Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 005 (The Baptist prepares the way of Christ)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

الف۔ خدا کے کلام کی یسُوع میں تجسیم (یُوحنّا ۱: ۱۔۱۸)۔

٢ - بپتسمہ دینے والا یُوحنّا، مسیح کی راہ تیّار کرتا ہے ﴿يوحنّا ٦:١-١٣﴾٠


یُوحناّ ۱: ٦۔۸
٦ ایک آدمی یُوحنّا نام آ موجود ہُوا جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ ۷ یہ گوہی کے لیے آیا کہ نُور کی گواہی دے تاکہ سب اُس کے وسیلہ سے ایمان لائیں۔ ۸ وہ خُود تو نُور نہ تھا مگر نُور کی گواہی دینے کو آیا تھا۔

خدا نے بپتسمہ دینے والے یُوحناّ کو تاریک دنیا میں بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو ایزدی نُور کی کرنوں سے روشناس کرائیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ تاریکی میں کئی گناہ سرزد ہوتے ہیں۔لیکن جو شخص نادم ہوکر اور شکستہ دل سےخدا کے حُضور اپنی خطاؤں کا اقرار کرتا ہے، وہ نُور کے پاس آجاتا ہے۔آپ کے متعلق کیا کہا جائے؟کیا آپ نُور کی جانب آچکے ہیں یا ابھی بھی اپنے آپ کو تاریکی میں چھپا رہے ہیں؟

یُوحناّ نے لوگوں کو اُن کے دلوں کی حالت سمجھا دی کہ خدا کی شریعت کے مطابق وہ سب بدکار ہیں۔انہیں توبہ کی اوراپنے باطن میں بنیادی تبدیلی لانےکی ضرورت ہے تاکہ وہ خدا کی آمد کے دن ہلاک نہ ہوں۔بپتسمہ دینے والے کی پکار نے لا تعداد لوگوں کے دلوں کو جھنجھوڑا اورلوگ بیابان میں توبہ کرنے کے لیے بلانے والے کی طرف دوڑ پڑے۔انہوں نےعلانیہ اپنے گناہوں کا اقرار کیا اور اپنے گناہوں سے پاک ہونے ، اپنی خودغرضی کے غرق کیے جانےاور دریا کی دھارا سے نئی ذندگی پانے کی نشانی کے طور پر دریائے یردن میں بپتسمہ پانےکی درخواست کی۔

خدا نے بپتسمہ دینے والے یُوحناّ کو چنُا۔اس نے اُنہیں تربیت دے کر یہ ذمّہ داری سونپ دی کہ وہ لوگوں کومتاثر کریں تاکہ وہ ہوش میں آئیں،اپنے خیالات بدل دیں اور مسیح کی آمد کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔پرانے عہدنامہ کے لوگ خداوند کے نام سے آنے والے کے متعلق بہت کُچھ جانتے تھے ۔ یسعیاہ نبی نےآپ کے بارے میں کہا:‘‘جو لوگ تاریکی میں چلتے تھے اُنہوں نے بڑی روشنی دیکھی۔ جو مَوت کے سایہ کے ملک میں رہتے تھے اُن پر نُور چمکا’’(یسعیاہ ۹: ۲)۔یسعیاہ نبی نے خدا وندکے نام میں یہ بھی کہا: ‘‘اٹھ منور ہو کیونکہ تیرا نُور آگیا،اور خداوند کا جلال تجھ پرظاہر ہوا’’ (یسعیاہ ۶۰: ۱)۔ بپتسمہ دینے والے یُوحنّا نے سکھایا کہ تاریکی میں نُور کی آمد صرف پرانے عہدنامہ کے لوگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے۔لہٰذا بپتسمہ دینے والے کے پیغام کے دائرہ میں پوری دُنال شامل تھی اِس لیے ایشیائے صغیر اور بحیرۂ رُوم کے آس پاس کے تمام علاقوں کے لوگ یُوحنّا کی موت کے بعد بھی کئی سالوں تک اُن کی پیروی کرتے رہے۔

یُوحنّا کی اِس گواہی کے باوجود کہ وہ نُور نہیں ہیں بلکہ اُس نُورکی منادی کے لیے بھیجے گیے ہیں،ہزاروں لوگ اُن کے پیچھے ہو لیے۔اُنہوں نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف نہیں بلکہ مسیح کی طرف مبذول کی۔یہ خدا کے تمام سچے پیغمبروں کی واضح نشانی ہے کہ وہ اپنے پیروؤں کو اپنی ہستی سے پیوست نہیں کرتے بلکہ صرف مسیح کی طرف رجوح کرتے ہیں۔

یُوحناّ کی خدمت کا مقصد لوگوں کو توبہ کرنے پر آمادہ کرنا اور اُنہیں بپتسمہ دینا ہی نہیں بلکہ اُنہیں مسیح پر ایمان لانے کے لیے راغب کرناتھا۔وہ جانتے تھے کہ لوگ یہ امیدرکھتے ہیں کہ وہ خود مسیح ہونے کا دعویٰ کریں گے۔لیکن وہ آزمائش میں نہیں پڑے بلکہ خداوند کے لیے راہ تیار کی۔ وہ جانتے تھے کہ آنے والے مسیح ہی لوگوں کو رُوح ُالقُدس سے بپتسمہ دیں گے۔یُوحناّ یہ بھی جانتے تھے کہ محض نفسی توبہ کافی نہیں ہے ، خواہ انسان گنا ہوں کی معافی کے لیے بپتسمہ ہی کیوں نہ لے۔ بلکہ وہ جانتے تھے کہ ہم سب کے لیے لازمی ہےکہ اپنے باطن کی مکمل تجدید کریں ۔خدا نے یُوحنّا کو لوگوں کے دلوں میں تبدیلی لانے کا اِختیار نہیں بخشا، ٹھیک اُسی طرح جیسے اُس نے پرانے عہدنامہ میں کسی نبی کو یہ اختیار نہیں دیا۔یہ حق صرف اصلی نُور کے لیےمحفوظ رکھّا گیا تھا جوخالق اور زندگی بخش کلام ہےجو اپنے اختیار سے اُن لوگوں کی تجدید کرتا ہےجو اسکے نام پر ایمان لاتے ہیں اوراُس کے نُور کوقبول کرتے ہیں۔ اسطرح یُوحناّ نے کثیرالتعداد لوگوں کو مسیح پر ایمان لانے کی رغبت دی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ صرف ایمان ہی اُنہیں نئے دور میں لے جائے گا۔

اپُلوس، یُوحناّ،بپتسمہ دینے والے کی تعلیم پر عمل کرنے والا ایک پُر جوش اور مستعد فلسفی تھا۔وہ نئے عہد کے نُورکا حقیقی تجربہ حاصل کیے بغیرمسیح کی خاطر مؤثر طور سےوعظ و نصیحت کرتا رہا۔لیکن جب اس نے خود کو مسیح کے حوالے کر دیا تو نُور اس کے دل میں سرایت کر گیا اور وہ خداوند میں نُور اور تاریکی میں چراغِ راہ بن گیا۔اس نے کئی لوگوں کو تربیت دی (اعمال ۱۸: ۲۴۔۲۸)۔

دعا: اے خداوند مسیح،ہم آپ کی تمجید کرتے اور شکر بجا لاتے ہیں کیونکہ آپ ُدنیا کا نُور اور آفت کے مار وں کی امیّد ہیں۔آپ نے ہمارے تاریک دلوں کو واقفیت بخشی ،ہمارے گناہوں کوواضح کیااور انہیں معاف فرمایا۔ہم آپ کے شکرگزار ہیں کیونکہ آپ نے ہمیں نُور کے فرزندبنایا اور ہمیشہ کی زندگی بخش کر آزاد کر دیا۔۔ہم گزارش کرتے ہیں کہ آپ کے نُور کی کرنیں ہمارے دوستوں اور رشتہ داروں تک پہنچیں تاکہ وہ صحیح معنوں میں توبہ کریں اور ایمان لاکرآپ کے نُور میں داخل ہوں۔

سوال ۹۔ یُوحناّ بپتسمہ دینے والے کی خدمت کے اہم مقاصد کیا ہیں؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:57 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)