Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- John - 104 ((Jesus intercedes for the church's unity)

This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ سوّم : رسُولوں کے حلقہ میں نُورچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۱: ۵۵۔۱۷: ۲۶)٠

ھ : یسُوع کی شافعانہ دعا (یُوحنّا ۱۷: ۱۔۲۶)٠

۔۴ : یسُوع کلیسیا کے اتّحاد کے لیے شفاعت کرتے ہیں ( یُوحنّا ۱۷: ۲۰۔۲۶)٠


یُوحنّا ۱۷: ۲۰۔۲۱
۔۲۰ میں صرف اُن ہی کے لیے درخواست نہیں++ کرتا بلکہ اُن کے لیے بھی جو اُن کے کلام کے وسیلہ سے مُجھ پر ایارن لائیں گے ۲۱ تاکہ وہ سب ایک ہوں یعنی جس طرح اے باپ،تُو مُجھ میں ہے اور میں تُجھ میں ہُوں، وہ بھی ہم میں ہوں اور دنیا ایمان لائے کہ تُو ہی نے مجھے بھیجا ۔

مسیح نے اپنے شاگردوں کو خدا کی محبّت میں اور رُوح کی قدرت میں مستحکم کیا اور اپنے باپ سے گذارش کی کہ آپ مصلوب ہونے کے لیے سپرد کیے جانے سے قبل وہ اُنہیں شیطان سے بچائے رکھے اور اِنجیل کے ذریعہ اُن کی تقدیس کرے۔آپ نے رسُولوں اور کلیسیا کی خاطر کی ہُوئی دعا کا جواب ملنے کا یقین ہو جانے کے بعد آپ نے مستقبل پر نظر ڈالی اور رسُوں کا پیغام سُن کر لاتعداد معتقدوں کو اُبھرتے ہُوئے دیکھا۔ شیطان اور گناہ پر فتح پانے والے مسیحِ مصلوب کی شبیہہ اُنہیں کھینچ لائی۔زندہ مسیح پر ایمان لانے کے بعد پاک رُوح اُن کے دل میں اُتر آتا تاکہ وہ ایزدی زندگی کے فضل میں شریک ہوتے۔ایمان ہی کے بدولت وہ باپ اور بیٹے سے ابدی وحدانیت میں شریک ہو گئے تھے۔

مسیح نے اُن معتقدوں کے لیے دعا کی جو آئندہ رسُولوں کی معرفت ایمان لاتے۔تعجب اس بات کا ہے کہ جب آپ نے دعا کی تب تک وہ ملے بھی نہ تھے۔آپ کا کلام رسُولوں کے پیغام کی بنیادی صداقت ثابت کرتا ہے۔لہٰذا مسیح نے اپنی دعا میں ہمارے لیے جو طلب کیا اس کا اصل مدّعا کیا ہے؟کیا آپ نے ہماری تندرستی کے لیے دعا کی؟ یا ہماری اقبال مندی یا مستقبل میں کامیابی کے لیے کی؟جی نہیں! آپ نے اپنے باپ سے گذارش کی کہ وہ ہمیں فروتنی اور محبّت عنایت کرے تاکہ ہم سب مخلص مسیحیوں کے ساتھ ایک ہوں۔ہم یہ نہ سوچیں کہ ہم دوسروں سے بہتر ہیں یا یہ کہ دوسروں کاا ردِّ عمل ہمارے لیےناقابل برداشت ہوگا۔

معتقدوں کا اتّفاق مسیح کا اصل مدّعا ہے۔جس کلیسیا میں تفرقہ پڑ ا ہُوا ہوتا ہے وہ آپ کے اس منصوبہ کی مخالفت کرتی ہے۔البتّہ یہ اتّفاق جس کی مسیح نے گذارش کی وہ کلیسیا کے نظم و نسق کے ذریعہ حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اور چیزوں سے بڑھ کر یہ رُوحانی اتّفاق دعا اور رُوح کی مدد سے حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح خدا اپنے جوہر میں واحد ہے اس لیے مسیح نے اپنے باپ سے گذارش کی کہ وہ سب معتقدوں کو پاک رُوح کی رفاقت میں لانے تک وہ سب اُس کی حفاظت میں رہیں۔پھر بھی مسیح نے یہ دعا نہ کی کہ وہ مُجھ میں یا تُجھ میں ایک ہوں بلکہ یہ کہا کہ وہ ،ہم میں ، ایک ہوں۔اس طرح آپ یہ بتاتے ہیں کہ رُوح میں یہ کامل اتّفاق جو باپ اور بیٹے میں خصوصی طور پر پایا جاتا ہے، ایک نمونہ ہے۔آپ چاہتے ہیں کہ تُمہیں اپنے درجہ تک اُٹھائیں کیونکہ مقدّس تثلیث کی رفاقت کے علاوہ اور کوئی رفاقت نہیں ہو سکتی سوائے جہنّم کے۔

خدا کے اتّحاد میں مستحکم ہونے کا مقصد ہماری اپنی رُوحانی خوشنودی نہیں ہے بلکہ اس لیے کہ ہم دوسروں کے سامنے گواہی دیں جو خدا سے بعید ہیں۔ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ جانیں گے کہ وہ گناہ میں مر چُکے ہیں، اپنے فخر میں بدشعار ہو چُکے ہیں اور اپنے جذبات کے غلام ہو چُکے ہیں۔لہٰذا توبہ کریں اور مُنجی کی طرف لَوٹ جائیں۔تُم جو باپ، بیٹے اور پاک رُوح سے لپٹے ہُوئے ہو، فروتنی اور محبّت کرنے کے لیے قوّت پاؤگے اور ہر معتقد سے محبّت رکھنے کی رُوحانی آزادی پاؤگے اور اُن کی موجودگی میں خوش ہوں گے اور ان کے ساتھ مسیح کی محبّت کے گراں بہا گواہ بن جاؤگے۔ہم سب انسان یسُوع کی اُلوہیت کے ثبوت ہیں۔کاش کہ سبھی مسیحی مخلص ہوتے تو دنیا میں کوئی غیر مسیحی ہی نہ رہتا. اُن کی محبّت اور اطمئنان سب کو ترغیب دیں گے اور اُن کی تجدید ہوگی۔آئیے ہم یسُوع کے مطالبہ پر دھیان دیں اور ایک ہو جائیں۔کیا تُم متفرق کلیسیا میں بے ایمانی کی وجہ بننا چاہتے ہو گویا مسیح کا بدن ریزہ ریزہ ہو گیا ہو؟

یُوحنّا ۱۷: ۲۲۔۲۳
۔۲۲ اور وہ جلال جو تُو نے مُجھے دیا ہے، میں نے اُنہیں دے دیا ہے تاکہ وہ ایک ہوں جیسے ہم ایک ہیں۔ ۲۳ میں اُن میں اور تُو مُجھ میں تاکہ وہ کامل ہو کر ایک ہو جائیں اور دُنیا جانے کہ تُو ہی نے مُجھے بھیجا ہے اور جس طرح کہ تُو نے مُجھ سے محبّت رکھی،اُن سے بھی محبّت رکھی۔

یسُوع کا جلال کیا ہے؟یہ آپ کی چمک دمک ہے یا آپ کی عظمت کا نُور ہے؟ جی نہیں! آپ کا جلال آپ کی فروتنی، صبر اور شرافت کے پیچھے پوشیدہ ہے۔ رُوح کی نعمتوں کا ہر وصف آپ کے جلال کی شعاع ہے۔ یُوحنّا نے اسے دیکھا اور گواہی دی کہ ـہم نے اُس کا جلال دیکھا۔ـوہ صرف آپ کی شکل کی تبدیلی کا حوالہ نہیں دے رہے تھے اور نہ آپ کے مرُدوں میں سے جی اُٹھنےکے متعلق کہہ رہے تھے بلکہ آپ کی ادنیٰ چرنی اور ظالمانہ صلیب کے متعلق بھی کہہ رہے تھے۔ان واقعات میں ایزدی محبّت کا جلال نمایاں طور پر عیاں تھا جہاں بیٹے نے خود کو واضح جلال سے بالکل خالی کر دیا اور آدمی کی شکل میں اپنی عظمت کا جوہر پیش کیا۔یسُوع نے یہ جلال ہمیں عنایت کیا۔باپ اور بیٹے کا رُوح ہم پر نازل ہُوا۔

ہمیں یہ اعزاز دئیے جانے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم اس کی نمائش کریں یا اُسے خود کی شہرت کے لیے استعمال کریں بلکہ اس لیے کہ ہم ایک ہو کر خود کو مختلف خدمات کے لیے پیش کریں، آپسی خدمات کے لیے ملتے رہیں اور دوسروں کو اعزاز بخشنے کا عزم کریں۔اِن ہی رُوحانی اُصولوں کے مطابق یسُوع نے باپ سے گذارش کی کہ وہ اسی اتّفاق اور رفاقت کے مطابق جو مقدّس تثلیث کے تینوں اقانیم میں ہے، ہم پر یہ امتیازی اوصاف برسائے۔ خدا کی محبّت وہ پیمانہ ہے جس سے کلیسیا کو پرکھا جا سکتا ہے۔وہی ہمیں اپنی ابدی شبیہہ میں ڈھالتا ہے۔

حقیقت میں خدا اپنی معموری کے ساتھ کلیسیا میں سکونت کرتا ہے (افِسیوں ۱: ۲۳،کُلُسِیوں ۲: ۹)۔ کیا تُم میں اس عبارت کے الفاظ زبان پر لانے کی ہمّت ہے؟:کیونکہ اُلوہیّت کی ساری معموری مسیح میں مُجسِّم ہوکر سکونت کرتی ہے اور ہم اُس میں کمال تک پہنچ چُکے ہیںـ پَولُس رسُول کی یہ گواہی ثابت کرتی ہے کہ یسُوع نے اپنی مَوت سے قبل کی ہُوئی دعاؤں کا جواب دیا گیا تھا۔ ہم خداوند کی عبادت اور تمجید کرتے ہیں کیونکہ آپ ہماری حقارت نہیں کرتے حالانکہ ہم شکستہ حال اور گنہگار بھی ہیں؛ بلکہ آپ نے ہمیں پاک کرکے ہماری تقدیس بھی کی اور خود ہم سے مل گیےہیں تاکہ ہم آپ کی ایزدی زندگی جی سکیں۔

یسُوع کو پہلے سے ہی یقین تھا کہ ہم محبّت اور فروتنی میں کامل ہوں گے۔آئیے ہم ایک دوسرے سے محبّت کریں اور احترام بھی کریں۔مسیح ہم میں دولت، قابلیت اور حکمت میں کمالیت نہیں چاہتے بلکہ رحم و کرم، محبّت اور لطف و عنایت کے خواہاں ہیں۔ دردمندی اور رواداری آپ کا اوّلین ارادہ تھا جب آپ نے کہا:ـتُم کامل بنو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔ـ یہ حکم آپ کے دشمنوں سے محبّت کرنے کے انداز کی تلخیص ہے۔لیکن آپ کی شفاعتی دعا میں آپ اعلیٰ درجہ کی کاملیت حاصل کرنا چاہتے تھے یعنی کلیسیا میں اور خدا کے ساتھ رُوحانی یک جہتی اور اتّفاق۔رُوح مطالعۂ باطن یا علحدگی کی طرف نہیں بلکہ مقدّسوں کی رفاقت کی طرف راغب کرتی ہے۔مقدّس تثلیث کا اتّحاد ہماری اعلیٰ مثال ہے اور جب تک ایک نہیں ہوتے ہم دنیا میں خدا کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔جس طرح پرانے عہدنامہ میں لوگ انفرادی طور پر خدا کی شبیہہ لے آئے، اس سے بڑھ کر اب کلیسیا اپنے اراکین کے ساتھ مقدّس تثلیث کی شبیہہ ظاہر کرے۔

لکیسیا میں پائی جانے والی ہم آہنگی دنیا والوں کو متاثر کرتی ہے کہ ہم واقعی خدا کی طرف سے آئے ہیں۔وہ یہ دیکھنے لگے ہیں کہ خدا محبّت ہے۔محض الفاظ یا طویل تشریحات بذاتِ خود ایمان پیدا نہیں کرتیں۔خدا کے فرزندوں کے اجتماع میں پائی جانے والی خوشی طویل وعظ و تقاریر سے زیادہ اونچی آواز میں اور بہتر طریقہ سے بول پاتی ہے۔اسی طرح پاک رُوح نے یروشلیم کی ابتدائی کلیسیا کو حقیقی رُوحانی یک جہتی میں ملا دیا تھا۔

دعا: اے خداوند یسُوع! ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ہم نااہل لوگوں کو آپ پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔آپ نے اپنی محبّت کے باعث ہمیں اپنے خادم بنا لیا۔ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ آپ نے ہمیں پاک کرکے اپنے رُوحانی بدن (کلیسیا) کے رُکن بننے کے لیے آراستہ کیا۔ہمیں مقدّس تثلیث کی محبّت میں مستحکم کیجیے۔ہم آپ کی تمجید و توصیف کرتے ہیں اور استدعا کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی کلیسیا میں عملی اور زندہ یک جہتی سے رہنے کے لیے قوّت دیجیے۔

سوال ۱۰۸۔ یسُوع نے اپنے باپ سے ہمارے مفاد کے لیے کیا التجا کی؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on May 28, 2012, at 10:50 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)