھوڑتا۔اب جبکہ ہم جان چکے ہیں کہ خدا ہماراباپ ہے،اِس لیےفکروں اور گناہوں کی وجہ سے ہونے والی ہماری پریشانی دور ہوگئی ۔کیونکہ اپنےباپ کی طرف لَوٹنے سے ہمیں پاکیزگی نصیب ہُوئی اور ہمارا خیر مقدم ہُوا۔اب ہم ابد تک خدا کے ساتھ رہیں گے۔باپ کے نام سے دنیا میں جو دینی انقلاب آیا وہ مسیح نے لایا ہُوا نیا مسیحی خیال ہے ۔یہ پدرانہ نام مسیح کے کلام اور کارناموں کی تخیص ہے۔

اپنی تجسیم سے پہلے مسیح اپنے باپ کے ساتھ تھے۔یہ نازک عکس مسیح اور خدا کے درمیان پائے جانے والے پُرمحبت رشتہ کی وضاحت کرتا ہے۔اپنی مَوت اور پھر اُس کے بعد مرُدوں میں سے جی اُٹھنے کے بعدبیٹا اپنے باپ کےپاس واپس چلا گیا۔وہ صرف باپ کے دہنے طرف ہی نہیں بلکہ باپ کے آغوش میں بیٹھا۔اس کا مطب یہ ہوا کہ آپ اور باپ ایک ہیں اور آپ باپ میں ہیں۔لہٰذا خدا کے بارے میں مسیح کے سبھی قول سچ ہیں۔مسیح میں ہم حقیقی خدا کودیکھتے ہیں۔جیسا بیٹا ہے ویسا ہی باپ ہےاور جیسا باپ ہے ویسا ہی بیٹا۔

دعا: اے ہمارے باپ تو جو آسمان پر ہے ،ہم تیری تمجید کرتے ہیں اور شکربجا لاتے ہیں کیونکہ تونےاپنے پیارے بیٹے مسیح کو ہمارے پاس بھیجا۔ہم تیرے آگے سِجدہ کرتے ہیں کیونکہ تو نے ہمیں شریعت کی بھیانک گرفت سے آزاد کیا اور اپنی ایزدی راستبازی میں قائم کیا۔ہم ہر رُوحانی نعمت کے لیئے تیرا شکر ادا کرتے اور تیرے پدرانہ نام میں پائی ہُوئی مراعات کے لیے تیری بڑائی کرتے ہیں۔

سوال ۱۴۔ مسیح دنیا میں کون سا نام خیال لے کر آئے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:59 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)