Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 006 (The Baptist prepares the way of Christ)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۔ ۴: ۵۴)۔

الف۔ خدا کے کلام کی یسُوع میں تجسیم (یُوحنّا ۱: ۱۔۱۸)۔

٢ - بپتسمہ دینے والا یُوحنّا، مسیح کی راہ تیّار کرتا ہے ﴿يوحنّا ٦:١-١٣﴾٠


یُوحناّ ۱: ۹۔۱۰
۔۹ حقیقی نُقر جو ہر ایک آدمی کو روشن کرتا ہے، دُنیا میں آنے کو تھا۔ ۱۰ وہ دُنیا میں تھا اور دُنیا اُس کے وسیلہ سے پیدا ہُوئی اور دُنیا نے اُسے نہ پہچانا۔

مسیح دُنیا میں حقیقی نُور ہیں۔رُوح ُالقُدس نے سینکڑوں سال پہلے انبیا ءکے ذریعے آپ کی آمد کے بارے میں پیش گوئی کی تھی۔پرانے عہدنامہ کی آسمانی کتابوں میں ہماری کائنات میں مسیح کی آمد کےمتعلق کئی حولجات پائے جاتے ہیں ۔ یسعیاہ نبی نے بھی اِس طرح فرمایا:‘‘کیونکہ دیکھ تاریکی زمین پر چھا جائے گی اور تیری امتوں پر ، لیکن خداوندتجھ پر طالع ہوگا اور اس کا جلال تجھ پر نمایاں ہوگا’’(یسعیاہ ۶۰: ۲)۔

ہماری زیر تشریح آیت میں لفظ،‘دُنیا’،چار مرتبہ دہرایا گیا ہے۔مُبشِّریُوحناّ اِس لفظ کو تاریکی کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ لکھتے ہیں:‘‘ ساری دنیا اس شریر کے قبضہ میں پڑی ہُوئی ہے’’ ( ۱ یُوحنّا ۵: ۱۹)۔

ابتدا میں دنیابدکار نہیں تھی کیونکہ خدا نے اسے اچھا بنایا تھا۔ کائنات اسکی خوبصورتی اور فضیلت سے معمورتھی۔‘‘اور خدا نےدیکھا کہ اچھّا ہے’’(پیدایش ۱: ۳۱)خدا نے انسان کو اپنی شبیہ پر بنایااور اپنے جلال سےانسان کےآباواجدادکو سرفراز کیاجنہوں نے اپنے خالق کے نُور کی آئینہ کی مانند عکّاسی کی۔

لیکن غرور کے باعث سب لوگ بدکار اور باغی ہو گئے۔انہوں نے اپنے دلوں کو خدا کی شراکت سے خالی کر دیا اوراپنے آپ کو تاریکی کی رُوح کے لیے کھول دیا۔خدا سے دوری اختیار کرنا ہمیشہ انسان کو بدکار بنا دیتا ہے ، جیسا کہ داؤد نے مزمور ۱۴: ۱ میں اقرار کیا: احمق نے اپنے دل میں کہا کہ کوئی خدا ہے ہی نہیں وہ بگڑگیے۔ ُانہوں نے نفرت انگیزکام کیے ہیں۔ کوئی نیکو کار نہیں۔

البتّہ مُبشِّریُوحناّ نے تصدیق کی کہ جس طرح سورج رفتہ رفتہ طلوع ہوتا ہے اور تاریکی کو دُور کرتا ہے، اُسی طرح مسیح اِس دُنیا میں آئے۔مسیح کا نُور آنکھوں کو چُندھیا دینے والی بجلی کی طرح ہماری دُنیا میں داخل نہیں ہُوا بلکہ نہایت آہستہ سے داخل ہوکرسب لوگوں کو روشن کر دیا۔۔اس کے معنی یہ ہُوئے کہ خداوندانصاف کرنے اور سزا دینے کےلیےنہیں بلکہ ایک مُنجی اور مُخلصی دینے والے کی حیثیت سے آئے۔سب لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسیح سے روشن خیالی (تعلیم)حاصل کریں۔اس روشن خیالی کے بغیر وہ تاریکی میں رہ جاتے ہیں۔مسیح ہی اصل اُستاد ہیں اور کوئی نہیں۔جوشخص اِنجیل کی معرفت یہ تعلم قبول کرتا ہےاُس کا چال چلن بدل جاتا ہے اوروہ نیک بن کر دوسروں کے دل و دماغ کو روشن کرتا ہے۔

کیا آپ نے اس ضربُ المثل کامطلب سمجھا ہے:‘‘خالق اس دنیا میں آیا؟’’ مالک اپنی ملکیت میں داخل ہُوا، اور بادشاہ اپنی رعایا کے قریب آیا۔کون جاگ اُٹھے گا اور اس کی آمد کی تیاّری کرے گا؟ کون اسکی آمد،اُس کےدستورالعمل اورارادوں کی سچائی کو سمجھے گا؟ وہ کون ہے جو اپنے دنیاوی اور بے بنیاد مقاصد کو ترک کرکے آگے بڑھتا ہے اورآنے والے خدا کا استقبال کرتا ہے ؟ وہ کون ہے جو خدا کی آمد کی اِس انقلابی اورانوکھی گھڑی کو پہچانتا ہے ؟

چنانچہ خداوند اچانک گنہگاروں کے درمیان آ موجود ہُوئے۔وہ ایک معمولی اورخاموش ہستی کے طور پر آئے اور کسی کو کان و کان خبر تک نہ ہُوئی۔وہ دُنیا کو اپنی عظمت،قوّت اورجلال سے آگاہ کرنا نہیں چاہتے تھےبلکہ اپنی حلیمی،محّبت اورسچائی سے واقف کرنا چاہتے تھے۔کیونکہ خلقت کے آغاز سے ہی غرور، انسان کے زوال کا باعث بنا۔لہٰذا خدا تعالیٰ نے اپنے آپ کو نہایت حلیمی کی حالت میں پیش کیا۔شیطان بھی خدا کی طرح قادرِ مُطلق،جلیلُ القدر اور ذہین ہونا چاہتا تھا۔لیکن مسیح نے ایک کمزور بچہ کی شکل میں آکر ایک معمولی چرنی میں قیام کیا ۔لہٰذا اپنی حلیمی،شرافت اور وفاداری کے باعث وہ ناچیز بنے تاکہ تمام نُوعِ انسان کو نجات دلاتے۔

اے سب لوگو، سُنو!اس خوش خبری کے بعد ہم یہ خوفزدہ اور تباہ کُن کلام پڑھتے ہیں کہ دُنیا نُور کو نہیں جانتی اور اس نے اُسےپہچانا بھی نہیں۔اُس نے نہیں پہچانا کہ خدا کا بیٹا اُس کے قریب آیااور لوگوں کے درمیا ن موجود تھا۔لوگ اپنے فلسفوں، سائنسی علم او ر دنیاوی ذہانت کے باوجود نابینا اور بیوقوف بنے رہے۔وہ یہ نہ جان سکے کہ خدا خود ان کے سامنے کھڑا ہے۔اُنہوں نے اپنے خالق کو نہ جانااوراپنے نجات دہندہ کو قبول نہ کیا۔

اس تکلیف دہ سچائی سے ہم خدا کی بادشاہی کے بارے میں ایک بنیادی اصول اخذ کر سکتے ہیں ۔وہ یہ کہ ہم محض اپنے دماغ اور انسانی صلاحیتوں کی بدولت خدا کو سمجھ نہیں سکتے۔ مسیح کی محبت کےمتعلق تمام معلومات خدا کے فضل وعنایت کانتیجہ ہوتی ہےکیونکہ رُوحُ القُدس ہمیں اِنجیل کے پیغام کےذریعہ بُلاتاہے،اپنی نعمتوں کے ذریعہ ہمیں تربیت دیتا ہے اور ہمیں حقیقی ایمان میں قائم رکھتا ہے۔لہٰذا ہمیں لازم ہے کہ توبہ کریں اور اپنے دماغ کی ذہانت اور اپنےباطنی جذبات پر منحصر نہ رہیں۔ جس طرح پھول سورج کی شعاعوں کی طرف رُخ کرکے کھِلتے ہیں اسی طرح ہم سب کو حقیقی نُور کی جانب رُخ کرکے کھل جانا چاہئے۔اس طرح مسیح پر ایمان لانے سے ہم سچی تملا پاتے ہیں۔یہ ابتدائی ایمان ہمارا اپنا نہیں ہوتابلکہ خدا وندکے روح کی جانب سے ان سب لوگوںکو حاصل ہوتا ہےجو اس کے فرمانبردارہوتے ہیں۔

دعا:اے خداوندمسیح، ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ دنیا میں تشریف لائے۔آپ انصاف کرنے یابدلہ کے لینے کی غرض سے نہیں آئے بلکہ سب لوگوں کی واقفیت کے لیے اور اُنہیں نجات بخشنے کے لیے آئے۔لیکن ہم نابینا اوربیوقوف ہیں۔ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے او ر ہمیں اطاعت شعار دل عطا فرمائیے۔ ہماری آنکھیں کھول دیجیےتاکہ ہم آپ کودیکھ سکیں ،ہمارےباطن کو اپنے مہین نُور کے لیے وا کیجیے،تاکہ ہم آپ کے پاک رُوح کی قوت کے سہارے جی سکیں۔

سوال ۱۰۔ نُورانی مسیح اور تاریک دنیا میں کیا نسبت ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:58 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)