Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 021 (Cleansing of the Temple)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

ج ۔ مسیح کی یروشلیم میں پہلی تشریف آوری ۔ (یُوحنّا ۲: ۱۳۔ ۴: ۵۴) ۔ حقیقی عبادت کیا ہے؟

۔۱۔ ہیکل کی صفائی ( یُوحنّا ۲: ۱۳۔۲۲)۔


یُوحناّ ۲: ۱۳۔۱۷
۔۱۳ یہودیوں کی عیدِ فسح نزدیک تھی اور یسُوع یروشلیم کو گیا۔ ۱۴ اُس نے ہَیکل میں بیل اور بھیڑ اور کبوتر بیچنے والوں اور صرّافوں کو بَیٹھے پایا۔ ۱۵ اور رسّیوں کا کوڑا بنا کر سب کو یعنی بھیڑوں اور بَیلوں کو ہَیکل سے نکال دیا اور صرّافوں کی نقدی بکھیر دی اور اُن کے تختے اُلٹ دِئیے۔ ۱٦ اور کبوتر فروشوں سے کہا: اِن کو یہاں سے لے جاؤ۔ میرے باپ کے گھر کو تجارت کا گھر نہ بناؤ۔ ۱۷ اُس کے شاگردوں کو یاد آیا کہ لکھا ہے: تیرے گھر کی غیرت مُجھے کھا جائے گی۔

یسُوع عیدِ فسح کےموقع پر یروشلیم تشریف لے گئے،جہاں ساری دنیا سے لاتعداد یہودی اکٹھّے ہوتے تھےاور خدا کے حُضور برّہ کی قربانی گذرانتے تھے۔فسح کے برّہ کی قربانی کے باعث خدا نے یہودیوں کو خدا کے غضب سے بچا لیا تھا۔ اِسی واقعہ کی یاد میں اس موقع پر برّوں کو ذبح کیا جاتا تھا ۔چونکہ خُون بہائے بِنا گناہوں کی معافی نہیں ہو سکتی تھی اور خدا سے میل ملاپ کیے بِنا عبادت بھی بے معنی ہوتی ہے۔اِسی طرح یسُوع نے دنیا کے گناہ اُٹھا لیے اوردریائے یردن میں بپتسمہ لے کر اِس حقیقت کے ثبُوت میں نشانی چھوڑ دی۔اُن کی خاطر آپ موت کا بپتسمہ بھی لینے کو تیّار تھے،جو خدا کا غضب اپنے اوپر لینے کی علامت ٹھہرتا۔ آپ کو یقین تھا کہ آپ ہی خدا کے برگزیدہ برّہ ہیں۔

جب آپ شہر میں داخل ہوُئے اور ہیکل کے صحن کی جانب اپنے قدم بڑھائے، تب آپ اُس عمارت کی شان و شوکت سے متاثر نہ ہُوئے،بلکہ آپ خُوداپنی قربانی کے ذریعہ نُوعِ اِنساں کی نجات کے بارے میں سوچ رہے تھے۔لیکن اُس ہَیکل میں عبادت کے لیے سکون نہ پاکر آپ حیران ہو گیے۔اِس کے عوض آپ نے وہاں گرد وغبار،شور و غُل،بیلوں کی آواز،تاجروں کی تُو تُو میَں میَں اور جانوروں کا خُون دیکھا۔آپ نے صرّافوں کی چیخیں بھی سُنیں جو بیرونی ممالک کے سِکّوں کو یہودی سِکّوں میں تبدیل کر رہے تھے تاکہ زائر ین مناسب لین دین کر سکیں۔

ہیکل میں یوں ہو رہا شور اِس اعتقاد کوواضح کر رہا تھا کہ راستبازی پیسوں اور خاص کوششوں سے خریدی جا سکتی ہے۔ زائرین نے یہ فرض کر لیا تھاکہ فضل اور راستبازی رسومات اور چندہ کی ادائگی سے خریدی جا سکتی ہےلیکن وہ یہ نہ جانتے تھے کہ نجات، نیک اعمال سے حاصل نہیں کی جاسکتی۔

اس موقع پریسُوع کابرہم ہونا با لکل بجا تھا۔حقیقی عبادت کی غیرت نے آپ کو مویشی فروشوں کو باہر نکال دینے اور اُن کی پُونجی فرش پر بکھیر دینے پر مجبور کیا۔ہمیں یہ نہیں بتایا گیاکہ آپ نے کسی کو مارا یا پیٹا تھا لیکن آپ کی اُونچی آواز اُن گھونسوں کی طرف اشارہ کر رہی تھی جوخدا اُن لوگوں پر برسانے والا ہے جو اُس کی عظمت اور شان کے آگے نہیں جھُکتے۔اِس زمین پرقُدُّوس خدا کے آگے شکستہ دِلوں کے سرنگوں ہونے کے علاوہ کوئی اورپارسائی نہیں جو اُسے خوش کرسکے۔

خدا کے قُدس کی جانب انسان کی بے رُخی دیکھ کر یسُوع کوبے حد رنج ہُوا۔تیرہ سَو سال قبل شریعت کے دیےجانے کے باوجودسطحی دینداری میں ایسی غفلت اور جہالت کا مظاہرہ اس تاریکی کوواضح کرتا ہے جو دل و دماغ پر چھائی ہُوئی ہے۔اس موقع پر یسُوع نے عبادت کے اِس مرکز کو صاف کرنے میں ایزدی غضب اور پاک غیرت کا مظاہرہ کیا۔یہ مرکز ساری قوم کی حالت کی عکّاسی کر رہا تھا۔آپ نے مذہب میں بنیادی اصلاح اور خدا کی جانب انسان کے رویّہ میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔

یُوحنّا ۲: ۱۸۔۲۲
۔۱۸ پس یہودیوں نے جواب میں اُس سے کہا: تُو جو اِن کاموں کو کرتا ہے، ہمیں کون سا نشان دکھاتا ہے؟ ۱۹ یسُوع نے جواب میں اُن سے کہا: اِس مقدِس کو ڈھا دو تو میں اِسے تین دِن میں کھڑا کر دُوں گا۔ ۲۰ یہودیوں نے کہا: چھیالیس برس میں یہ مقدِس بنا ہے اور کیا تُو اِسے تین دِن میں کھڑا کر دے گا؟ ۲۱ مگر اُس نے اپنے بدن کے مقدِس کی بابت کہا تھا۔ ۲۲ پس جب وہ مرُدوں میں سے جی اُٹھا تو اُس کے شاگردوں کو یاد آیا کہ اُس نے یہ کہا تھا اور اُنہوں نے کتابِ مقدّس اور اُس قول کا جو یسُوع نے کہا تھا، یقین کیا۔

کاہنوں کو جب ہیکل کی صفائی اور تاجروں کی گریہ و زاری کا علم ہُوا تو وہ فوراًیسُوع کے پاس گیے اور پوچھنے لگے: ‘‘آپ کو ایسا کرنے کا اختیار کس نے دیا؟آپ کو کس نے بھیجا؟ہمیں اپنے اختیار کا ٹھوس ثبوت دیجیے۔’’انہوں نے ہیکل کی صفائی پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یسُوع نےطیش میں آکر ایسا نہیں کیا بلکہ خانۂ خدا کی عظمت کی غیرت آپ کو مجبور کر گئی تاکہ بھیڑ کورُوح اور سچّائی کے ساتھ عبادت کرنے کی ترغیب ملے۔وہ صرف یہ جاننا چاہتے تھے کہ آپ کو کن وجوہات اور مقاصد نے ایسا کرنے پر مجبور کیا؟چنانچہ یسُوع اُن کی نگاہ میں رقیب ٹھہرے کیونکہ آپ ہیکل کے نظام میں کہانت کے نظام سے رُجوع کیے بِنا تبدیلی لانا چاہتے تھے۔

یسُوع نے اُن کی ریاکارانہ عبادت کے باعث اُنہیں ڈانٹاکیونکہ وہ خدا کی پُر سکُوت حضوری سے زیادہ عبادت گزاروں کے شور و غل اوردولت کی طاقت کو ترجیح دیتے تھے۔یسُوع نے دور اندیشی سےکام لیا اورنام نہاد عبادت اور انکی جہالت کے باعث ہیکل کو تباہ ہوتے ہُوئے دیکھا۔مذہبی رسوم کی ادائیگی اورمتعین حرکات سے انسان کو نجات نہیں ملتی بلکہ خدا کی نجات بخش سچائی سے دِلوں کی تبدیلی ہی نجات دلاتی ہے۔

خدا کی یہ نجات بخش حُضوری مُجسِّم ہو کر اُن کے درمیان موجود تھی ۔یسُوع حقیقی ہیکل ہیں اورخدا ،مسیح میں ہوکر وہاں موجود تھا۔گویا یسُوع کہہ رہے ہوں:‘‘میرے بدن کی ہیکل کو گرا دو،کیونکہ تُم خدا کے لیے میری غیرت کو برداشت نہیں کر سکتے۔تم ناممکن کو ممکن بنا دو گے اور اس ہیکل کوتباہ کر دو گے،لیکن میں اُس بدن کو تین دن میں دوبارہ کھڑا کردوں گا؛میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر قبر سے باہر نکل آؤ ں گا۔تم میری جان لو گے،لیکن میں زندہ ہوں،کیونکہ میں بذاتِ خُود زندگی ہُوں یعنی جسمانی شکل میں خدا۔تم میری جان نہیں لےسکتے۔’’اِس طرح یسُوع نے نہایت صاف الفاظ میں اپنے مرُدوں میں سے جی اُٹھنے کا اعلان کیا۔مرُدوں میں سے جی اُٹھنا ، آج تک آپ کا عظیم ترین معجزہ رہاہے۔

سردار کاہن نے بھیجے ہُوئے نمائندے ہیکل سے متعلق اِس تمثیل کو سمجھ نہ سکے۔وہ سنگِ مر مر کے ستونوں اور سُنہری گنبدوں کو تاکتے رہے اور اِس نتیجہ پر پہنچے کہ یسُوع نے اُس ایزدی رہایش گاہ کے خلاف کُفر بکا ہے جسے ہیرودیس بادشاہ نے چھیالیس سالوں کے طویل عرصہ میں بنایا تھا۔انہوں نے پتّھروں کی بات کی لیکن آپ نے اپنے بدن کے متعلق کہا تھا۔آپ کی خدمت کے آغازکی یہ اہم بحث عدالتِ عالیہ کے سامنے آپ کی پیشی کے موقع پر پھر سامنے آئی جسے جھوٹے گواہوں کی مدد سے توڑ مڑوڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔

اِس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پرانے عہد نامہ کے لوگ مسیح نے رائج کیے ہُوئے نئے دین کو سمجھنے سے قاصِر رہے۔یہاں تک کہ شاگرد بھی یسُوع کی موت اور دوبارہ جی اُٹھنے کےبعد ہی اِس نئے مذہب کی گہرائیوں تک پہنچ سکے۔تب انہیں احساس ہُوا کہ کس طرح خدا کےبیٹے نے اُن کے گناہوں کا کفّارہ ادا کیا اور پھر مرُدوں میں سے جی اُٹھے ۔

آج بھی آپ ہمارے ساتھ اُس روحانی ہیکل میں موجود ہیں جس کے ہم زندہ پتھّر ہیں۔رُوحُ القُدس نے شاگردوں کو قدیم آسمانی نوشتوں میں یسُوع کے کلام کے معانی ڈھونڈنے کی ترغیب دی۔وہ اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہےاورسب مِل کر خدا کی مقدّس ہیکل بن گئے۔

دعا: اے خداوند یسُوع،آپ خدا کی رہایش گاہ ہیں جہاں خدا اور گنہگاروں کی ملاقات ہوتی ہے۔ ہماری مدد فرمائیے تاکہ ہم توبہ کریں ،عبادت کرتے ہیں اور آپ کی معموری سے معمورر ہو جائیں،تاکہ ہم سب مِل کر رُوحُ القُدس کےمندر بن جائیں اور ہر وقت آسمانی باپ کی تمجید کرتے رہیں۔

سوال ۲۵۔ یسُوع نے ہیکل میں جاکر تاجروں کو باہر کیوں نکال دیا؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 11:03 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)