Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 034 (Healing of the paralytic)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

الف : یروشلیم میں دوبارہ تشریف آوری ﴿یسُوع اور یہودیوں کے درمیان عداوت کی ابتدا﴾ ۔ (یُوحنّا ۵ : ۱۔۴۷)٠

١- بیت حسدا میں ایک اپاہج کا شفا پانا ﴿يوحنَّا ٥: ١- ١٦﴾٠


یُوحناّ ۵: ۱۰۔۱۳
۔۱۰ پس یہودی اُس سے جس نے شفا پائی تھی کہنے لگے کہ آج سبّت کا دِن ہے۔ تُجھے چارپائی اُٹھانا روا نہیں۔ ۱۱ اُس نے اُنہیں جواب دیا: جس نے مجھے تندرست کیا اُسی نے مجھے فرمایا کہ اپنی چارپائی اُٹھا کر چل پھِر۔ ۱۲ اُنہوں نے اُس سے پُوچھا کہ وہ کون شخص ہے جس نے تُجھ سے کہا چارپائی اُٹھا کر چل پھر؟ ۱۳ لیکن جو شفا پا گیا تھا وہ نہ جانتا تھا کہ کون ہے کیونکہ بھیڑ کے سبب سے یسُوع وہاں سے ٹل گیا تھا۔

چند مُتعصُّب عالمِ شروع کےعلاوہ بیتِ حِسدا کے برامدوں میں موجود تمام لوگ خوش تھے۔یہ کٹّر اشخاص حد سے زیادہ رشک کرنے لگے، خصوصاً اِس لیے کہ یہ شفا یابی سبّت کے دِن ہُوئی تھی ۔یسُوع نے اس اپاہج کو صرف شفا ہی نہ بخشی بلکہ اُسے حکم بھی دیا کہ وہ اپنا بستر اُٹھا کر شہر کی گلیوں میں سے ہوتا ہُوا چلا جائے۔یہ فعل اُن یہودیوں کی نظر میں خدا کے خلاف گناہ اور سبت کے قانون کی خلاف ورزی تھا کیونکہ وہ آرام کا دن تھا جس میں کوئی کام نہ کیا جانا تھا۔ اِس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزائے موت کا حکم دیا گیا تھا( گنتی ۱۵: ۳۲۔۳۶)۔ یہودی یہ سمجھے ہُوئے تھے کہ اگر ساری قوم حد سے زیادہ احتیاط کے ساتھ سبّت کا احترام نہ کرتی رہی تو مسیح نہیں آئیں گے۔

اِن یہودیوں نے اس آدمی کو جو اپنا بستر اُٹھا کر چلا تھا، اس وقت سنگسار نہیں کیا کیونکہ سزائے موت سُنانے سے پہلے ایک تنبیہ دینا لازمی تھا۔انکے احتجاج کا مقصد اُسے صرف دھمکی دینا تھا۔شفا یافتہ آدمی نے اپنے دفاع میں یسُوع کا حکم اُنہیں بتایا اور کہا کہ بستر اٹھا کر چلا جانا مکمل شفا یابی کےلےم ایک شرط تھی۔

لیکن وہ عالمِ شرع غضبناک ہُوئے۔ اُنہیں اُس شفایابی میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اُنہوں نے اُس محّبت کے اختیارکو بھی نظر انداز کیا جس کا مظاہرہ یسُوع نے اِس شفا یابی میں کیا تھا۔وہ شفا بخشنے والے کے متعلق نہایت نفرت اور حسد سے گفتگو کرنے لگے کیونکہ اُس نے ایسی جسارت کی کہ سبّت کے دن اس اپاہج کو اپنا بستر اٹھانے کا حکم دیا۔لہٰذا اُنکےخیال سےیسُوع نے قانون کی خلاف ورزی کی چنانچہ آپ کو مَوت کی سزا ملنی چاہئے تھی۔

شفا پانے والاآدمی شفا بخشنے والے کو جانتا نہ تھا کیونکہ یسُوع اجنبی تھے۔آپ پہلی بار بیت حسدا میں تشریف لائے تھے۔شفا دینے کے بعد آپ وہاں سے گویا غائب ہو گئے۔یسُوع یہ نہ چاہتے تھے کہ لوگ معجزات کی بنا پر آپ پر ایمان لائیں بلکہ اُن کی یہ خواہش تھی کہ لوگوں کا ایمان اُن کی پُر محّبت شخصیت پر منحصر ہو۔

یُوحناّ ۵: ۵: ۱۴۔۱٦
۔۱۴ اِن باتوں کے بعد وہ یسُوع کو ہیکل میں ملا۔ اُس نے اُس سے کہا :دیکھ تُو تندرست ہو گیا ہے۔ پھر گناہ نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ تُجھ پر اِس سے بھی زیادہ آفت آئے۔ ۱۵ اُس آدمی نے جا کر یہودیوں کو خبر دی کہ جس نے مُجھے تندرست کیا وہ یسُوع ہے۔ ۱٦ اِس لیے یہودی یسُوع کو ستانے لگے کیونکہ وہ ایسے کام سبّت کے دن کرتا تھا۔

یسُوع نے اس شفا یافتہ آدمی کو ڈھُونڈا تاکہ آپ اُس کے گناہ معاف کرکے اُس کی تندرستی مکمل طور پر بحال کریں۔آپ نے اُسے ہیکل میں خدا کی تمجید کرتے ہُوئے پایا۔جب اُس نے یسُوع کو دیکھا تو وہ خوفزدہ ہُوا لیکن پھر بھی خوش تھا۔ہم جانتے ہیں کہ یسُوع نے اس سے کیا کہا:۔

۔" تُو شفا پا چکا ہے۔جو عظیم معجزہ تیرے ساتھ ہُوا اُس کی اہمیت کو سمجھ لے کیونکہ تُو اڑتیس برس سے بیمار تھا۔یہ کارنامہ خدا کی طرف سے ہُوا،یہ کسی انسان کی حرکت نہ تھی۔مجسِّم خدا نے خود تیرے دل کی آنکھیں کھول دی ہیں۔

اپنے گناہوں سے واقف ہے۔خدا کے بغیر زندگی گزارنےسے تُو اِس مصیبت میں مبتلا ہُوا۔میں نے تجھے شفا بخشی جس کی بدولت تیرے تمام گناہ بھی معاف ہوئے۔”یسُوع نے اُسے فرمانبرداررہنے اور گناہ نہ کرنے کو کہا تاکہ اُس کا باطن بھی شفایاب ہو۔معافی پانے کے لیے دوبارہ وہی گناہ نہ کرنے کا قصدکرنا پڑتا ہے۔جو کوئی مسیح کے پُر اثر کلام کو قبول کرتا ہے اورنہایت دلگیری سے توبہ کرتا ہے،ایزدی قوّت پاتا ہےاور خدا کی مدد سے بدی پر غالب آتا ہے۔ مسیح ہم سے کسی ناممکن عمل کی توقع نہیں رکھتے بلکہ آپ ہمیں رُوحُ القُدس عنایت کرتے ہیں کیونکہ اُس قوّت سے ہم اپنی جسمانی آزمائشوں اور معمولی عداوتوں پر قابو پاسکتے ہیں۔صداقت کا رُوح ہمیں بدی سےگریز کرنے اور اُس سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔

بعض اوقات علالت۱ورضرر خدا کی پُر محبت فکر و التفات کا نتیجہ ہوتے ہیں جنہیں وہ تادیب کے طور پر ہمیں اپنی طرف لَوٹ آنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔اور دوسرےموقعوں پر دولت اور عیش و عِشرت ، خدا کی جانب سخت دلی اختیار کرنے کی سزا بھی بن سکتے ہیں۔انسان شیطان بن کر ہمیشہ کیلئے نقصان اُٹھاتا ہے۔گناہ سے دوستی نہ رکھو بلکہ جس بدی کے غلام بن گئے ہوں اُس کا اقرار کرو اور مسیح سے مُخلصی طلب کرو۔یسُوع اور اپنے گناہوں کے بیچ غیر جانبداری نہ برتو ۔گناہ کی جانب اپنا رجہان نہ رکھو۔بلکہ اپنے مُنجّی سے عہد کرلو ۔یسُوع تمہیں حتّی الامکان بچائیں گے۔

یہ كیسی تعجب كی بات ہے !یسُوع سے ہدایت پانے كے بعد شفا پانے والا آدمی دوڑتے ہُوئے یہودیوں کے پاس گیا اور اُن سے کہا کہ یسُوع ناصری نے اسے شفا بخشی اور سبّت کے قانون کی خلاف ورزی کرنے کو کہا۔اُن عالمِ شرع نے اُمیّد رکھی ہوگی کہ یہ شخص جاسوسی کرکے یسُوع کا پتا لگائے گا تاکہ آپ کی گرفتاری ممکن ہو سکے۔

جب یسُوع نےہیکل کی صفائی کی تب کاہنوں نے جس نفرت کا مظاہرہ کیا تھا وہ اتنی شدید نہ تھی جتنی فریسیوں نے اس شفا یابی کے بعد جتائی۔مسیح نے ان کی ’’راستبازی‘‘کو کھوکھلا کرکے دکھایا کہ راستبازی ذاتی مفاد کیلئے شریعت کی پابندی کرنے پر منحصر نہیں ہوتی۔خدا رحم اورمحبّت چاہتا ہے۔جو پاکیزگی محبّت سے خالی ہو وہ جھوٹی ہوتی ہے۔خدا ہم میں رسم و رواج کی تکمیل نہیں بلکہ رحمدلی دیکھتا ہے۔خدا کا شکر ہے کہ اُس نے ہمیں ہزاروں شرعی قوانین سے آزاد کر دیا اورصرف ایک ہی حکم دیا کہ ہم محّبت کریں۔

سوال ۳۸۔ یہودی یسُوع کو کیوں ستانے لگے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 11:06 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)