Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 019 (The first six disciples)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

ب ۔ مسیح اپنے شاگردوں کو توبہ کے دائرہ سے نکال کر شادی کی خوشی میں لیجاتے ہیں (یُوحنّا ۱: ۱۹ ۔ ۲: ۱۲)٠

۔۳۔ پہلے چھ شاگرد (یُوحنّا ۱: ۳۵۔۵۱)۔


یُوحناّ ۱: ۴۷۔۵۱
۔۴۷ یسُوع نے نتن ایل کو اپنی طرف آتے دیکھ کر اُس کے حق میں کہا: دیکھو!یہ فی الحقیقت اِسرائیلی ہے۔ اِس میں مکر نہیں۔ ۴۸ نتن ایل نے اُس سے کہا: تُو مجھے کہاں سے جانتا ہے؟ یسُوع نے اُس کے جواب میں کہا: اِس سے پہلے کہ فِلِپُّس نے تُجھے بُلایا جب تُو انجیر کے درخت کے نیچے تھا، میں نے تُجھے دیکھا۔ ۴۹ نتن ایل نے اُس کو جواب دیا: اَے ربّی! تُو خدا کا بیٹا ہے۔ تُو اِسرائیل کا بادشاہ ہے۔ ۵۰ یسُوع نے جواب میں اُس سے کہا، میں نے تُجھ سے کہا کہ تُجھ کو اِنجیر کے درخت کے نیچے دیکھا، کیا تُو اِسی لیے ایمان لایا ہے؟ تُو اِن سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔ ۵۱ پھر اُس سے کہا میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ تُم آسمان کو کھُلا اور خدا کے فرشتوں کو اوپر جاتے اور اِبن آدم پر اُترتے دیکھوگے۔

نتن ایل کو یہ جان کر تعجب ہُوا ہوگا کہ یسُوع نے اس کےباطن میں جھانک کر دیکھا ہے۔نتن ایل پرانے عہدنامہ کےمعیار کا ایماندار تھا کیونکہ اُس نے بپتسمہ دینے والے یُوحنّاکے آگے اپنے گناہوں کا اقرار کیا تھااور نہایت خُلوص دل سے خدا کی بادشاہی کا خواہاں تھا۔یہ خُود ساز راستبازی نہ تھی بلکہ اُن لوگوں کا رویّہ تھا جو اپنے گناہوں کے باعث شکتہا دِل ہو کر خدا سے درخواست کر رہے تھے کہ وہ مسیح کو بھیجے تاکہ آپ اُنہیں نجات بخشیں۔

یسُوع نے یہ دعا سُنی اور دعا گو کو کچھ دُور ایک درخت کے سایہ میں دیکھا جہاں وہ سربسجود تھا ۔کسی شخص کے پوشیدہ حالات کو جاننا ایزدی اِدراک ہے۔

مسیح نے اسےمُسترد نہیں کیا بلکہ اسےپرانے عہدنامہ کے مطابق اصلی ایماندار کی مثال قرار دے کر راستباز ٹھہرایا جومسیح کی آمد کا منتظر تھا۔

مسیح نے کی ہُوئی تعریف کے باعث نتن ایل کے تمام شبہات دُور ہو گیے۔اُس نے مسیح کے آگے سرِ تسلیم خم کیا اورکتابِ مقُدّس میں مسیح کے لیے بیان کیے ہُوئے اِن القاب سے آپ کو مخاطب کیا: مسیح،خدا کا بیٹا اور اسرائیل کا بادشاہ ۔جب نتن ایل نے یہ الفاظ کہے تب اُس کی جان خطرے میں پڑی ہوگی کیونکہ شریعت کے عالم اور یہودیوں کی عدالتِ عالیہ کے اراکین یہ نہ مانتے تھے کہ خدا کا کوئی بیٹا ہےَ۔اس طرح کا بیان کُفر گناجاتا ۔اگر کوئی شخص اسرائیل کا بادشاہ ہونے کا دعویٰ کرتا تو وہ ہیرودیس بادشاہ کے غضب کا نشانہ بنتا اور رُومی حکاّم اُسے گرفتار کر لیتے۔اِس طرح اِس پُر خلوص ایماندار نے انبیا سے کیے گیے وعدوں کی اہمیت پر اپنی گرفت ہونے کا مظاہرہ کیا۔اس نے انسان سےزیادہ خدا کا خوف رکھا اور ہر قیمت پرآپ کو باپ کا خطاب عطا کرکے آپ کا احترام کیا۔

کسی بھی ابتدائی شاگرد نے مسیح کوایسےنام نہ دیے جیسے نتن ایل نے دیے تھے۔تعجب اِس بات کا ہے کہ مسیح نے ان میں سے کسی بھی خطاب کو مسترد نہیں کیا بلکہ آسمان کو کھُلا ہُوا بتا کرنتن ایل کی واقفیت میں اضافہ کیا۔مسیح ہمیشہ فرشتوں سے گھرےرہتے تھے جو نظر نہ آتے تھے۔ یہ فرشتے آسمان پر جا کر مسیح کے معجزات خدا کےحُضور پیش کرتے اور برکتوں سے لدے ہُوئے ہاتھ لے کر بیٹے کے پاس واپس آتے تھے۔ اِس طرح یعقوب کی رُویا پوری ہوئی کیونکہ مسیح میں برکات کی معموری پائی گئی۔پَولُس رسُول نے بھی لکھا ہے:‘‘ہمارے خداوند یسُوع مسیح کے خدا اور باپ کی تعریف ہو جس نے ہمیں مسیح میں آسمان کی ہر رُوحانی برکت بخشی ہے’’۔مسیح کی پیدایش اور بپتسمہ سے ہی آسمان کو کھُلا ہُوا رکھا گیا ہے۔۔اس سے پہلے خدا کے غضب کے باعث آسمان کے دروازے بند کیے جا چُکے تھے اور فرشتے اپنے ہاتھوں میں تلواریں لیے اُن دروازوں پہ پہرا دے رہے تھے۔جو دروازہ خدا کی طرف لے جاتا ہے وہ اب مسیح میں کھل چُکا ہے۔

یہاں پہلی بار یُوحنّا نےمسیح کا مخصوص فقرہ استعمال کیا ہے:‘‘ میں تم سے سچ کہتا ہوں۔’’فضل کے اِس دور کی حقیقت اتنی بلند ہے کہ انسان اسے سمجھ نہیں سکتا۔ پھر بھی انسان کواُس کےنئے ایمان کی ایزدی بنیاد کے طور پر اِسکی ضرورت ہے۔اِس لیےجب بھی یسُوع یہ فقرہ دہراتے ہیں ہم رُک کر غور کریں کہ آپ کا مدّعا کیا ہےکیونکہ اِس فقرہ کے بعد کہے گیے الفاظ رُوحانی مکاشفہ ہوتے ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہوتے ہیں ۔

اس اعلان کے بعد مسیح نےاحتیاطاًنتن ایل کی گواہی کی تصحیح کی تاکہ اُسے اوراپنے پیروؤں کو عقوبت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔یسُوع نے یہ نہ کہا کہ میں موعودہ بادشاہ یا خدا کا بیٹاہُوں بلکہ اپنے آپ کو‘‘ ابنِ آدم’’ کہا۔یسُوع عام طور پر اپنے لیے یہی خطاب استعمال کرتے تھے۔آپ کی تجسیم انوکھی تھی۔آپ ہماری طرح بنے ۔ یہ ایک عظیم معجزہ ہے کہ خدا کا بیٹا انسان بنا تاکہ خدا کابرّہ بن کر ہماری خاطر قربان ہو۔

ساتھ ہی ساتھ‘‘ابنِ آدم’’ کا خطاب دانی ایل کی کتاب میں موجود ایک راز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔خدا نے عدالت ’’ابنِ آدم‘‘ کے سپرد کی تھی۔نتن ایل نے جان لیا تھا کہ یسُوع صرف بادشاہ یا بیٹا ہی نہیں،بلکہ سارے جہاں کے مُنصِف بھی ہیں۔ آپ اِنسان کی شکل میں ایزدی ہستی تھے!لہٰذا یسُوع نے غمگین ایماندار کو ایمان کی سب سے اعلیٰ سطحوں پر پہنچادیا۔یسُوع دیہاتی علاقہ کے نوجوان تھے لہٰذا ایسے شخص پر ایمان لانا آسان بات نہ تھی۔ لیکن شاگردوں نے ایمان کے وسیلہ سے اور اوپر آسمان کے کھُلنے سےآپ میں پوشیدہ جلال کو دیکھا۔

دعا: اے خدا کے بیٹے اور سارے جہان کے مُنصِف، ہم آپ کی عباد ت کرتے ہیں۔ہم غضب کے سوا اور کسی چیز کےمستحق نہیں لیکن ہم آپ کے فضل کے طفیل سےمعافی طلب کرتے ہیں اور اپنے دوستوں کے لیئے رحم کی درخواست کرتے ہیں۔اُن سب لوگوں پر اپنی برکتیں برسائیے جو خدا کے طلبگار ہیں تاکہ وہ آپ کو دیکھیں، جانیں اورآپ سے محبت کریں،آپ پراعتقاد رکھیں اور علم اور اُمیّدمیں بڑھتے چلے جائیں۔

سوال ۲۳۔ ۔ ‘‘ابنِ خدا’’ اور ‘‘ابنِ آدم’’، اِن خطابات میں کیا تعلق ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 11:02 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)