Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 064 (The Jews interrogate the healed man)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ج : یسُوع کی یروشلیم میں آخری آمد۔ (يوحنَّا ۷: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴) تاریکی اور نُور کی علحدگی٠

۔۲ : جنم کے اندھے شخص کی شفا یابی ( یُوحنّا ۹: ۱ ۔۴۱)٠

ب : یہودیوں نے شفا یافتہ شخص سے سوالات پُوچھے (یُوحنّا ۹: ۱۳۔۳۴)٠


یُوحنّا ۹: ۲۴۔۲۵
۔۲۴ پس اُنہوں نے اُس شخص کو جو اندھا تھا دوبارہ بُلا کر کہا کہ خدا کی تمجید کر۔ہم تو جانتے ہیں کہ یہ آدمی گنہگار ہر۔ ۲۵ اُس نے جواب دیا: میں نہیں جانتا کہ وہ گنہگار ہے۔ایک بات جانتا ہُوں کہ میں اندھا تھا ،اب بینا ہُوں۔

فریسی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے کہ یسُوع میں کوئی کمزور نکتہ پائیں تاکہ آپ کو سزا دے سکیں۔ پھر ایک بار اُنہوں نے اُس نابینا کو بلایا اور قسم دلوا کر یسُوع کے خلاف گواہی دینے اور آپ پر کوئی الزام لگانے پر مجبور کیا۔اُنہوں نے عالمِ شرع کے طور پر یہ نہایت وثوق سے کہا کہ یسُوع گنہگار ہیں۔ اُنہیں صرف ثبوت کی ضرورت تھی۔اُنہوں نے اُس پر دباؤ ڈالا کہ وہ یسُوع پر الزام لگانے کے لیے راضی ہو جائے اور چاہا کہ وہ اقرار کرے کہ اُس کی شفایابی یسُوع ناصری کے باعث نہیں ہُوئی۔ لیکن اُس شخص نے نہایت عقلمندی سے جواب دیا:"میں نہیں جانتا کہ وہ گنہگار ہے یا نہیں۔ صرف خدا ہی جانتا ہے۔ میں صرف اتنا جانتا ہُوں: میں پہلے اندھا تھا، لیکن اب دیکھ پاتا ہُوں۔"اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ معجزہ ہوا جو ایزدی قوّت سے اور معافی کے فضل سے ہو پایا۔ اس نوجوان کی گواہی ایسی تھی جس کی ہزاروں معتقد تائید کریں گے۔وہ جنّت اور دوزخ کے راز نہ جانتے ہُوں لیکن اُن کی از سرِ نَو پیدایش ہو چُکی ہے۔اُن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ "میں اندھا تھا مگر اب دیکھ پاتا ہُوں"۔

یُوحنّا ۹: ۲۶۔۲۷
۔۲۶ پھر اُنہوں نے اُس سے کہا کہ اُس نے تیرے ساتھ کیا کیا؟کس طرح تیری آنکھیں کھولیں؟ ۲۷ اُس نے اُنہیں جواب دیا: میں تو تُم سے کہہ چُکا اور تُم نے نہ سُنا۔ دوبارہ کیوں سُننا چاہتے ہو؟ کیا تُم بھی اُس کے شاگرد ہونا چاہتے ہو؟

اس نوجوان کے جواب سے تسلّی نہ پاکر فریسیوں نے اس کے بیان میں تضاد پیدا کرنے کی کوشش کی اور اُسے اپنی کہانی دہرانے کے لیے کہا۔ وہ غصہ میں آکر بولا:کیا تُم پہلی بار سمجھ نہ پائےجو دوبارہ سُننا چاہتے ہو تاکہ اُس کے شاگرد بن سکو"؟

یُوحنّا ۹: ۲۸۔۳۴
۔۲۸ وہ اُسے بُرا بھلا کہہ کر کہنے لگے کہ تُو ہی اُس کا شاگرد ہے۔ہم تو موسیٰ کے شاگرد ہیں۔ ۲۹ ہم جانتے ہیں کہ خدا نے موسیٰ کے ساتھ کلام کیا ہے مگر اِس شخص کو نہیں جانتے کہ کہاں کا ہے ۳۰ اُس آدمی نے جواب میں اُن سے کہا: یہ تو تعجب کی بات ہے کہ تُم نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا ہے حالانکہ اُس نے میری آنکھیں کھولیں۔ ۳۱ ہم جانتے ہیں کہ خدا گنہگاروں کی نہیں سُنتا لیکن اگر کوئی خدا پرست ہو اور اُس کی مرضی پر چلے تو وہ اُس کی سُنتا ہے۔ ۳۲ دنیا کے شروع سے کبھی سُننے میں نہیں آیا کہ کسی نے جنم کے اندھے کی آنکھیں کھولی ہوں۔ ۳۳ اگر یہ شخص خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو کچھ نہ کر سکتا۔ ۳۴ اُنہوں نے جواب میں اُس سے کہا: تُو تو بالکل گناہوں میں پیدا ہُوا۔ تُو ہم کو کیا سکھاتا ہے؟ اور اُنہوں نے اُسے باہر نکال دیا"۔

جب اس نوجوان نے عالمِ شرع اور علماء کا مضحکہ اُڑایا تو وہ چلاّ اُٹھے اور اسے برا بھلا کہہ کر بولے:ہم نہیں بلکہ تُو اُس بہکانے والے کا شاگرد ہے۔ ہم موسیٰ کی تقلید کرتے ہیں جو ایسے انسان تھے جنہوں نے خدا سے کلام کیا تھا۔"یسُوع نے اُنہیں اس سے قبل مطلع کیا تھا کہ اگر وہ موسیٰ کو صحیح طور پر سمجھ پائے ہوتے تو وہ آپ کا کلام سُنتے اور سمجتےی لیکن چونکہ اُنہوں نے موسیٰ کے کلام کو توڑ مروڑ کر اُسے خود کو حق بجانب قرار دینے کے لیے استعمال کیا اس لیے وہ آپ کو بھی سمجھ نہ پائے، نہ ہی وہ اُس رُوح کو پہچان سکے جس کے ذریعہ آپ بولا کرتے تھے۔

اس پر وہ شفا یافتہ شخص بولا:جو شخص جنم کے اندھے کی آنکھیں کھولتا ہے، قوّتِ تخلیق کا مالک ہوتا ہے۔ وہ قادر اور قابل ہوتا ہے۔آپ میں اتنی شرافت تھی کہ مجھ پرنہ کوئی الزام لگایا اور نہ ہی پیسے طلب کیے بلکہ مفت میں میری پُر محبّت خدمت کی۔آپ وہاں رُکے بھی نہیں کہ میں آپ کا شکر بجا لاتا۔ میں نے آپ میں نہ کوئی خامی اور نہ ہی کوئی نقص پایا۔

تب اُس نوجوان نے مزید کہا:"پرانے عہد کا ہر رُکن جانتا ہے کہ خدا مغروروں کی دعاؤں کا جواب نہیں دیتا۔ انسان میں پایا جانے والا گناہ خدا کی طرف سے ملنے والی برکتوں کو روکتا ہے۔ لیکن شکستہ دل والوں، مُقدّسوں، گناہوں کا اقرار کرنے والوں اور شکرگزاری کے ساتھ ایمان اور محبّت کے طلبگار لوگوں سے خدا بذاتِ خود مخاطب ہوتا ہے۔

۔"تُم میں سے کسی نے میری آنکھیں نہ کھولیں اور کوئی ایسا کر بھی نہیں سکتا کیونکہ یسُوع کے سوا سب نے گناہ کیا ہے۔یسُوع مجھے شفا دے سکے یہی ثابت کرتا ہے کہ آپ بے گناہ ہیں اور خدا آپ میں مقیم ہے۔" ان تحقیقات کے دوران یسُوع کے بارے میں سوچنے کے لیے مجبور کیے جانے کے باعث وہ یسُوع کی معصومیت اور اُلُوہیّت کو جان سکا۔

اس پر اُن خودساختہ راستباز پارساؤں نے اس شخص کو لعنتی قرار دیا اور کہا: تجھ سے زیادہ بدچلن اور کوئی نہیں اور تیرے ماں باپ بھی تیری ہی طرح ہیں۔تیری بدکاری تیری نابینائی سے عیاں ہوتی ہے۔" یہ پارسا لوگ نہ جانتے تھے کہ وہ خود اس غریب سے زیادہ نابینا تھے۔یسُوع اُس شفا یافتہ نابیناشخص کو اپنی طرف سے ان لوگوں کے لیے بطور رسُول استعمال کر رہے تھے تاکہ اُنہیں معلوم ہو کہ آپ اُن کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔ لیکن اُنہوں نے شفا یافتہ پیغمبر کے معرفت آنے والی مسیح کی تعلیم کو مسترد کر دیا۔ چنانچہ اُنہوں نے اُسے زبردستی عبادت خانہ سے نکال دیا۔ یہ باہر نکالا جانا پہلے تو عدالتِ عالیہ کے ایوانِ خاص سے اور پھرعوام کے سامنے پیش آیا، جب اُسے اُنہوں نے یسُوع کا خادم قرار دیا،اُس دِن وہ شفا یاب ہو چُکا تھا پھر بھی اُس کی قوم نے اُسے ٹھکرا دیا اور یہ ثابت کردیا کہ اُن کی رُوح مسیح کی رُوح کو برداشت نہ کر سکی۔

سوال ۶۸۔ اپنے سوال جواب کے درمیان اُس نوجوان نے رفتہ رفتہ کیا جان لیا؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 07, 2012, at 12:34 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)