Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 018 (The first six disciples)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

ب ۔ مسیح اپنے شاگردوں کو توبہ کے دائرہ سے نکال کر شادی کی خوشی میں لیجاتے ہیں (یُوحنّا ۱: ۱۹ ۔ ۲: ۱۲)٠

۔۳۔ پہلے چھ شاگرد (یُوحنّا ۱: ۳۵۔۵۱)۔


یُوحناّ ۱: ۴۳۔۴٦
۔۴۳ دوسرے دن یسُوع نے گلیل میں جانا چاہا اور فلِپُّس سے مل کر کہا میرے پیچھے ہو لے۔ ۴۴ فِلِپُّس، اندریاس اور پطرس کے شہر بَیت صیدا کا باشندہ تھا۔ ۴۵ فِلِپُّس نے نتن ایل سے مل کر اُس سےکہا کہ جس کا ذکر موسیٰ نے توریت میں اور نبیوں نے کیا ہے وہ ہم کو مل گیا ۔وہ یُوسُف کا بیٹا یسُوع ناصری ہے ۔ ۴٦ نتن ایل نے اُس سے کہا کیا ناصرۃ سے کوئی اچھی چیز نکل سکتی ہے؟فِلِپُّس نے کہا ، چل کر دیکھ لے۔

اِس سے پہلی آیا ت میں ہم نے پچھلے لگاتارچار دنوں کے واقعات کا مطالعہ کیا۔پہلے دن یروشلیم سے وفد آیا،دوسرے دن یُوحنّا نے اعلان کیا کہ یسُوع خدا کا برّہ ہیں ؛تیسرے دن یسُوع نے چار شاگرد بنالیےاورچوتھے دن آپ نے فِلِپُّس اور نتن ایل کو بھی شاگردوں کے حلقہ میں شامل کر لیا۔

یسُوع نے ہی فِلِپُّس کو ڈھونڈنکالا۔بے شک فِلِپُّس نے کچھ عرصہ پہلے بپتسمہ دینے والے یُوحنّاسے سنا تھاکہ یسُوع ان کے بیچ میں موجود ہیں لیکن جب یُوحنّا نے یسُوع کی طرف اشارہ کر کے آپ کو خدا کا برّہ کہا تووہ حیران ہُوا۔ حالانکہ فِلِپُّس خداوندکو جاننا چاہتا تھالیکن اُس میں جرأت نہ تھی کہ وہ آپ کے پاس جائےکیونکہ وہ اپنے آپ کواِس ایزدی ہستی کی شراکت کے قابل نہ سمجھتا تھا۔لہٰذایسُوع بذاتِ خود اُس کے پاس گئے،اُس کی عارضی گھبراہٹ اور شک و شبہ کو دور کیااور اُسے حکم دیا کہ وہ اُٹھے اورآپ کے پیچھے ہو لے۔

یسُوع کو اختیار تھا کہ آپ اپنے لیے لوگ منتخب کریں کیونکہ آپ نے اُنہیں پیدا کیا تھا،اُن سے محّبت کی تھی اور اُنہیں نجات بخشی تھی۔ ہم خود یسُوع کو قبول کرنے کی پہل نہیں کرتےبلکہ سب سے پہلے آپ کی نگاہ ہم پر پڑتی ہے،آپ ہمیں تلاش کر کے حاصل کرتے ہیں اور اپنی خدمت کے لیے بلاتے ہیں۔

بُلائے بنا پیروی نہیں کی جا سکتی اور مسیح کے حکم کے بغیر کار آمد خدمت نہیں کی جا سکتی۔جوشخص خدا کی بادشاہی میں کسی کام کے لیے مُنتخب کیے بنا خدمت کرتا ہے،وہ خود کو اور دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے۔لیکن جو شخص مسیح کا حکم سُن کربخوشی اُس کی تعمیل کرتا ہے،وہ آپ کی فکر و التفات سے لطف اندو ز ہوتا ہے۔یسُوع ہمیشہ کے لیے اُس کے ذمہّ دارہونگے۔

فِلِپُّس فوراً اِنجیل کی منادی کرنے چلا گیااوراپنے دوست نتن ایل سے مل کر اُسے بھی خوشخبری سنائی۔ اُس نے نتن ایل سے یہ نہ کہا کہ‘‘مجھے مسیح مل گیے ہیں’’ بلکہ یہ کہ‘‘ہمیں مسیح مل گیے ہیں،’’ گویا کلیسیا نے مشترکہ طور پروہ پیغام بھیجا ہواوراِس طرح اُس نے اپنے آپ کونہایت اِنکساری کے ساتھ کلیسیا کے اعتراف میں شامل کر کے اُس کی تائید کی۔

ایسا لگتا ہے کہ یسُوع نے اِن شاگردوں کو اپنی خدمت کے ضمن میں بتایا تھا۔یُوسُف نے آپ کو گود لینے کے باعث وہ آپ کے دنیاوی باپ ٹھر ے اور اُنہوں نے آپ کی پرورش کی۔یسُوع نے بَیت لحم میں اپنی پیدائش کے بارے میں کچھ نہیں بتایا اوراِس گھڑی تک شاگردوں کوبھی اِس واقعہ کے بارے میں کوئی معلومات نہ تیع۔

نتن ایل آسمانی کتابوں کا عالم تھا۔لہٰذا اس نے موسیٰ اور دوسرے نبیوں کی کتابیں چھان ماریں اور اُن وعدوں کے متعلق معلومات فراہم کی جو مسیح کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ اِس طرح وہ جان گیا کہ مسیح داؤد کی نسل سے ہوں گے اور بَیت لحم میں پیدا ہوں گےااورآپ اپنے لوگوں پر بادشاہی کریں گے۔نتن ایل کے لیے اِس حقیقت کو تسلیم کرنا مشکل تھا کہ مسیح، ناصرت جیسے ایک چھوٹے سےشہرسے وارد ہوں گے کیونکہ اِس شہر کا نام پرانے عہدنامہ میں کہیں بھی درج نہیں کیا گیا اور کوئی پیش گوئی اِس شہر سےتعلق نہیں رکھتی۔نتن ایل کو یاد تھا کہ گلیل کے اسی شہر میں قوم پرستوں اور مذہبی انتہا پسندوں کی رومیوں کے خلاف زبردست بغاوت رُونما ہُوئی تھی۔اِس بغاوت کو کُچل دیا گیا تھالیکن تب تک بہت خونریزی ہوچُکی تھی۔

فَلِپُّس کو ان تمام واقعات میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔وہ مسیح کو پاکر بے حد خوش تھا۔اس کے جوش نےنتن ایل کے شکوک پر قابو پا لیا۔اس نے کسی بحث میں مبتلا ہوئے بنا کہا:‘‘ چل کر خود ہی دیکھ لے۔’’سچّائی کا تجربہ حاصل کرنے کے لیے تبلیغ کا یہی بنیادی اُصول ہے جو یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ:‘‘ چل کر خود ہی دیکھ لے۔’’مسیح کے بارے میں بحث نہ کیجیے بلکہ آپ کی قوّت اوررفاقت کا تجربہ حاصل کیجیے۔ہماری گواہی فرضی خیالات پر نہیں بلکہ ایک ہستی پر مبنی ہے جو واقعی خداوند ہے۔

دعا: اے خداوند یسُوع،ہم آپ کی اُس خوشی کے لیے شکرگزار ہیں جس نے ہمارے دلوں کو لبریز کر دیا ہےاور جوہمیں آپ کی حسین و جمیل رفاقت کی طرف راغب کرتی ہےتاکہ ہم دوسروں کو آپ کی طرف راغب کریں۔ہم میں نہایت صبر اور خلوص سےتبلیغ کرنے کی خواہش پیدا کیجیےاورآپ کے نام کی نہایت پُر جوش طریقہ سے منادی کرنے کے سلسلہ میں ہمارے دل میں آئے ہُوئےہر خوف کو ، ہم نے کی ہُوئی تاخیرکے لیے اور ہم نے محسوس کی ہُوئی شرمندگی کے لیے ہمیں بخش دیجیے۔

سوال ۲۲۔ پہلے شاگردوں نے لوگوں میں مسیح کے نام کی منادی کیسےکی؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 11:02 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)