Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 074 (The raising of Lazarus)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ج : یسُوع کی یروشلیم میں آخری آمد۔ (يوحنَّا ۷: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴) تاریکی اور نُور کی علحدگی٠

۔۴ : لعزر کا زندہ کیا جانا اور اُس کے نتائج ( یُوحنّا ۱۰: ۴۰۔۱۱: ۵۴)٠

ج : لعزر کا مرُدوں میں سےجی اُٹھنا (یُوحنّا ۱۱: ۳۴۔۴۴)٠


یُوحنّا ۱۱: ۳۸۔۴۰
۔۳۸ یسُوع پھر اپنے دل میں نہایت رنجیدہ ہوکر قبر پر آیا۔وہ ایک غار تھا اور اُس پر پتھر دھرا تھا۔ ۳۹ یسُوع نے کہا: "پتھر کو ہٹاؤ۔" اُس مرے ہُوئے شخص کی بہن ،مرتھا نے اُس سے کہا: "اے خداوند!اُس میں سے تو اب بدبُو آتی ہے کیونکہ اُسے چار دن ہو گئے۔" ۴۰ یسُوع نے اُس سے کہا:"کیا میں نے تُجھ سے کہا نہ تھا کہ اگر تُو ایمان لائے گی تو خدا کا جلال دیکھے گی؟

یروشلیم کے آس پاس کے لوگ کسی چٹان کو کھود کر قبر بنالیتے تھے اور اُس میں اپنے مرے ہُوئے لوگوں کو دفن کرکے سامنے کے تنگ شگاف پر ایک بڑا سا گول پتھر رکھ دیتے تھے۔چونکہ وہ پتھر دائرہ نما ہوتا تھا اس لیے اسے دائیں یا بائیں گھُمانا ممکن ہوتا تھا جس سے اس قبر کو حسبِ ضرورت کھولنا یا بند کرنا ممکن ہوتا تھا۔

اُنہوں نے لعزر کو ایسی ہی چٹان میں کھُدی ہُوئی قبر میں دفن کیا تھا۔ یسُوع قبر کے پاس پہنچے اور سب کے چہرہ پر موت کی دہشت دیکھی۔آپ نے موت میں خدا کا غضب سب گنہگاروں پر انڈیلا ہُوا دیکھا گویا خدا نے زندوں کو تباہ کرنے والے کے ہاتھ میں سونپ دیا ہو۔لیکن خالق زندوں کی موت نہیں چاہتا بلکہ اُن کی توبہ اور اُن کازندگی میں مُنقل ہونا چاہتا ہے۔

یسُوع نے اُس پتھر کو جو قبر کے مُنہ پر تھا،ہٹانے کو کہا۔اِس سےلوگوں کے دلوں کو سخت صدمہ پہنچا کیونکہ(شریعت کے مطابق) میّت کو چھُونے سے انسان چند دنوں کے لیے ناپاک ہو جاتا تھا۔چار دن قبر میں رہنے کے بعد بدن کےسڑنے کا بھی امکان تھا۔ مرتھا نے اعتراض کیا اور کہا:"خداوند، میّت کے آرام میں خلل انداز ہونے کی ضرورت نہیں ہےکیونکہ اب اُس میں سے بدبو آنے لگی ہے۔" یسُوع نے اُس سے کہا:"مرتھا! تیرا ایمان کہاں گیا؟ ابھی ابھی تُو نے اقرار کیا تھا کہ یسُوع خدا کا بیٹا اور مسیح ہے جو مرُدوں کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔" موت کی حقیقت اور قبر کے نقشہ نے اس کی آنکھوں کو دھُندلا کر دیا تھا اور وہ نہ جانتی تھی کہ اُس کا خداوند کیا چاہتا تھا۔

حال آپ نے انسان کی صلاحتوں سے بڑھکراس کے ایمان کو تقویت دی اور اُس کے یقین کو اُبھارا۔آپ نے مکمل اعتماد طلب کیا جس کے بغیر خدا کا جلال دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔یسُوع نے یہ نہیں کہا:"یقین کر اور تُو مجھے ایک عظیم معجزہ کرتے ہُوئے دیکھ سکے گی۔"اس سے پہلے آپ نے اپنے شاگردوں سے کہا تھا کہ لعزر کی علالت موت کے لیے نہیں بلکہ خدا کا جلال ظاہر کرنے کے لیے ہے (یُوحنّا کی اِنجیل ۱۱: ۴)۔یسُوع جانتے تھے کہ خدا کی مرضی پوری کرنے میں آپ کو کیا کرنا ہے۔آپ نے مرتھا کا دھیان موت کی حقیقت سے خدا کے جلال کی طرف مبذول کرنے کی کوشش کی جو ایمان کی خاطر ظاہر ہونا تھا۔آپ کا ارادہ خوداپنا اعزاز و احترام نہیں بلکہ اپنے باپ کی عظمت اور جلال ظاہر کرنا تھا۔

اسی طرح مسیح آپ سے بھی کہتے ہیں:"اگر آپ ایمان لاؤ تو آپ خدا کا جلال دیکھوگے۔"اپنی آنکھیں اپنے مسلوں اور آزمائشوں سے ہٹائیے۔ اپنی خطاؤں اور علالتوں کے خیالات کو دل میں بسنے نہ دیجیے بلکہ یسُوع کی طرف دیکھیے، آپ کی حُضوری پر یقین کیجیے اور جس طرح ایک بچّہ اپنی ماں سے لپٹ جاتا ہے ،ٹھیک ویسے ہی آپ کے مطیع بن جائیے۔آپ کی مرضی پُوری ہوجانے دیجیے کیونکہ یسُوع آپ سے محبّت کرتے ہیں۔

یُوحنّا ۱۱: ۴۱۔۴۲
۔۴۱ پس اُنہوں نے اُس پتھر کو ہٹا دیا۔پھر یسُوع نے آنکھیں اُٹھا کر کہا: "اے باپ، میں تیرا شکر کرتا ہُوں کہ تُو نے میری سُن لی۔ ۴۲ اور مجھے تو معلوم تھا کہ تُو ہمیشہ میری سُنتا ہے مگر ان لوگوں کے باعث جو آس پاس کھڑے ہیں، میں نے یہ کہا تاکہ وہ ایمان لائیں کہ تُو ہی نے مجھے بھیجا ہے۔

مرتھا کو یسُوع کے کلام پر یقین تھا اور اس کا ایمان آپ کے حکم سے ہم آہنگ ہُوا۔ لہٰذا اُس نے وہاں جو لوگ موجود تھے اُنہیں پتھر ہٹانے کو کہا۔ بھیڑ میں تناؤ پیدا ہُوا۔کیا یسُوع قبر میں داخل ہوکر اپنے محبوب کی لاش کو سینے سے لگائیں گے یا کچھ اور کریں گے؟

لیکن یسُوع اطمئنان کے ساتھ قبر کے سامنے کھڑے رہے اور دعا میں اپنی آنکھیں اوپر اُٹھائیں اور لوگوں کو سنائی دے ایسی بلندآواز میں دعا کی۔ یہاں ہم یسُوع کی قلمبند کی ہُوئی دعاؤں میں سے ایک دعا پاتے ہیں۔ آپ نے خدا کو باپ کہہ کر مخاطب کیا اور اُس کا شکر بجا لایا کیونکہ آپ کی ساری زندگی خدا کی ابّووت کی تقدیس اور توصیف میں گزری تھی۔آپ نے لعزر کے جِلائے جانے سے پہلے ہی صاٖف الفاظ میں اپنی دعا کا جواب دینے کے لیے خدا کا شکر ادا کیا۔جہاں دوسرے لوگ رو رہے تھے،وہاں یسُوع دعا کر رہے تھے۔ آپ نے اپنے باپ سے درخواست کی کہ وہ آپ کے دوست کو دوبارہ زندہ کرے جو ایزدی زندگی کی نشانی تھی جو موت پر غالب آتی ہے۔باپ راضی ہُوا اور آپ کو اختیار بخشا کہ موت کے تشدّد کے مارے کی جان بچائیں۔یسُوع کو یقین تھا کہ آپ کی دعا سُنی جائے گی کیونکہ آپ مسلسل اپنے باپ کی آواز سُنا کرتے تھے۔اپنی زندگی کے ہر موڑ پر یسُوع دعا کرتے رہے لیکن یہاں آپ نے بلند آواز میں دعا کی تاکہ لوگ وہ راز جانیں جو وہاں عمل پذیر ہونے جا رہا تھا۔آپ نے اپنے باپ کا شکر ادا کیا کیونکہ وہ ہمیشہ آپ کی دعا کا جواب دیا کرتا تھا۔کوئی گناہ اُنہیں جدا نہ کرتا تھا، نہ کوئی رُکاوٹ اُن کے درمیان حائل ہُوا کرتی تھی۔بیٹا اپنی مرضی پر بضد نہ رہتا تھا نہ ہی اپنے لیے احترام طلب کرتا تھا اور نہ آپ قدرت اور طاقت چاہتے تھے۔باپ کی معموری بیٹے کے اندر کام کرتی تھی۔خدا کی پدرانہ مرضی نے لعزر کو مرُدوں میں سےجِلا دیا۔ اِن سب باتوں کا یسُوع نے بھیڑ کے سامنے اقرار کیا تاکہ وہ جانیں کہ باپ نے بیٹے کو اُن کے پاس بھیجا ہے۔ لہٰذا لعزر کا زندہ کیا جانا باپ کے لیے جلال کا باعث بنا جو کہ مقدّس تثلیث کے اتّحاد کی معجزانہ علامت تھی۔

یُوحنّا ۱۱: ۴۳۔۴۴
۔۴۳ اور یہ کہہ کر اُس نے بلند آواز سے پکارا کہ اے لعزر، نکل آ۔ ۴۴ جو مر گیا تھا وہ کفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہُوئے نکل آیا اور اُس کا چہرہ رومال سے لِپٹا ہُوا تھا۔ یسُوع نے اُن سے کہا:"اُسے کھول کر جانے دو۔

خدا کی تمجید کرنے کے بعدجوں ہی یسُوع نے زور سے پکارا:" لعزر باہرنکل آ،" تب اُس مرے ہُوئے آدمی نے سُنا(حالانکہ مرُدے عام طور پر کچھ نہیں سُن پاتے)۔انسان کی شخصیت مرنے پر فنا نہیں ہوتی۔آسمان پر(بہشت میں) ایمان لائے ہُوئے لوگوں کے نام لکھے ہُوئے ہیں۔خالق کا بُلاوا،مُنجی کی آواز اور زندگی بخشنے والے رُوح کی ترغیب موت کی نچلی سطحوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ٹھیک اُسی طرح جیسےابتدا میں پاک رُوح تاریکی میں جنبش کرتا تھا تاکہ فضائے لا محدود میں نظامِ کائنات پیدا کرے۔

لعزر یسُوع کی آواز سُن کر اُس کی اطاعت کیا کرتا تھا۔ قبر میں بھی اُس نے آپ کی آواز سُنی اور ایمان کی بدولت اطاعت کی۔مسیح کی زندگی کا اُصول اُس میں سرایت کر گیا، اُس کا دل دھڑکنے لگا، اُس کی آنکھیں کھُل گئیں اور اُس کے ہاتھ پاؤں ہلنے لگے۔

اس کے بعد اس معجزہ کا دوسرا دور شروع ہُوا کیونکہ لعزر پٹّیوں میں لپٹ کر مضبوطی سے کسا ہُوا تھا۔اِس مرے ہُوئے آدمی کی حالت ویسی ہی تھی جیسی پر نکلنے سے پہلے تتلی یا کیڑے کی حالت خول کے اندر ہُوا کرتی ہے۔لعزر کو کچھ بھی محسوس نہ ہو رہا تھا۔وہ اپنے مُنہ پر لِپٹا ہُوا رومال بھی ہٹانہ سکتا تھا کیونکہ وہ اپنے بندھے ہُوئے ہاتھ ہلا نہ پاتا تھا۔چنانچہ یسُوع نے اُنہیں کھولنے کا حکم دیا۔

سب لوگ لعزر کا پھیکا چہرہ دیکھ کر حیرت زدہ ہُوئے اور وہ اپنی پٹّیوں کے باوجود حرکت کر رہا تھا۔ جیسے ہی وہ یسُوع کی جانب بڑھا سب لوگ اسے ٹکٹکی لگا کر دیکھنے لگے۔

لعزر بھیڑ میں سے ہوتے ہُوئے اپنے گھر کی جانب چل پڑا۔ وہاں موجود لوگوں کا یسُوع کے آگے سرنگوں ہوکر آپ کی تعظیم کرنے کے متعلق ، نہ ہی خوشی کے آنسو بہانے کے متعلق یا آپس میں گلے لگنے کے متعلق، مُبشِّر یُوحنّا،ہمیں کچھ نہیں بتاتے۔نہ ہی اِس مردہ کے جِلائے جانے کا موازنہ یسُوع کی دوسری آمد پر معتقدوں کی قیامت اور اُن کے بادلوں میں اُٹھائے جانے اور ہوا میں خداوند کا استقبال کرنے سے کیا ہے۔یہ سب ثانوی اہمیت رکھتا ہے۔یُوحنّا ہماری آنکھوں کے سامنے یسُوع کا ،زندگی بخشنے والے کے طور پر نقشہ کھینچتے ہیں تاکہ ہم ایمان لائیں اور ابدی زندگی پائیں۔مُبشِّر یُوحنّا بھڑک میں موجود تھے۔اپنے ایمان کے باعث اُنہوں نے بیٹے میں خدا کا جلال دیکھا کیونکہ اُنہوں نے یسُوع کی آواز سُنی تھی اورآپ کی قدرت کے آگے سرِ تسلیم خم کیا تھا۔کیا آپ یسُوع پرایمان لاکر مرُدوں میں سے جی اُٹھے ہو؟

دعا: پیارے خداوند یسُوع!اپنے باپ کے نام میں لعزر کو مرُدوں میں سے زندہ کر نے کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔آپ بھی مرُدوں میں سے جی اُٹھے تھے۔ ہم مشکور ہیں کہ آپ کی زندگی ہم میں ہے۔ایمان ہی کی بدولت ہم آپ کے ساتھ جی اُٹھے ہیں۔ہم آپ سے استدعا کرتے ہیں کہ ہماری قوم کے مرے ہُوئے لوگوں کو دوبار زندہ کیجیے تاکہ بے اعتقاد لوگ آپ پر ایمان لائیں اور آپ کے ساتھ متّحِد ہوکر ابدی زندگی پائیں۔

سوال ۷۸۔ لعزر کے مرُدوں میں سے جی اُٹھنے میں خدا کا جلال کیسے ظاہر ہُوا؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 07, 2012, at 03:31 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)