Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 004 (The Word before incarnation)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

الف۔ خدا کے کلام کی یسُوع میں تجسیم (یُوحنّا ۱: ۱۔۱۸)۔

۔۱۔ تجسیم سےقبل کلام کا جوہر اور کام (یُوحنّا ۱: ۱۔۵)۔


یُوحناّ ۱: ۵
۔۵ اور نُور تاریکی میں چمکتا ہے اور تاریکی نے اُسے قبول نہ کیا۔

خدا کی نگاہ میں ہر چیز مُنوّراور پاک ہوتی ہے اوروہ منظرِ عام پر ہوتی ہے اور خوبصورت بھی ہوتی ہے۔اس کے حلقۂ اثر میں تاریکی مطلق نہیں ہوتی۔ہر چیزصاف،راست،سچّی اور مقدّس ہوتی ہے۔نجاست اس کےاطراف پنپ نہیں سکتی۔رُوح ُالقُدس پاک ہے اور خدا کا نُورسختی سے نہیں بلکہ نرمی سے چمکتا ہے۔وہ سکون اور شفا بخشتا ہے۔

مسیح کے نُور کی شعائیں آسمان تک ہی محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ تاریکی کو چیرتی ہُوئی نجات بکھیر دیتی ہیں۔یہ عجب فضل ہے کہ آج ہر طرح کی تاریکی میں مسیح کا جلال چمک رہا ہے۔آپ کھوئے ہوئے لوگوں کوترک نہیں کرتےبلکہ اُنہیں مُخلصی بخش کراُن کے دماغ روشن کرتے ہیں۔

ہمیں نُور کی دنیا کے مقابل تاریکی کی دنیا کے وجود کو تسلیم کرنا ہو گا۔ہم نہیں جانتے کہ تاریکی کہاں سے آئی۔مُبشِّر یُوحناّ نے ہم پر یہ راز عیاں نہیں کیا۔وہ چاہتے تھے کہ ہم نُور کو جانیں لیکن تاریکی کی گہرائی میں نہ جھانکیں۔سب لوگ اور مخلوقات تاریکی میں اُلجھ گئے او رساری دنیا بدی کے سرغنہ کی زد میں آ گئی۔

ممکن ہے کہ آپ پُوچھیں: اگر مسیح نے خدا کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کائنات کوخلق کیا اور دیکھا کہ وہ اچھّی ہے،تو پھر تاریکی نے اُس میں کیسے راہ نکالی؟ جب خدا نے انسان کو اپنی شبیہ پر بنایا، پھر آج ہم اس کے جلال سے کیوںمحروم ہیں؟

یُوحناّ شیطان کے نام کا ذکرنہیں کرتے جس نے اپنے خداوند کی نافرمانی کی اوراُس کے نُورکا چراغ بجھانے کی کوشش کی۔ اُس نے ہمیشہ مسیح کی ماہلفت کی۔ اِس لیے اُس نے وہ نُور کھو دیا جس سے اُسےسرفراز کیا گیا تھا۔ شیطان مغرورہو کر خدا کے بغیر عظمت کا متلاشی ہُوا۔وہ خدا پر قابو پانے کے لیے اُس سےاعلیٰ مرتبہ حاصل کرنا چاہتا تھا اور اُسی لمحہ وہ تاریکی کا شہزادہ بن گیا۔

عزیز بھائیو،آپ کی اپنی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کیا آپ خدا کے بغیر اپنے لیےعظمت،شہرت اور اِطمئنان کی تلاش میں ہیں؟اگر ایسا ہے تو آپ بھی بدی کے سرغنہ کی طرح اُن لوگوں میں ہو جو تاریکی میں پڑے ہیں کیونکہ وہ اکیلا نہیں رہا بلکہ لاکھوں لوگوں کو اپنے ساتھ تاریکی میں گھسیٹ کرلے گیا۔راہ میں آپ کے پاس سے گزرنے والے لوگوں کے چہروں کو دیکھیے۔آپ کو اُن کی آنکھوں میں کیا نظر آتا ہے:نُور یا تاریکی؟ اُن کے دل کس چیز کی عکاّسی کرتے ہیں؛خداکی شادمانی کی یا شیطان کی غمگینی کی؟

ابلیس خدا کو پسند نہیں کرتا ہے کیونکہ اس کا مقدّس نُور اسکی عدالت کرتا ہے۔وہ نہیں چاہتا کہ نُور اسکی وحشت اور سفّاکی پر سے پردہ اٹھائے۔لہٰذا وہ نقاب اوڑھ کر رُو پوش ہوجاتا ہے اور مسیح اور آپ کے نُور کی تقلید کرنے والوں پرغلبہ پانے کی کوشش کرتا ہے۔یہ دغاباز خداوند کے نُور کو برداشت نہیں کر سکتابلکہ اُس سے نفرت کرتا ہے۔وہ جان بوجھ اپنا چہرہ ڈھانک لیتاہے تا کہ نُورکو محسوس نہ کر سکے۔خوفناک بات یہ ہے کہ لاکھوں لوگ اپنے گناہوں کی تاریک رات میں مسیح کے سورج کو چمکتے ہُوئے نہیں دیکھ پاتے۔ہم جانتے ہیں کہ سورج کیا ہے۔اسے وضاحت کی ضرورت نہیں۔وہ خودبخودطلوع ہوتا ہے،چمکتا ہے،صاف طور پر نظر آتا ہے اور حرارت منتشر کرتا ہے۔ہر چھوٹا بچہ بھی جانتا ہے کہ وہ زندگی کا سرچشمہ ہے۔

لیکن لاتعداد لوگ مسیح کےجلال اور قوت کو محسوس نہیں کرتے کیونکہ وہ اس کوسمجھنا نہیں چاہتے۔فریبی نظریات ان کی آنکھوں کو موٹے کمبل کی طرح ڈھانک دیتے ہیں اِس لیے وہ مسیح کی الوہیت کے حقیقی پیغام کوٹھکرا دیتے ہیں۔دراصل وہ اپنے گناہوں کو جاننا نہیں چاہتے۔وہ نُور کے قریب آنا نہیں چاہتےبلکہ تاریکی میں رہناپسند کرتے ہیں۔وہ نہ نفس کُشی کرتے ہیں اور نہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتےہیں بلکہ مغرور اور متکبّر ہو جاتے ہیں اور مسیح کے نُور کے فضل سے ناآشنا رہتے ہیں۔تاریکی نُور کا مقابلہ کرتی ہے لیکن نُور محبّت سے اس پر حاوی ہو جاتا ہے۔تو پھر آپ کون ہیں؟خدا وندکی طرف سے نمودار ہونے والا نُور یا ابلیس کی پھیلائی ہُوئی تاریکی؟

دعا: اے خدا وند،آپ دنیا کا نُور ہیں۔ہم ایمان کے ساتھ آپ کی پیروی کرتے ہیں اورآپ کی محبّت میں قائم ہیں۔ہم تاریکی میں نہیں چلتےبلکہ ہم نے زندگی کےنُور کوپایا ہے۔ہم آپ کے شکرگزار ہیں کیونکہ آپ نے ہمیں خدا کے غضب کی تاریکی سے خوفزدہ ہونے کے لیے تنہا نہیں چھوڑابلکہ آپ نے ہمیں اپنے شفّاف نُور کی طرف بلایا ۔ہمارے اردگرد بسے ہُوئےانگنت لوگوں کے خیالات کو روشن کیجیے جنہوں نے آپ کو نہیں دیکھا باوجود اِس کے کہ آپ کا نُوراُن کے اِرد گرد چمکتا رہا۔اے واقفیت بخشنے والے خداوند، ہم پہ رحم فرمائیے اور ہمیں نُور بخشیے۔

سوال ۸۔ رُوحانی اعتبار سے نُور اور تاریکی میں کیا فرق ہے؟

لوگ تاریکی میں چلتے تھے اُنہوں نے بڑی روشنی دیکھی۔
جو مَوت کے سایہ کے ملک میں رہتے تھے۔
اُن پر نُور چمکا۔

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:57 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)