Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 026 (The Baptist testifies to Jesus)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

ج ۔ مسیح کی یروشلیم میں پہلی تشریف آوری ۔ (یُوحنّا ۲: ۱۳۔ ۴: ۵۴) ۔ حقیقی عبادت کیا ہے؟

٣- دُلہا یسُوع کے متعلق بپتسمہ دینے والے یُوحنّا کی گواہی ﴿يوحنا ٣: ٢٢-٣٦﴾٠


یُوحناّ ۳: ۲۲۔۳۰
۔۲۲ ان باتوں کے بعد یسُوع اور اسکے شاگرد یہودیہ کے ملک میں آئے اوروہ وہاں اُن کے ساتھ رہ کر بپتسمہ دینے لگا۔ ۲۳ اور یُوحنّا بھی شالیم کے نزدیک عینون میں بپتسمہ دیتا تھا کیونکہ وہاں پانی بہت تھااور لوگ آکر بپتسمہ لیتے تھے۔ ۲۴ کیونکہ یُوحنّا اس وقت تک قید خانہ میں ڈالا نہ گیا تھا۔ ۲۵ پس یُوحنّا کے شاگردوں کی کسی یہودی کے ساتھ طہارت کے بابت بحث ہوئی۔ ۲٦ اُنہوں نے یُوحنّا کے پاس آکر کہا، اے ربّی! جو شخص یردن کے پار تیرے ساتھ تھاجسکی تو نے گواہی دی ہے دیکھ وہ بپتسمہ دیتا ہے اور سب اُس کے پاس آتے ہیں۔ ۲۷ یُوحنّا نےجواب میں کہا انسان کچھ نہیں پا سکتا جب تک اُس کو آسمان سے نہ دیا جائے۔ ۲۸ تم خود میرے گواہ ہو کہ میں نے کہا میں مسیح نہیں مگر اُس کے آگے بھیجا گیا ہوں۔ ۲۹ جس کی دُلہن ہے وہ دُلہا ہے مگر دُلہاکا دوست جو کھڑا ہوا اُس کی سنتا ہے دُلہا کی آواز سے بہت خوش ہوتا ہے پس میری یہ خوشی پوری ہو گئی۔ ۳۰ ضرور ہے کہ وہ بڑھے اور میں گھٹوں۔

عیدِ فسح کے بعدیسُوع یروشلیم سے چلے گیے اور بپتسمہ دینے لگے۔آپ کےشاگردجانتے تھے کہ نئے سرے سے پیدا ہونے سے قبل دل کےقائل ہونےکی ضرورت ہے اور یہ کہ گناہ کا اقرار کیے بغیرنجات حاصل نہیں ہو سکتی۔ بپتسمہ لینا گناہوں کی معافی کے لیے دل کے قائل ہونے کی علامت ہے جس کی بدولت تائب و نادم گنہگار، خدا کے نئے عہد میں شامل ہونے کی تمنّا کا اظہار کرتا ہے۔

بپتسمہ دینے والے یُوحنّا نے اپنی خدمت کی جگہ بدل کر یردن کی وادی کے شمالی سِرے میں واقع عینون چلے گئے۔لوگ اُن کے پاس آکراپنا دل کھول کر رکھ دیتے تھے، لہٰذا وہ اُن کو بپتسمہ دیتے تھے تاکہ وہ یسُوع سے ملاقات کے لیے تیار ہوں۔

یسُوع عیدِ فسح کے فوراً بعد براہِ راست گلیل واپس نہیں گیے بلکہ اُسی علاقہ میں کسی اور جگہ توبہ کرنے والے لوگوں کو بپتسمہ دینے لگے۔چونکہ آپ زیادہ اختیار رکھتے تھے اِس لیے لوگ یُوحنّا کی بہ نسبت آپ کے پاس زیدہ تعداد میں آتے تھے۔نتیجہ یہ ہُوا کہ اِن دوفریقوں میں بحث چِھڑ گئی۔ مسلہ یہ تھا کہ اِن دو رہنماؤں میں گناہوں سے پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے بہتر کون ہے؟اِن دونوں میں سے کون خدا سے زیادہ قریب ترہے؟یہ نہایت اہم سوال تھا کیونکہ لوگ اپنی زندگیوں کی مکمل تقدیس کروانا چاہتے تھے۔ بھائیو!کیا آپ نے کبھی اِس مسلہ پر غور کیا ہے کہ آپ اپنے اخلاق کی تقدیس کس طرح کروائیں گے؟کیا آپ اپنی مکمل پاکیزگی کی خاطر کوشش کرتے رہے ہیں یا پھر آپ عمر بھر اپنے گناہوں کو گھسیٹتے رہیں گے؟

یُوحنّا نے اِس شدید آزمائش کا ڈٹ کرمقابلہ کیا۔اُنہوں نےیسُوع کی نمایاں کامیابی پررشک نہیں کیابلکہ اُنہیں اپنی خدمت کے محدود ہونے کا احساس تھا۔اُنہوں نے نہایت حلیمی کے ساتھ اقرار کیا: "ایک ادنیٰ اِنسان محض اپنی ہی کوششوں کے بل پراتنے اچھے کام کا بیڑا نہیں اُٹھا سکتا۔جب تک خدا اُسے قوت، برکت اور نعمت نہ عطا کرے وہ ایسا نہیں کر سکتا ۔"اِس کےبرخلاف ہم اپنے روحانی علم،دعاؤں اورفصیح تقاریرپر فخر کرتے ہیں۔اگر آپ کو کوئی روحانی نعمت ملتی ہے تو یاد رکھیں کہ وہ صرف خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔اگر آپ وہ سب کریں جو خدا چاہتا ہے تب بھی آپ ایک غلام اور نا اہل شخص ہی رہیں گے۔یُوحنّا حلیم بنے رہے اور کبھی اپنی حیثیت سے زیادہ قابل ہونے کا دعویٰ نہ کیا بلکہ صرف خدا کی تمجید کرتے رہے۔

ایک بار پھر یُوحنّا نے اپنے شاگردوں کے سامنے گواہی دی کہ وہ مسیح نہیں ہیں۔ممکن ہے کہ وہ توقع رکھتے تھے کہ مسیح یروشلیم میں ایک فاتح کی طرح شان و شوکت کے ساتھ داخل ہوں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔بلکہ یسُوع، یُوحنّا کی طرح ہی بپتسمہ دینے لگے۔لہٰذایُوحنّا اُلجھن میں ضرور پڑے لیکن فرمانبردار اور حلیم بنے رہے۔اُنہوں نے اپنی خدمت کو خدا نے اُنہیں سونپی ہُوئی ذمہ داری تک ہی محدود رکھا وہ صرف مسیح کے پیش رَو بن کر آپ کی راہ تیّار کرتے رہے۔

یُوحنّااُس کلام پر ایمان داری سے عمل پیرا رہے جو اُن پر نازل ہُوا تھا۔اُنہوں نے گواہی دی کہ یسُوع دُلہا ہیں جو ہر توبہ کرنے والے شخص کو اپنی دُلہن سمجھتے تھے۔آج پاک رُوح یہ رُوحانی اتّحاد پیدا کرتا ہےجس کی بدولت پَولُس رسُول کہتے ہیں:"ہم مسیح کے بدن کے اعضاء ہیں اور وہ ہمارا سر ہے۔ ہم سب مسیح کے ساتھ ایک ہیں۔" مسیح جو دُلہا ہیں، اب ہمارے مُنصِف نہیں بلکہ مُنجی ہیں۔شادی کا یہ پُر مسرت منظر مسیح میں ہماری امید کا عکس ہے۔

یُوحنّا دُور کھڑے ہوکر معتقدوں کی تعداد میں اضافہ ہوتے ہُوئے دیکھ کر مسرور ہو رہے تھے۔لیکن وہ خُود اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے یسُوع کے پہلو میں رہا کرتے تھے۔اُنہوں نے اقرار کیا کہ وہ یسُوع کے وفاشعار دوست ہیں۔جہاں وہ بیابان میں تنہا رہا کیےوہاں یسُوع براہِ راست دارُالحکومت میں داخل ہوئے جہاں آپ نےکئی کارنامے دکھائے اوراپنا کلام پیش کیا۔یُوحنّا خدا کی بادشاہی کی وسعت کا نظارہ دیکھ کر شادمان ہُوئے۔ دُلہا کی آوازسُن کر اور آپ کی عظمت دیکھ کر اُنہیں بے حد خوشی ہوئی۔مسیح کی کامیابی کی خبریں اُن کے لیے گویاآسمانی موسیقی تھیں۔اِس طرح مسیح کی شفقت نے آہنی بازو والے یُوحنّا کو اُن کی خدت کے آخری دِنوں میں موم بنا دیا اوروہ شادی کی تقریب میں شریک ہوکر لطف اندوز ہوتے رہے۔

یُوحنّا اپنے پیروؤں کے حلقہ میں اضافہ کرنے کی بجائے اپنی جان دینے کو تیّار تھے۔اُنہوں نے کمتر ہو کرغائب ہوجانا مناسب سمجھا تاکہ معتقدوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے۔

سامعین! آپ کی جماعت کی رہنمائی کون کرتا ہے؟کیا ہرشخص رہنما بننے کے لیے دوسروں پر سبقت لے جانا چاہتا ہے یا آپ دوسروں کو موقع دیتے ہیں اور خود ناچیز بن جاتے ہیں تاکہ مسیح آپ میں کثرت سےبڑھتے چلے جائیں؟ آپ بھی یُوحنّا کے ساتھ ہو کر کہیں کہ"وہ بڑھے اور میں گھٹوں"۔

سوال ۳۰۔ مسیح کن معنوں میں دُلہا ٹھہرے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 11:04 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)