Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- John - 114 (Burial of Jesus)

This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ چہارم : نُور تاریکی پرچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۸: ۱۔۲۱: ۲۵)٠

الف : گرفتاری سے لے کر تیزل و تکفین تک کے واقعات (یُوحنّا ۱۸: ۱۔۱۹: ۴۲)٠

۔۴ : صلیب اور یسُوع کی مَوت (یُوحنّا ۱۹: ۱۶ ب۔۴۲)٠

و : یسُوع کی تجہیز و تکفین (یُوحنّا ۱۹: ۳۸۔۴۲)٠


یُوحنّا ۱۹: ۳۸
۔۳۸ ان باتوں کے بعد ارِمتیہ کے رہنے والے یوسف نے جو یسُوع کا شاگرد تھا (لیکن یہودیوں کے ڈر سے خُفیہ طور پر) پیلاطُس سے اجازت چاہی کہ یسُوع کی لاش لے جائے۔پیلاطُس نے اجازت دی۔پس وہ آکر اس کی لاش لے گیا۔

کونسل (عدالتِ عالیہ) کے سبھی اراکین یسُوع کو دی گئی سزا سے متّفق رائے نہ تھے۔آثارِ قدیمہ کی جدید دریافتوں سے یوں لگتا ہے کہ مجرم کو اسی وقت سزا دی جا سکتی تھی جب دو گواہ اختلافِ رائے پیش کریں۔لیکن اگر سبھی اراکین سزائے موت کے حق میں ہُوئے تو یہ سمجھا جانا چاہیے کہ مجرم کے خلاف ضرور کوئی انسانی تعصُّب تھا اور کونسل نے صحیح طور سے انصاف نہیں کیا۔ اس اصول کے ماتحت عدالت کی تیاری کی جا چُکی تھی اور ہر ثبوت کی نہایت احتیاط کے ساتھ چھان بین کی گئی۔یہ مانتے ہُوئے کہ یہ قانون یسُوع کے دنوں میں رائج تھا، یہ ضروری تھا کہ کم از کم دو اراکین مجوزہ سزا سے اختلاف رائے ظاہر کرتے۔ ان میں سے ایک ارِمتیا کا باشندہ، یوسف تھا جو خفیہ طور پر مسیح کا شاگرد تھا۔ (متّی ۲۷: ۵۷ اور مرقُس ۱۵: ۴۳)۔اس کی پختہ حکمت کی داد دینی چاہیے۔اُسے یہ فکر لاحق تھی کہ وہ کونسل میں اپنی نشتف یا قوم کی روش مںخ اپنا رسوخ کھو نہ بیٹھے۔کونسل کی نشستوں کی کارروائی دھوکے بازی سے چلانے کے لیے یوسف، کائفا سے خفا ہو گیا تھا۔یوسف نے غیر جانب داری کو ترک کیا اور یسُوع کے ساتھ اپنا راہ و رسم ہونے کا علانیہ اقرار کیا لیکن یہ اقرار منظرِ عام پر آنے تک کافی دیر ہو چُکی تھی اور اس کی گواہی کونسل کے فیصلہ کی باضابطہ تردید تھی۔لیکن حالات نے کچھ ایسا موڑ لیا کہ یسُوع کو مصلوب کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

یسُوع کی مَوت کے بعد، یوسُف پیلاطُس کے پاس گیا (کیونکہ اسے یہ حق حاصل تھا)۔پیلاطُس نے اُس کی درخواست منظور کر لی اور اسے یسُوع کی لاش صلیب پر سے نیچے اُتارنے کی اجازت دے دی تاکہ وہ اس کی تجہیز و تکفین کرے۔

اس طرح پیلاطُس نے یہودیوں سے ایک اور بار بدلہ لیا کیونکہ وہ مصلوب مجرموں کی لاشیں گھسیٹتے ہُوئے ہِنّوم کی وادی میں لے جایا کرتے تھے جہاں وہ شہر کےجلتے ہُوئے کوڑا کرکٹ میں پڑی رہتی تھیں اور گیڈروں کا لقمہ بن جاتی تھیں ۔ خدا نے اپنے بیٹے کو ایسی شرمناک نوبت سے بچا لیا۔ آپ نے صلیب پر ایزدی قربانی ادا کرنے کی اپنی ذمّہ داری نبھائی تھی۔آپ کے آسمانی باپ نے یوسف کو توفیق دی کہ وہ آپ کو ایک باعزّت قبر میں دفن کرے۔

یُوحنّا ۱۹: ۳۹۔۴۲
۔۳۹ اور نیکُدیمُس بھی آ گیا جو پہلے یسُوع کے پاس رات کو گیا تھا اور پچاس سیر کے قریب مُر اور عود ملا ہُوا لایا۔ ۴۰ پس اُنہوں نے یسُوع کی لاش لے کر اسے سوتی کپڑے میں خوشبودار چیزوں کے ساتھ کفنایا جس طرح کہ یہودیوں میں دفن کرنے کا دستور ہے۔ ۴۱ اور جس جگہ وہ مصلوب ہُوا وہاں ایک باغ تھا اور اُس باغ میں ایک نئی قبر تھی جس میں کبھی کوئی نہ رکھا گیا تھا۔ ۴۲ پس اُنہوں نے یہودیوں کی تیاری کے دن کے باعث یسُوع کو وہیں رکھ دیا کیونکہ یہ قبر نزدیک تھی۔

اچانک نیکُودیمُس بھی صلیب کے قریب آ پہنچا۔وہ دوسرا شخص تھا جس نے کونسل کے فیصلہ کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ اس سے پہلے بھی اس نے کونسل نے یسُوع کے خلاف کیے ہُوئے خُفیہ فیصلہ کو منسوخ کرانے کی یہ کہہ کرکوشش کی تھی کہ امر واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک شائستہ نشست منعقد کی جائے (۷: ۵۱)۔ یسُوع کا یہ گواہ ۳۲ کِلوگرام قیمتی مرہم اور شکستہ حال لاش کو لپیٹنے کے لیےکفن لے کر وہاں پہنچا تاکہ لاش کو نیچے اُتارنے اور اُس کی عالی خاندانی رواج کے مطابق تجہیز و تکفین میں یوسُف کی مدد کرے۔تجہیز و تکفین کی رسم جمعہ کی شام کے چھٹے گھنٹے تک تکمیل کو پہنچنا ضروری تھا کیونکہ اس وقت سبّت کا آغاز ہوتا ہے اور تب کوئی بھی کام کرنے کی ممانعت ہوتی ہے اور ان کے پاس بہت کم وقت بچا تھا۔

ہمارے خداوند کے باپ نے ان دو حضرات کو اپنے مرے ہُویے بیٹے کا عزّت و احترام کرنے کا شرف بخشا تاکہ یسعیاہ ۵۳: ۹ میں کیا ہُوا وعدہ پورا ہوکہ ” وہ شریروں کے بیچ میں دفنایا گیا لیکن ایک ایسی قبر میں رکھا گیا جو کسی دولتمند کے لیے بنائی گئی تھی۔”کسی چٹان میں ایسی قبر تراشنا نہایت گراں امر تھا۔لہٰذا یوسف کے لیے یسُوع کا احترام کرنے کا اس سے بہتر کوئی اور طریقہ ہی نہ تھا کہ وہ خود اپنی قبر میں آپ کو دفن کرتا جو شہر کی دیواروں سے باہر اور اُس جگہ سے بہت قریب تھی جہاں آپ کو صلیب دی گئی تھی۔وہاں اُنہوں نے یسُوع کی لاش کو نیکودیمُس نے لائے ہُوئے مرہم سے پوت کرکفن میں لپیٹا اور چٹان کی ایک سل پر ، بغیر صندوق میں بند کیے،رکھا۔

یسُوع کی موت یقیناً واقع ہُوئی۔آپ تینتیس سال کے نوجوان ہی تھے کہ آپ کی دنیاوی زندگی ختم ہو گئی۔ آپ مرنے کے لیے ہی پیدا ہُوئے تھے۔” اس سے زیادہ محبّت کوئی نہیں کرتا کہ اپنی جان اپنے دوستوں کے لیے قربان کردے”۔

دعا: اے خداوند یسُوع مسیح!آپ نے ہماری خاطر اپنی جان دے دی اس کے لیے ہم آپ کے مشکور ہیں۔ سب معتقدوں کے ساتھ میں آپ سے محبّت کرتا ہُوں کیونکہ آپ کی محبّت نے ہمیں خدا کے غضب سے بچایا اور ہمیں مقدّس تثلیث کے اتّحاد میں قائم کیا۔میری زندگی کو شکرگزاری کے طور پر قبول فرمائیے تاکہ میں آپ کے صلیب کی تمجید کروں۔

سوال ۱۱۸۔ یسُوع کی تجہیز و تکفین سے ہم کیا سبق حاصل کرتے ہیں؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on May 28, 2012, at 05:41 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)