Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 039 (The reason for unbelief)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

الف : یروشلیم میں دوبارہ تشریف آوری ﴿یسُوع اور یہودیوں کے درمیان عداوت کی ابتدا﴾ ۔ (یُوحنّا ۵ : ۱۔۴۷)٠

۔۵۔ ایمان نہ لانے کی وجہ (یُوحنّا ۵: ۴۱۔۴۷)٠


یُوحناّ ۵: ۴۱۔۴۴
۔۴۱ میں آدمیوں سے عزّت نہیں چاہتا۔ ۴۲ لیکن میں تُم کو جانتا ہُوں کہ تُم میں خدا کی محبّت نہیں۔ ۴۳ میں اپنے باپ کے نام سے آیا ہُوں اور تُم مُجھے قبول نہیں کرتے۔ اگر کوئی اور اپنے ہی نام سے آئے تو اُسے قبول کر لوگے۔ ۴۴ تُم جو ایک دوسرے سے عزّت چاہتے ہو اور وہ عزّت جو خدائی واحد کی طرف سے ہوتی ہے، نہیں چاہتے، کیونکر ایمان لا سکتے ہو؟

یسُوع نے اپنے دشمنوں کے زرہ بکتر کو چکنا چُور کر دیا اور اُنہیں اُن کے دل کی کیفیت اور اُن کے مستقبل کا حشربتا دیا۔مزید یہ کہ آپ نے اُن کے ناپاک ارادوں، کمینہ پن اور شرمناک چال چلن کو بھی واضح کردیا۔

آپ لوگوں کی یا اُن کے لیڈروں کی تعریف وتوصیف کے محتاج نہ تھے کیونکہ آپ کو اپنے مِشن پر یقین تھا۔وہ یقین آپ کی خدمت کے نمایاں نتائج پر بھی منحصر نہ تھا اور اگر آپ کی عزّت بھی کی جاتی تو آپ وہ اعزازاپنے باپ کی نذر کر دیتے تھے۔آپ نے ہمیں سکھایا کہ ہم سب سے پہلےاپنے آسمانی باپ سے دعا کریں نہ کہ خود آپ سے اور مسیحیوں کو یہ بھی سکھایا کہ وہ آسمانی باپ سے اِس طرح مخاطب ہوں: "اے ہمارے باپ، تُو جو آسمان پر ہے، تیرا نام پاک مانا جائے۔تیری بادشاہی آئے اور تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے،زمین پر بھی ہو۔"یسُوع نےخُود اپنے لیے کسی قسم کا اعزاز یا جلال حاصل کرنا پسند نہ کیا۔اپنے باپ کا جلال آپ کا مدّعا رہا اور خدا کے حقوق کے حصول کی غیرت ،آپ کو کھا گئی۔

تخلیق، نجات اور کمالیت کے لیے خدا کی محبّت ہی مشتعل کرتی ہے۔یہی مقدّس تثلیث کا اصل جوہر ہے۔شریعت کی تکمیل اور کمالیت کے بندھن اسی محبّت کےا وصاف ہیں۔جس کسی میں یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں وہ اپنے لیے نہیں جیتا اور نہ ہی اپنی عزّت چاہتا ہے بلکہ دوسروں کی عزّت کرتا ہے اور خود اپنی نفس کشُی کرکے، اُن کی خدمت کرتا ہے۔وہ اپنی ساری پُونجی غریبوں کو دیتا ہے کیونکہ محبّت لازوال ہے۔

کوئی آدمی خود بخودخدا سے محبّت نہیں کرتا لیکن جو شخص گناہ کی گندگی سے آزردہ خاطر ہوتا ہے، توبہ کرتا ہے اور مسیح میں خدا کی محبّت کا یقین کرتا ہے۔وہ پَولُس رسُول کی طرح اقرار کرتا ہے کہ ہمارے دلوں میں خدا کی محبّت ، ہمیں بخشے ہُوئے پاک رُوح کے ذریعہ اُنڈیل دی گئی ہے۔یہ محبّت، قربانی، حلیمی اور صبر کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہے۔جو کوئی خدا کے رُوح کے لیے اپنا دل کھول دیتا ہے وہ مقدّس تثلیث سے اور سب لوگوں سے محبّت کرپاتا ہے۔لیکن جو شخص اپنے آپ کو نیک سمجھ کرشیخی بگھارتا ہے وہ صحیح معنوں میں نادم و شرمسار نہیں ہوتا بلکہ خدا کے رُوح کی مخالفت کرتا ہے۔وہ خود غرض ہوتا ہے اور تجدید کا مُتمنّی نہیں ہوتا اور نہ اُسےاس بات کا احساس ہوتا ہےکہ اُسے خود اپنے لیے مُنجّی کی ضرورت ہے،بلکہ وہ اپنا دل سخت کر لیتا ہے۔مسیح كسی اجنبی یا نامعلوم دیوتا كے نام سے تشریف نہ لائے بلکہ اپنے باپ کے نام سے آئے تاکہ خدا کی محبّت اور شفقّت ظاہر کریں۔وہ سب لوگ جو مسیح کو قبول نہیں کرتے، یہ ثابت کرتے ہںن کہ اُن کے دماغ خدا کی محبّت کے لیے بند ہو چُکے ہیں کیونکہ وہ نُور سے زیادہ تاریکی سے محبّت کرتے ہیں اور اِس طرح اُن لوگوں سے نفرت کرتے ہیں جو نُور سے پیدا ہوتے ہیں۔

مسیح نے اپنے دشمنوں کو خلافِ مسیح کی آمد سے آگاہ کیا جو سب خُود غرض اور خود پسند لوگوں کو اکٹھّا کرکے اُنہیں خدا کی محبّت کے خلاف بغاوت کرنے کےلیے اُبھارنے والا ہے۔وہ معجزے دکھائے گا اور مسیح کی تقلید کرے گا۔

کئی لوگ خلوص سےتوبہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی خوشامدکرنے کو ترجیح دیں گے اور ایمان نہ لاسکیں گے۔وہ خود کو نیک، زورآور اور ہوشیار سمجھتے ہیں! وہ خدا ئی قدّوس کے حُضور خوفزدہ نہیں ہوتے اور نہیں جانتے کہ صرف وہی نیک ہے۔خود ساز راستبازی (اتقا فروشی)، ایمان نہ لانے کی وجہ ہوتی ہے اور گھمنڈ اِس غلط رویّہ کی علامت ہے۔

جو شخص خدا کوجانتا ہے اور اپنی جان سے واقف ہوتا ہے وہ شکستہ دل ہو کر اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہےاورخود اپنے لیےٍ کوئی اعزاز و احترام قبول نیںح کرتا بلکہ ہمیشہ آسمانی باپ اور بیٹے کی تعظیم کرتا ہے ۔وہ نجات بخش فضل کی بڑائی کرتا ہے۔ معافی پائے ہُوئے گنہگار ہونے کا احساس ہمیں اپنے رویّہ میں پائی جانے والی خود بینی سے آزاد کرتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں اور خدا کون ہے؟محبّت ،دوست سے سچ بات کہنے پر مجبور کرتی ہے، لیکن مغرور اپنے آپ کو اور دوسروں کو دھوکا دیتا ہے اور اِس طرح سے وہ خدا کے رُوح سے الگ ہوجاتا ہے جودراصل ہمیں فروتن بنا دیتا ہے۔

یُوحناّ ۵: ۴۵۔۴۷
۔۴۵ یہ نہ سمجھو کہ میں باپ سے تمہاری شکایت کروں گا۔ تمہاری شکایت کرنے والا تو ہے یعنی موسیٰ جس پر تُم نے اُمیّد لگا رکھی ہے۔ ۴٦ کیونکہ اگر تُم موسٰی کا یقین کرتے تو میرا بھی یقین کرتے، اِس لیے کہ اُس نے میرے حق میں لکھا ہے۔ ۴۷ لیکن جب تُم اُس کے نوشتوں کا یقین نہیں کرتے تو میری باتوں کا کیونکر کروگے؟

مسیح، شرع کے عالموں کا گھمنڈ اُتارنے کے لیے ایک قدم اور بڑھاتے ہُوئے کہتے ہیں: "میں خدا کے سامنے تُم پر الزام نہ لگاؤں گا بلکہ موسیٰ خود تمہیں گنہگار قرار دیں گے۔ اُنہوں نے تُمہیں عہد کی شریعت دی جو تمہیں گنہگار قرار دیتی ہے۔تُم محبّت سے خالی ہو اور مجھے شر یعت کے نام پرقتل کرنا چاہتے ہو ۔ خدا کو ترک کرکے تُم تاریکی میں بھٹک رہے ہو۔میں نے ایک آدمی کو سبّت کے دِن شفا بخشی اور تُم خدا کے کام سے ناخوش ہُوئے، بلکہ تُم مُجھ سے نفرت کرتے ہو،حالانکہ میں خدا کی محبّت کی تجسیم ہُوں۔تُم یہ ماننے سے انکار کرتے ہو کہ یہ مسیح کے کام ہیں: تمہاری رُوح باغی اور ستن ہے۔ خدا نے زندگی پانے کے لیے تمہیں شریعت دی، مرنے کے لیے نہیں۔اگر تُم توبہ کرتے تو مُنجّی کی تمنّا کرتے۔توریت اور نبیوں کے صحیفے آنے والے کا پیش خیمہ ہیں۔تُم نے شریعت کے مقصد کو توڑ مروڑ کے رکھ دیا اور اور اپنی مرضی سے خدا کے احکام کا غلط مطلب نکالا۔ تُم پیش گوئی کو سمجھ نہیں سکتے۔ تمہاری بد رُوحیں تمہیں سچّائی جاننے سے محروم رکھتی ہیں، لہٰذا تُم ، خدا کے رُوح سے منحرف ہوکر انجان اور بہرے بنے رہوگے۔تُم اپنی ضِد کے باعث زندگی کے کلام پر ایمان نہیں لاتے"۔

سوال ۴۳۔ یسُوع نے دوسرے لوگوں کی طرح خود اپنے لیے تعظیم و تکریم کیوں قبول نہ کی؟


سوالات ۔ حِصّہ دوّم

عزیز ناظرین!۔

اگرآپ ہمیں اِن ۱۹ میں سے ۱۷ سوالات کے صحیح جوابات لِکھ کربھیجیں تو ہم آپ کواس سلسلہ کا بقیہ حصّہ بھیج دیں گے۔

۔۲۵۔ یسُوع نے ہیکل میں جاکر تاجروں کو باہر کیوں نکال دیا؟    
۔۲٦۔ نِیکودیمُس کی پارسائی اور مسیح کی مقاصد میں کیا فرق ہے؟    
۔۲۷۔ ایمان لائے ہُوئے لوگوں میں از سرِ نَو پیدایش کی علامتیں کیا ہیں؟    
۔۲۸۔ مسیح اور بیابان کے سانپ میں کیا مشابہت ہے؟    
۔۲۹۔ مسیح پر ایمان لانے والے لوگوں پر سزا کا حکم کیوں عائد نہ ہوگا؟    
۔۳۰۔ مسیح کن معنوں میں دُلہا ٹھہرے؟    
۔۳۱۔ ہم ابدی زندگی کس طرح حاصل کرتے ہیں؟    
۔۳۲۔ یسُوع ہمیں کونسی نعمت عنایت کرتے ہیں؟اسکی خصوصیات کیاہیں؟    
۔۳۳۔ حقیق عبادت میں مزاحمت کیسے ہوتی ہے؟حقیقی عبادت کیسے کی جاتی ہے؟    
۔۳۴۔ ہم زندگی کے پانی سےکیسے سیراب ہو سکتے ہیں؟    
۔۳۵۔ ہم کس طرح یسُوع کے(فصل کاٹنے والے) کارآمد خادم بن سکتے ہیں؟    
۔۳٦۔ اپنےایمان کی مظبوطی کی خاطر اُس افسر کو کن مرحلوں سےگزرنا پڑا؟    
۔۳۷۔ یسُوع نے بَیت حسدا کے حوض پر اُس اپاہج کو کس طرح شفا بخشی؟    
۔۳۸۔ یہودی یسُوع کو کیوں ستانے لگے؟    
۔۳۹۔ خدا اپنے بیٹے کے ساتھ کس طرح اور کیوں کام کرتا ہے؟    
۔۴۰۔ وہ کون سی دو اہم ذمّہ داریاں ہیں جن کی تکمیل خدا نے مسیح کے سپرد کردی ہے؟    
۔۴۱۔ یسُوع کی وضاحت کے مطابق باپ اور بیٹے میں کیسا تعلق ہے؟    
۔۴۲۔ وہ چار گواہ کون ہیں اور وہ کس کے متعلق گواہی دے رہے ہیں؟    
۔۴۳۔ یسُوع نے دوسرے لوگوں کی طرح خود اپنے لیے تعظیم و تکریم کیوں قبول نہ کی؟    

اپنا نام اور پتہ خوش خط لکھ کر اپنے جوابات کے ساتھ اس پتہ پر بھیجیں:۔

Waters of Life
P.O.Box 600 513
70305 Stuttgart
Germany

Internet: www.waters-of-life.net
Internet: www.waters-of-life.org
e-mail: info@waters-of-life.net

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:31 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)