Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- John - 092 (Abiding in the Father's fellowship appears in mutual love)

This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ سوّم : رسُولوں کے حلقہ میں نُورچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۱: ۵۵۔۱۷: ۲۶)٠

د : گتسمنی کی راہ پر الوداع (یُوحنّا ۱۵: ۱۔۱۶: ۳۳)٠

۔۲ : ہمارا آسمانی باپ کی رتفاقت میں قائم رہنا ہماری باہمی محبّت سے عیاں ہوتا ہے ( یُوحنّا ۱۵: ۹۔۱۷)٠


یُوحنّا ۱۵: ۹
۔۹ جیسے باپ نے مُجھ سے محبّت رکھی ویسے ہی میں نے تُم سے محبّت رکھی۔۔تُم میری محبّت میں قائم رہو۔

باپ نے بیٹے سے اس قدر محبّت کی کہ اُس نے یردن کی ندی میں آپ کے بپتسمہ کے وقت فلک کو شِق کر دیا۔پاک رُوح کبوتر کی شکل میں آپ پر نازل ہُوا اور ساتھ ہی ساتھ یہ ندا سُنائی دی:"یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں بہت خوش ہُوں۔"جب یسُوع نے بپتسمہ کی نشانی کے ماتحت نوعِ اِنساں کے گناہ اُٹھا لیے، تب مقدّس تثلیث کا کیا ہُوایہ اعلان،خدا کے برّہ کا قربانی کی راہ پر پہلا قدم تھا۔بیٹے نے اپنے باپ کی مرضی پوری کی اور ہماری نجات کی خاطر خُود کو بالکل خالی کر لیا۔وہ محبّت صرف باپ اور بیٹے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ وہ دونوں محبّت میں متّحد ہو کر اس بد شعار دنیا کی عظیمُ الشان نجات کی تیّاریوں میں مصروف ہیں۔

یسُوع ہمیں اُتنا ہی پیار کرتے ہیں جتنا باپ آپ سے کرتا ہے۔ لیکن جہاں آپ وفادار تھے، ہم نہیں ہیں۔ہم میں سے ایک شخص بھی ازل سے مقدّس اکلوتا بیٹا نہ تھا۔ہُوا یہ کہ بیٹے نے ہم گنہگاروں کو چُنا اور پاک کر دیا۔ آپ نے ہمیں پاک رُوح کے ذریعہ نئے سرے سے پیدا کیا اور ہماری تقدیس کی۔ہم آپ کے ہاتھوں میں کھلونوں کی مانند نہیں ہیں جنہیں مرضی کے مطابق زمین پر پھینکا جا سکتا ہے۔آپ دن بھر ہمارے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور ایزدی فکر و التفات سے ہمارا خیال رکھتے ہیں۔آپ ہماری شفاعت کرتے ہیں اور مقدّس اِنجیل میں آپ نے ہماری خاطر محبّت آمیز خطوط بھی لکھ کر رکھے ہیں۔آپ ہمیں ایمان لانے، محبّت کرنے اور اُمیّد رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔اگر ہم وہ محبّت اکٹھّی کر لیں جو والدین ہر وقت اس زمین پر اپنی اولاد پر اُنڈیلتے رہتے ہیں اور اُس محبّت کو تمام ناپاکیوں اور انسان کی بدچلنی سے پاک کر لیں تو جو کچھ حاصل ہوگا وہ یسُوع کی محبّت کے مقابلہ میں ایک معمولی چیز نظر آئے گا کیونکہ آپ کی محبّت کبھی کم نہیں ہوتی۔

یُوحنّا ۱۵: ۱۰
۔۱۰ اگر تُم میرے حکموں پر عمل کروگے تو میری محبّت میں قائم رہوگے جیسے میں نے اپنے باپ کے حکموں پر عمل کیا ہے اور اُس کی محبّت میں قائم ہُوں۔

یسُوع تمہیں متنبہ کرتے ہیں:"میری محبّت سے خود کو محروم نہ رکھو۔میں تُم سے محبّت کرتا ہُوںاور مشتاق ہُوں کہ دیکھوں کہ تُم مُجھ سے کس قدر محبّت کرتے ہو۔تمہاری دعائیں کہاں ہیں؟کیا وہ آسمان سے ٹیلیفون کی طرح رابطہ قائم کیے ہُوئے ہیں؟اُن حاجتمندوں کے لیے تُم کیا نذرانہ پیش کرتے ہو جو میرے نجات کے کام کو قبول کرتے ہیں؟میں تمہیں وہ کرنے کی ترغیب دے رہا ہُوں جو بہتر اور دلکش ہے، وہ یہ کہ رحمدل اور پاک بنے رہو۔میری محبّت میں قائم رہو۔ پاک رُوح تمہیں نیک کام کرنے کی ترغیب دے گا ٹھیک اسی طرح جیسے خدا ہمیشہ نیک کام کرتا آیا ہے"۔

خدا کی ہی طرح محبّت نہ کرنا، گناہ ہے۔ مسیح ہمیں خدا کی رحمدلی کے درجہ تک اُٹھانا چاہتے ہیں۔"رحمدل بنو جیسے میں اور باپ رحمدل ہیں۔"تُم شاید یہ محسوس کرو کہ یہ ناممکن ہے۔تمہارا خیال درست ہے بشرطیکہ تُم اس معاملہ کو انسانی تخیّل کے دائرہ تک ہی محدود رکھو۔لیکن تُم نہیں جانتے کہ مسیح کیا چاہتے ہیں اور آپ تُم میں ہوکر کیا کر سکتے ہیں۔آپ اپنا رُوح تُم میں اُنڈیل دیتے ہیں تاکہ تُم ویسی ہی محبّت رکھو جیسے آپ رکھتے ہیں۔اِس رَو میں پَولُس رسُول کہتے ہیں:"میں مسیح کی مدد سے سب کچھ کر سکتا ہُوں جو مجھے طاقت بخشتا ہے"۔ (فِلِپِیوں ۴: ۱۳)۔

یسُوع نے گواہی دی کہ آپ نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا جو خدا کی مرضی سے ہم آہنگ نہ تھا۔ بلکہ آپ ہمیشہ خدا کی محبّت میں قائم رہے۔مسیح ،خدا کا اطمئنان ، رُوح میں دعا کرنا اورپُر خلوص خدمت کی خُو ،ہم میں ڈالتے ہیں۔

یُوحنّا ۱۵: ۱۱
۔۱۱ میں نے یہ باتیں اِس لیے تُم سے کہی ہیں کہ میری خوشی تُم میں ہو اور تمہاری خوشی پوری ہو جائے۔

جب تک انسان خدا سے دور رہتا ہے تب تک پیاس اس کے دل کی کیفیت جانتی ہے کہ وہ مضطرب ہے۔مسیح جو اپنے باپ کی محبّت میں قائم تھے، خوشی اوررُوحانی مسرّت سے معمور رہتےتھے۔آپ کا باطن متواتر گیت گاتا اور تمجید کرتا رہتا تھا۔آپ ہمیں اپنی نجات کے ساتھ ساتھ باطنی محبّت کا سمندر عنایت کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا خدا آسودہ حالی کا خدا ہے۔

رُوحانی پھل کی فہرست میں محبّت کے بعد خوشی ، دوسرے پھل کے طور پر درج کی گئی ہے۔جب گناہ نکل جاتا ہے تو خوشی سرایت کر جاتی ہے۔مسیح چاہتے ہیں کہ ہم میں نجات کی خوشی تقویت پائے تاکہ وہ دوسروں میں طغیانی لائے۔مسرّت بخش شخص ،خوشی کو صرف اپنی حد تک محدود نہیں رکھ سکتابلکہ چاہتا ہے کہ دوسروں کو بھی بچا کر گناہوں کی معافی پانے کی رُوحانی مسرّت اور خدا کی یقین دہانی کی خوشی میں شامل کر لے۔اور جب بہت سے لوگ نجات پائیں گے تو ہماری خوشی مکمل ہو جائے گی۔ جیسا کہ پَولُس رسُول نے کہا: "خدا چاہتا ہے کہ سب انسان نجات پائیں اور سچاّئی کی پہچان تک پہنچیں۔"اِنجیل کی منادی کرنا، اختلافات اور مصیبت کے بیچ میں خوشی کا چشمہ بن جاتا ہے۔

یُوحنّا ۱۵: ۱۲۔۱۳
۔۱۲ میرا حکم یہ ہے کہ جیسے میں نے تُم سے محبّت رکھی تُم بھی ایک دوسرے سے محبّت رکھو۔ ۱۳ اس سے زیادہ محبّت کوئی شخص نہیں کرتا کہ اپنی جان اپنے دوستوں کے لیے دسے دے۔

یسُوع ہم سے محبّت کرتے ہیں؛ آپ ہمارےنام، چال چلن اور ماضی سے بھی واقف ہیں۔ ہماری تکالیف اور مسائل کا آپ کو احساس ہے۔ہمارے مستقبل کو خوشگوار بنانے کے لیے آپ کے پاس منصوبہ اور مدد موجود ہےدعاؤں کے دوران ہم سے گفتگو کرنے کے لیے آپ ہمیشہ مستعد و تیار رہتے ہیں۔آپ ہمارے گناہ بخشتے ہیں اور ہمیں سچاّئی اور پاکیزگی کے ساتھ زندگی گزارنے کی رغبت دیتے ہیں۔

جیسے یسُوع ہم سے محبّت رکھتے ہیں،ویسے ہی آپ چاہتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے سے محبّت رکھیں۔ہم اپنے خویش و اقارب اور دوستوں سے زیادہ قریب آ جاتے ہیں اور اُن کے حالات اور دکھ دردمحسوس کرتے ہیں۔ہم اُن کے مقاصد اور شخصیتوں کو جاننے لگتے ہیں اور اُن کے مسائل کے حل ڈھُونڈ نکالتے ہیں اور اُنہیں صریح مدد پیش کرتے ہیں اور اُن کے ساتھ کچھ وقت بھی صرف کرتے ہیں۔جب وہ کوئی خطا کر بیٹھتے ہیں تو ہم اُنہیں درگزر کرتے ہیں اور اُن کے ساتھ صبر سے پیش آتے ہیں اور اُن کی خامیوں اور خطاؤں کا اُن سے تذکرہ تک نہیں کرتے۔

یسُوع نے اپنی زندگی میں محبّت کی انتہا کا نمونہ پیش کیا۔آپ نے محض باتوں سے اور مدد سے ہی کام نہ لیا بلکہ گنہگاروں کے لیے اپنی جان تک دے دی۔آپ ہمارے لیے محض جِیے ہی نہیں بلکہ ہمارے عوض اپنی جان بھی دے دی۔صلیب، محبّت کا تاج ہے جو خدا کی اُس محبّت کی وضاحت کرتا ہے جو اُسے ہم سے ہے۔آپ کی یہ خواہش ہے کہ ہم نجات کا پیغام دوسروں تک پہنچائیں اور اس کے لیےاپنا وقت اور دولت قربان کردیں۔اگر یسُوع ہمیں اِنجیل کا پیغام دوسروں کو سُنانےکے لیے اورآپ نے ہمارے لیے جو کچھ کیا اُسے واضح کرنے کے لیے بُلاتے ہیں تو آپ ہم سے توقع رکھیں گے کہ ہم اپنے آپ کو، اپنا مال و زر اور اپنی تمام قوّت قربان کر دیں۔جو آپ کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں اُن کے لیے آپ دعا کرتے ہیں اور اُنہیں اپنا دوست سمجھتے ہیں۔آپ نے اپنے دشمنوں کے لیے دعا کی: "اے باپ، اِنہیں معاف کر کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کر رہے ہیں۔"آپ نے اُنہیں محض بھائی یا خدا کے فرزند ہی نہ کہا بلکہ 'پیارے' کہا۔جو لوگ آپ کی محبّت کے حقدار نہ تھے ایسوں کا کفاّرہ ادا کرنے کے لیے آپ نے اپنی جان دی۔

یُوحنّا ۱۵: ۱۴۔۱۵
۔۱۴ جو کچھ میں تُم کو حکم دیتا ہُوں، اگر تُم اُسے کرو تو میرے دوست ہو۔ ۱۵ اب سے میں تمہیں نوکر نہ کہوں گا کیونکہ نوکر نہیں جانتا کہ اُس کا مالک کیا کرتا ہے بلکہ تمہیں میں نے دوست کہا ہے اِس لیے کہ جو باتیں میں نے اپنے باپ سے سُنیں وہ سب تُم کو بتا دیں۔

خدا تمہیں "پیارے" کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔وہ ہر ایک سے اسی طرح مخاطب ہوتا ہے۔تُم بالکل الگ تھلگ ہو چُکے ہوں اور ایسا کوئی نہیں ہو جس کی طرف مدد کے لیے ہاتھ بڑھا سکو، تو ایسی صورت میں یسُوع کی طرف دیکھو جنہوں نے تمہاری خاطر اپنی جان دے دی اور اب تمہاری خاطر جی رہے ہیں۔ وہ تمہارے بہترین دوست ہیں جو ہمیشہ مدد کے لے تیار رہتے ہیں۔آپ تمہارے خیالات سے واقف ہیں اور آپ کے جواب کے منتظر ہیں۔آپ کی دوستی میں قائم رہنے کے لیے ایک شرط ہے وہ یہ کہ ہم سب سے ویسی ہی محبّت کریں جیسی آپ نے کی۔ایسے دو شخص جو دعویٰ کرتے ہوں کہ وہ مسیح سے محبّت رکھتے ہیں، ایک دوسرے سے اختلاف نہیں رکھ سکتے۔آپ سے دوستی رکھنے کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے سے محبّت رکھیں۔آپ نے ہمیں اپنے پیارے کہا۔ہم آپ کے اس لیے ہیں کہ آپ نے ہماری تقلک کی اور آپ کو یہ حق ہے کہ ہمارے ساتھ غلام کی طرح سلوک کریں۔آپ نے ہمیں غلامی کے جوئے سے آزاد کیا اور اُٹھا لیا ہے۔آپ ہمیں اپنے ایزدی کاموں سے مطلع کرتے ہیں۔ آپ ہمیں بے خبر نہیں رکھتے بلکہ آسمانی باپ کا نام ، صلیب کی قوّت اور پاک رُوح کی محبّت سے واقف کرتے ہیں۔مقدّس تثلیث کا راز بتا کر آپ نے ابدی خدا کی خُفیہ سچاّئیاں بھی بتا دیں۔آسمانی باپ نے یہ سب باتیں آپ کے سپرد کردیں تاکہ آپ وہ باتیں ہمیں بتاتے۔ آپ کی دوستی اتنی عظیم ہے کہ آپ ہمیں اپنے کام، مہربانی،اعزاز،قدرت، اور زندگی میں شریک کر لیتے ہیں۔آپ نے تبنیت (گود لینے) اور ابنیت کے حق کو بھی اپنے قابو میں نہ رکھا بلکہ ہمیں اپنے قریب لیا تاکہ ہم خدا کے فرزند بن جائیں۔

یُوحنّا ۱۵: ۱۶۔۱۷
۔۱۶ تُم نے مُجھے نہیں چُنا بلکہ میں نے تمہیں چُن لیا اور تُم کو مقرّر کیا تاکہ جا کر پھل لاؤ اور تمہارا پھل قائم رہے تاکہ میرے نام سے جو کچھ باپ سے مانگو وہ تُم کو دے۔ ۱۷ میں تُم کو اِن باتوں کا حکم اِس لیے دیتا ہُوں کہ تُم ایک دوسرے سے محبّت رکھو۔

یسُوع کے ساتھ تمہارا رشتہ اولاً تمہاری مرضی، خواہش یا تجربہ پر نہیں بلکہ آپ کی محبّت، چُن لینے اور بُلاوے پر مُنحصر ہوتا ہے۔تُم شیطان کی مُٹھّی میں اپنے گناہوں کے غلام تھے اورموت کے اختیار میں تھے۔تُم قیدخانہ سے باہر نکل نہ سکتے تھے لیکن یسُوع نے تمہیں ازل سے چُن لیا اور اپنے بیش بہا خُون سے آزاد کر دیا۔آپ نے تمہیں اپنا دوست بنا لیا اور ابنیت کے حق کا وارث بنا دیا۔ آپ کا چُن لینا پوری طور سے فضل کے باعث ہوتا ہے۔تمہارا صرف یہی فرض بنتا ہے کہ یا تو آپ کو چُن لو یا پھر ردّ کردو۔یسُوع نے صلیب پرجب آپ کے گناہوں کا کفاّرہ ادا کیا،تب سب لوگوں کو چُن لیا ۔ لیکن سب آپ کا بُلاوا نہیں سُنتے بلکہ گناہ کے دلدل میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ وہ خدا کے فرزندوں کی آزادی کو نہیں جانتے۔مسیح نے تُم کو گناہ سے مخلصی اور ایزدی رفاقت کے لیے بُلایا ہے۔محبّت میں تربیت پاؤ۔تمہاری آزادی کا ایک ہی مقصد ہے وہ یہ کہ اپنے خداوند اور نوعِ انساں کی خود اپنی مرضی سے خدمت کرنا۔غلاموں کی طرح تُمارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی جا رہی۔ یسُوع، محبّت کی خاطر خود اپنی مرضی سے خادم بنے۔آپ ہمارا نمونہ ہیں جو خود کی پروا نہیں کرتے بلکہ آپ کو اپنے پیاروں کی فکر لاحق تھی۔

چنانچہ آپ مشتاق ہیں کہ تُم اپنے دوستوں کی فکر لو جیسے ایک چرواہا اپنی بھیڑوں کی فکر لیتا ہے۔چونکہ ہماری صلاحتیں محدود ہوتی ہیں اس لیے انسان کسی اور انسان کو گناہ کی غلامی سے بری نہیں کر سکتا۔ یسُوع ہماری ہمّت افزائی کرتے ہیں کہ ہم آپ کے نام میں دعا کریں۔اگر ہم یسُوع سے استدعا کریں کہ آپ گناہ کی غلامی سے بری ہو چُکے ہُوؤں کو ہدایت دیں اور اُن کو اخلاقی اور رُوحانی تربیت دیں اور اُن کے بدن، جان اور رُوح کی ہر ضرورت پوری کریں تو خداوند اپنی خُوشی سے اِس دعا کا جواب دیں گے۔دعا کے جواب پانے کا راز محبّت ہے۔اگر تُم اس طرح رُوحانی جذبہ میں اپنے دوست کے لیے دعا کرو تو یسُوع تمہیں تمہارے اتّفاقیہ اور بلا ارادہ کیے گیےگناہ بتا دیں گے اور تمہیں دانشمند اور مفید زندگی کی طرف، سچّی دعا کرنے اور دل شکستہ اور فروتنی کی طرف راغب کریں گے۔اگر تُم دعا کرو کہ نجات اور پاکیزگی تمہارے دوست کو نصیب ہو تو خداوند اس کا جواب ضرور دیں گے۔ہم تُم کو ہمیشہ دعا کرتے رہنے کی صارح دیتے ہیں۔یسُوع تمہیں ایسے نتیجہ کا وعدہ نہیں کرتے جو دھندلا پڑ جائے بلکہ ایسے پھل کا جو باقی رہے۔جو کوئی تمہاری دعاؤں اور گواہی کے باعث ایمان لاتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پائے گا اور موَت سے زندگی میں قدم رکھے گا۔

ایمان۔ دعاؤں اور گواہی کے علاوہ، یسُوع تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنے دوست سے محبّت رکھو جو پُر خلوص اور خالص ہو۔اُن کے سخت ردّ عمل کے باوجود، اُن کے ساتھ صبر سے پیش آؤ۔ اُن کے ساتھ شرافت سے پیش آؤ جیسے خدا تمہارے ساتھ شرافت سے پیش آتا ہے۔خدا کی محبّت کی تجلّی سے اس آوارہ اور بدشکل دنیا کو منوّر کردو۔خود کو خدمت کرنے، قربانی دینے، غور سے سُننے اور جواب دینے کی تربیت دو۔مسیح کی محبّت تُم میں سے چمکتی رہے۔

دعا: اے خداوند یسُوع! ہم آپ کے مشکور ہیں کیونکہ آپ نے ہمیں گناہ کی غلامی سے آزاد کردیا اور اپنے چہیتے بنا لیا۔ہم چاہتے ہیں کہ سب سے محبّت کریں جیسے آپ نے ہم سے محبّت کی۔ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں اور خود کو آپ کے حوالہ کرتے ہیں۔ہمیں وفادری سکھائیے تاکہ ہم کثرت سےمحبّت کے پھل لائیں۔

سوال ۹۶۔ یسُوع نے اُن لوگوں کو جو گناہ کے غلام تھے، اپنے چہیتے کیسے بنایا؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 08, 2012, at 01:14 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)