Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 035 (God works with His Son)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

الف : یروشلیم میں دوبارہ تشریف آوری ﴿یسُوع اور یہودیوں کے درمیان عداوت کی ابتدا﴾ ۔ (یُوحنّا ۵ : ۱۔۴۷)٠

۔۲۔ خدا اپنے بیٹے کے ساتھ کام کرتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱۷۔۲۰)٠


یُوحناّ ۵: ۱۷۔۱۸
۔۱۷ لیکن یسُوع نے اُن سے کہا کہ میرا باپ اب تک کام کرتا ہے اور میں بھی کام کرتا ہُوں۔ ۱۸ اس سبب سے یہودی اور بھی زیادہ اُسے قتل کرنے کی کوشش کرنے لگے کہ وہ نہ فقط سبّت کا حکم توڑتا بلکہ خدا کو خاص اپنا باپ کہہ کر اپنے آپ کو خدا کے برابر بناتا ہے۔

بیت حسدا کی شفا یابی سے قبل، یسُوع کی مخالفت کم پیمانہ پر ہُوا کرتی تھی۔ لیکن اِس حادثہ کے بعد وہ بڑھتی گئی۔ آپ کے دشمنوں نے آپ کو قتل کرنے کی ٹھان لی۔ لہٰذا اِس معجزہ سے یہودیوں کے ساتھ آپ کےتعلقات نے ایک نیا موڑ لیا۔ اُس وقت سے یسُوع کو ستایا جانے لگا اور آپ کا شمار ایسے لوگوں میں کیا جانے لگا جن کو صفحۂ ہستی سے مٹایا جانا تھا۔۔حالات کے یوں بدل جانے کی وجہ کیا تھی؟

مسیح کی پُر محبّت پیشکش اور شریعت کے اختیار کی سختی میں تصادم پیدا ہوگیا۔پرانے عہد میں لوگ ایسے جیتے تھے گویا وہ قیدخانہ میں ہوں۔کئی احکام نافذ کیے گےش تاکہ لوگ شریعت کے سختی سے پابند رہیں کیونکہ نیک اعمال کی بنا پر ہی لوگ راستباز قرار دئے جاتے تھے۔نیک لوگ اِس بات کا خیال رکھتے تھے کہ وہ معمولی سے حکم کی بھی نافرمانی نہ کریں اور خدا کی خوشنودی اور عنایت حاصل کریں۔شریعت کی پابندی خود غرضی اوربے مہری کا بہانہ بن گیی۔چونکہ ساری قوم خدا کے ساتھ باندھے ہُوئے عہد کے ماتحت جیتی تھی اور اُسے ایک اجتماعی جماعت سمجھا جاتا تھا، اِس لیے انتہا پسند لوگ، ہر کسی کو اُن لاتعداد قوانین پر عمل پیرا رہنے پر مجبور کرتے تھے جو اُنہوں نے نافذ کیے تھے۔اُن میں سبّت کے دن کام کرنے کی ممانعت کے سلسلہ میں نافذ کیے ہُوئے احکام زیادہ اہم سمجھے جاتے تھے۔جس طرح خدا نے تخلیق کا کام انجام دے کر ساتویں دن آرام کیا، اسی طرح لوگوں کو بھی اِس عبادت کے دِن کوئی کام کرنے کی ممانعت تھی ورنہ وہ موت کی سزا پاتے۔

اِس طرح سبّت ،یہودیوں اور اُن کےخدا کے درمیان کیے گیےمعاہدہ کی علامت بن گئی تھی اور اُن کے بیچ میں خدا کی حضوری ظاہر کرتی تھی گویا وہ خدا کے خلاف کوئی اور گناہ نہ کرتے تھے جو اِس ہم آہنگی کو بگاڑ دیتے۔

یسُوع کے پاس اُن فریسیوں کے لیے جو آپ کے سبّت توڑنے کی مخالفت کرتے تھے، ایک معمولی سا لیکن قطعی جواب تھا۔ وہ یہ کہ "خدا کام کرتا ہے۔"یسُوع نے فریسیوں کو جو بیان دیا اُس میں ہم لفظ، "کام" اور اُس سے اخذ کیے ہُوئے کئی الفاظ پاتے ہیں جیسے سات دفعہ کام کرنا وغیرہ۔ آپ نے اُن کی سرد مہر شریعت پرستی کا جواب خدا کی پُر محبّت سرگرمیوں سے دیا۔خدا اپنے تخلیق کے کام کرنے سے باز آکر اب تک آرام کیسے کرسکتا ہے؟وہ لگاتار کام کرتا رہتا ہے۔چونکہ گناہ اس دنیا میں داخل ہُوا اور مَوت نے ساری مخلوق کو ناپاک کر دیا اور کائنات اپنے منبع (خالق)سے الگ ہوگئی،لہٰذا خدا ہر ممکن کوشش کرکے بھٹکے ہُوئے لوگوں کو نجات بخشنے اور باغیوں کو اپنی رفاقت میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔خدا کا ارادہ یہی ہے کہ اُس کی محبّت پاکیزگی سے پانے کے لیے ہم خود پاک بن جائیں۔

سبّت كے دن پیش آئی ہُوئی شفا یابی خدا نے بذاتِ خود انجام دئیےہُوئےکام کا عکس ہے۔یسُوع نے فضل کی منادی کی اور محبّت سے مغلوب ہو کر ایسے کام کیےجو بظاہر شریعت کی خلاف ورزی معلوم ہُوئے ہوں۔ محبّت شریعت کی تکمیل ہے۔سبّت کے دِن کی شفایابی ، محبّت سے خالی جھوٹی پارسائی پر سیدھا حملہ تھا۔

تب یہودی چاّی اُٹھے، "یسُوع سبّت توڑ رہا ہے! مدد کیجیے! عہد کی عمارت کے ستون لڑکھڑا رہے ہیں۔ شریعت کا یہ دشمن کفر بک رہا ہے اور خود کو نیا قانون ساز جتا رہا ہے جو ہماری قوم کے لیے خطرناک ہے"۔

اُن میں سے کسی نے مسیح نے اُس بدبخت کو جتائی ہُوئی محبّت کی طرف دھیان نہ دیا، نہ ہی اُنہوں نے آپ کی دُنیا پر پائی ہُوئی فتح کی طرف دیکھا۔ وہ اپنے تعصُّب میں اندھے بنے رہے۔ تعجب نہ کیجیے جو آج بھی لوگ یسُوع کو اِس تعصُّب کے باعث مُنجّی ماننے سے انکار کریں۔

یہودی آپ سے اِس لیے بھی خفا تھے کہ وہ آپ کے متعلق ایسی باتیں سُن رہے تھے جو اُن کے خیال سے کفر تھیں جیسے آپ خدا کو اپنا باپ کہتے تھے۔ یہ اُنہیں بیہودہ حرکت لگی۔ لہٰذا وہ چلاّ اُٹھے:"خدا ایک ہے؛ اُس کا کوئی بیٹا نہںآ ہے۔ یسُوع خدا کو اپنا باپ کیسا کہہ سکتے ہیں"؟

اُن کے اِس موقف سے اُن کی جہالت ظاہر ہوتی ہے۔وہ رُوحانی تاثیر کے ماتحت نہیں جی رہے تھےاور نہ ہی آسمانی نوشتوں سے واقف تھے کیونکہ اُن نوشتوں میں خدا کی اُلوہیت سے متعلق نمایاں پیش گوئیاں پائی جاتی ہیں۔ خدا نےجن لوگوں سے عہد باندھا تھا اُنہیں اُس نے "اپنا بیٹا" کہا ہے۔ ّ (خروج ۴: ۲۲؛ ہوسیع ۱۱: ۱)۔ جہاں قوم نے خدا کو "باپ" کہا (استثنا ۳۲: ۶؛ مزمور ۱۰۳: ۱۳؛ یسعیاہ ۶۳: ۱۶؛ یرمیاہ ۳: ۴، ۱۹ اور ۳۱: ۹)، وہاں خدا نے اپنے ایماندار بادشاہ کو "میرا بیٹا" کہا (۲ سموئیل ۷: ۱۴)۔ لیکن عہد کے لوگوں میں سے کوئی ایک شخص بھی خدا کو باپ کہنے کا مستحق نہیں قرار دیا گیا۔یہودیوں کے ذہن کے لیے خدا کو باپ کہہ کر مخاطب کرنے کےتصوّر کو مانناناممکن تھااور وہ اسے سراسر متکبرانہ گستاخی سمجھتے تھے ۔یہودیوں کو خدا کےاِس وعدہ کا علم تھا کہ یسُوع مسیح ایزدی ہستی ہوں گے جو ابدی زندگی لےکر آئیں گے۔ اُن کی یسُوع سے نفرت یہ ظاہر کرتی تھی کہ وہ آپ کی مسیحیت پر ایمان نہ لاتے تھے۔

یہودیوں کے دلوں میں اپنے کلام کے لیے خوف دیکھ کر یسُوع نے صاف لفظوں میں کہا کہ آپ وہی کام کرتے ہیں جو آپ کا باپ دانشمندی اور محبّت سےکرتا ہے۔ یسُوع نے دعویٰ کیا کہ آپ سب کچھ کر سکتے ہں اور آپ باپ کے برابر ہںں۔ایسے خیالات کے متعلق یہودیوں کا ٍ ر دِّعمل سخت اور ظالمانہ تھا۔جو کوئی خود کو خدا کے درجہ تک پہنچاتا ہے اُس کا کام تمام کیا جانا چاہئے۔یہودی آپ سے سخت نفرت لرتے تھے کیو نکہ وہ آپ کو کافر سمجھ کر سزائے مَوت کا مستحق قرار دیتے تھے۔

یُوحناّ ۵: ۱۹۔۲۰
۔۱۹ پس یسُوع نے اُن سے کہا: "میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ بیٹا آپ سے کچھ نہیں کر سکتا سِوا اُس کے جو باپ کو کرتے دیکھتا ہے کیونکہ جن کاموں کو وہ کرتا ہے، اُنہیں بیٹا بھی اُسی طرح کرتا ہے۔ ۲۰ اِس لیے کہ باپ بیٹے کو عزیز رکھتا ہے اور جتنے کام خود کرتا ہے، اُسے دکھاتا ہے بلکہ ان سے بھی بڑے کام اُسے دکھائے گا تاکہ تُم تعجب کرو۔

یسُوع نے یہودیوں کو محبّت سے لبریز لہجہ میں اُن کی نفرت کا جواب خدا کے پُر محبّت کاموں کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے دیا۔ جی ہاں، بیٹا ویسے ہی کرتا ہے جیسے باپ کرتا ہے۔ یسُوع اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتے کیونکہ آپ کا باپ کے ساتھ ویسا ہی ملاپ ہے جیاا ایک بچّہ اپنے باپ کو نہایت قریب سے دیکھتا ہے کہ اُس کے ہاتھ اُس کام کو کیسے کرتے ہیں، اورپھر وہ بھی ٹھیک اُسی طرح اُسے کرتا ہےجیسا اُس کا باپ کرتا ہے۔چنانچہ آپ نے اپنے آپ کو خاکسار بنا کر سارا جلال باپ کو لَوٹا دیا۔ آپ نے اپنےباپ کو اعزاز بخشا۔ ہمیں جاننا چاہئے کہ ہم بے سود خادم ہیں جنہیں یسُوع کی طرح خدا کے نام کی تقدیس کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔

یسُوع نے نفس کُشی اور حلیمی سے اپنے باپ کے کام کرنے کا اختیار حاصل کیا۔آپ کےبھی سبھی اوصاف، نام اور کام وہی ہیں جوباپ کے ہیں۔ آپ ہی ابدی، قابل، محبّت کرنے والے اور پُر جلال ،حقیقی خدا ہیں۔ آپ کا خدا سے مکمل اتّحاد ہے۔

خدا باپ مسیح کی نفس کُشی کی باعث آپ سے محبّت کرتا ہے اور آپ سے کچھ نہیں چھِپاتا۔وہ اپنے بیٹے کو اپنے اختیارات، منصوبے اور کام میں شریک کر لیتا ہے۔ اِن بیانات میں ہمیں تثلیث کے اتّحاد کا صاف دعویٰ دکھائی دیتا ہے۔۔محبّت کا اتّحاد عمل میں نظر آتا ہے۔چونکہ باپ، بیٹا اور رُوحُ القُدس ہر بات میں تعاون برتتے ہیں، اِس لیے ہمیں اِس معلومات سےمطمئن ہونا چاہیے کہ مقدّس تثلیث كا كام ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ اور اِس طرح دنیا کے اِس جھگڑے، نفرت اور تعصُّب کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردینا چاہیے۔کام میں محبّت کا اتّحاد اور شریعت پسندی کی لاعملی میں کس قدر عظیم فرق ہے۔

دعا: اے آسمانی باپ، ہم تیرا شکر بجالتے ہیں کہ تُونے اپنے بیٹے کو ہمارے پاس بھیجا۔ آپ کے کاموں کے ذریعہ تُو نے ہمیں بتایا کہ تُو کیا کرتا ہے اور تُو کون ہے؟ ہمیں شریعت پسندی کے تمام کاموں سے آزاد کر دے تاکہ ہم محبّت کے کام چُنیں۔ہم تعصُّب سے توبہ کرتے ہیں اور تجھ سے اُن لوگوں کے لیے التجا کرتے ہں جو رُوحانی لحاظ سے اندھے ہیں تاکہ وہ تیری محبّت کی آزادی کو دیکھیں اور نہایت خاکساری کے ساتھ تیری اطاعت کریں۔

سوال ۳۹۔ خدا اپنے بیٹے کے ساتھ کس طرح اور کیوں کام کرتا ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:27 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)