Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- John - 115 (Mary Magdalene at the graveside; Peter and John race to the tomb)

This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ چہارم : نُور تاریکی پرچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۸: ۱۔۲۱: ۲۵)٠

ب : یسُوع کا مرُدوں میں سے جی اُٹھنا اور لوگوں پر ظاہر ہونا (یُوحنّا ۲۰: ۱۔۲۱: ۲۵)٠

۔۱ : فسح کی طلوعِ صبح کے واقعات (ایسٹر) (یُوحنّا ۲۰: ۱۔۱۰)٠

الف : مریم مگدلینی کا قبر پر آنا (یُوحنّا ۲۰: ۱۔۲)٠


یُوحنّا ۲۰: ۱۔۲
۔۱ ہفتہ کے پہلے دن مریم مگدلینی ایسے تڑکے کہ ابھی اندھیرا ہی تھا، قبر پر آئی اور پتھر کو قبر سے ہٹا ہُوا دیکھا۔ ۲ پس وہ شمعون پطرس اور اُُس دوسرے شاگرد کے پاس جسے یسُوع عزیز رکھتا تھا، دوڑی ہُوئی گئی اور اُن سے کہا کہ خداوند کو قبر سے نکال لے گئے اور ہمیں معلوم نہیں کہ اسے کہاں رکھ دیا۔

شاگرد اور وہ خواتین جو یسُوع کے ساتھ چلی آئی تھیں، جمعہ کے دن کےواقعات سے حیران ہو چُکے تھے۔ اُن خواتین نے دور ہی سے دیکھا تھا کہ یسُوع کو کیسے قبر میں رکھا گیا تھا۔وہ خواتین اور شاگرد جلدی سے اپنے اپنے گھروں کو لوٹے تھے تاکہ سبّت کے توڑنے کے الزام سے بچ سکیں جو جمعہ کے دن شام کےچھ بجے شروع ہونا تھی۔

اُس عظیم سبّت کے دن جو بہ یک وقت فسح کی عید کے موقعہ پر ہی پیش آیا،کوئی شخص قبر پر جانے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔جہاں عوام اس تصوّر میں خوشیاں منا رہے تھے کہ فسح کے برّہ کی قربانی خدا کے قوم سے میل ملاپ کی نشانی ہے وہاں مسیحی خوفزدہ ہوکر اور آنسو بہاتے ہُوئے اِکٹھے ہُوئے تھے۔اُن کی امیدیں اُن کے خداوند کے ساتھ دفن ہو چُکی تھیں۔

سبّت کی شام کو وہ خواتین شہر کے پھاٹکوں کے باہر نہ گئیں اور نہ ہی اُنہوں نے یسُوع کی لاش کو مسح کرنے کے لیے مصالے اور دوسری چیزیں ہی خریدیں۔وہ اتوار کی صبح کا انتظار کر رہی تھیں۔مُبشِّر یُوحنّا مریم مگدلینی کے قبر پر جانے کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہیں لیکن مریم نے جو خبر شاگردوں کو دی اس میں لفظ” ہم” استعمال کیا گیا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ اُن کے ساتھ اور خواتین بھی تھیں۔سلومی، یُوحنّا کی ماں اور چند اور خواتین آنسو بہاتی ہُوئی اتوار کی صبح کو لاش کو مسح کرنے کے لیے گئی تھیں۔

علی الصبح وہ غمگین حالت میں قبر پر پہنچیں جسے مہربند کیا گیا تھا۔لیکن وہاں پہنچنے پر ان کی امیدوں پر پانی پھیر گیا اور وہ مایوس ہوگئیں۔مردوں میں سے جی اُٹھے ہُوئے کا نُور اب تک اُن پر نہ چمکا تھا اورنہ ہی ان کے دماغ پر ابدی زندگی کا تصوّر چھایا تھا۔

وہاں پہنچنے پر جب اُنہوں نے وہ بڑا پتھر قبر کے مُنہ پر رکھا ہُوا دیکھا تووہ ہیبت زدہ ہو گئیں کہ اب وہ اسے کیسے ہٹائیں گی۔

کھُلی ہُوئی قبر اس دن کا پہلا معجزہ تھا جو ہماری پریشانیوں اور بے اعتقادی کے لیے گواہی ہے کہ مسیح ہمارے دلوں پر بوجھ بن کر بیٹھے ہُوئے سبھی پتھر ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں۔جو اس پر اعتقاد رکھتا ہے وہ خدا سے مدد پاتا ہے۔ایمان، عظیم مستقبل دیکھ پاتا ہے۔

یُوحنّا ہمیں فرشتوں کے وارد ہونے کے متعلق کچھ نہیں بتاتے۔ممکن ہے کہ مریم مگدلینی اپنی ساتھیوں سے آگے نکل گئی ہواور قبر میں جھانک کر دیکھا ہو۔ اس نے وہاں لاش نہ پائی۔ وہ گھبرا کر شاگردوں کے پاس پہنچی۔وہ چاہتی تھی کہ رسُولوں کے حلقہ کا سردار دوسرے شاگردوں کے ساتھ اس معجزہ کو جانے۔جب مریم مگدلینی پطرس اور اس کے ساتھی شاگرد کے پاس پہنچی تو چلاّ اُٹھی : “خداوند کی لاش کھو گئی ہے۔یقناً کوئی اسے چُرا لے گیا ہے اور ہم نہیں جانتیں کہ اسے کہاں رکھا ہے۔یہ ایک مزید جرم ہے۔” اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاگرد اور وہ خود رُوحانی طور پر اندھے ہوگئے تھے کیونکہ اُنہوں نے سوچا کہ لاش کو کوئی چُرا لے گیا ہے۔اُنہیں یہ نہ سُوجھا کہ خداوند مردوں میں سے جی اُٹھے ہیں کیونکہ آپ ہی خداوند تھے۔


ب : پطرس اور یُوحنّا کا قبر تک دوڑ لگانا (یُوحنّا ۲۰: ۳۔۱۰)٠


یُوحنّا ۲۰: ۳۔۵
۔۳ پس پطرس اور وہ دوسرا شاگرد نکل کر قبر کی طرف چلے۔ ۴ اور دونوں ساتھ ساتھ دوڑے مگر وہ دوسرا شاگرد پطرس سے آگے بڑھ کر قبر پر پہلے پہنچا۔

یہ محبّت کے لیے دوڑ تھی۔ اُن میں سےہرایک یہ چاہتا تھا یسُوع کے پاس پہنچنے والا پہلا شخص وہی ہو۔پطرس جو ضعیف تھے، نوجوان یُوحنّا کے پیچھے ہانپ رہے تھے،اُن کی برابری نہ کر سکے۔دونوں کے دلوں سے جاسوسوں اور سپاہیوں کا خوف دور ہو گیا اور وہ شہر کے پھاٹکوں میں سے نکل گئے۔جب یُوحنّا قبر پر پہنچے تو وہ اندر داخل نہ ہُوئے بلکہ احترام کے تقاضہ کے ماتحت وہ باہر کھڑے رہے۔چٹان میں تراشی ہُوئی قبر میں جھانک کر اُنہوں نے اندھیرے میں دیکھا کہ کفن کے سفید کپڑے جیسے کے ویسے پڑے ہوئے تھے جیسے ریشم کا کیڑا اپنے خول میں سے نکلنے کے بعد اسے چھوڑ دیتا ہے۔ کفن کے کپڑے الگ سے رکھے ہُوئے نہ تھے بلکہ وہیں تھے جہاں لاش رکھی ہُوئی تھی۔یہ ان معجزوں میں سے تیسرا معجزہ ہے جو آپ کے مردوں میں سے جی اُٹھنے سے تعلق رکھتا ہے۔مسیح نے اپنے کپڑے پھاڑے نہیں بلکہ اُن میں سے نکل آئے۔ فرشتوں نے قبر کے مُنہ پر رکھا ہُوا پتھر آپ کے باہر نکل آنے کے لیے نہیں بلکہ اُن خواتین اور شاگردوں کو اندر جانے کے لیے ہٹایا تھا۔ خداوند اس چٹان میں سے خودبخود باہر نکل آئے۔

دعا: اے خداوند یسُوع مسیح! آپ مرُدوں میں سے جی اُٹھے اس لیےہم آپ کا شکر بجا لاتے ہیں ۔آپ نے ہر بدی پر قابو پالیا اور خدا کی طرف جانے کی راہ کھول دی۔جب ہم موت کی وادی میں سے گزریں گے تو آپ ہمارے ساتھ ہوں گے اور ہمیں ترک نہ کریں گے۔آپ کی زندگی ہماری ہے؛ آپ کی قوّت ہماری کمزوری میں کامل ہو جاتی ہے۔ہم آپ کے حضور سر نگوں ہوتے ہیں اور آپ سے محبّت کرتے ہیں کیونکہ آپ نے تمام معتقدوں کو فتح یاب اُمید دلائی ہے۔

سوال ۱۱۹۔ یسُوع کے مرُدوں میں سے جی اُٹھنے کے تین ثبوت کون سے ہیں؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on May 29, 2012, at 09:09 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)