Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 084 (The new commandment)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ سوّم : رسُولوں کے حلقہ میں نُورچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۱: ۵۵۔۱۷: ۲۶)٠

ب : عشائے رباّنی کے بعد کے واقعات (یُوحنّا ۱۳: ۱۔۳۸)٠

۔۳ : کلیسیا کے لیے نیا حکم ( یُوحنّا ۱۳: ۳۳۔۳۵)٠


یُوحنّا ۱۳: ۳۳
۔۳۳ اے بچّو!میں اور تھوڑی دیر تمہارے ساتھ ہُوں۔تُم مُجھے ڈھُونڈوگے اور جیسا میں نے یہودیوں سے کہا کہ جہاں میں جاتا ہُوں، تُم نہیں آ سکتے۔ویسا ہی اب تُم سے بھی کہتا ہُوں۔

باپ نے رُوح میں جلال پانے کے بعد ،یسُوع ہمیں ہمارے ایمان کےٍمختلف پہلو اوربنیادی اصولوں کے متعلق ہدایات دیتے ہیں۔وہ اس وقت ہمارے ساتھ جسمانی طور پر نہیں ہیں لیکن آپ آسمان پر موجود ہیں۔مسیح کامرُدوں میں سے جی اُٹھنا دنیا کا نہایت اہم واقعہ ہے۔جو کوئی زندہ مسیح کو نہیں جانتا یا آپ پر ایمان نہیں لاتا وہ اندھا ہے اور گمراہ ہو چُکا ہے لیکن جو کوئی آپ کو دیکھتا ہے وہ جیے گا اور ابدی زندگی پائے گا۔

یسُوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ وہ کسی ایسی جگہ جائیں گے جہاں وہ نہیں آ سکتے۔ اس جگہ سے آپ کا مطلب کونسل کی عدالت نہ تھا، نہ ہی کھُلی قبر بلکہ آپ اپنے آسمانی صعود کے متعلق کہہ رہے تھے۔باپ نے کہا تھا: "تُو میرے دہنے ہاتھ بیٹھ، جب تک کہ میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ کردُوں"(مزمور ۱۱۰: ۱)۔ یسُوع فوراً اپنے پیروؤں کے سامنے سے غائب نہیں ہُوئے بلکہ آپ نے اُنہیں اپنی موت، دوبارہ جی اُٹھنے اور آسمان پر صعود فرمانے کے متعلق پہلے ہی سے اطلاع دی جہاں کوئی انسان خود اپنی کوششوں کے باعث داخل نہیں ہو سکتا۔آپ نے یہ باتیں یہودیوں کو بھی پہلے ہی بتا دی تھیں لیکن وہ اُنہیں سمجھ نہ پائے۔کیا شاگرد یہ باتیں اب آپ کی گرفتاری کے وقت سمجھ پائیں گے؟آپ نے اُنہیں باپ اور بیٹے کی عبادت میں شریک کیا تھا تاکہ وہ غم اور تاریک مستقبل میں ڈوب نہ جائیں۔کیا وہ آپ کی وفاشعاری پر یقین کریں گے کہ آپ اُنہیں ترک نہ کریں گے؟ اور یہ کہ اُن کا مشترکہ کارِ عظیم کبھی ناکام نہ ہوگا؟

یُوحنّا ۱۳: ۳۴۔۳۵
۔۳۴ میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہُوں کہ ایک دوسرے سے محبّت رکھو کہ جیسی میں نے تُم سے محبّت رکھی تُم بھی ایک دوسرے سے محبّت رکھو۔ ۳۵ اگر آپس میں محبّت رکھوگے تو اِس سے سب جانیں گے کہ تُم میرے شاگرد ہو۔

یسُوع جانتے تھے کہ آپ کے شاگرد آپ کو بخوبی سمجھ نہ پائیں گے کیونکہ اب تک پاک رُوح اُن پر اُنڈیلا نہ گیا تھا۔وہ اندھے تھے اور اعتقاد رکھنے کی قابلیت نہ رکھتے تھے، نہ ہی اُن میں محبّت کرنے کا شوق و ذوق تھا۔"خدا محبّت ہے اور جو محبّت میں قائم رہتا ہے وہ خدا میں قائم رہتا ہے اور خدا اُس میں" (۱ یُوحنّا ۴: ۱۶)۔ مقدّس تثلیث محبّت ہے۔مقدّس تثلیث کے تین اقانیم کے درمیان جو محبّت ہے وہ اتحاد پیدا کرتی ہے جو قائم رہتا ہے۔یسُوع چاہتے تھے کہ مقدّس تثلیث کے اس اصول کی نوعِ انساں میں تجسیم ہو اور یہ کہ تقدیس کا یہ منبع آپکے شاگردوں مین باقاعدہ قائم رہے۔ چنانچہ یسُوع نے اپنے شاگردوں کو نصیحت کی کہ آپ کی کلیسیا کے اراکین کے درمیان آپس میں محبّت ہو۔آپ نے پرانے عہدنامہ کے مطابق دس ممانعتیں جاری نہ کیں بلکہ صرف ایک حکم جاری کیا جس میں دوسرے سبھی ایزدی احکام سمائے ہُوئے تھے۔محبّت شریعت کی تکمیل ہے۔جہاں موسیٰ نے لوگوں کو منفی قواعد دِیے وہاں مسیح ہمیں قطعی طور پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہیں جس کی خود آپ نے مثال پیش کی تھی ۔محبّت کلیسیا کی زندگی کا جوہر ہے۔جہاں کلیسیا نے محبّت نہیں جتائی، وہ کلیسیا نہیں رہتی۔

محبّت مسیح کی ہستی کا راز ہے۔ایک چرواہے کی طرح گمراہ بھیڑوں پر آپ کو ترس آتا تھا اور آپ کھوئی ہُوئی بھیڑ پر رحم کرتے تھے۔آپ نے اپنے شاگردوں کو صبر اور خاموشی کے ساتھ برداشت کیا۔ مسیح نے محبّت کو اپنی بادشاہی کا منشور بنا دیا۔ جو محبّت کرتا ہے وہ یسُوع کے فضل میں قائم رہتا ہے۔لیکن جو نفرت کرتا ہے وہ شیطان کا ہوجاتا ہے۔محبّت مہربان ہوتی ہے اور پھولتی نہیں۔ وہ صابر ہوتی ہے اور دشمنوں کی بھی بھلائی چاہتی ہے۔ہمارے رسُولوں نے بھی اپنے خطوط میں کئی مرتبہ اس کی خوبیاں بیان کی ہیں۔ خدا کی محبّت لازوال ہے۔وہ اعلیٰ درجہ کا بندھن ہے۔

کلیسیا کے لیے اور کوئی علامت نہیں سوائے اس کے کہ محبّت کی خاطر قربانی دی جائے۔اگر ہم خدمت کے لیے اپنے آپ کو تربیت کریں تو ہم یسُوع کے شاگرد بن جاتے ہیں۔عملی محبّت کا مطلب ہم یسُوع کی ہدایت کی بدولت ہی جانتے ہیں۔ہم آپ کی معافی کے باعث جیتے ہیں اور خوشی سے دوسروں کو بھی معاف کرتے ہیں۔جب کلیسیا میں کوئی عظمت کا کوشاں نہیں ہوتا اور جب اراکین خوشی مناتے ہیں کیونکہ مسیح کی رُوح نے اُنہیں متّفق کیا ہے تب آسمان زمین پر اُتر آتا ہے اور ہمارا زندہ خداوند ،پاک رُوح سے معمور کلیسیائیں قائم کرتا ہے۔

سوال ۸۸۔ محبّت ہی مسیحیوں کی واحد پہچان کیوں ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 08, 2012, at 06:36 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)