Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 065 (Jesus reveals himself to the healed one)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ج : یسُوع کی یروشلیم میں آخری آمد۔ (يوحنَّا ۷: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴) تاریکی اور نُور کی علحدگی٠

۔۲ : جنم کے اندھے شخص کی شفا یابی ( یُوحنّا ۹: ۱ ۔۴۱)٠

ج : یسُوع، اُس شفا یافتہ شخص کو بتاتے ہیں کہ آپ خدا کے بیٹے ہیں (یُوحنّا ۹: ۳۵۔۳۸)٠


یُوحنّا ۹: ۳۵۔۳۸
۔۳۵ یسُوع نے سُنا کہ اُنہوں نے اُسے باہر نکال دیا اور جب اُس سے ملا تو کہا: کیا تُو خدا کے بیٹے پر ایمان لاتا ہے؟ ۳۶ اُس نے جواب میں کہا:اے خداوند وہ کون ہے کہ میں اُس پر ایمان لاؤں؟ ۳۷ یسُوع نے اُس سے کہا:تُو نے تو اُسے دیکھا ہے اور وہ جو تُجھ سے باتیں کرتا ہے، وہی ہے۔ ۳۸ اُس نے کہا: اے خداوند، میں ایمان لاتا ہُوں اور اُسے سجدہ کیا۔

ہم نے یہ اطنئنان بخش کہانی پڑھی ہے۔ جب یسُوع کوخبر ملی کہ اُس شفا یافتہ شخص کو عبادت خانہ سے خارج کر دیا گیا تو آپ اُسے ڈھونڈنے نکلے اور اُسے پریشان حال پایا۔یہ تشفّی و تسکین ہر اُس معتقد کو مُیسّر ہوتی ہے جو اپنے خویش واقارب اور دوستوں سے مسیح کی خاطر جدا کیا جاتا ہے۔ اگر آپ ایسی حالت میں ہوں تو ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ یسُوع آپ کی آہ و زاری ضرور سُنیں گے اور بذاتِ خود آپ کے پاس آئیں گے اور پھرآپ سے جدا نہ ہوں گے۔لوگوں سے توقع نہ رکھئے ورنہ آپ مایوس ہو جائیں گے۔ صرف یسُوع کی طرف رجوع کیجیے۔ یسُوع کے علاوہ زمین اور آسمان پر آپ کو کسی سے امیّد نہیں ہو سکتی۔ یسُوع آپ سے محبّت کرتے ہیں۔

تب یسُوع نے اس نوجوان سے ایک اہم سوال پُوچھا:"کیا تُو خدا کے بیٹے پر ایمان لاتا ہے جو کہ ابن آدم بھی ہے؟"اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ یسُوع جانتے تھے کہ یہ شخص کتابِ مُقدّس کے پرانے عہدنامہ کے کچھ نوشتوں سے واقف تھا اور وہ دانی ایل ۷: ۱۳۔۱۴ کے مطابق جانتا تھا کہ ابن آدم دنیا کا انصاف کرنے والا اور خدا کا بیٹا ہے۔ یسُوع نے یہ اِس لیے پُوچھا کیونکہ آپ جاننا چاہتے تھے کہ یہ نوجوان خدا کے بیٹے کی عظمت کا ہمیشہ کے لیے مطیع ہونا چاہتا بھی ہے یا بعد میں مرتد ہوگا؟اُسے یہ محسوس ہو ہی چُکا تھا کہ یسُوع کوئی معمولی انسان نہیں ہیں اور اسی لیے "خداوند" کہہ کر آپ سے مخاطب ہُوا۔ پھر بھی وہ خدا کے بیٹے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ محض کسی انسان کی عبادت نہ کرے جسے بُت پرستی قرار دیا جاتا۔

اس پر یسُوع نے اسے نہایت شاندار جواب دیا:"اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھنے سے قبل تُو اُسے اپنے ایمان کی بدولت دیکھ چُکا ہے۔میں ہی وہ ہُوں ،خدا کا بیٹا، جو تُجھ سے بول رہا ہے۔"اس نوجوان نے آپ کی مکمل اطاعت میں اور تاخیر نہ کی۔وہ آپ کے حضور سرنگوں ہوا گویا یہ کہنا چاہتا ہو:"خداوند! میں آپ کا ہُوں اور آپ میرے بادشاہ، میرے مالک اور میرے خداوند ہیں۔آپ ہی محبّت ہیں جو مُجسِّم ہُوئی۔ میں نہایت خلوص کے ساتھ آپ کی اطاعت کرتا ہُوں اور آج سے آپ کا غلام بن جاتا ہُوں۔" اے بھائی،کیا آپ نے خدا کے بیٹے یسُوع کو انسان کی شکل میں دیکھا ہے؟کیاآپ نے معتقد کے طور پریسُوع کی غلامی قبول کی ہے اور کیا آپ نے خادم کے طور پریسُوع کی عبادت کی ہے؟

یُوحنّا ۹: ۳۹۔۴۱
۔۳۹ یسُوع نے کہا: میں دنیا میں عدالت کے لیے آیا ہُوں تاکہ جو نہیں دیکھتے وہ دیکھیں اور جو دیکھتے ہیں وہ اندھے ہو جائیں۔ ۴۰ جو فریسی اُس کے ساتھ تھے اُنہوں نے یہ باتیں سُن کر اُس سے کہا: کیا ہم بھی اندھے ہیں؟ ۴۱ یسُوع نے اُن سے کہا کہ اگر تُم اندھے ہوتے تو گنہگار نہ ٹھہرتے مگر اب کہتے ہو کہ ہم دیکھتے ہیں، پس تمہارا گناہ قائم رہتا ہے"۔

جب وہ نوجوان یسُوع کے حُضور سربسجود ہُوا تو کسی نے اُسے روکا نہیں کیونکہ یسُوع ہر عجز و جلال کے مستحق ہیں۔ لیکن یسُوع نے کہا کہ آپ کی یہ آمد مغروروں اور اُن پارساؤں کا انصاف کرے گی جو خود کو با بصیرت تصوّر کرتے ہیں لیکن حق کو مطلق نہیں جانتے۔نابینا لوگوں اور گنہگاروں نے یہ جان لیا اور توبہ کی اور زناکار پاک و صاف کیے گیے۔یسُوع نے توبہ نہ کرنے والوں کا انصاف نہیں کیا۔ اُنہوں نے آپ کی نجات کو ٹھُکرا کر اپنا انصاف خود کر لیا ہے۔اُنہوں نے ماضی میں نبیوں اور پاک نوشتوں کے ذریعہ کچھ تو ہدایت اور روشنی پائی تھی لیکن اگر وہ جان بوجھ کر یسُوع کی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں تو وہ اُس روشن خیالی سے بھی محروم ہو جائیں گے جو کہ مل سکتی تھی۔وہ اندھے، سخت دل، ضِدّی اور اپنی نفرت کے باعث، جان لینے والے بن جائیں گے۔ مسیح کی آمد اور آپ کی تعلیم کے دو نتیجے نکلتے ہیں:نجات یا دائمی عذاب؛ برکت یا لعنت۔آپ کے دل میں کیا نتیجہ نکلتا ہے؟

یسُوع کے سامعین میں فریسی بھی تھے جنہوں نے محسوس کیا کہ یسُوع کے الفاظ اُن کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔لہٰذا اُنہوں نے پُوچھا،"کیا ہم اندھے ہیں؟" یسُوع نے اُن کی ریاکاری کو یہ کہہ کر چھیدڈالاکہ" اگر تُم واقعی خود کو اندھا سمجھتے اور اپنی رُوحانی حالت پر افسوس کرتے تو یُوحنّا بپتسمہ دینے والے کے روبرو اپنے گناہوں کا اقرار کرکےتوبہ کرتے اور اپنے گناہ ترک کرتے۔تب تُم معافی اور برکت پائے ہوتے۔ لیکن تُم خود کو دھوکا دے رہے ہو اور دعویٰ کرتے ہو کہ تُم سب کچھ جانتے ہو، یہ سوچ کر کہ تُم راستباز ہو۔ لیکن اِس شیخی سے تُم اپنی نابینائی اور سخت دلی ثابت کر رہے ہو۔اِس لیے دنیا کے نُور سےتُم روشنی کی ایک کِرن بھی نہ پاؤگے"۔

دعا: خداوند یسُوع،آپ انسان کی شکل میں خدا کے بیٹے ہیں۔ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی وقت ہمیشہ کے لیے آپ کے مطیع بن جاتے ہیں۔ہم اپنی تمام قوّتوں اور اپنی ملکیت کی سبی چیزوں کے ساتھ اپنے آپ کو آپ کے حولے کرتے ہیں ۔ہم آپ سے استدعا کرتے ہیں کہ آپ ہمیں معاف فرما کرہمارے دلوں کی تقدیس کیجیے تاکہ کوئی گناہ، خواہ وہ کتنا ہی خفیف ہو، ہمیں آپ سے جدا نہ کرے۔

سوال ۶۹۔ یسُوع کے آگے سرنگوں ہونے کا کیا مطلب ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 07, 2012, at 01:07 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)