Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- John - 098 (Christ predicts the joy of the disciples)

This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ سوّم : رسُولوں کے حلقہ میں نُورچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۱: ۵۵۔۱۷: ۲۶)٠

د : گتسمنی کی راہ پر الوداع (یُوحنّا ۱۵: ۱۔۱۶: ۳۳)٠

۔۵ : عیدِ قیامت کے موقع پر شاگردوں کی خوشی کے متعلق مسیح کی پیش گوئی ( یُوحنّا ۱۶: ۱۶۔۲۴)٠


یُوحنّا ۱۶: ۱۶۔۱۹
۔۱۶ تھوڑی دیر میں تُم مُجھے نہ دیکھوگے اور پھر تھوڑی دیر میں دیکھ لوگے۔ ۱۷ پس اُس کے بعض شاگردوں نے آپس میں کہا،یہ کیا ہے جو وہ ہم سے کہتا ہے کہ تھوڑی دیر میں تُم مجھے نہ دیکھوگے اور پھر تھوڑی دیر میں دیکھ لوگےاور یہ کہ اس لیے کہ مَیں باپ کے پاس جاتا ہُوں؟ ۱۸ پس اُنہوں نے کہا کہ تھوڑی دیر جو وہ کہتا ہے یہ کیا بات ہے؟ ہم نہیں جانتے کہ کیا کہتا ہے؟ ۱۹ یسُوع نے یہ جان کر کہ وہ مُجھ سے سوال کرنا چاہتے ہیں، اُن سے کہا:کیا تُم آپس میں میری اِس بات کی نسبت پوچھ تاچھ کرتے ہو کہ تھوڑی دیر میں تُم مجھے نہ دیکھوگے اور پھر تھوڑی دیر میں مجھے دیکھ لوگے؟

اس شام کے دوران یسُوع نے تین بار اپنی رحلت کے بارے میں کہا۔اس اعادہ سے آپ کے شاگردوں کو بے حد صدمہ پہنچا۔وہ آپ کا ارادہ سمجھ نہ پائے۔لیکن آپ نے اپنے واپس آنے کا وعدہ بھی کیا جو اوّلاً تو آپ کے قبر میں سے جی اُٹھنے کی طرف اشارہ تھا جو عید فسح کے فوراً بعد وقوع میں آیا۔اس کے بعد آپ کمرہ کی دیواروں میں سے گزر کر اندر آئے اور شاگردوں کو نظر آئے۔یہ مختصر سی ملاقات باپ کی طرف روانگی سے قبل الوداع کہنے کا موقع تھا۔

شام کے وقت زیتون کے پہاڑ پر چڑھتے ہُوئے جب یسُوع نے یہ پیش گوئیاں کیں تو شاگرد آپ کی باتیں سمجھ نہ پائے۔اس سے پہلے آپ نے اُن سے اپنی رحلت کے منصوبہ کے متعلق بات چیت کی تھی۔اب آپ اُنہیں اس جدائی کے متعلق بتا رہے تھے جو حقیقت میں پیش آنے والی تھی۔وہ مان گئے کہ یسُوع کے یہ منصوبے اور ارادے اُن کے لیے ایک معمّہ تھے۔وہ پریشان ہُوئے اور اُلجھن میں مبتلا تھےاور آپ کے آسمان پر لوٹ جانے کے ارادے سے غمگین ہوگئے تھے۔

یُوحنّا ۱۶: ۲۰۔۲۳
۔۲۰ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ تُم روؤگے اور ماتم کروگے مگر دنیا خوش ہوگی۔تُم غمگین تو ہوگے لیکن تمہارا غم ہی خُوشی بن جائے گا۔ ۲۱ جب عورت جننے لگتی ہے تو غمگین ہوتی ہے اِس لیے کہ اُس کے دُکھ کی گھڑی آ پہنچی لیکن جب بچّہ پیدا ہو چُکتا ہے تو اس خوشی سے کہ دنیا میں ایک آدمی پیدا ہُوا، اُس درد کو پھر یاد نہیں کرتی۔ ۲۲ پس تُمہیں بھی اب تو غم ہے مگر میں تُم سے پھر ملوں گا اور تمہارا دل خوش ہوگا اور تمہاری خوشی کوئی تُم سے چھین نہ لے گا۔ ۲۳ اُس دن تُم مُجھ سے کچھ نہ پوچھوگے۔میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اگر باپ سے کچھ مانگوگے تو وہ میرے نام سے تم کو دے گا۔

یسُوع نے شاگردوں کے خیالات کو جانا اور سمجھ گئے کہ وہ کیا کہہ رہے تھے، حالانکہ آپ نے اُنہیں بات کرتے ہُوئے نہ سُنا تھا۔اُن کے شک کا جواب دیتے ہُوئے آپ نے اُن کا خوف دور نہ کیا، نہ ہی اُن کا غم غلط کیا بلکہ اس بات پر زور دیا کہ شدید درد، آنسو اور گریہ و زاری اُن کی زندگی کو جھنجوڑیں گے۔یہ ویسے ہی تھا جب کوئی نیک بادشاہ مر جاتا ہے اور رعایا رنج و الم میں مبتلا ہو جاتی ہے اور امیّد کھو بیٹھتی ہے۔حالانکہ شاگرد غم میں مبتلا ہوں گے، اُن کے دشمن خوشیاں منائیں گے۔دشمنوں سے یسُوع کی مراد ساری دنیا سے تھی نہ کہ صرف یہودی حکمرانوں سے۔مسیح کی کلیسیا کے باہر کے سب لوگ کھوئی ہُوئی دنیا سے تعلق رکھتے تھے جو خدا سے بہت دور تھی اور پاک رُوح کے خلاف بغاوت کر بیٹھی تھی۔

مزید یہ کہ یسُوع نے اپنے شاگردوں سے وعدہ کیا کہ اُنہیں بہت خوشی ہوگی۔آنسو بہانے اور آہ و زاری کی گھڑیاں، کسی دردِ زہ میں مبتلا ماں کی طرح،مختصر ہوں گی۔مائیں اپنا درد زہ قابل برداشت سمجھتی ہیں، اُس خوشی کے مقابلہ میں جو اُنہیں اپنے نوزاد طفل کو اپنی باہوں میں لینے سے ملتی ہے۔

جب یسُوع مرُدوں میں سے جی اُٹھے تب شاگردوں کے تمام سوالات خاموش ہو گئے۔ان کے لیے خطا کا مسلہ حل ہو گیا اور موت کے مسلہ پر بھی قابو پا لیا گیا۔شیطان کی حکومت چکنا چور ہو گیں۔اور خدا کا غضب اب شاگردوں پر کوئی بوجھ نہ ڈال سکا ۔اُن کا انکار، خوف اور بے اعتقادی، مسیح کے واپس آنے اور اُن کی معافی پانے کو باز نہ رکھ سکے۔یہودی اُنہیں پھنسا نہ سکے کیونکہ خداوند اُن کی حفاطت کرتا تھا، چنانچہ سب سوالات اور دوہری مشکلات جو اُنہیں پریشان کیے ہُوئے تھیں،مرُدوں میں سے جی اُٹھی ہُوئی ہستی میں اپنا جواب اور علاج پا چُکیں۔

یُوحنّا ۱۶: ۲۴
۔۲۴ اب تک تُم نے میرے نام سے کچھ نہیں مانگا۔ مانگو تو پاؤگے تاکہ تمہاری خوشی پوری ہو جائے۔

اپنے الوداعی وعظ کی ابتدا میں یسُوع نے اپنے شاگردوں کو تاکید کی کہ وہ جو چاہیں مانگ لیں اور وہ اُنہیں دیا جائے گا تاکہ باپ کو جلال ملے (یُوحنّا کی اِنجیل ۱۴: ۱۳)۔یہ مناجات کلیسیا کی نشو نُما اور اِنجیل کی منادی کے متعلق ہونی تھیں کیونکہ یسُوع چاہتے تھے کہ لوگ زیادہ تعداد میں تثلیث کی محبّت کی رفاقت میں داخل ہوں۔چنانچہ آپ نے ہمیں نصیحت کی :"پہلے تُم خدا کی بادشاہی اور راستبازی کی جستجو کرو تو یہ سب چیزیں تمہیں عطا کردی جائیں گی"(متّی کی اِنجیل ۶: ۳۳)۔یسُوع نے وعدہ کیا کہ خدا آسمانی (رُوحانی) اور دنیاوی (جسمانی)، دونوں ضروریات کے سلسلہ میں کی ہُوئی دعاؤں کا جواب دیتا ہے،پھر بھی آسمانی ضروریات کو دنیاوی ضروریات پر فوقیت حاصل ہے۔

تمہارے سوالات اور دل کی التجائیں کیا ہیں؟کیا تمہیں پیسوں، تندرستی اور کامیابی کی ضرورت ہے؟کیا تُم دوسروں کے ساتھ رابطہ قائم کرنا چاہتے ہو؟کیا خدا کی موجودگی اور اُس کی رحمدلی کے متعلق شک نے تمہارا ناک میں دم کررکھا ہے؟کیا تُم رُوح کی غیرموجودگی کے باعث اپنی زندگی میں خلا محسوس کرتے ہو؟کیا تُم خطاؤں کا بوجھ محسوس کرتے ہو اور آزمائشوں، مصیبتوں اور آفتوں کی وجہ سے پریشان ہو؟کیا تُم بدرُوحوں کی وجہ سے کانپ جاتے ہو؟کیا تمہیں مسیح کی دوبارہ آمد اور آپ کی پُر اطمئنان بادشاہی کے انتشار کا انتظار ہے؟آپ کی جان، رُوح اور بدن کو کون سے سوالات پریشان کر رہے ہیں؟کیا تُم اوپر ہی اوپر سے مظاہرہ کرتے ہو یا گہرائی تک جھانکتے ہو؟رجائیت پسند ہو یا قنوطی؟کیا تمہارے احساسات کو بہت جلد ٹھیس لگتی ہے؟کیا تُم اپنے خداوند سے پاک رُوح کی معموری کے لیے گزارش کرتے ہو؟

اپنا ہر مسلہ دعا کے ذریعہ پیش کرو۔اپنا دل اپنے آسمانی باپ کے لیے کھول دو۔دعا کرتے وقت بڑبڑاؤ نہیں بلکہ پہلے سے ہی سوچ لو کہ تمہیں دعا میں کیا کہنا ہے؟پہلے اُن نعمتوں اور صلاحیتوں کے بارے میں سوچو جو یسُوع نے شروع ہی سے تمہیں عنایت کی ہیں اور اُن کے لیے آپ کا شکر ادا کرو۔شکرگزاری ہمارے لیے شایانِ شان ہوتی ہے۔پھر اپنے گناہوں کا اقرار کرو کیونکہ ایمان کی کمی، سرد مہر محبّت اور خفیف امیّد، خدا کے حضور خطا گنے جاتے ہیں۔جن گناہوں کا تُم نے اقرار کیا ہے اُن کے لیے معافی چاہو اور خدا سے پوچھو کہ وہ آپ سے کیا چاہتا ہے تاکہ تُم نقصان دہ اشیاء طلب نہ کرو۔اس کے فضل کو طلب کرو اور اعتماد رکھو کہ خدا تمہاری دعا سُنے گا۔ یہ کبھی نہ بھولو کہ خدا محبّت ہے اور چاہتا ہے کہ دوسروں کو بھی برکت بخشے۔اپنے دوستوں اور دشمنوں کے لیے دعا مانگو کہ خدا اُنہیں اسی فضل کے ماتحت برکت دے جس کے ماتحت وہ تمہیں برکت دیتا ہے۔تُم ہی اکیلے مصیبت زدہ حاجتمند نہیں ہو۔ سب لوگوں کا یہی حشر ہے۔اپنے سوالات نہایت دلیری کے ساتھ براہِ راست مسیح کی خدمت میں پیش کرو اوردوسروں کی خاطر اپنے مسلوں اور التجاؤں کے گلے میں شکرگزاری اور گناہوں کے اعتراف سے بُنا ہُوا ہار پہناؤ۔تب تُم یسُوع کے نام میں سچّی دعا کرنے کا راز جان لوگے۔

حقیقی دعا ،التجاؤں، شکرگزاری اور عبادت کے ساتھ خدا کے ساتھ گفتگو کرنا ہوتا ہے۔ایسی گفتگو کے لیے زیادہ محنت کرنے کی یا کھنکھناتے ہُوئے اسلوبِ بیان کے استعمال کی ضرورت نہیں ہوتی۔جو کچھ تُم سوچتے ہو اسے نہایت آسان لفظوں میں پیش کرو گویا تُم اپنے والدین سے مخاطب ہو رہے ہو۔ہیکل میں جب ایک محصول لینے والے نے خفیف سی آواز میں دعا کی کہ "خدایا، مُجھ گنہگار ہر کرم کر،" تو وہ راستباز ٹھہرایا گیا۔جب مسیح نے لعزر کی جان بحالی کی خاطر مختصر سی دعا کی تو آسمانی باپ نے اُسے مرُدوں میں سے زندہ کیا۔صرف ایمان ہی کے باعث نجات ، مدد اور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ہمّت سے کام لو اور فضل، دلیری اور شکرگزاری کے ساتھ خدا سے دعا مانگو۔تُم اُس کے فرزند کہلاتے ہو،لہٰذا ایک طفل کی مانند خوشی سے بات چیت کرو اور اُس سے کچھ نہ چھپاؤ۔

مسیح تُم پر خوشی نچھاور کرنا چاہتے ہیں،تمہاری دعاؤں کے جواب میں نہیں بلکہ اس لیے کہ تمہیں خدا اور اُس کے بیٹے سے مخاطب ہونے کا حق ہے۔تمہارے لیے زیادہ اہم کیا ہے، نعمت یا اُس نعمت کا عنایت کرنے والا؟خدا تمہیں معموری بخشتا ہے لیکن یاد رکھو کہ وہ خود معمور ہے۔یسُوع چاہتے ہیں کہ ہماری خوشی پوری ہو۔جب ہمیں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یسُوع ہماری دعا کا جواب دیتے ہیں تو ہماری خوشی دوبالا ہو جاتی ہے،جب کہ ہم میں ایسی خوشی بہت کم پائی جاتی ہے۔ہماری دعاؤں کے طفیل سے یسُوع نے دوسروں کو برکت دی اور اُنہیں نجات بخشی۔ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہ ہوگی جب ہم یسُوع کو آسمان کےبادلوں میں آتے ہُوئے دیکھیں گے۔تب ہماری خوشی کو بیان نہ کیا جا سکے گا۔ کیا مسیح کی نہایت نظر فریب آمد تمہاری دعاؤں کا اہم موضوع ہوگی؟

دعا: آسمانی باپ، ہم تہِ دل سے تیرا شکر بجا لاتے ہیں کیونکہ تُو نے اپنے بیٹے کو ہمارا مُنجی بنا کر بھیجا۔ہماری دنیاوی فکروں کو بخش دے اور صلیب کی اہمیت سے واقف ہونے کے لیے ہماری مدد کر۔ہمیں پُر اثر دعا کرنے کی آزادی بخش تاکہ ہم تُجھ سے ایسی گفتگو کریں جیسے بچّے نہایت بے تکلُّفی سے اپنے والدین سے بات چیت کرتے ہیں۔ہمارے دشمنوں کو بھی بجات بخش جو گناہوں کے بوجھ کے نیچے دبے ہُوئے ہیں اور حماقت اور نفرت سے بھرے ہُوئے دلوں سے تلملا رہے ہیں۔اُنہیں اُن کے بندھن سے آزاد کر تاکہ وہ ہمارے ساتھ تیری موجودگی کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

سوال ۱۰۲۔ خدا باپ ،یسُوع کے نام میں ہماری دعاؤں کا جواب کیسے دیتا ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 08, 2012, at 02:04 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)