Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- John - 129 (Future predictions)

This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ چہارم : نُور تاریکی پرچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۸: ۱۔۲۱: ۲۵)٠

ب : یسُوع کا مرُدوں میں سے جی اُٹھنا اور لوگوں پر ظاہر ہونا (یُوحنّا ۲۰: ۱۔۲۱: ۲۵)٠

۔۵ : یسُوع کا جھیل کے کنارے ظاہر ہونا (یُوحنّا ۲۱: ۱۔۲۵)٠

ج : مستقبل کے متعلق یسُوع کی پیش گوئیاں ( یُوحنّا ۲۱: ۲۰۔۲۳)٠


یُوحنّا ۲۱: ۲۰۔۲۲
۔۲۰ پطرس نے مڑ کر اُس شاگرد کو پیچھے آتے دیکھا جس سے یسُوع محبّت رکھتا تھا اور جس نے شام کے کھانے کے وقت اُس کے سینہ کا سہارا لے کر پُوچھا تھا کہ اے خداوند تیرا پکڑوانے والا کون ہے؟ ۲۱ پطرس نے اُسے دیکھ کر یسُوع سے کہا، اے خداوند! اِس کا کیا حال ہوگا؟ ۲۲ یسُوع نے اُس سے کہا: اگر میں چاہوں کہ یہ میرے آنے تک ٹھہرا رہے تو تُجھ کو کیا؟ تُو میرے پیچھے ہو لے۔

پطرس نے اپنے آقا کی بھیڑوں کی گلّہ بانی کرنے کے باووے پر دھیان دیا۔چونکہ یُوحنّا سب شاگردوں میں سب سے کم عمر کے تھے اس لیے پطرس کو اُن کے حق میں یسُوع کا ارادہ جاننے کی تشویش ہُوئی۔کیا آپ اُن کی جوانی کے باعث اُنہیں گھر روانہ کریں گے یا اُن کا اس مجادلہ میں نائب کے طور پر تقرُّر کریں گے؟ممکن ہے کہ پطرس کے الفاظ میں رشک کی جھلک ہو کیونکہ یسُوع یُوحنّا کو دوسرے شاگردوں پر ترجیح دیا کرتے تھے اور اُن کے مقابلہ میں زیادہ پیار بھی کرتے تھے۔رات کےآخری کھانے کے موقع پر پطرس نے یُوحنّا کو اشارہ کیا تھا کہ وہ وہاں کے پریشان ماحول میں سکون لانے کے لیے یسُوع سے اپنے پکڑوانے والے کا نام پُوچھ لیں۔

یُوحنّا ،مسیح کے اس قدر قریب آ چُکے تھے کہ آپ کے دشمنوں کے سامنے اپنی جان خطرہ میں ڈال کر وہ صلیب کے پاس کھڑے رہے۔ خداوند کے دوبارہ جی اُٹھنے پر ایمان لانے والے وہ پہلے شخص تھے۔اسی طرح مچھلیاں پکڑتے وقت جھیل کے کنارے کھڑے شخص کو پہچاننے والے پہلے شخص بھی یُوحنّا ہی تھے۔پطرس کو پیروی کے لیے بلائے جانے سے پہلے سے ہی یُوحنّا آپ کے پیرو ہو چُکے تھے۔اُن کا دل مسیح سے پیوست ہو چُکا تھا۔سبھی شاگردوں میں یُوحنّا ہی کا خداوند سے نہایت گہرا تعلق تھا۔

ممکن ہے کہ پطرس نے یسُوع سے پُوچھا ہو کہ کیا یُوحنّا بھی مستقبل میں ایسی ہی اذیّت اُٹھائیں گے جس کی پیش گوئی اُن کے حق میں کی گئی ہے یا یہ اعزاز و اِمتیاز صرف اُن ہی کے حق میں ہے؟ یسُوع نے رسُولِ خصوصی کو جواب دیا کہ اُنہیں دوسروں پر حکم چلانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے ہمسروں میں بھائی کے طور پر مقرّر کیا گیا ہے۔یُوحنّا کے مستقبل سے اُنہیں کوئی سروکار نہ ہونا چاہیے کیونکہ اُن کا اُن کے خداوند سے براہِ راست رابطہ قائم تھا لیکن پطرس رسُولوں کے نائب تھے۔یُوحنّا، دعاؤں اور صبر کے ساتھ کلیسیا میں آئی ہُوئی اعتقادی تجدید کی حمایت کرتے ہُوئے اور دعا کی قوّت سے اس تجدید کو متاثر کرتے ہُوئے،خاموش رہے (اعمال ۳: ۱؛ ۸: ۱۴؛ گلتیوں ۲: ۹)۔

یسُوع نے یُوحنّا کا جس خدمت کے لیے پہلے سے تقرّر کیا تھا اس سےیہ ظاہر ہوتاہے کہ یہ اہم نہیں کہ ہم طویل عرصہ تک مسیح کی خدمت کرتے رہیں یا آپ کی خاطر جلد مر جائیں۔آپ کی جانب ہماری وفاداری اور مستقل اطاعت زیادہ اہم ہیں۔یسُوع اپنے پیروؤں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے گویا وہ سب ایک ہی ڈھانچہ میں بنے ہُوئے ہوں بلکہ آپ اپنے آقا کا جلال ظاہر کرنے کے لیے ہر ایک کے لیے خصوصی راہ تیار کرتے ہیں ۔ یُوحنّا کی مَوت کے متعلق ہمیں کوئی علم نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ وہ قدرتی مَوت مرے ہوں۔

یسُوع پطرس کو حکم دیتے ہیں کہ وہ صرف اپنا خیال رکھیں اور دوسرے شاگردوں کے معاملہ میں دخل نہ دیں۔ اس کا مطلب یہ ہُوا کہ ہم دوسرے مسیحیوں کے پیشوں سے پریشان نہ ہوں بلکہ خود اپنی زندگی میں خدا کی مرضی جاننے کی کوشش کریں اور فوراً قطعی طور پر اس کی پیروی کریں۔وفاداری سے پیروی کرنا ہی ہر مسیحی کا نصبُ العین ہے۔

آپ نے اپنے شاگردوں سے اپنے دوبارہ آنے کے متعلق بھی بات کی۔وہ آمداِس دنیا کی تاریخ کا اصل مقصد ہے۔سبھی شاگردوں کے خیالات مستقبل کے اس واقعہ کی طرف مبذول ہو گیے تھے۔لوگوں کے بیچ میں خدا کی موجودگی سے سب نسلوں کی تمنّائیں پوری ہو جائیں گی۔یسُوع بڑی شان و شوکت کے ساتھ آئیں گے۔کیا تُم آپ کی آمد کے منتظر ہو اور دعاؤں، خدمت،پاک گیتوں اور اپنی مقدّس گواہی کے ذریعہ آپ کی آمد کے لیے تیاری کر رہے ہو؟آپ کی حضوری میں ہم لاتعداد معتقدوں کو دیکھ سکیں گے جنہوں نے ایمان کی بدولت صرف آپ کی پیروی کی نہ کہ کسی اورکی۔

یُوحنّا ۲۱: ۲۳
۔۲۳ پس بھائیوں میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ وہ شاگرد نہ مرے گا لیکن یسُوع نے اُس سے یہ نہیں کہا تھا کہ یہ نہ مرے گا بلکہ یہ کہ اگر میں چاہوں کہ یہ میرے آنے تک ٹھہرا رہے تو تجھ کو کیا؟

عام رائے کے مطابق، یُوحنّا ضعیف عمر تک جیتے رہے اور مسیح کی آمد کی منتظر کلیسیاؤں میں ایک علامت بن گیے۔اُن کے متعلق یہ مشہور ہوگیا کہ خداوند کے دوبارہ آنے تک وہ نہ مریں گے۔پَولُس رسُول بھی خداوند کے جلد آنے کی توقع رکھتے تھے اور یہ کہ وہ شاید نہ مریں بلکہ اچانک تبدیل ہوکر آسمان پر اُٹھا لیے جائیں گے۔ لیکن یُوحنّا حقیقت پسند شخص تھے اور اُنہوں نے صاف طور سے واضح کیا کہ مسیح کے وعدہ کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اس وقت تک نہ مریں گے جب تک کہ آسمان کھل نہ جائیں اور جلیلُ القدر خداوند لَوٹ نہ آئیں۔یُوحنّا کے ارادے اور فیصلے پطرس کی تمنّاؤں کے مطابق نہ تھے۔خداوند اچھے چرواہے ہیں جو اپنے ہر شاگرد کو اُس کی اپنی خصوصی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔

دعا: اےاے خداوند یسُوع! آپ عظیم الشان نجات دہندہ اور وفادار چرواہےہیں۔ہم آپ کے مشکور ہیں کہ آپ نے پطرس اور یُوحنّا کی اس طریقہ سے رہنمائی کی جو اُن کے لیے انفرادی طور پر مناسب تھی تاکہ وہ اپنی زندگی اور موت میں آپ کا جلال ظاہر کرتے۔ہمیں یہ شرف عنایت کیجیے کہ ہم صرف آپ کی ہی پیروی کریں۔ ہمارے خویش و اقارب کو آپ کے آنے کی گھڑی کی طرف رجوع کیجیے تاکہ وہ خوشی سے آپ کی آمد کی تیاری کریں جو قریب الوقوع ہے۔

سوال ۱۳۳۔ اس انجیل میں بیان کیے ہُوئے مسیح کے آخری الفاظ کا کیا مطلب ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on May 29, 2012, at 10:40 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)