Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 083 (The traitor exposed and disconcerted)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ سوّم : رسُولوں کے حلقہ میں نُورچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۱: ۵۵۔۱۷: ۲۶)٠

ب : عشائے رباّنی کے بعد کے واقعات (یُوحنّا ۱۳: ۱۔۳۸)٠

۔۲ : نمک حرام کا پردہ فاش ہُوا اور وہ مضطرب ہُوا ( یُوحنّا ۱۳: ۱۸۔۳۲)٠


یُوحنّا ۱۳: ۲۱۔۲۲
۔۲۱ یہ باتیں کہہ کر یسُوع اپنے دل میں گھبرایا اور یہ گواہی دی کہ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ تُم میں سے ایک شخص مُجھے پکڑوائے گا۔ ۲۲ شاگرد شُبہ کر کے کہ وہ کس کی نِسبت کہتا ہے، ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

یسُوع نے اپنے شاگردوں کوباہمی محبّت اور خدمت کے متعلق کچھ باتیں بتائیں۔آپ نے اُن کے سامنے فروتنی اور تحمُّل کی مثال پیش کی اور پیش گوئی کی کہ آپ کی بادشاہی کمزوری میں بھی چمکتی رہے گی تاکہ وہ جانیں کہ آپ خداوند ہیں جن کی بدولت موت کی گھڑی میں بھی واقعات وقوع میں آتے ہیں اور ہدایت پاتے ہیں۔اِس صفائی کے ایک حِصّہ کے طور پر آپ نے یہوداہ کی غدّاری کا پردہ فاش کیا اور اسے اپنا جرم کرنے دیا تاکہ وہ اپنی خفیہ سازش کے مطابق ہی نہیں بلکہ آسمان کی نگرانی کے ماتحت عمل کرے۔

یسُوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ اُن میں سے ایک نے آپ کو یہودیوں کی کونسل کے حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عید کی خوشیوں کے موقع پر یہ اعلان کوہِ آتش فشاں کے پھٹنے جیسا معلوم ہُوا۔ یسُوع نے اس حقیقت کا ناگہاں اعلان نہیں کیا بلکہ آپ خود بھی سخت رُوحانی کوفت محسوس کر رہے تھے، ٹھیک اُسی طرح جیسے آپ نے لعزر کی قبر پر محسوس کی تھی۔آپ کو غم خصوصاً اس خیال سے ہو رہا تھا کہ آپ کا باپ آپ کو ترک کرے گا۔یسُوع، یہوداہ سے محبّت کرتے تھے اور آپ ہی نے اُسے چُنا بھی تھا۔ یہ ناممکن سا معلوم ہوتا تھا کہ ایک چُنا ہُوا دوست خدا کے بیٹے کو پکڑوائے گا۔حالانکہ کتاب مقدّس میں زبور کی اِس آیت میں اس واقع کا ذکر کیا گیا ہے: "جو میری روٹی کھاتا تھا، (اُسی نے)مُجھ پر لات اُٹھائی ہے"(زبور ۴۱: ۹)۔

یہ سُن کر سبھی شاگرد ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے کہ "کہیں یہی وہ نمک حرام تو نہیں ہے؟"اُنہیں یقین نہ آتا تھا کہ کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ اُن میں ایک آپ کو پکڑوانے کا ارادہ رکھے؟ اُن میں سے ہر ایک کے دل میں یہ خیال آیا کہ جوں ہی یسُوع کی نفرت اور انکار بڑھتا جائے گا وہ آپ کا ساتھ چھوڑ دے گا۔اُنہوں نے یسُوع کے سامنے اپنی پردہ دری ہوتے ہُوئے محسوس کیا اور وہ شرمندہ تھے کیونکہ وہ یسُوع کی کھوجنے والی روشنی (سرچ لائٹ) کے سامنے اِس ایزدی امتحان میں ٹھہر نہ سکتے تھے۔

یُوحنّا ۱۴: ۲۳۔۳۰
۔۲۳ اُس کے شاگردوں میں سے ایک شخص جس سے یسُوع محبّت رکھتا تھا، یسُوع کے سینے کی طرف جھُکا ہُوا کھانا کھانے بیٹھا تھا۔ ۲۴ پس شمعون پطرس نے اُس سے اشارہ کرکے کہا کہ بتا تو وہ کس کی نسبت کہتا ہے؟ ۲۵ اُس نے اُسی طرح یسُوع کی چھاتی کا سہارا لے کر کہا کہ اے خداوند، وہ کون ہے؟ ۲۶ یسُوع نے جواب دیا کہ جسے میں نوالہ ڈبو کر دے دوُں گا، وہی ہے۔پھر اُس نے نوالہ ڈبویا اور لے کر شمعون اِسکریوتی کے بیٹے یہوداہ کو دے دیا۔ ۲۷ اور اِس نوالہ کے بعد شیطان اُس میں سما گیا۔پس یسُوع نے اُس سے کہا کہ جو کُچھ تُو کرتا ہے ، جلد کر لے۔ ۲۸ مگر جو کھانا کھانے بیٹھے تھے اُن میں سے کسی کو معلوم نہ ہُوا کہ اُس نے یہ اُس سے کس لیے کہا۔ ۲۹ چونکہ یہوداہ کے پاس تھیلی رہتی تھی اس لیے بعض نے سمجھا کہ یسُوع اس سے یہ کہتا ہے کہ جو کچھ ہمیں عید کے لیے درکار ہے ،خرید لے یا یہ کہ محتاجوں کو کچھ دے۔ ۳۰ پس وہ نوالہ لے کر فی الفور باہر چلا گیا اور رات کا وقت تھا۔

اس سورش کے درمیان جو عنقریب آپ کے پکڑے جانے سے رُونما ہونے والی تھی،ہم پُر محبّت ہمدردی کی بہترین گواہی پڑھتے ہیں۔یُوحنّا یسُوع کے بازو میں بیٹھے ہُوئے تھے۔ مُبشِّر یُوحنّا نے اپنی اِنجیل میں ایک بار بھی اپنا نام تحریر نہیں کیا لیکن وہ یسُوع سے اپنی قربت کا نہایت نمایاں طور پر ذکر کرتے ہیں جو محبّت کی علامت ہے۔یسُوع کی محبّت سے بڑھ کر اُن کے پاس کوئی خاص رعایت نہ تھی۔اس سِلسلہ میں وہ اپنا نام ظاہر نہیں کرتے بلکہ خدا کے بیٹے کی تمجید کرتے ہیں۔

پطرس ،یسُوع سے براہِ راست اُس نمک حرام کی شناخت دریافت کرنے سے شرما رہے تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ خاموش بھی نہ رہ سکتے تھے۔اُنہوں نے یُوحنّا کو اشارہ کیا کہ وہ آپ سے دریافت کرے کہ وہ پکڑنے والا کون ہے؟یُوحنّا یسُوع کی طرف جھُک گیے اور آپ سے پوچھا:"وہ کون ہے"؟

یسُوع نے اس سوال کا نہایت خاموشی کے ساتھ جواب دیا لیکن پکڑوانے والے کا نام نہیں بتایا۔البتّہ خاموشی سے اشارہ ضرور کیا۔اس وقت یسُوع اپنے پکڑوانے والے کا نام علانیہ طور پر ظاہر نہ کرنا چاہتے تھے۔ممکن تھا یہوداہ اپنا ارادہ بدل دیتا۔یسُوع نے فضل کی روٹی توڑی جو آپ کو اپنے شاگردوں سے پیوست رکھتی تھی اور وہ نوالہ پیالہ میں ڈُبا کر یہوداہ کو پیش کیا۔اس عمل کا مقصد شاگرد کو ابدی زندگی کے لیے تقویت دینا تھا۔لیکن چونکہ یہوداہ آپ کو پکڑوانے پر بضد تھا اِس لیے اُس پر اِس نوالہ کا کوئی اثر نہ ہُوا بلکہ اُس سے اُس کا دل اور سخت ہو گیا۔ اس کے دل کا دروازہ فضل کے لیے بند ہو چُکا تھا اور شیطان اُس میں داخل ہو گیا تھا۔یہ کیسا خوف ناک نظارہ تھا!اپنی شاہانہ مرضی سے یسُوع نے سخت دل یہوداہ کو اور سخت کر دیا۔جب یسُوع اُسے روٹی پیش کر رہے تھے تب شیطان اُس کے خیالات سے کھیل رہا تھا۔جوں ہی اُس نے روٹی لی، بدی اُس پر حاوی ہو گئی۔یسُوع نے اپنے پکڑوانے والے کو دی ہُوئی سزا کے باعث وہ ایزدی تحفُّظ سے محروم ہوگیا اور آپ نے اُسے شیطان کے حوالہ کر دیا۔

نوالہ لیتے وقت یہوداہ کو اچانک محسوس ہُوا کہ اُس کا راز فاش ہو چُکا ہے۔ پھر یسُوع کے شاہانہ حکم نے ایک اور ضرب لگا دی:"تیرے ناپاک منصوبہ پر عمل کرنے میں تاخیر نہ کر بلکہ اُسے فوراً پورا کر اور بدی کو اپنا منصوبہ پورا کرنے دے ورنہ بدی میں سے کہیں بھلائی نہ نکل آئے"۔

شاگرد، یسُوع نے یہوداہ کو جلدی کرنے کے لیے دئیے ہُوئے حکم کا مطلب سمجھ نہ پائے۔عام طور پر آپ اُسے اپنی جماعت کے لیے کھانا خریدنے کے لیے کہا کرتے تھے۔یُوحنّا ، یہوداہ کا وہ ہولناک چہرہ بھول نہ پائے جو یسُوع کی حاضری میں روشنی سے نکل کرباہر کی تاریکی میں چلا جا رہا تھا۔

یُوحنّا ۱۳: ۳۱۔۳۲
۔۳۱ جب وہ باہر چلا گیا تو یسُوع نے کہا کہ اب ابنِ آدم نے جلال پایا اور خدا نے اُس میں جلال پایا۔ ۳۲ اور خدا بھی اُسے اپنے میں جلال دے گا بلکہ اسے فی الفور جلال دے گا۔

اس غدّاری سے یسُوع جلالی کیسے بنے؟ برے کاموں سے اچھا پھل کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟

جب آپ کے چُنے ہُوئے شاگرد نے آپ کو ترک کیا تو یسُوع کو صدمہ ہُوا۔آپکو پکڑوانے والا کہیں لوَٹ نہ آئے، اِس خیال سے آپ نے اپنے چہرہ پر شکن نہ پڑنے دی۔مگریہوداہ جلدی سے یہودیوں کی کونسل کے پاس چلا گیا جنہوں نے سپاہیوں کو مسلح کیا تاکہ وہ رات ہی کو یسُوع کو گرفتار کرلیں۔

یسُوع نے یہوداہ کو آپ کے پکڑوانے کا انتظام کرنے کے لیے بھیجا اور اس طرح آپ نے سیاسی مسیح بننے کی شیطانی آزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔آپ نے خدا کے برّہ کے طور پر مرنا پسند کیا تاکہ نوعِ انساں کو حلیمی اور کمزوری کی حالت میں نجات دلاتے اور اس طرح اپنی موت کے ذریعہ اعلان کیا کہ محبّت کی قربانی آپ کے جلال کا جوہر ہے۔

یسُوع اپنی موت میں اپنی ذاتی عظمت و جلال کے خواہاں نہ تھے بلکہ اپنے باپ کو جلال بخشنا چاہتے تھے۔آپ کے باپ نے آپ کو دنیا میں اِس لیے بھیجا کہ آپ کھوئے ہُوؤں کو نجات بخشتے۔بیٹا گنہگار انسانوں میں اپنے باپ کی شبیہہ کی تجدید کرنا چاہتا تھا۔ اور اس تجدید کے لیے یسُوع نے باپ کو ظاہر کیا اور اُنہیں باپ کی پدرانہ فضیلت میں تربیت دی تاکہ وہ ایمان لائیں۔صرف تربیت ہی کافی نہیں ہوتی کیونکہ گناہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس نے خدا اور اُ س کی مخلوق کے درمیان دیوار حائل کردی ہے۔بیٹے کو اپنی جان دینی پڑی تاکہ یہ دیوار ٹُوٹ جائے جو ہمیں خدا سے جدا کرتی ہے اور راستبازی کے لیے ضروری شرائط پوری ہوں۔یسُوع کی موت باپ کے نام کو جلال پہنچانے کی کلید ہے۔اس موت کے بغیر باپ کے متعلق صحیح ادراک حاصل نہیں ہوسکتا۔نہ ہی کوئی شرعی طور سے متنبیٰ (لے پالک بیٹا) بن سکتا ہے اور نہ کسی کی حقیقی طور پرتجدید ہو سکتی ہے۔

جب یسُوع نے خود انکاری (نفس کُشی) کی تاکہ آپ کی موت سے باپ کو جلال ملے اس وقت آپ نے اعلان کیا کہ باپ بھی اپنا جلال آپ پر اُنڈیل دے گا۔ جس کی بدولت آپ تمام جلالی نعمتوں کے چشمہ بن جائیں گے۔آپ کی گرفتاری اور مصلوب ہونے سے قبل کی گھڑیوں میں ہی یسُوع نے خود اپنا عروج، صعود اور تخت نشینی دیکھ لی تھی۔مسیح کو اپنے جلال میں داخل ہونے کے لیے مرنا ضروری تھا۔

لوگ یسُوع کی اذیّت اور موت سے انکار کرتے ہیں یا اسے کمزوری کی علامت قرار دیتے ہیں وہ خدا کی مرضی کو صلیب میں متشکل ہوتے ہُوئے دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں اور خدا کےبیٹے کی تقدیس کو بھی سمجھ نہیں پائےجس نے قبر کو شِق کیا اوراپنا جلال ایزدی مذبح پر دکھا یا جہاں آپ سب کی بجائے جل مرے تاکہ جتنے لوگ آپ پر ایمان لائیں، راستباز ٹھہریں۔

دعا: اے باپ ، بیٹے اور پاک رُوح!ہم یسُوع کی معرفت ملنے والی نجات،آپ کی فروتنی اور آپ نے سہی ہُوئی اذیّت،آپ کی موت اور دوبارہ جی اُٹھنے کے لیے آپ کی تمجید کرتے ہیں۔ہم ایمان لاتے ہیں کہ مسیح کے خون کی بدولت ہم نے نجات پائی ہے۔ہم رُوح کی قدرت کے ماتحت تجھے جلال دیتے ہیں۔تُونے ہمیں مصیبت اور خطروں کے درمیان بچایا ہے۔تُوجو زندگی ہمیں عنایت کرتا ہے، وہ ابدی ہے۔ہم یقین کرتے ہیں کہ تیرا بیٹا بہت جلداپنے جاہ و جلال کے ساتھ پھر ظاہر ہوگا۔ آمین۔

سوال ۸۷۔ یہوداہ نے یسُوع کو الوداع کہنے کے بعد آپ نے جس جلال کا مظاہرہ کیا، اس کے کیا معانی ہیں؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 08, 2012, at 06:28 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)