Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- John - 103 (Jesus intercedes for his apostles)

This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ سوّم : رسُولوں کے حلقہ میں نُورچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۱: ۵۵۔۱۷: ۲۶)٠

ھ : یسُوع کی شافعانہ دعا (یُوحنّا ۱۷: ۱۔۲۶)٠

۔۳ : یسُوع اپنے رسُولوں کی شفاعت کرتے ہیں ( یُوحنّا ۱۷: ۶۔۱۹)٠


یُوحنّا ۱۷: ۱۴
۔۱۴ میں نے تیرا کلام اُنہیں پہنچا دیا اور دُنیا نے اُن سے عداوت رکھی اِس لیے کہ جس طرح میں دنیا کا نہیں، وہ بھی دنیا کے نہیں۔

یسُوع نے اپنی دعاؤں میں گواہی دی کہ آپ نے باپ کا کلام اپنے شاگردوں کو پیش کیا اور اُنہیں اُس کا پدرانہ نام بتا کر اُس کے معانی بھی سمجھا دِیے۔اس انکشاف کے ذریعہ آپ نے ہمارے لیے مقدّس تثلیث کا اعلان کیا۔خدا کے جوہر کے اس حیرت انگیز انکشاف نے شاگردوں کے دلوں کو چھُو لیا۔اس سے اُن میں تبدیلی آئی اور وہ قوّت سے معمور ہو گیے اور مسیح کے رُوحانی بدن (کلیسیا) کے رُکن بن گیے۔

ان خوبیوں اور اوصاف کے باعث دنیا ان سے نفرت کرنے والی تھی،ٹھیک اسی طرح جیسے اُس نے یسُوع سے نفرت کی۔ جس طرح مسیح خدا کی طرف سے تھے اور آپ کی زندگی ازل سے ابد تک خدا میں پوشیدہ تھی، اسی طرح جن کی از سرِ نَو پیدایش ہو چکی ہے وہ ابد تک زندہ رہیں گے۔

یُوحنّا ۱۷: ۱۵
۔۱۵ میں یہ درخواست نہیں کرتا کہ تُو اُنہیں دنیا سے اُٹھا لے بلکہ یہ کہ اُس شریر سے اُن کی حفاظت کر۔

یسُوع نے اپنے شاگردوں کو اُڑا کر آسمان پر نہیں پہنچایا اور نہ اُنہیں خلوت میں منتقل کیا حالانکہ مصیبت اور تکلیف نے اُنہیں چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔آپ نے اپنے باپ سے گذارش کی کہ وہ آپ کے پیروؤں کو شیطانی اثرات اور مُقرّروں کے فریب اور بد رُوحوں سے بچائے رکھے۔ہمارا خداوند ہماری شفاعت کرتا ہے۔ہر معتقد آپ کی باہوں میں یقینی طور پر محفوظ رہتا ہے۔یسُوع کا خون ہماری حفاظت کرتا ہے اور آپ کی قربانی کے باعث خدا ہمارے ساتھ ہے۔کوئی شخص ہم پر نہ الزام لگا سکتا ہے اور نہ ہمیں تباہ کر سکتا ہے۔ہم راستباز ٹھہرائے گئے ہیں، لافانی ہیں اور پاک رُوح کے فضل میں قائم ہیں۔اگر ہم بے وفائی کریں اور اپنا رُجہان خصوصی گناہوں کی طرف راغب کر لیں تو وہ ہمیں آزمائش میں گرنے دے گا کیونکہ اس سے جو گناہ ہم میں پوشیدہ ہے وہ اُبھر آئے گا اور ہماری شرم بے نقاب ہو جائے گی۔تب ہم کانپ اُٹھیں گے اور آنسو بہا کر توبہ کریں گے اور چلاّئیں گے:اے باپ ہمیں آزمائش میں نہ لا بلکہ برائی سے بچا۔جو کوئی خود اپنی طاقت اور انسانی دلیری سے شیطان اور مَوت سے لڑنے کی کوشش کرتا ہے وہ خود کو دھوکا دیتا ہے۔مسیح کے خون اور شفاعت کا سہارا لو۔آپ ہمارے مُنجی ہیں۔

یُوحنّا ۱۷: ۱۶۔۱۷
۔۱۶ جس طرح میں دنیا کا نہیں، وہ بھی دنیا کے نہیں۔ ۱۷ اُنہیں سچّائی کے وسیلہ سے مقدّس کر۔ تیرا کلام سچّائی ہے۔

اپنی دعا میں یسُوع نے اپنے شاگردوں کے متعلق گواہی دہرائی کہ وہ اب تک اس بد چلن دنیا سے باہر نکل نہیں آئے تھے کیونکہ وہ اب بھی جسمانی تھے اور دوسروں کی طرح بدی کی طرف مائل ہو سکتے تھے ۔وہ اب بھی برائی میں مبتلا رہتے لیکن خدا کے فضل اور مسیح کے خون نے انہیں شیطان کی قید سے قانونی طور پر آزاد کر دیا ہے۔اب وہ اس دنیا میں بیگانے بن گیے ہیں لیکن بہشت کے باشندے ہو گیے ہیں۔

ان معتقدوں کی نئی فطرت میں ، جو جسم اور جان پر مشتمل ہے، تمام عمر بے درد تصادم جاری رہتا ہے۔ اگر ہم دوسروں کی بدولت خود سے اپنے کاموں اور اپنے خاندانوں سے زیادہ محبّت رکھیں تو پاک رُوح کو کوفت ہوتی ہے۔خود کو خوش کرنے کی ہر کوشش ہمارے ضمیر کو چوٹ پہنچائے گی۔ہر جھوٹ ہماری یادداشت میں جلتی ہُوئی بید کی طرح سلگتی رہتی ہے۔خدا کا رُوح تمہیں چُرایا ہُوا مال اپنے گھر میں رکھنے نہ دے گا۔اگر تُم نے توہین کرکے یا کسی ظالمانہ حرکت سے کسی کے دل کو چوٹ پہنچائی ہے تو سچّائی کا رُوح تمہیں مجبور کرے گا کہ جاکر اس شخص سے معافی طلب کرو کیونکہ پاک رُوح تمام بدکاری ، فریب اور تمہاری زندگی کے ہر بل اور پیچ کا پردہ فاش کرتا ہے اور اس کے مطابق وہ تمہارا انصاف کرے گا۔

مسیح نے اپنے باپ سے ہماری تقدیس کرنے کے لیے کہا کیونکہ ناپاک شخص کسی اور شخص کو پاک نہیں کر سکتا۔یہ تقدیس وہ ہمیں اپنی سچّائی کی طرف راغب کرکے کراتا ہے۔جہاں تک ہم خدا کی محبّت کو سمجھتے ہیں اور بیٹے کے فضل میں قائم رہتے ہیں اور پاک رُوح کی قدرت میں جیتے رہتے ہیں، ہماری تقدیس ہو جاتی ہے۔ہماری زندگی میں خدا کی موجودگی ہمیں متاثر کرتی ہے۔خدا خود اپنے مقاصد ہم میں پورے کر لیتا ہے۔پاک بنو جیسا کہ میں پاک ہُوں۔یسُوع کا خون ہمیشہ کے لیے ہماری تقدیس کرتا ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے ہم میں مقیم پاک رُوح کوکسی چیز کی کمی نہیں ہوتی۔مقدّس تثلیث کی فطرت پر تمہارا ایمان تمہاری مکمل تقدیس کرتا ہے۔

جب ہم خدا کے کلام کا نہایت گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو وہ ہماری تقدیس کرتا ہے۔مقدّس اِنجیل ہماری پاکیزگی کا منبع اور ہماری وفاداری کی جڑہے۔ مسیح کا کلام ہمیں ایمان لانے، نفس کُشی کرنے اور پیار سے عبادت کرنے کے لیے راغب کرتا ہے تاکہ ہم بغیر کسی رکاوٹ کے خدا تک رسائی کے قابل بن جائیں۔اپنے دل، اپنے باپ کے کلام کے لیے کھول دو کیونکہ خدا محبّت ہے اور جو محبّت میں قائم رہتا ہے وہ خدا میں قائم رہتا ہے اور خدا اُس میں۔

یُوحنّا ۱۷: ۱۸
۔۱۸ جس طرح تُونے مجھے دنیا میں بھیجا اُسی طرح میں نے بھی اُنہیں دنیا میں بھیجا۔

یسُوع نے اپنے شاگردوں کے لیے دعا کی اور ان کی تجدید کرنے کے بعد اُنہیں بدشعار دنیا میں بھیج دیا۔آپ نے ہماری زندگی کی تقدیس کی خاطر ہمیں نجات بخشی۔پھر آپ نے ہمیں دنیا میں بھیجا تاکہ ہم بہتوں کو بچائیں اور ان کی تقدیس کریں۔کلیسیا آرام دہ اجتماع نہیں ہے جو مصلحت آمیز اور پارسا تقاریر اور شرعی فیصلوں سے اپنا کام چلاتی ہے۔وہ عملی رفاقت ہے جو ایمان کے ذریعہ شیطان کے قلعہ پر حملہ کرتی ہے اور دعا اور استقلال (ثابت قدمی) سے کھوئے ہُوؤں کو ایمان لانے کے لیے راغب کرتی ہے۔کلیسیا، باپ کی بادشاہی کا اعلان کرتی ہے اور زمین پر اِنجیل کی منادی کرنے کے لیے اس کی مرضی پر عمل کرتی ہے۔کیا تُم اِنجیل کی منادی کرنے کے سلسلہ میں یسُوع نے کی ہُوئی دعا سے واقف ہو؟

جس طرح باپ نے یسُوع کو بھیجا اسی طرح یسُوع تمیں اعزاز بخش کر کھوئے ہُوئے لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں۔مقصد وہی ہے جیسا کہ سازوسامان ہے۔یسُوع تم کو صرف خود میں خدا کی سچّائیاں پیش کرتے ہیں اور تمہیں عملی خدمت کے لیے بلاتے ہیں نہ کہ آرام اور وہم و گمان کے لیے۔آپ کا پاک رُوح تمہاری قوّت ہے۔

یُوحنّا ۱۷: ۱۹
۔۱۹ اور اُن کی خاطر میں اپنے آپ کو مقدّس کرتا ہُوں تاکہ وہ بھی سچّائی کے وسیلہ سے مقدّس کیے جائیں۔

یسُوع جانتے تھے کہ ان کا کوئی بھی شاگرد اِنجیل کی منادی کرنے یا رُوحانی جنگ لڑنے کے قابل نہ تھا اور یہ کہ وہ سب اپنے دل اور ضمیر میں مہلک زخم لے کر گر جائیں گے لیکن خدا کا قُدس اُن کا محاصرہ کیے ہُوئے تھا۔اسی وجہ سے بیٹا قربانی بنا اور خود کی تقدیس کر لی حالانکہ آپ ہمیشہ پاک رہے۔اپنی مَوت سے آپ نے پاکیزگی کے سبھی لوازمات پورے کیے تاکہ شیطان کے الزامات مسیح کے خون میں ہمارے ایمان کی بدولت ٹھنڈے پڑ جاتے۔اس کفّارہ کی مَوت کے باعث شاگرد پاک رُوح پا سکے جس نے اُنہیں آبِ حیات رکھنے کے برتن اور اس کے نام میں یسُوع کی تعلیم کے گواہ بنا دیا۔

اس طرح وہ دغا اور فریب سے آزاد کیے گیے اور اُن کے لب دغا کےزہر سے پاک کیے گیے۔راستی کا کبھی انکار نہ کرنےکے لیے اُن کی حوصلہ افزائی ہُوئی،خواہ اس سے ضمیر بے چین کیوں نہ ہو۔لیکن آخر کار یہ نجات کی طرف راغب کرےگا۔یہ جھوٹ، بداعمالی اور غرور کے ساتھ تضاد، مسیح کے خون سے ملنے والے تحفُّظ اور آپ کی شفاعت کے اثر سے ہی کامیاب ہوتا ہے۔

دعا: ہمارے دل میں پائی جانے والی نفرت، جھوٹ اور غرور کو بخش دیجیے۔ہم فطرتاً بدکار ہیں لیکن آپ پاک ہیں۔ہمیں شیطان کے پھندوں سے محفوظ رکھیے۔ہمیں اِنجیل کا کلام سمجھائیے تاکہ آپ کا کلام حقیقت میں ہماری تقدیس کرے اور ہم اپنی کی ہُوئی منادی کے مطابق جئیں۔

سوال ۱۰۷۔ ہمیں برائی سے بچانے کے لیے یسُوع نے اپنے باپ سے کیسے گذارش کی؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on May 28, 2012, at 10:41 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)