Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- John - 099 (Christ's peace in us defeats the world's afflictions)

This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ سوّم : رسُولوں کے حلقہ میں نُورچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۱: ۵۵۔۱۷: ۲۶)٠

د : گتسمنی کی راہ پر الوداع (یُوحنّا ۱۵: ۱۔۱۶: ۳۳)٠

۔۶ : ہم میں پایا جانے والا مسیح کا اطمئنان، دنیا کی مصیبتوں کو شکست دیتا ہے (یُوحنّا ۱۶: ۲۵۔۳۳)٠


یُوحنّا ۱۶: ۲۵۔۲۶
۔۲۵ میں نے یہ باتیں تُم سے تمثیلوں میں کہیں۔ وہ وقت آتا ہے کہ پھر تُم سے تمثیلوں میں نہ کہوں گا بلکہ صاف صاف تُمہیں باپ کی خبر دُوں گا ۔ ۲۶ اُس دِن تُم میرے نام سے مانگوگے۔۔۔

یسُوع نے آسمانی سچّائیاں مثالوں اور تمثیلوں کے ذریعہ واضح کیں جس کی وجہ سے اہل عالم کے لیے یہ راز پوشیدہ رہتے تھے لیکن جو لوگ راستبازی کے بھوکے ہوتے تھے، اُن پر وہ واضح ہو جاتے تھے۔یسُوع کی یہ تمنّا تھی کہ آپ کے شاگرد آپ کو بخوبی سمجھیں۔آپ اُس عظیم دن کی اُمیّد لگائے بیٹھے تھے جب آپ مرُدوں میں سے جی اُٹھنے والے تھے اور اس کے بعد آسمان پر صعود فرماکر خدا کے دہنے بازو کو بیٹھ جانے والے تھے اور وہاں سے اپنا ایزدی رُوح اپنے شاگردوں پر نازل کرنے والے تھے۔آپ اِن سبھی نجات بخش واقعات کو ایک ہی دن قرار دیتے تھے۔جب پاک رُوح آپ کے پیروؤں پر نازل ہوگا تب تمثیلیں اور مثالیں نازل ہونا بند ہو جائیں گی کیونکہ مسیح کا رُوح مومنوں کے دلوں کو روشن کرے گا جس سے تمثیلوں کا دور ختم ہو جائے گا۔خدا، باپ ہے اور مسیح اُس کے بیٹے ہیں۔پاک رُوح کے بغیر کوئی شخص خدا کو جان نہیں سکتا لیکن بیٹے کا رُوح ہمیں خدا کے خاندان میں شامل کر لیتا ہے۔کیا تمہارا دنیاوی باپ زندہ ہے؟کیا تُم اُس سے گفتگو کرتے ہو؟کیا وہ تمہاری فکر لیتا ہے؟یہ محض ابتدائی سوالات ہیں۔ اس سے اعلیٰ سطح پر یسُوع کا کلام اور آپ کے رُوح کی تسلّی ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ خدا قادرِ مُطلق اور قُدّوس ہے اور وہ ہمارا ذاتی اور نہایت قلبی خدا ہے جو ہم سے محبّت کرتا ہے۔حالانکہ ہم سب گنہگار ہیں پھر بھی ہم اُس کے چہیتے فرزند ہیں اور مسیح کے خون کے ذریعہ ہم اُس کے حضور پاک بن گئے ہیں۔پاک رُوح ،سچّی دعا کرنے کے لیے ہمارے مُنہ کھولتا ہے کیونکہ یہ رُوح مسیح کا ہوتا ہے۔رُوحانی دعا کرتے وقت، مسیح ہم میں ہوکر بولتے ہیں۔دعا وہی کرو جو روح کرتا ہے۔وہ دعا باپ پر اعتماد رکھ کر اور بیٹے کی رفاقت میں کی جاتی ہے۔تمہاری دعائیں، تمہارے اندر مقیم رُوح اور تمہارے آسمانی باپ کے درمیان ،جو بیٹے میں ایک ہے، گفتگو ہوتی ہے۔

یُوحنّا ۱۶: ۲۶ ب۔۲۸۔
۔۲۶ ب ۔۔۔۔ اور میں تُم سے یہ نہیں کہتا کہ باپ سے تمہارے لیے درخواست کروں گا۔ ۲۷ اِس لیے کہ باپ تو آپ ہی تُم کو عزیز رکھتا ہے کیونکہ تُم نے مُجھ کو عزیز رکھا ہے اور ایمان لائے ہو کہ میں باپ کی طرف سے نکلا۔ ۲۸ میں باپ میں سے نکلا اور دُنیا میں آیا ہُوں۔پھر دنیا سے رخصت ہوکر باپ کے پاس جاتا ہُوں۔

جو باپ اپنے بچّوں سے پیار نہیں کرتا وہ باپ کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا۔خدا کا نام ظاہر کرکے یسُوع نے ہمیں بالکل سادا نمونہ پیش کیا جس کی بدولت ہم خدا کی عظیم محبّت پاتے ہیں۔باپ کے نام کوشہرت دینا، مسیح کا اصل مقصد ہے۔۔جو کوئی باپ کو جانتا ہے وہ خدا کو جانتا ہے اور وہ خود خدا کا فرزند بن جاتا ہے اور اُس کی محبّت میں قائم رہتا ہے۔اس نام میں ہم مکمل اِنجیل اور ابدیّت(بقائے دوام) کی امیّد پاتے ہیں ۔مسیح آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اب شفاعت کی ضرورت نہ رہی کیونکہ باپ خود تُم سے محبّت کرتا ہے اور وہ خود محبّت اور رحم سے معمور ہے۔ چونکہ مسیح نے صلیب پر اپنی جان دے دی لہٰذا اب ہمارے اور باپ کے درمیان کوئی رُکاوٹ حائل نہ رہی۔بیٹے پر جو خدا کا برّہ ہے، ایمان لانے سے خدا اُن لوگوں پر اپنی محبّت انڈیل دیتا ہے جو مسیح سے محبّت رکھتے ہیں۔جو شخص مسیح کی اُلوہیّت سے،آپ کے باپ میں سے نکل کر آنے سے اور باپ میں مقیم ہونے سے واقف ہوتا ہے اس کی مقدّس تثلیث تک رسائی ہو چُکی ہوتی ہے۔وہ خدا کی ازندگی میں قائم رہتا ہے اور باپ کے فضل سے معمور ہو کر ہمیشہ پاک رُوح میں مسرور رہتا ہے۔

اگر ایک جملہ میں کہا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ مسیح اپنے شاگردوں کو نجات کا معجزہ بیان کرتے ہیں۔ آپ اُلوہیّت کی بلندی سے نیچے اُتر آئے اور اُس زمین پر چلتے پھرتے رہے جو عداوت اور سیاہ کاری سے چھلنی ہو چُکی تھی۔لیکن جب آپ نے صلیب پر نوعِ اِنساں کی راستبازی کا کام انجام دیا تب دنیا کو الوداع کہا اور تیز رفتار سے باپ کی طرف صعود فرمایا جو تمام زندگی کا منبع ہے۔

یُوحنّا ۱۶: ۲۹۔۳۰
۔۲۹ اُس کے شاگردوں نے کہا: دیکھ اب تُو صاف صاف کہتا ہے اور کوئی تمثیل نہیں کہتا۔ ۳۰ اب ہم جان گئے کہ تُو سب کچھ جانتا ہے اور اس کا محتاج نہیں کہ کوئی تُجھ سے پُوچھے۔اِس سبب سے ہم ایمان لاتے ہیں کہ تُو خدا سے نکلا ہے۔

یسُوع کے شاگرد خدا کی محبّت کی عظمت اور یسُوع کی ابدی ہستی کے قائل ہوتے جا رہے تھے۔یسُوع حقیقی خدا ہیں، خدائے علیم و بصیر، پاک اور ابدی۔مسیح تجسیم شدہ محبّت ہیں،یہ حقیقت نہ وہ سمجھ پائے اور نہ اُنہیں اس کی یاد رہی۔چنانچہ وہ خدا کو اُس کے اصلی جوہر میں پہچان نہ پائے اور اسے باپ کہہ کر پکارا تک نہیں۔حالانکہ یسُوع نے اُن کے سامنے خدا کے نئے نام اور اُس کی دائمی محبّت کاجامع طور پر اعلان کیا تھا۔پاک رُوح نے اب تک یسُوع کے پیروؤں کو روشن خیالی عطا نہ کی تھی۔ چنانچہ اُنہوں نے یہ امور نظریاتی طور پر قبول کر لیے تھےلیکن آپ کی حقیقی فطرت کا جوہر سمجھ نہ پائے۔

یُوحنّا ۱۶: ۳۱۔۳۲
۔۳۱ یسُوع نے اُنہیں جواب دیا: "کیا تُم اب ایمان لاتے ہوَ ۳۲ دیکھو وہ گھڑی آتی ہے بلکہ آ پہنچی کہ تُم سب پراگندہ ہو کر اپنے اپنے گھر کی راہ لوگے اور مُجھے اکیلا چھوڑ دوگے۔تو بھی میں اکیلا نہیں ہُوں کیونکہ باپ میرے ساتھ ہے۔

نہایت طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ یسُوع نے اُن سے کہا:"کیا تُم سمجھتے ہو کہ محض عقل و دانش کے ذریعہ تُم میری حقیقی شخصیت کو جان سکوگے؟کیا ایسا علم حقیقی ایمان کی طرح ہوتا ہے؟امتحان اب لیا جائے گا جو بتائے گا کہ تمہارا اعتبار محبّت سے خالی ہے۔تُم خدا کو سمجھ نہ پائے کیونکہ تُم اُس کی ابّویت پر ایمان نہیں لاتے۔تُم سب بھاگ جاؤگے اور مُجھے اکیلا چھوڑ دوگے جس سے ظاہر ہوگا کہ تمہارا ایمان غیر یقینی ہے"۔

۔"مَوت کی گھڑی میں بھی میں اکیلا نہیں ہُوں بلکہ باپ میرے ساتھ ہے۔"کیا یہ بیان، یسُوع نے صلیب پرکی اِس چینخ و پُکار کی تردید کرتا ہے:"اے میرے خدا،تُو نے مُجھے کیوں چھوڑ دیا؟"جی نہیں، کیونکہ خدائے قدّوس نے اپنا چہرہ بیٹے سے چھپا لیا تھا لیکن مسیح یہ یقین کرتے رہے کہ آپ کا باپ آپ کے پاس موجود ہے۔آپ کی چینخ یہ واضح کرتی ہے کہ خدا بدلتا نہیں۔"خواہ میں تُجھے نہ بھی دیکھوں، تو بھی میں تُجھے چھوڑوں گا نہیں۔اے باپ، میں اپنی رُوح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہُوں۔"خدا کی ابوّیت پر مسیح کا ایمان اُس سزا پر غالب آگیا جو ہماری خاطر آپ کو بھُگتنی پڑی۔بیٹے کی باپ کے لیے محبّت نے خدا کے غضب کی وہ آگ بجھا دی جو ہمارے گناہ کے قرضہ سے پیدا ہُوئی تھی۔آپ کی مستقل امیّد نےباپ کو دیکھنے کے لیے ہمارے لیے دروازہ کھول دیا۔باپ کی صلاح کے مطابق آپ کی موت کے باعث،ہم کہہ سکتے ہیں :"میں اکیلا نہیں ہُوں کیونکہ باپ میرے ساتھ ہے"۔

یُوحنّا ۱۶: ۳۳
۔۳۳ میں نے تُم سے یہ باتیں اِس لیے کہیں کہ تُم مُجھ میں اطمئنان پاؤ۔دنیا میں مصیبت اُٹھاتے ہو لیکن خاطر جمع رکھو میں دنیا پر غالب آیا ہُوں۔

یسُوع نے اپنا الوداعی وعظ کاسبھی مومنوں کو تسلّی بخشتے ہوئے اختصار کیا۔"میں کچھ عرصہ تک تمہارے ساتھ رہا اور تمہیں تعلیم دی تاکہ ایزدی اطمئنان سے تمہارے دل معمور ہو جائیں۔ ایمان نہ لانے والوں کو کوئی اطمئنان حاصل نہیں ہوتا۔ میں، خدا کے بیٹے، نے تمہارے دلوں کو بخش دیا ہے اور تمہارے باطن کو پاک کردیا ہے۔میں اپنے اطمئنان کا رُوح تُم میں رکھ چھوڑتا ہُوں۔میرے کلام میں قائم رہو۔میں بذاتِ خود تمہارا محافظ ہُوں۔ میرے سوا کوئی اور تمہاری حفاظت نہیں کر سکتا۔تمہارا خدا کے ساتھ میل ملاپ اس اطمئنان کی بنیاد ہے۔جب تک میرے خون میں تمہارے گناہ بخشے نہیں جاتے تمہارا ضمیر پاک و صاف نہیں ہو سکتا۔میں نے تمہیں نجات بخشی ہے اور میرا رُوح تمہارے اندر ہے۔ میرا اطمئنان کوئی وہم نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے۔میں تمہیں اطمئنان دینے آیا ہُوں۔اُسے قبول کر لو اور مجھ پر بھروسہ کرو"۔

۔"یہ نہ سوچو کہ اس جہاں میں تُم اطمئنان پاؤگے۔ نہیں!کئی خطرے، اذیّتیں، علالتیں، فریب، خوف اور مَوت گھات میں بیٹھے ہُوئے ہیں۔عالم شرع تمہیں مسترد کر دیں گے اور اوپری لوگ تمہارا مضحکہ اُڑائیں گے۔ ہزاروں جھوٹ اور فلسفے تماورے ایمان کا امتحان لیں گے۔غرور تمہارے بالکل قریب ہوگا۔ پیسوں سے محبّت نہ کرو۔دولت تمہاری حفاظت نہ کرے گی"۔

۔"دنیا سے اپنی آنکھیں ہٹا لو اور میری طرف دیکھتے رہو۔میری زندگی پر غور کرو اور میرا کلام سمجھ لو۔میری محبّت کو جانو اور میری ہی طرح فروتن بنو۔میری جان نثاری اور نفس کُشی میں قائم رہو۔میں نے دنیا پر غلبہ پا لیا ہے۔میں نے خود اپنے لیے کچھ نہیں مانگا۔میں دراصل خدا کا قدّوس ہُوں۔مُجھ میں خدا کا یہ حکم پورا ہُوا کہ'تُم کامل بنو جیسا کہ میں کامل ہُوں۔' میں محبّت کی تکمیل ہُوں اور مُجھ میں تُم باپ کو دیکھ سکتے ہو۔

کیا تُم یسُوع کے الوداعی وعظ کی اہمیت کو سمجھ پائے ہو؟آپ نے تمہیں باپ کی رفاقت میں بٹھا دیا ہے تاکہ تمہارا دل مسیح کی محبّت سے ہم آہنگ ہو۔وہ اطمئنان مومن کی زندگی میں نہایت اہم سچّائی ہے۔ دنیا بری ہی رہے گی اور تمہیں تکلیف دیتی رہے گی۔ لیکن موت اور شیطان پر فتح پانے والے مسیح پر تمہارا ایمان تمہیں خدا کے غضب کی آگ اور بیرونی اذیّت سے آزاد کر دے گا۔جو شخص مسیح پر ایمان لاتا ہے وہ خدا کی رحمت سے شرف یاب ہوتا ہے۔کیا یسُوع کے اس پیغام سے تُم معمور ہو چُکے ہو؟کیا تمہارے اندر پاک رُوح ہے جو تمہیں یہ کہنے کی ترغیب دیتا ہے:"باپ میرا ہے،بیٹا میرا مُنجی ہے، اور پاک رُوح مُجھ میں مقیم ہے۔خدائے واحد ہم میں ہے اور میں اُس کے فضل میں قائم ہُوں"۔

دعا: خداوند یسُوع مسیح،آپ نے میرا دل جیت لیا اور مجھے اپنے لیے خرید لیا۔شیطان کے پھندوں سے آپ نے مجھے محفوظ رکھا اور اُس کے جھوٹ کی قید سے آزاد کیا۔آپ نے مجھے ابدی زندگی عنایت کی۔مجھے موت کا کوئی ڈر نہیں کیونکہ میں آپ کی آمد کا منتظر ہُوں۔ مجھے اپنی مرضی میں قائم رکھیے اور اپنی قدرت سے معمور کیجیے تاکہ میں سب مقدّسوں کے ساتھ باپ کی عبادت کرتے وقت آپ کی تمجید کرسکوں۔آپ کی ہدایت کے مطابق،مجھے اپنے بھائیوں سے محبّت رکھنے ، لوگوں کو معاف کرنے اور صلح کرانے والا بننے کی توفیق دیجیے۔میں آپ پر اعتماد رکھتا ہُوں۔آپ ہی فاتح ہیں۔

سوال ۱۰۳۔ آسمانی باپ ہم سے کیوں اور کیسے محبّت کرتا ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 08, 2012, at 02:16 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)