Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 063 (The Jews interrogate the healed man)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ج : یسُوع کی یروشلیم میں آخری آمد۔ (يوحنَّا ۷: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴) تاریکی اور نُور کی علحدگی٠

۔۲ : جنم کے اندھے شخص کی شفا یابی ( یُوحنّا ۹: ۱ ۔۴۱)٠

ب : یہودیوں نے شفا یافتہ شخص سے سوالات پُوچھے (یُوحنّا ۹: ۱۳۔۳۴)٠


یُوحنّا ۹: ۱۳۔۱۵
۔۱۳ لوگ اُس شخص کو جو پہلے اندھا تھا فریسیوں کے پاس لے گئے۔ ۱۴ اور جس روز یسُوع نے مِٹّی سان کر اُس کی آنکھیں کھولی تھیں وہ سبّت کا دن تھا۔ ۱۵ پھر فریسیوں نے بھی اُس سے پُوچھا:تُو کس طرح بینا ہُوا؟اُس نے اُن سے کہا:اُس نے میری آنکھوں پر مِٹّی لگائی۔پھر مَیں نے دھو لیا اور اب بینا ہُوں۔

یہودی زندگی ،شریعت کا قیدخانہ ہوتی ہے۔یہودیوں کو زیادہ فکر یہ لگی رہتی تھی کہ سبّت نہ ٹُوٹے لیکن اگر اُس دن کوئی شفا پائے تو اُنہیں کوئی خوشی نہ ہوتی تھی۔ پڑوسی اور جاسوس شفا یافتہ شخص کو فریسیوں کے پاس لے آئے تاکہ یہ طَے کرلیں کہ یہ شفا یابی خدا کی طرف سے تھی یا شیطانی قوّتوں کا نتیجہ تھی۔

اس طرح یسُوع کے متعلق سوال و جواب اور بحث شروع ہو گئی۔ اس شفا یافتہ نوجوان نے بتایا کہ اُسے شفا کیسے ملی۔ اُس نے اپنا بیان مختصر رکھا کیونکہ اُس کی شفایابی کی خوشی یسُوع کے دشمنوں کی نفرت سے مِٹّی میں مل گئی تھی۔

یُوحنّا ۹: ۱۶۔۱۷
۔۱۶ پس بعض فریسی کہنے لگے: یہ آدمی خدا کی طرف سے نہیں کیونکہ سبّت کے دن کو نہیں مانتا مگر بعض نے کہا کہ گنہگار آدمی کیونکر ایسے معجزے دکھا سکتا ہے۔ پس اُن میں اختلاف ہُوا۔ ۱۷ اُنہوں نے پھر اُس اندھے سے کہا کہ اُس نے جو تیری آنکھیں کھولیں تُو اُس کے حق میں کیا کہتا ہے؟ اُس نے کہا: وہ نبی ہے۔

اُس کی گواہی سُننے کے بعد عالمِ شرع بحث کرنے لگے۔ بعض کہنے لگے کہ یسُوع کو خدا کی طرف سے کوئی قوّت یا اختیار حاصل نہیں ہے کیونکہ آپ نے خدا کے حکم کی نافرمانی کی۔ اُنہوں نے شریعت کے اصولوں کے ماتحت یسُوع کے خلاف فیصلہ کیا۔دوسروں کو اُس نابینا کے گناہ اور اُس کی شفایابی اور معافی میں تعلق نظر آیا۔اُن کی رائے کے مطابق شفا یابی ضرور کوئی گہرے معنی رکھتی تھی کیونکہ اس کا تعلق خدا کی معافی بخشنے کی قابلیت سے تھا چنانچہ اُن کے خیال سے یسُوع کا گنہگار ہونا ناممکن تھا کیونکہ آپ نے گناہ بخش دیا اور اُس علالت کی وجہ کو حل کر دیا۔

دونوں فریقین کسی سمجھوتے پر نہ پہنچ سکے کیونکہ دونوں فریق ہمارے زمانہ میں پائے جانے والے کئی لوگوں کی مانند اندھے تھے جو یسُوع کے متعلق سطحی طور پر اور بے مقصد بحث کرتے رہتے ہیں۔ تب اُنہوں نے شفا یافتہ شخص سے پُوچھا کہ یسُوع نے اور کیا کہا تھا اور یہ کہ وہ خود یسُوع کے بارے میں کیا محسوس کرتا ہے؟ایسی تحقیقات اُن لوگوں کے لیے مفید ثابت ہوتی ہیں جو یسُوع کے متعلق کچھ تو معلومات رکھتے ہیں اور ایسے سولات اُن لوگوں سے پُوچھے جانے چاہئے جو از سرِ نَو پیدا ہو چُکے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ گناہ اور خدا کے غضب سےمُخلصی کیسے پائی جاتی ہے۔ ہماری رُوحانی نئی پیدایش کے بِنا ہم خدا کو دیکھ نہیں سکتے۔

شفا یافتہ شخص سوچ میں پڑ گیا کہ" آخر یہ یسُوع کون ہیں؟"وہ یسُوع کا موازنہ اُن خدا پرست لوگوں سے کرنے لگا جو اُس کی قوم کی تاریخ میں ہو گزرے تھے۔ اس تاریخی دور میں کئی معجزے دکھائے جا چُکے تھے لیکن کسی نے بھی جنم کے اندھے کو کبھی شفا نہ دی تھی۔ یسُوع کے کارناموں سے کوئی بھی ذی فہم شخص یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ آپ انوکھے مُنجی تھے۔ لہٰذا اس شخص نے یسُوع کو نبی کہا جو نہ صرف مستقبل کو دیکھتا ہے بلکہ حال کو بھی خدا کی قدرت سے دیکھ لیتا ہے۔ وہ دلوں کی چھان بین کرتا ہے اور خدا کی مرضی ظاہر کرتا ہے۔

یُوحنّا ۹: ۱۸۔۲۳
۔۱۸ لیکن یہودیوں کو یقین نہ آیا کہ یہ اندھا تھا اور بینا ہو گیا ہے۔جب تک اُنہوں نے اُس کے ماں باپ کو جو بینا ہو گیا تھا بُلا کر ۱۹ اُن سے نہ پُوچھ لیا کہ کیا یہ تمہارا بیٹا ہے جسے تُم کہتے ہو کہ اندھا پیدا ہُوا تھا؟ پھر وہ اب کیونکر دیکھتا ہے؟ ۲۰ اُس کے ماں باپ نے جواب میں کہا:ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمارا بیٹا ہے اور اندھا پیدا ہُوا تھا۔ ۲۱ لیکن یہ ہم نہیں جانتے کہ اب وہ کیونکر دیکھتا ہے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کس نے اُس کی آنکھیں کھولیں۔ وہ تو بالغ ہے، اُسی سے پُوچھو۔ وہ اپنا حال آپ کہہ دے گا۔ ۲۲ یہ اُس کے ماں باپ نے یہودیوں کے ڈر سے کہا کیونکہ یہودی ایکا کر چُکے تھے کہ اگر کوئی اُس کے مسیح ہونے کا اقرار کرے تو عبادت خانہ سے خارج کیا جائے۔ ۲۳ اس واسطبے اُس کے ماں باپ نے کہا کہ وہ بالغ ہے اُسی سے پُوچھو۔

یہودیوں نے پرانے عہدنامہ کے معجزوں کا مسیح نے کیے ہُوئے خدا کے کارناموں سے موازنہ کرنے سے انکار کیا جو حیرت انگیز تھے۔ وہ نہ مانتے تھے کہ آپ نبی یا خدا کے بھیجے ہُوئے تھے ورنہ اُن کا درجہ اور حیثیت عیب دار اور قابلِ ملامت ٹھہرتے۔

وہ پھرمغالطہ میں پڑ گیے اور کہا کہ یہ معجزہ وہم تھا اور وہ شخص بھی نابینا نہ تھا۔وہ یہاں تک کہنے کو راضی تھے کہ یسوع کے ہاتھوں ایسا معجزہ ہونا ناممکن تھا۔ اُن کی نگاہ میں جنم کے اندھے شخص کو جس کی اذیّت موروثی خطا کا نتیجہ ہوتی ہے،بینائی دینا ناممکن بات تھی۔

اس شخص کے والدین کو بھی بُلایا گیا جنہیں اُن کے بیٹے کے مسائل پولیس کے ذریعہ معلوم ہو چُکے تھے۔ اُنہوں نے فریسیوں کے خوف سے بہت ہی احتیاط کے ساتھ بات چیت کی اور جو کچھ اپنے بیٹے سے اس معاملہ کے بارے میں سُنا تھا اُس سے انکار کیا اور اپنے بیٹے کو بھی ترک کردیا تاکہ کسی پیچیدگی میں مبتلا نہ ہوں۔چنانچہ بیٹا خود اپنی ذمّہ داری خود اُٹھانے کے لیے اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا۔جماعت سے خارج کیا جانا سنگین معاملہ سمجھا جاتا تھا۔یہ فعل ویسے ہی دردناک تھا جیسے جذام کےکسی مریض کامعاشرہ سے خارج کیا جانا۔اس کا مطلب تمام حقوق اور شادی سے محرومی بھی ہوسکتا تھا۔یہودیوں کی یسُوع سے نفرت اِس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ وہ آپ کے پیروؤں کو بھی تباہ کرنے پر تُلے ہُوئے تھے۔

دعا: اے خداوند یسُوع!ہم آپ کے شکرگزار ہیں کیونکہ آپ خدا کا اختیار ہیں جو مجسِّم ہُوئے۔ آزمائش کے وقت ہمیں اپنے تحفُّظ اور تسکین و تشفّی سے لپٹے رہنے کی بجائے آپ کی رفاقت میں رہنے کی ترغیب دیجیے۔ہمیں توفیق دیجیے کہ ہم نفس کُشی، ہمّت اور وفاداری سے کام لیں اور آپ کوترک کرنے اور بھُلا دینے کی بجائے مَوت کو ترجیح دیں۔

سوال ۶۷۔ یہودیوں نے جنم کے اندھے شخص کی شفا یابی کو ناممکن کیوں قرار دیا؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 07, 2012, at 12:20 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)