Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 020 (Jesus' first miracle)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

ب ۔ مسیح اپنے شاگردوں کو توبہ کے دائرہ سے نکال کر شادی کی خوشی میں لیجاتے ہیں (یُوحنّا ۱: ۱۹ ۔ ۲: ۱۲)٠

۔۴۔ قانا میں ایک شادی کے دوران یسُوع کا پہلا معجزہ (یُوحنّا ۲: ۱۔۱۲)۔


یُوحناّ ۲: ۱۔۱۰
۔۱ پھر تیسرے دِن قانائے گلیل میں ایک شادی ہُوئی اور یسُوع کی ماں وہاں تھی۔ ۲ اور یسُوع اور اُس کے شاگردوں کی بھی اُس شادی میں دعوت تھی۔ ۳ اور جب مَے ہو چُکی تو یسُوع کی ماں نے اُس سے کہا کہ اُن کے پاس مَے نہیں رہی۔ ۴ یسُوع نے اُس سے کہا: اَے عورت مُجھے تُجھ سے کیا کام ہے؟ابھی میرا وقت نہیں آیا۔ ۵ اُس کی ماں نے خادموں سے کہا: جو کُچھ یہ تُم سے کہے وہ کرو۔ ٦ وہاں یہودیوں کی طہارت کے دستور کے موافق پتّھر کے چھ مٹکے رکھّے تھے اور اُن میں دو دو تین تین من کی گنجایش تھی۔ ۷ یسُوع نے اُن سے کہا: مٹکوں میں پانی بھر دو۔ پس اُنہوں نے اُن کو لباِِلب بھر دیا۔ ۸ پھر اُس نے اُن سے کہا کہ اب نکال کر میرِ مجلس کے پاس لے جاؤ۔ پس وہ لے گیے۔ ۹ جب میرِ مجلس نے وہ پانی چکھا جو مَے بن گیا تھا اور جانتا نہ تھا کہ یہ کہاں سے آئی ہے (مگر خادم جنہوں نے پانی بھرا تھا، جانتے تھے) تو میرِ مجلس نے دُلہا کو بُلا کر اُس سے کہا: ۱۰ ہر شخص پہلے اچھی مَے پیش کرتا ہے اور ناقص اُس وقت جب پی کر چھک گیے، مگر تُو نے اچھی مَے اب تک رکھ چھوڑی ہے۔

یسُوع اپنے شاگردوں کودریائے یردن کی وادی میں واقع بپتسمہ دینے والےیُوحنّا کی توبہ کی گھاٹی سے نکال کر گلیل کی پہاڑیوں میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیےلےآئے۔۱۰۰ کلومیٹر کا یہ سفر ہمیں دو عہدناموں کے درمیان بنیادی فرق سے آگاہ کرتا ہے۔اب ایماندار شریعت کے سایہ میں نہیں بلکہ یسُوع کے ساتھ جوطلوع ہوتے ہُوئےآفتاب کی مانند پُر نُور ہیں اور اِطمئنان بخشتے ہیں،راستبازی کی شادمانی میں رہیں گے۔

یسُوع، بپتسمہ دینے والے یُوحنّاکی طرح دنیا کو ترک نہ کر چُکے تھے۔لہٰذا ایک عام تقریب کی خوشیوں میں شرکت کے لیے مسیح کی اپنے شاگردوں کے ساتھ روانگی اپنے آپ میں ایک معجزہ ہے۔آپ نے مَےنوشی کی ممانعت نہیں کی کیونکہ آپ کی تعلیم کے مطابق جوچیز انسان کے مُنہ میں جاتی ہے، اُسے ناپاک نہیں کرتی بلکہ جو ناپاک خیالات اُس کے دل سے نکلتے ہیں، وہی اُس کو ناپاک کرتے ہیں۔یسُوع نے زہد و تقویٰ (ترکِ دنیا) یاسادگی کومسترد نہیں کیابلکہ یہ تعلیم دی کہ ایسی طرزِزندگی زیادہ سُود مند نہیں ہوتی۔ ہمارے ناپاک دِلوں کو نئی فطرت اور نئی پیدایش کو ضرورت ہے۔کتابِ مقدّس صرف کثرت سےشراب نوشی (بد مستی) اور الکحلیت کو منع کرتی ہے۔

شاگرد یسُوع کے ساتھ دعوت میں شریک ہونے کے لیے روانہ ہُوئے جب کہ نتن ایل، قانا کا ہی باشندہ تھا (یُوحنّا ۲۱: ۲)۔ایسا لگتا ہے کہ یسُوع کی والدہ دُلہا کے خاندان سے واقف تھیں اور یہ بھی قیاس کیا جاتا ہے کہ اُن کے خاوند،یُوسُف کا انتقال ہو چکا تھا۔ مریم بیوہ ہو چکی تھیں اوریسُوع پہلوٹھے کی حیثیت سے خاندان کی ذمہّ داری سنبھال رہے تھے۔

چنانچہ اپنے رشتہ داروں کی ضرورت پوری کرنے کی غرض سےمریم نے مسیح سےمدد طلب کی۔یردن سے واپسی کے بعد اب مسیح عام انسان نہیں رہے بلکہ رُوح ُالقُدس نے آپ میں ایسی تبدیلی لائی تھی کہ اب آپ دنیاوی ذمہّ داریوں سے الگ ہو کر خدا کی خدمت میں لگ گئے۔یہ ایک ایساکِردار تھاجس کی آپ کے شاگردوں کو پیروی کرنی تھی۔

مریم کواپنے بیٹے پراعتقاد تھاکیونکہ وہ آپ کی فکرمندی اورمحّبت سے واقف تھیں۔مریم کی محّبت یسُوع کے ہاتھوں پہلے معجزے کا باعث بنی۔مسیح کی محّبت میں اعتقاد رکھنے سے خدا کی باہوں کو جنبش ہوتی ہے۔آپ کی ماں نے خادموں سے کہا:‘‘جو کچھ وہ تُم سے کہے، کر دینا۔’’ اُنہیں یقین تھا کہ کسی نہ کسی طرح آپ ضرورمدد کریں گے۔اُنہوں نے خادموں سے کہے ہُوئے الفاظ:‘‘جو کچھ وہ تُم سے کہے، کر دینا۔’’ تمام کلیسیا کے لیےدستورُالعمل بن گئے۔صرف مسیح کی اطاعت کرو؛مسیح کے کلام کی اطاعت سے کئی معجزات رُونُما ہوتے ہیں۔

وہاں طہارت کے لیئے استعمال ہونے والے بڑےمٹکے خالی رکھے ہُوئے تھےجن میں ۶۰۰ لیٹر پانی بھردیا گیا۔اس کا مطلب یہ ہُوا کہ مہمانوں نے طہارت کے لیے کافی مقدار میں پانی استعمال کیا تھا۔یسُوع کی موجودگی میں الگ قسم کی طہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔جب تک کو ئی شخص ہر لحاظ سے پاک نہ ہو،برّہ کی شادی میں شریک نہیں ہو سکتا۔

لیکن پاکیزگی مسیح کی فوری فکر نہیں تھی۔شادی کی تقریب جاری رہنی تھی۔مسیح نے اِطمئنان کے ساتھ طہارت کےپانی کو اعلیٰ قسم کی مَے میں تبدیل کر دیا۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ کیسے کیا گیالیکن اِس واقعہ سےہم اتنا جانتے ہیں کہ برّہ کی شادی میں شریک ہونے والے سبھی لوگوں کے لیے آپ کا بہایا ہُوا خون کافی ہے۔اِس کا بدمستی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔رُوحُ القُدس بد مستی کی اجازت نہیں دیتا۔لیکن افراط سے بہم پہنچائی ہُوئی خوش ذائقہ مَے اس بات کی علامت ہے کہ نوعِ انساں کے گناہوں کی معافی کے لیے مسیح کا پیمانہ بھی لا محدود و بے کراں ہوگا۔کیا ہی اچھا ہوتا جو اِن آسمانی خُوشیوں میں سب لوگ شریک ہوتے!سب شکرگزاری کے ساتھ عشائے ربّانی کی تقریب میں روٹی اور مَے حاصل کرتےجو مسیح کی موجودگی کی علامت ہے جہاں ہم آپ کی خوشیوں میں شریک ہوکر معافی حاصل کرتے ہیں۔

یُوحناّ ۲: ۱۱۔۱۲
۔ٍ۱۱ یہ پہلا معجزہ یسُوع نے قانائی گلیل میں دکھا کر اپنا جلال ظاہر کیا اور اُس کے شاگرد اُس پر ایمان لائے۔ ۱۲ اُس کے بعد وہ اور اُس کی ماں اور بھائی اور اُس کے شاگرد کفر نحُوم کو گئے اور وہاں چند روز رہے۔

شاگرد مسیح کی تخلیقی قابلیت پر حیران تھے اوراُنہوں نے محسوس کیا کہ آپ قدرتی مظاہر پر اختیار رکھتے ہیں۔انہوں نے آپ کا جلال دیکھا اوریقین کیا کہ آپ کو خدا نے ہی بھیجا ہے۔اِس وجہ سےوہ آپ پر بھروسہ کرنے لگے۔ایمان کےبڑھنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور سمجھ بُوجھ کے لیے اطاعت کی ضرورت ہوتی ہے۔اگرتُم یسُوع کے کارناموں کا مطالعہ کروگےاورآپ کی تعلیم کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کروگے تو تمہیں آپ کی عظمت کا اندازہ ہو گا۔

یسُوع نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کیا اور دنیاوی ذمہ ّداریوں سے بری ہوکر خدا کی خدمت میں لگ گئے لیکن اپنی ماں اور بھائیوں سےآپ کا رشتہ برقرار رہا۔کچھ عرصہ تک وہ آپ کے شاگردوں کے ساتھ سفر بھی کرتے رہے۔آپ کے بھائی آپ کے ساتھ کفر نحوم گئے جو تبریا س کی جھیل کے کنارے بسا ہُوا اہم شہر تھا۔البتّہ شاگردبذاتِ خودآپ پر بھروسہ کرتے تھے ،محض اِس لیے نہیں کہ قانا میں آپ نے معجزہ دکھایا تھا۔وہ ہمیشہ کے لیے آپ سےپیوست رہے۔

دعا: اے خداوندیسُوع، ہم آپ کے شکرگزار ہیں کیونکہ آپ نے ہمیں شادی میں مدعو کیا اور اپنی رفاقت کی خوشیوںمیں شریک کیا۔ہمارے گناہ معاف فرمائیے اور ہمیں اپنے پاک رُوح سے معمور کیجیے۔ہم آپ کی پیروی کریں گے اورراستبازی اور پاکیزگی میں زندگی گزاریں گے، ٹھیک اُسی طرح جیسے آپ نے گزاری اور بہتوں کے لیے اپنی جان دے دی۔

سوال ۲۴۔ یسُوع اپنے شاگردوں کو شادی میں کیوں لےگیے؟


سوالات ۔ حِصّہ اوّل

عزیز ناظرین!۔

اگرآپ ہمیں اِن ۲۴ میں سے ۲۰ سوالات کے صحیح جوابات لِکھ کربھیجیں تو ہم آپ کواس سلسلہ کا بقیہ حصّہ بھیج دیں گے۔

۔۱۔ چوتھی اِنجیل کا مُصنِّف کون ہے؟    
۔۲۔ چوتھی اِنجیل اور پہلی تین اناجیل میں آپسی تعلق کیا ہے؟    
۔۳۔ یُوحناّ کی اِنجیل کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟    
۔۴۔ یہ انوکھی ِانجیل کس کے لیے لکھی گئی؟    
۔۵۔ اِس اِنجیل کے مضامین کی ترتیب وار فہرست بنانا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟    
۔٦۔ وہ کون سالفظ ہے جو یُوحناّ کی اِنجیل کی پہلی آیت میں دہرایا گیا ہے اور اسکے کیامعنی ہوتے ہیں؟    
۔۷۔ مسیح کی کن چھ خصوصیات کا تذکرہ یُوحناّ اپنی انجیل کے آغاز میں کرتے ہیں؟    
۔۸۔ رُوحانی اعتبار سے نُور اور تاریکی میں کیا فرق ہے؟    
۔۹۔ یُوحناّ بپتسمہ دینے والے کی خدمت کے اہم مقاصد کیا ہیں؟    
۔۱۰۔ نُورانی مسیح اور تاریک دنیا میں کیا نسبت ہے؟    
۔۱۱۔ مسیح کو قبول کرنے والوں کو کیا تجربہ ہوتا ہے؟    
۔۱۲۔ مسیح کی تجسیم سے کیا مراد ہے؟    
۔۱۳۔ مسیح کی معموری سے کیا مراد ہے؟    
۔۱۴۔مسیح دنیا میں کون سا ناا خیال لے کر آئے؟    
۔۱۵۔ یہودیوں کی عدالتِ عالیہ کے وفد نے پُوچھے ہُوئے سوالات کا اصل مقصد کیا تھا؟    
۔۱٦۔ پبتسمہ دینے والے یُوحنّا نے لوگوں کو کس طرح خداوند کی راہ تیارکرنے کی ترغیب دی؟    
۔۱۷۔ بپتسمہ دینے والے یُوحنّا نےعدالتِ عالیہ کے وفد کے سامنے مسیح کے متعلق دی ہُوئی گواہی کی انتہا کیاتھی؟    
۔۱۸۔ ‘‘خداکے برّہ’’ سے کیا مراد ہے؟    
۔۱۹۔ یسُوع پاک رُوح عنایت کرنے والے کیوں بنے؟    
۔۲۰۔ یُوحنّا کے دو شاگرد یسُوع کے پیچھے کیوں ہو لیے؟    
۔۲۱۔ پہلے شاگردوں نے یسُوع کے نام کو کیسے نشر کیا؟    
۔۲۲۔ پہلے شاگردوں نے لوگوں میں مسیح کے نام کی منادی کیسےکی؟    
۔۲۳۔ ‘‘ابنِ خدا’’ اور ‘‘ابنِ آدم،’’ اِن خطابات میں کیا تعلق ہے؟    
۔۲۴۔ یسُوع اپنے شاگردوں کو شادی میں کیوں لےگیے؟    

اپنا نام اور پتہ خوش خط لکھ کر اپنے جوابات کے ساتھ اس پتہ پر بھیجیں:۔

Waters of Life
P.O.Box 600 513
70305 Stuttgart
Germany

Internet: www.waters-of-life.net
Internet: www.waters-of-life.org
e-mail: info@waters-of-life.net

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 11:02 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)