Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 009 (The fullness of God in Christ)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

الف۔ خدا کے کلام کی یسُوع میں تجسیم (یُوحنّا ۱: ۱۔۱۸)۔

٣ - مسیح کی تجسیم میں خدا کی معموری ظاہر ہُوئی (یُوحنّا ۱: ۱۴۔۱۸)٠


یُوحناّ ۱: ۱۵۔۱٦
۔۱۵ یُوحنّا نے اُس کی بابت گواہی دی اور پُکار کر کہا ہے کہ یہ وہی ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ جو میرے بعد آتا ہے وہ مُجھ سے مقدّم ٹھہرا کیونکہ وہ مُجھ سے پہلے تھا۔ ۱٦ کیونکہ اُس کی معموری میں سے ہم سب نے پایا یعنی فضل پر فضل۔

بپتسمہ دینے والے (یُوحنّا)نے دنیوی نسب ناموں پر سبقت لے جاتے ہُوئے پکار کر اعلان کیا کہ مسیح جو اُن کے بعدآئےوہ اُن سے پہلے ہی سےموجود تھے ۔اِس منادی کے ذریعہ بپتسمہ دینے والے یُوحنّا نے مسیح کی ابدیت کا دعویٰ کیا ۔اُنہوں نے اِس سچّائی کی گواہی دی کہ مسیح ، فضا،زمانہ اورفنا سے بالااور لامحدود و غیر فانی (ابدی) خدا ہیں۔

بپتسمہ دینے والے یُوحنّا، بیابان میں لوگوں کے گناہوں کی ماہیت کو دیکھ کرغمگین ہوگئے۔اُنہوں نے لوگوں کو گناہوں کی معافی کے لیے توبہ کرنے کی رغبت دی۔لیکن یسُوع کو دیکھ کراُن کا دل خوشی سے پھولا نہ سمایا کیونکہ مسیح ابدی انسان کے طور پر پیدا ہُوئے تھےاورسچائی سے معمُور تھےتاکہ موت آپ پر قابو نہ پا سکے۔مسیح کی تجسیم اور ولادت کی شادمانی خدا کی ابدی زندگی کا انسانی جسم میں ظہور ہے۔اس کے ساتھ زندگی کی موت پر فتح کا آغاز ہوا کیونکہ آپ میں، گناہ جو مَوت کا باعث ہوتا ہے،خارج کیا گیا۔

اِس فضل کی گہرائی کومحسوس کرتے ہوئے بپتسمہ دینے والے یُوحنّا نے مسیح میں موجود خدا کی معمُوری پر خوشی کا اظہار کرتے ہُوئے خدا کی تمجید کی۔پَولُس رسُول نے بھی اقرار کیا:‘‘کیونکہ اُلوہیت کی ساری معمُوری اُسی میں مُجسِّم ہوکر سکُونت کرتی ہے اور تُم مسیح میں کمال تک پہنچ چُکے ہو۔’’یُوحناّنے اِن سچائیوں کا اپنے اِس عظیم بیان میں یوں اختصار کیا:‘‘ ہم نے اسکی معموری میں سے فضل پر فضل پایا ہے’’۔

مسیح کی یہ معموری کیا ہے اور ہم نے اس سے کیا حاصل کیاہے؟ اگر آپ کو یُوحنّا نے پچھلی ۱۴ آیات میں مسیح کی شخصیت کے بارے میں کی ہُوئی وضاحت یاد ہو،توآپ مسیح کی شخصیت کی عظمت کو جان جائیں گےاورمحسوس کریں گے کہ آپ کے فضل کاسمند ر ہر روز ہم تک کیسے پہنچتا ہے۔

مسیح خدا کا کلام ہے جو باپ سےنکلتا ہے جیسے الفاظ انسان کے منہ سے نکلتے ہیں۔آپ خداکاباطنی دل او ر اسکی مرضی،جوہراو ر خوشی ہیں ۔جس طرح اِنجیل کا کلام ہم تک پہنچ کر ہمارے دل و دماغ میں داخل ہوتا ہے اور ہماری مرضی پر حاوی ہوتا ہے،اسی طرح مسیح بھی ہمارے دلوں میں داخل ہوکراپنے شرف و تفوُّق کے مطابق ہم میں تبدیلی لاتے ہیں۔کیا یہ نہایت شاندار فضل نہیں ہے؟

مسیح خدا کی زندگی ہیں: سائنسدان عمارتیں،پُل اور بڑے بمب تو بنا سکتے ہیں لیکن زندگی کوئی نہیں پیدا کر سکتا۔والدین کو یہ ذمّہ داری سونپ دی گئی ہے کہ وہ خدا نے اُنہیں بخشی ہُوئی زندگی اپنی اولاد میں منتقل کر دیں۔کیا یہ فضل نہیں ہے؟ اور چونکہ دنیاوی زندگی ختم ہو جاتی ہے،مسیح جوبذاتِ خُود ابدی زندگی ہیں، ایمانداروں کو اپنی رُوح عطا فرماتے ہیں۔تمام مسیحی خدا کی زندگی میں شریک ہیں اور وہ ہرگز نہیں مریں گے۔ کیا یہ فضل نہیں ہے؟

مسیح دنیا کا نُور ہیں۔وہ تاریکی پر فتح پاتے ہیں اورگھُپ اندھیری رات کو روشن کر دیتے ہیں۔وہ مایوس دنیا کو امید بخشتے ہیں اور کمزوری میں کراہتی ہوئی دنیا کو مُقوّی کرتے ہیں۔مسیح کا نُور اپنے اجالے سے ہماری دنیا کی تاریکی کو مُنوّر کرسکتا ہے۔اگر لوگ آپ پر ایمان لاتے ہیں تو آپ سیاسی نظاموں اور کارخانوں کو،خاندانوں اور کلیسیاؤں کو صداقت اور وفاداری (خیر خواہی) عطا کرتے ہیں۔کیا یہ فضل پر فضل نہیں ہے؟

یسُوع کائنات کے خالق ہیں۔آپ میں خدا کی قوّت کی معموری سمائی ہُوئی ہے۔آپ کے معجزات وہ نشانیاں تھیں جو آپ کے اختیار کی طرف اشارہ کرتی تھیں۔آپ کا مرُدوں میں سے جی اُٹھنا یہ ثابت کر چُکا کہ آپ کی زندی مَوت پر قابو رکھتی ہے۔آپ نے پانی پر چل کر ثابت کر دیا کہ کششِ ثِقل ( زمین کی کشش) کوآپ کے بدن پر کوئی اختیار نہیں ہے۔آپ نے چند روٹیوں کو توڑکر پانچ ہزار لوگوں میں تقسیم کیا جنہیں کھا کر وہ سب سیر ہو گئے۔آپ نےتمہارےسر کے سارےبال گِن رکھے ہیں۔ایسے فکرمند فضل کے آگے جھُک کر آپ کب اُسے قبول کریں گے؟

کیا آپ اب بھی مسیح کی معموری کے متعلق مزید جاننا چاہیں گے؟ آپ سارےجہاں کے مالک ہیں۔ تمام مال و زر،آپ کی زندگی کا ہر لمحہ یہاں تک کہ آپ خود مسیح کی ملکیت ہیں۔مسیح نے آپ کو بنایا اور وہی آپ کو سنبھالتے ہیں۔مسیح ہر چیزکے مالک ہیں۔آپ نے اپنےمفاد تمہارے ہاتھوں میں سونپ دیے تاکہ تُم آپ کی خاطران کا انصرام کرو۔آپ کے عضلات، آپ کے خیالات اور آپ کے والدین خدا وندکی وہ نعمتیں ہیں جو آپ کو عطا کی گئی ہیں۔اِس فضل کے لیے آپ کب مسیح کے شکر گزار ہوں گے؟

مسیح کی تجسیم اور ولادت کے متعلق حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خدا کی معموری ایک شیر خواربچہ کی صورت میں انسان بن گئی۔اِس معجزہ کی ہوبہو پیش گوئی یسعیاہ نبی نے ۷۰۰ سال قبل پاک رُوح کے الہام کے ماتحت یوں کی تھی:‘‘ کیونکہ ہمارے لیئے ایک لڑکا پیدا ہو گا،ہمیں ایک بیٹا بخشا گیا ،اور سلطنت اسکے کندھوں پر ہو گی۔اوروہ عجیب مشیر،قادرِمطلق خدا،ابدیت کا باپ اور سلامتی کا شہزادہ کہلائے گا’’(یسعیاہ ۹: ۶)۔افسوس کی بات یہ ہے کہ انسان کا دماغ یہ سمجھنے میں کوتاہی کر رہا ہے کہ خدا نےمسیح میں ہوکر اپنی خالص شبیہ انسان میں بحال کی ہے جو اسے تخلیقِ کائنات کی ابتدا میں عطا کی گئی تھی۔مسیح وہ پُرجلال ہستی ہیں جو دور اندیش،روشن خیال مُشیر اور قادرِ مطلق ابدی خدا ہے۔خدا کی تمام صِفات اور نعمتیں چرنی کے طفل میں موجود تھیں۔کیا آپ نے اِس حیرت انگیز فضل کومحسوس کیا کہ خدا، یسُوع کی ہستی میں ہمارے بیچ میں آیا؟اب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا ہمارے ساتھ ہے!

مسیح اپنی صفات اپنی ہی حد تک محدود رکھنا نہیں چاہتے،ورنہ آپ آسمان پر ہی رہے ہوتے۔آپ ہماری دنیا میں تشریف لے آئے، ہمارا بدن اختیار کیا اورہماری ادنیٰ شبیہ بھی اختیار کر لی تاکہ آپ ہمارے لیے جنّت (آسمان کی بادشاہی) کی راہ کھول دیں اور اپنے آسمانی باپ سے ہمارا میل ملاپ کر لیں اور ہمیں اُس کی معموری سے بھر دیں۔اسی طرح پَولُس رسُول بھی گواہی دیتے ہیں کہ خدا چاہتا ہے کہ کلیسیاء میں اسکی معموری موجودہو۔اگر آپ افِسیوں ۱: ۲۳؛ ۴: ۱۰ اورکُلسُیِوں ۲: ۱۰ کا مطالعہ کریں تو آپ خدا کی توصیف کی لہروں میں بہہ جائیں گے اور اپنے خداوند کے فضل کی تمجید کریں گے۔اپنے گناہوں میں شکستہ حال نہ بنے رہئے بلکہ اپنا دل مسیح کی معموری کے لیے کھول دیجیے۔چرنی کے طفل کی طرف آئیے تو آپ پرلاتعداد برکیںے نازل ہوں گی اورمسیح آپ کو اپنے ارد گرد کے لوگوں کے لیے فضل کا ذریعہ بنا دینےی۔

دعا: اے خداوند یسُوع مسیح ،آپ خدا کے بیٹے ہیں۔تمام محّبت،قوّت اور سچائی آپ میں موجود ہے۔ہم آپ کے حُضور سر نِگُوں ہوتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں کیونکہ آپ ہم سے بہت دور نہیں رہتے بلکہ ہمارے بیچ میں رہا کرتے ہیں۔آپ ہم سے محّبت کرتے ہیں۔آپ اِنسان بنے اور ہمیں مُخلصی بخشی۔ ہمیں فضل پر فضل بخشنے کے لیےہم آپ کا شکربجا لاتے ہیں۔

سوال ۱۳۔ مسیح کی معموری سے کیا مراد ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:59 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)