Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- John - 111 (Crucifixion and the grave clothes; Dividing the garments and casting the lots)

This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ چہارم : نُور تاریکی پرچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۸: ۱۔۲۱: ۲۵)٠

الف : گرفتاری سے لے کر تیزل و تکفین تک کے واقعات (یُوحنّا ۱۸: ۱۔۱۹: ۴۲)٠

۔۴ : صلیب اور یسُوع کی مَوت (یُوحنّا ۱۹: ۱۶ ب۔۴۲)٠

الف : صلیب دی جانا اور کفن کے کپڑے (یُوحنّا ۱۹: ۱۶ ب ۔۲۲)٠


یُوحنّا ۱۹: ۱۶ ب۔۱۸
۔۱۶ ب پس وہ یسُوع کو لے گیے۔ ۱۷ اور وہ اپنی صلیب آپ اُٹھائے ہُوئے اُس جگہ تک باہر گیا جو کھوپڑی کی جگہ کہلاتی ہے، جس کا ترجمہ عبرانی میں گُلگُتا ہے۔ ۱۸ وہاں اُنہوں نے اُس کو اور اُس کے ساتھ اور دو شخصوں کو مصلوب کیا۔ایک کو اِدھر، ایک کو اُدھر اور یسُوع کو بیچ میں۔

فوج کا ایک دستہ دو ڈاکوؤں کو صلیب دینے کے لیے لے جانے والا ہی تھا کہ پیلاطُس نے یسُوع کو تیسرے ڈاکو کے طور پر اُن کے حوالہ کیا۔ سپاہیوں نے اُن تینوں کے کندھوں پر اُن کی اپنی اپنی صلیبیں رکھیں تاکہ وہ اُنہیں لے چلیں۔اُن پر لٹک کر اُنہیں اپنی جان دینی تھی۔ مسیح نے اپنی صلیب لے جانے سے انکار نہ کیا اور نہ ہی اسے راہ میں گرا دیا۔یہ تینوں اشخاص شہر کی گلیوں میں سے ہوتے ہوئے گزرے یہاں تک کہ شمال مغربی دروازہ تک پہنچتے پہنچتے اُن کا سانس پھولنے لگا۔ تب وہ ایک ٹیکڑی پر پہنچے جسے گُلگُتا کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک کھوپڑی نما چٹان کی طرح تھی اور شہر کی دیواروں سے کسی قدر اونچائی پر واقع تھی۔شہر کے باشندے اُن تینوں کو جنہیں صلیبی مَوت کی سزا دی گئی تھی، شہر کے باہر اُن کی اپنی اپنی صلیبوں پر لٹکے ہُوئے دیکھ سکتے تھے۔

یُوحنّا نے صلیب کے متعلق مفصل معلومات درج نہیں کی کیونکہ اُن کے قلم نے اس خوفناک نطّارہ کو قلمبند کرنے سے انکار کیا۔لوگوں نے ایزدی محبّت کو ترک کر دیا اور جہنم کی نفرت ان پر نازل ہُوئی تھی۔اُنہوں نے نہایت بے رحمی سے اس ہستی کا قلع قمع کردیا جو رُوح سے پیدا ہُوئی تھی اور اپنے گناہ سے اُنہوں نے مسیح کی قربانی تکمیل کو پہنچائی جس سے اُن کے اپنےگناہوں کا کفّارہ ادا ہو ا۔ جب یسُوع شرمناک صلیب پر لٹک رہے تھے تب آپ کے اطراف ھلقۂ نُور طاری نہ تھا لیکن اپنی تذلیل کی گہرائی میں آپ نے صبر اور مقدّس نفس کُشی سے اپنا جاال ظاہر کیا۔

یہ کس قدر شرمناک بات ہے کہ یسُوع اُن دو ڈاکوؤں کے درمیان صلیب پر لٹکے رہے جو بے چین تھے اور جن کی زبان پرلعنتی کلمے تھے۔

اپنی زندگی کے آخری لمحہ میں بھی شفیق و مقدّس خداوند نے خود کو گنہگاروں کا ساتھی ظاہر کیا۔اسی لیے خدا کا بیٹا، ابن آدم کے طور پر پیدا ہُوا تاکہ لوگوں کی ضِدّی اولاد خدا کے راستباز فرزند بن جائیں۔آپ ذلّت و خواری کی اتنی گہرائی تک اُترے کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ یسُوع اس درجہ تک گر نہیں سکتے۔تُم جو بھی ہو اور کسی بھی حد تک کیوں نہ گرے ہوں، مسیح تمہاری خطائیں بخش سکتے ہیں اور تمہیں دھو کر تمہاری مکمل تقدیس کر سکتے ہیں۔

یُوحنّا ۱۹: ۱۹۔۲۰
۔۱۹ اور پیلاطُس نے ایک کتابہ لکھ کر صلیب پر لگا دیا۔اُس میں لکھا تھا، یسُوع ناصری، یہودیوں کا بادشاہ۔ ۲۰ اس کتابہ کو بہت سے یہودیوں نے پڑھا، اس لیے کہ وہ مقام جہاں یسُوع مصلوب ہُوا، شہر کے نزدیک تھا اور وہ عبرانی، اسینی اور یونانی میں لکھا ہُوا تھا۔

سپاہیوں نے یسُوع کو دو مجرموں کے بیچ میں صلیب پرلٹکا دیا۔یہ اُنہوں نے اس لیے کیا تاکہ آپ کے بادشاہی کے دعوے کا مذاق اُڑایا جائے۔ اس اثنا میں پیلاطُس، یہودیوں کی عدالتِ عالیہ کو کوستا رہا جس نے اسے اپنے ضمیر کی مرضی کے خلاف یسُوع کو سزا دینے پر مجبور کیا۔ مصلوب کے سر کے اوپر ایک کتبہ پیوست کیا گیا جس میں یہودیوں کا الزام دہرایا گیا تھا۔

خدا نے یہ خطاب جو کہ صلیب کے اوپری سرے پر لٹکایا گیا تھا، یہودیوں کے انصاف کرنےکے لیے استعمال کیا کیونکہ یسُوع واقعی اُن کے بادشاہ تھے۔یسُوع حقیقی بادشاہ ہیں جو راستبازی۔ محبّت اور فروتنی کے ساتھ آئے ۔آپ نے زمین پر بہشت قائم کر دی لیکن یہودیوں نے جہنم کو ترجیح دی اور اپنے ایزدی بادشاہ کو مسترد کر دیا اور آپ کو معاشرہ سے باہر کر دیا۔ اس طرح آپ غیر قوموں کے بادشاہ بن گیے۔لیکن کیا آج یہ قومیں ایک مصلوب بادشاہ کوقبول کریں گی یا پھر سے محبّت کے خداوند کو ترک کر دیں گی ؟

یُوحنّا ۱۹: ۲۱۔۲۲
۔۲۱ پس یہودیوں کے سردار کاہنوں نے پیلاطُس سے کہا کہ یہودیوں کا بادشاہ نہ لکھ بلکہ یہ کہ اس نے کہا، میں یہودیوں کا بادشاہ ہُوں۔ ۲۲ پیلاطُس نے جواب دیا کہ” میں نے جو لکھ دیا وہ لکھ دیا۔

سردار کاہنوں نے پیلاطُس کی توہین و تحقیر اور دھمکی کا مطلب جان لیا گو اس پر نقاب پڑا ہُوا تھا۔اُنہوں نے بادشاہ کو ترک کیا تھا اور یسُوع کی کمزوری میں انہیں پیلاطُس کے دعوے کے خلاف معاملہ نظر آیا،لہٰذا وہ پہلے سے زیادہ یسُوع سے نفرت کرنے لگے۔

پیلاطُس کو یقین تھا کہ جو خطاب اس نے تختہ پر لکھا تھا وہ قیصر کی مرضی کے مطابق تھا اس لیے اس نے اسے تین زبانوں میں لکھوایا تاکہ تعلیم یافتہ لوگ، شہری اور مہمان، سبھی اِسے پڑھ سکیں اور سمجھ سکیں کہ رُوم کی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے ہر شخص کا یہی انجام ہوگا۔ ؁ ۷۰ ء میں جب یہودیوں نے رومی حکومت کے خلاف بغاوت کی تب ہزاروں لوگ یروشلیم کی دیواروں کے اطراف صلیبوں پر لٹکائے گیے۔


ب : کپڑوں کا بانٹنا اور قرعہ اندازی (یُوحنّا ۱۹: ۲۳۔۲۴)٠


یُوحنّا ۱۹: ۲۳۔۲۴
۔۲۳ جب سپاہی یسُوع کو مصلوب کر چُکے تو اُس کے کپڑے لے کر چار حِصّے کیے۔ہر سپاہی کے لیے ایک حِصّہ اور اُس کا کُرتہ بھی لیا۔ یہ کُرتا بِن سِلا سراسر بُنا ہُوا تھا۔ ۲۴ اس لیے اُنہوں نے آپس میں کہا کہ اسے پھاڑیں نہیں بلکہ اس پر قرعہ ڈالیں تاکہ معلوم ہو کہ کس کا نکلتا ہے۔یہ اس لیے ہُوا کہ وہ نوشتہ پورا ہو جو کہتا ہے کہ : “اُنہوں نے میرے کپڑے بانٹ لیے اور میری پوشاک پر قرعہ ڈالا۔

جن چار سپاہیوں نے یسُوع کو مصلوب کیا اُنہیں آپ کے کپڑے آپس میں بانٹ لینے کا حق تھا۔ البتّہ اُن کا سردار ان کے ساتھ ایسی نیچ حرکت کرنے میں شریک نہ ہُوا۔چنانچہ اُن چار سپاہیوں نے مسیح سے آپ کی وہ آخری پونجی بھی چھین لی اور آپ کو اپنی قدر و منزلت سے خالی کر دیا۔ مصلوب کیے ہُوئے مجرموں کو اکثر برہنہ کیا جاتا تھا تاکہ ان کی اور زیادہ بے حُرمتی ہو۔

اس فروتنی نے یسُوع کی عظمت کا اعلان کیا۔آپ کا بُنا ہُوا کرتہ سردار کاہن کے لباس سے ملتا جُلتا تھا۔یسُوع خود ایزدی سردار کاہن اور ساری نوعِ انساں کے شافعی ہیں اور اسی کردار کی ادائگی میں آپ نے تکلیف برداشت کی اور اذیّت اُٹھائی۔

ایک ہزار سال قبل پاک رُوح نے پیش گوئی کے ذریعہ یسُوع کے مصلوب کیے جانے کی تفصیل بتا دی تھی جیسا کہ زبور۲۲ میں درج کیا گیا ہے:” وہ میرے کپڑے آپس میں بانٹتے ہیں۔“ یہ فعل سپاہیوں میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے۔پاک رُوح نے مزید بتایا تھا کہ وہ آپ کی پوشاک کے لیے قرعہ ڈالیں گے۔رُوح نے صلیب دِیے جانے کے حالات نہایت صفائی سے پیش کیے تھے اور بتایا تھا کہ یسُوع کا مصلوب ہونا در اصل خدا کی مرضی کے مطابق تھا جیسا کہ یسُوع نے خود بتایا تھا کہ تمہارے آسمانی باپ کے علم کے بنا تمہارے سر کا ایک بال بھی نہ گرے گا۔جو کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مسیح کو مصلوب نہیں کیا گیا وہ نہ صرف ان تاریخی واقعات سے انکار کرتا ہےبلکہ خدا کے روح کی بھی مخالفت کرتا ہے جس نے اس واقعہ کی ایک ہزار سال قبل پیش گوئی کی تھی۔وہ مسیح کی باقی ماندہ چیزوں پر قبضہ جمانے کے لیے جھگڑنے لگے۔اُن میں رحم مطلق نہ تھا اور نہ انہوں نے کبھی یہ سوچا کہ دنیا کا مُنجی صلیب پر اپنا خُون بہا رہا ہے۔

اے بھائی،کیا تُم مسیح کے ساتھ مصلوب ہو چُکے ہو اور آپ کی موت میں شریک ہُوئے ہو؟یا آپ دولت اور شہرت کے پیچھے دوڑ رہے ہو؟کیا تُم مسیحِ مصلوب سے محبّت کرتے ہو اور تُم نے آپ کی مَوت کے باعث ایزدی راستبازی اور سچّی تقدیس پائی ہے؟یا تُم محض اوپری مشاہدہ کرنے والے شخص ہو جو مسیحِ مصلوب پر نظر جما کر بھی لاپروا ہوجاتا ہے؟پاک رُوح ایمان اور محبّت میں خدا کے بیٹے سے ملاپ کراتا ہےتاکہ ہم آپ کی مَوت، دوبارہ جی اُٹھنے اور قربان کی جانے والی زندگی میں شریک ہوں۔

دعا: اے خداوند یسُوع مسیح،صلیبی مَوت برداشت کرنے کے لیے، ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔ہم آپ کے صبر، محبّت اور برکتوں کے باعث آپ کی عبادت کرتے ہیں۔ہمارے اور ساری دنیا کے گناہ معاف کرنے کے باعث ہم آپ کی تمجید کرتے ہیں۔اس شرمناک صلیب پر لٹکتے ہُوئے آپ نے میرے گناہ اُٹھا لیے اور نوعِ انساں کا خدا سے میل ملاپ کر دیا۔آپ ہمارے مُنجی اور شافعی ہیں۔

سوال ۱۱۵۔ صلیب پر لٹکائے ہُوئے خطاب کا کیا مطلب ہوتا ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on May 28, 2012, at 05:17 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)