Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- John - 100 (Introduction to the intercessory prayer; Prayer for the Father's glory)

This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ سوّم : رسُولوں کے حلقہ میں نُورچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۱: ۵۵۔۱۷: ۲۶)٠

ھ : یسُوع کی شافعانہ دعا (یُوحنّا ۱۷: ۱۔۲۶)٠

۔۱ : شافعانہ دعا کی تمہید


یسُوع نے اپنی اِنجیل اور کارناموں کے ذریعہ نوعِ انساں کی خدمت کی؛ آپ نے لنگڑوں کو شفا بخشی،بھوکوں کو کھانا کھلایا، نابیناؤں کی آنکھیں کھولیں اور مرُدوں کو جِلایا۔آپ کی محبّت، نفرت اور مَوت کے بیچ میں خدا کے جلال کا انکشاف تھا۔

اپنی خدمت کے آغاز میں بہت بڑی بھیڑ آپ کے پیچھے ہو لی تھی۔جب یہودی مذہبی کونسل نے(جو متعصّب لوگوں اور ریاکاروں پر مشتمل تھی) دیکھا کہ ان کے مذہب اور شریعت کی بنیادیں لرز رہی ہیں تو اُنہوں نے یسُوع اور آپ کے پیروؤں کو عبادت گاہوں میں آنے کی ممانعت کی اور مَوت کی دھمکی دی جس سے بھیڑ کا جوش کم ہوگیا اور وہ یکے بعد دیگرے آپ کو چھوڑ کر چلے گیے۔جس کے بعد مسیح اور آپ کے چند وفا شعار پیروؤں کو اذیّت پہنچائی گئی لیکن اس کے باوجود آپ ہر ایک سے محبّت کرتے رہے۔

بلآخر کونسل کے پروپیگنڈے کے باعث آپ کا ایک شاگرد اُن کے ساتھ ہو لیا اوراُس نے اپنے استاد کو پکڑوانے کی تیّاریاں شروع کیں ، ٹھیک اُس وقت جب کہ یسُوع عہد کے طعام کے موقع پر اپنے شاگردوں کو رسالت کے لیے تیار کر رہے تھے۔اپنے الوداعی وعظ میں آپ نے اعلان کیا کہ آپ اور آسمانی باپ ایک ہیں اور یہ بھی بتایا کہ آنے والی اذیّت کے باوجود تسلّی بخش رُوح کس طرح اُنہیں ایزدی محبّت کی رفاقت میں قائم رکھے گا۔

لیکن شاگرد اپنے خداوند کا ارادہ سمجھ نہ پائے کیونکہ اب تک پاک رُوح اُن کے اندر اُنڈیلا نہ گیا تھا۔چنانچہ یسُوع،سردار کاہن کی حیثیت سے کی ہُوئی دعا کے ذریعہ براہِ راست اپنے باپ کے پاس پہنچے اور خود کو اور اپنے پیرو ؤں کو اس کے ہاتھوں میں سونپ دیا۔آپ نے اس دعا میں اُن لوگوں کا بھی ذکر کیا جو اُن رسُولوں کی گواہی کے باعث آپ پر ایمان لانے والے تھے۔

باب ۱۷ میں مرقوم مسیح کی شافعانہ دعا ہمیں خدا کے بیٹے نے باپ سے کس انوکھے ڈھنگ سے گفتگو کی اُس کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ دعا ہمیں مقدّس تثلیث کے تینوں اقانیم کے درمیان کس قسم کی محبّت پائی جاتی ہے، اس کی وضاحت بھی کرتی ہے۔دعا کرنے والی رُوح یہاں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔جو کوئی اس باب کا نہایت گہرائی سے مطالعہ کرتا ہے وہ خدا کی ہیکل میں داخل ہوجاتا ہے جہاں عبادت اور شفاعت کی جاتی ہے۔


۔۲ : باپ کے جلال کے لیے دعا (یُوحنّا ۱۷: ۱۔۵)٠


یُوحنّا ۱۷: ۱
۔ ۱ یسُوع نے یہ باتیں کہیں اور اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھا کر کہا کہ اے باپ!وہ گھڑی آپہنچی۔اپنے بیٹے کا جلال ظاہر کر تاکہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے۔

یسُوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ آپ اور باپ ایک ہیں اور یہ کہ آپ، باپ میں ہیں اور باپ، آپ میں ہے۔جس نے آپ کو دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا۔لیکن شاگرد اِس جاذبِ توجہ(مؤثر) انکشاف کو سمجھنے سے قاصر رہے۔اُنہوں نے جب ایک ایزدی ہستی کو انسان کی شکل میں مجسِّم پایا تو اُن کا دماغ دُھندلا گیا۔یسُوع نے اپنے کمزور اور لاعلم شاگردوں کو باپ کی فکر و التفات کے سپرد کیا تاکہ اُنہیں روشن خیالی بخشی جائے اور وہ ایزدی اور کامل محبّت کی رفاقت میں رہیں۔

اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھا کر یسُوع نے شاگردوں کو شاید تعجب میں ڈالا ہوگا کیونکہ آپ آسمانی باپ کے حضور دعا بھی کرتے تھے اورساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ آپ، باپ میں اور باپ، آپ میں موجود ہے؟اِن بعید از عقل اشاروں نے اُن کے دماغ کو چکرا دیا۔ہم جانتے ہیں کہ دونوں تصوّرات معقول اور بجا ہیں اور باپ اور بیٹے میں مکمل اتّحاد اور اقنوم کی شخصی آزادی بھی ہے۔خدا ہمارے دماغ سے زیادہ طاقتور ہے اور پاک رُوح ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم دونوں تصوّرات کو بجا قرار دیں ۔اگر تمہیں یہ واقفیت مشکل معلوم ہوتی ہو تو خدا سے التجا کرو کہ وہ اس سلسلہ میں تمہیں روشن خیالی عنایت کرے کیونکہ کوئی شخص پاک رُوح کی مدد کے بنا باپ اور بیٹے کو پوری طرح سے سمجھ ہی نہیں سکتا۔

اس دعا میں یسُوع نے خدا کو باپ کہہ کر مخاطب کیا کیونکہ خدا محض کامل خداوند اور جابر مُنصِف ہی نہیں ہے بلکہ اُس کی ہمدرد محبّت اس کے دوسرے اوصاف کو چھپا لیتی ہے۔خدا خود کامل محبّت اور دردمند سچّائی ہے۔خدا کا محب باپ کے طور پر نیا تصوّر اس وقت نمودار ہُوا جب یسُوع خدا کے بیٹے کے طور پر پاک رُوح سے پیدا ہُوئے۔آپ ازل سے خدا کے ساتھ تھے لیکن آپ مجسِّم ہُوئے تاکہ ہمیں نجات دلا کر خدائے قدّوس کے فرزند بنائیں۔ خدا کے نئے نام، باپ ،کا انکشاف، یسُوع کا دنیا کو دئے ہُوئے پیغام کا جوہر ہے۔اس الہامی سچّائی سے یسُوع نے ہمیں عدالت اور سزا کے خوف سے بری کر دیا کیونکہ مُنصِف خود ہمارا باپ ہے اور اس بات کا یقین دلانے والا (یعنی یسُوع) ہمارا بھائی ہے جس نے ہمارے قرضے ادا کیے۔اگر تُم یسُوع کے بیشتر بیانات میں مستعمل باپ کا نام اپنے اندر جذب کر لو اور اس ادراک کے مطابق جیو تو سمجھ لو کہ تُم نے اِنجیل کا پیغام بخوبی سمجھ لیا ہے۔

مسیح نے اپنے باپ کے سامنے تسلیم کر لیا کہ دنیا کی نہایت اہم گھڑی آ پہنچی ہے یعنی خدا اور انسان کے آپسی میل ملاپ کی گھڑی۔نوعِ انساں، فرشتے،مذاہب اور فِلسفے، نادانستہ طور پر اس گھڑی کے منتظر تھے۔اب وہ گھڑی آ پہنچی تھی۔مسیح نے خدا کے برّہ کے طور پر دنیا کا گناہ اُٹھا لیا ہے۔آپ خدا کے غضب کی آگ میں اکیلے جلنے کے لیے تیار تھے۔ان قطعی اور فیصہ کُن گھڑیوں میں آپ کو پکڑوانے والا ہیکل کے سپاہیوں کے ساتھ خدا کے بیٹے کو گرفتار کرنے کے لیے آ رہا تھا لیکن آپ ایک فروتن مگر زور آور آدمی تھے جو بغیر کسی بچائو کے مرنے کو تیار تھے۔

یُوحنّا ۱۷: ۲
۔۲ چنانچہ تُونے اُسے ہر بشر پر اختیار دیا ہے تاکہ جنہیں تُونے اُسے بخشا ہے اُن سب کو وہ ہمیشہ کی زندگی دے۔

اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جلال کے معنی چمک دمک(نور فشانی) اور روشنی ہوتے ہیں۔یسُوع نے اقرار کیا کہ آپ کی ذبیحی محبّت، جلال کا جوہر اور آپ کی ایزدی ہستی کا قلب ہے۔آپ نے اپنے باپ سے گذارش کی کہ جب آپ صلیب پر ہوں گے اور درد اور خوف میں مبتلا ہوں گے، اس عرصہ میں وہ آپ سے ویسی ہی محبّت رکھے تاکہ ایزدی محبّت کی شعائیں مصلوب کے بدن پر آب و تاب کے ساتھ چمکتی رہیں۔بیٹا ،باغیوں اور مجرموں کی خاطر اپنی قربانی دینے کے لیے راضی تھا تاکہ آپ کی موت کے باعث وہ راستباز ٹھہرائے جاتے۔بیٹے کے جلال کا یہی بطن البطون ہے۔

آپ اتنا کہہ کر ہی خاموش نہ رہے کہ آپ خود اپنے لیے جان نہیں دے رہے بلکہ اپنے باپ کےجلال کی خاطر ایسا کر رہے ہیں اور یہ کہ آپ ایسا قدم اُٹھا رہے ہیں جو کوئی اور نہیں اُٹھا سکا۔آپ نے صلیب پر باپ کی تمجید کی اور نوعِ انساں کا خدا کے ساتھ میل ملاپ کرا دیا۔جب گناہ معاف ہو جاتا ہے تو خدا کی محبّت ظاہر ہوتی ہے اور سب کو متنبیٰ (لے پالک بیٹا) ہونے کی دعوت دی جاتی ہے۔مسیح پر ایمان لانے والوں پر پاک رُوح اُنڈیلا جاتا ہے تاکہ فرزند مکمل پاکیزگی کی حالت میں آپ کی تمجید کریں۔لاتعداد فرزندوں کا باپ بننے سے بڑھ کر باپ کے نام کی جلال پانے کی اور کوئی علامت نہیں ہو سکتی۔چنانچہ یسُوع نے لاتعداد فرزندوں کی رُوح اور سچّائی میں پیدایش کے ذریعہ اس نجات بخش محبّت کو مکمل کرنے کی گذارش کی تاکہ باپ کے نام کی تمجید ہو۔

بیٹے نے اپنی اُلوہیّت کا دعویٰ دہرایاکہ باپ نے آپ کو ان سب پر اختیار دیا ہے جو عورتوں سے پیدا ہُوئے۔مسیح حقیقی خدا، خالق اور مُنجی ہیں۔آپ ہمارے خداوند ، بادشاہ اور مُنصِف بھی ہیں۔ہم آپ کے ہیں اور آپ ہماری حقیقی اُمیّد ہیں۔آپ نے یہ اختیار، عدالت اور تباہی کے لیے نہیں بلکہ ہمیں نجات بخشنے اور ہماری رہنمائی کرنے کے لیے پایا۔مسیح کی آمد کا مقصد یہ تھا کہ آپ پر ایمان لانے والے ابدی زندگی پائیں۔مَوت کا اب اُن پر کوئ اختیار نہ رہا۔مسیح نے صلیب پر نوعِ انساں کے گناہ معاف کردیے۔حالانکہ بہت کم لوگوں نے نجات کی اس دعوت کو قبول کیا، پھر بھی معتقد برگزیدہ قوم ہیں جو باپ، بیٹے اور پاک رُوح پر ایمان لاتے ہیں اور مسیح کے نجات بخش جلال میں قائم رہتے ہیں۔ان میں خدا کا رُوح قیام کرتا ہے۔اُن کا نیا وجود ہمارے دور کا ایک معجزہ ہے جس سے باپ کے نام کی تمجید ہوتی ہے۔

یُوحنّا ۱۷: ۳
۔۳ اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تُجھ خدائے واحد اور برحق کو اور یسُوع مسیح کو جسے تُونے بھیجا ہے،جانیں۔

مسیح نے جو کچھ خدا کے متعلق کہا، پاک رُوح اُسے ثابت کرتا ہے۔خدا مسیح کا اور ہمارا باپ ہے۔جو کوئی اس ایزدی راز سے واقف ہے اور مسیح پر ایمان لاتا ہے وہ ابدی زندگی پاتا ہے۔خدا کا ادراک حاصل کرنے کے لیے یسُوع مسیح کی ہستی کے علاوہ کوئی اور کلید نہیں ہے۔جو کوئی بیٹے میں خدا کی اُلوہیّت کو دیکھتا ہے اور یسُوع پر ایمان لاتا ہے وہ مُتبنیٰ (لے پالک بیٹوں) کے حلقہ میں شامل ہو جاتا ہے۔مسیح کے کلام کے ذریعہ حاصل ہونے والا موؐثر ادراک محض سائنس نہیں ہوتا بلکہ اُس کے ذریعہ انسان رُوحانی ہستی بن جاتا ہے۔خدا ہر معتقد میں اپنی شبیہہ بحال کرتا ہے۔اس ایزدی شبیہہ کی کیا اہمیت ہے؟کیا وہ محبّت ، سچّائی اور دیانت داری ہے جو پاک رُوح خدا کے فرزندوں میں لے آتا ہے؟یہ خدا باپ کی طرف سے ملنے والا جلال ہے جس کی وجہ سے معتقدوں میں اس کے اوصاف عیاں ہوتے ہیں۔

خدا نے مسیح کو دنیا میں بھیجا جو پاک رُوح سے پیدا ہُوئے اور صلیب پر چڑھائے گئے اور پھر مُردوں میں سے زندہ کیے گیے۔آپ کے آنے اور اس دنیا میں چلنے پھرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ جانیں کہ آپ کے بغیر وہ خدا کا ادراک حاصل نہیں کر سکتے۔بیٹا ایزدی رسُول ہے جس نے اپنی ہستی میں محبّت اور پاکیزگی کے ساتھ سب اختیارات جمع کرکے رکھے ہیں۔اگر تُم حقیقی خدا کو جاننا چاہتے ہو تو یسُوع کی زندگی کا مطالعہ کرو جو اُلوہیّت کی تصویر ہیں، جن کا پاک رُوح سے مسح کیا گیا ہے۔مسیح کی ہستی میں آپ بادشاہوں کے بادشاہ اور سردار کاہن بھی ہیں جو ہر طرح سے کامل نبی اور خدا کا کلام ہیں جو مُجسِّم ہُوا۔

یُوحنّا ۱۷: ۴۔۵
۔۴ جو کام تُونے مجھے کرنے کو دیا تھا اُس کو تمام کرکے میں نے زمین پر تیرا جلال ظاہر کیا۔ ۵ اور اب اے باپ!تُو اُس جلال سے جو میں دنیا کی پیدایش سے پیشتر تیرے ساتھ رکھتا تھا، مجھے اپنے ساتھ جلالی بنا دے۔

آپ کے دنیا میں قیام کے دوران یسُوع ہمیشہ باپ سے دعا اور مراقبہ کرتے رہے،اُس کے حضور گواہی پیش کرتے رہے اور اُس کے کام انجام دیتے رہے۔آپ نے نفس کُشی کر کے خدا کو جلال بخشا۔آپ نے باپ سے جو کچھ سُنا اُسے ہم تک پہنچا دیا۔آپ کی تمام زندگی باپ کی تمجید کرنے میں گزری اور آپ کو یقین تھا کہ آپ کی دعاؤں کا جواب ملتا رہے گا۔آپ نے صلیب پر نجات کا کام پایہ تکمیل کو پہنچایا۔البتّہ یہ کوئی فخر کی بات نہ تھی کیونکہ آپ کے باپ نے یہ ذمّہ داری آپ کو سونپی تھی تاکہ آپ اسے انجام دیتے۔آپ نے تسلیم کیا کہ باپ نے سب کام پورے کیے۔ چونکہ یسُوع نے اپنے آپ کو خالی کر دیا اور نیک نامی کا سہرا اپنے سر پر نہ باندھا حالانکہ آپ اس کے مستحق تھے کہ ابدی جلال آپ کو لَوٹ آتا۔ چنانچہ آپ نے گواہی دی کہ آپ ازل سے ہی جلالی ہیں، خدا سے خدا، نُور سے نُور، مخلوق نہیں بلکہ آپ خدا کی ذات سے نکل آئے ہُوئے بیٹے ہیں۔اپنا مقصد حاصل کرنے کے بعد آپ اپنے باپ کے پاس لوٹ جانے کے مشتاق تھے۔جیسے ہی آپ آسمان پر پہنچے، فرشتوں اور دوسری ہستیوں نے آپ کی یہ کہتے ہُوئے تمجید کی:’’ ذبخ کیا ہُوا برّہ ہی قدرت، دولت، حکمت، طاقت، عزّت، تمجید اور حمد کے لائق ہے۔‘‘(مکاشفہ ۵: ۱۲)۔

دعا: اے آسمانی باپ!تیرا نام پاک مانا جائے۔تیرے بیٹے نے اپنی طرزِ زندگی، دعاؤں اور قربانی سے تیری تمجید کی۔ہم اپنی آنکھیں تیری طرف اُٹھانے کے مستحق نہیں ہیں۔ہماری خؒطائیں بخشنے کے لیے ہم تیرے شکر گزار ہیں کیونکہ مسیح نے ہماری خاطر اپنی جان دے دی اور تُو نے ہمیں اپنے فرزند بنا لیا۔ میں تیرا مشکور ہُوں کہ تُو نے اپنا پاک رُوح میرے دل میں اُنڈیل کر مجھے ابدی زندگی میں منتقل کیا۔ہمیشہ تیری تمجید کرنے میں ہماری مدد فرما اور اس لیے بھی کہ ہم سب جلال اپنے لیے ہی نہ بٹوریں بلکہ تیرے بیٹے کی اطاعت کریں اور ایک دوسرے سے محبّت رکھیں تاکہ دوسرے لوگ ہمارے نیک کاموں میں تیری اُلوہیّت کو دیکھیں اور تیرے مطیع ہوکر تمجید کریں۔

سوال ۱۰۴۔ یسُوع کی دعا کے پہلے حِصّہ میں کون سا بنیادی خیال ظاہر کیا گیا ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on May 28, 2012, at 10:12 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)