Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 058 (Sin is bondage)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ج : یسُوع کی یروشلیم میں آخری آمد۔ (يوحنَّا ۷: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴﴾ تاریکی اور نُور کی علحدگی٠

۔۱۔ عیدِ خیام کے موقع پر یسُوع کا کلام (یُوحنّا ۷: ۱ ۔ ۸: ۵۹)٠

ھ ۔ گناہ ،غلامی ہے (یُوحنّا ۸: ۳۰۔۳٦)٠


یُوحناّ ۸: ۳۰۔۳۲
۔۳۰ جب وہ یہ باتیں کہہ رہا تھا تو بہتیرے اُس پر ایمان لائے۔ ۳۱ پس یسُوع نے اُن یہودیوں سے کہا جنہوں نے اُس کا یقین نہ کیا تھا کہ اگر تُم میرے کلام پر قائم رہوگے تو حقیقت میں میرے شاگرد ٹھہروگے۔ ۳۲ اور سچّائی سے واقف ہوگے اور سچّائی تُم کو آزاد کرے گی۔

مسیح کی فروتن لیکن پُر اثر گواہی نے بہت سے سامعین کو متاثر کیا۔ آپ خدا کی طرف سے آئے ہیں یہ مان کروہ آپ پر ایمان لانے پر راغب ہو گیے ۔ یسُوع نے ان کے اعتقاد کو محسوس کیا اوریہ بھی تسلیم کیا کہ وہ آپ کا کلام سُننےکے لیےراضی ہیں۔چنانچہ آپ نے اُن سے گزارش کی کہ وہ نہ صرف آپ کی اِنجیل پر ایمان لائیں بلکہ آپ کے کلام پر بھی غور کریں اورانگور کی شاخ کی طرح آپ کے ساتھ مل کر رہیں تاکہ آپ کا رُوح بغیر کسی رُکاوٹ کے اُن کے دلوں اور خیالات میں سرایت کر جائے۔یہ اُنہیں آپ کی مرضی کے مطابق عمل کرنے کے لیے راغب کرے گا۔ جو کوئی اس طرح مسیح کے کلام پر عمل کرتا ہے وہ حق (سچّائی)سے آشنا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ حق محض تصوّر نہیں ہےبلکہ حقیقی تجربہ ہے جس میں ہم اپنی زندگی کے ردِّ عمل سے شریک ہو جاتے ہیں ۔

اوّل تو خدا کی سچّائی زبان سے ظاہر ہوتی ہے جو مخلص اور پُر حکمت ہوتی ہے۔ سچّائی کادوسرا مطلب خدا کو،باپ، بیٹے اور پاک رُوح کی وحدانیت میں جاننا ہے جو اُس کی محبّت اور عمل میں ظاہر ہوتی ہے۔جوں ہی ہم مسیح میں جڑ پکڑ لیتے ہیں، مقدّس تثلیث کی خوبصورتی کوجان جاتے ہیں۔

خدا کا ادراک حاصل ہونے سے ہماری زندگی بدل جاتی ہے۔ہم خدا کو اُسی حد تک جانتے ہیں جتنی کہ ہم دوسروں سے محبّت کرتے ہیں۔ جو محبّت نہیں کرتا وہ خدا کو نہیں جانتا۔مسیح کے کلام کے ذریعہ خدا کو جاننے سے ہم خود غرضی سے مخلصی پاتے ہیں۔توبہ کی باتیں کرنے یا شرعی خدمت کرنےسے ہم گناہ کی غلامی سے آزاد نہیں ہو جاتے۔اگر کوئی شَے ہمںر یہ آزادی دلا سکتی ہے تو وہ خدا کی محبّت کو جاننا ، بیٹے کی طرف سے ملنے والی معافی کو قبول کرنا اورپاک رُوح کا ہماری زندگی میں آ جانا ہے۔خدا کی محبّت ہی خودغرضی اور خودی کی زنجیریں توڑ ستیط ہے۔

یُوحناّ ۸: ۳۳۔۳٦
۔۳۳ اُنہوں نے اُسے جواب دیا:ہم تو ابرہام کی نسل سے ہیں اور کبھی کسی کی غلامی میں نہ رہے۔ تُو کیونکر کہتا ہے کہ تُم آزاد کیے جاؤگے؟ ۳۴ یسُوع نے اُنہیں جواب دیا:میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو کوئی گناہ کرتا ہے، گناہ کا غلام ہے۔ ۳۵ اور غلام ابد تک گھر میں نہیں رہتا، بیٹا ابد تک رہتا ہے۔ ۳٦ پس اگر بیٹا تُمہیں آزاد کرے گا تو تُم واقعی آزاد ہوگے۔

یہودی حیران تھے۔اُن کے آبا و اجداد چار سَو سال تک مصر میں فرعون کی غلامی میں رہے اور وہ سوچتے تھے کہ اب وہ خدا کی قدرت سے آزاد ہو چُکے تھے کیونکہ اُس نے اُنہیں اُس غلامی سے نکال لایا تھا (خُروج ۲۰:۲)۔ لیکن جب یسُوع نےاُن کے آزاد ہوجانے سے انکار کیا توآپ کے ان الفاظ سے اُنہیں کوُفت ہُوئی۔

یسُوع کواُن لوگوں کا گھمنڈ اُتارنا تھا جو آپ پر ایمان لانے لگے تھے۔آپ نے اُنہیں بتایا کہ وہ گناہ کے غلام ہیں اور شیطان نے اُنہیں اسیر کرکے رکھا ہے۔ اگر ہم اپنی غلامی کی سنگینی کو محسوس نہ کرسکے تو نجات کی تمنّا نہ کرپائیں گے۔جو شخص جانتا ہے کہ وہ اپنے گناہوں پر قابو نہیں پا سکتا وہی خدا سے استدعا کرتا ہے کہ وہ اُسے نجات بخشے۔یہی وجہ ہے جو کئی لوگ یسُوع کی جُستجو میں نہیں رہتے کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ اُنہیں آپ کے نجات کی ضرورت نہیں ہے۔

یسُوع نے نہایت زور دے کر یہ اعلان کیا :"جو گناہ کرتا ہے وہ گناہ کا غلام بن جاتا ہے۔" کئی نوجوان جھوٹ بولتے ہُوئے ، سُستی و کاہلی اورنکمّے پن سےاپنی زندگی کا آغازکرلیتے ہیں۔وہ گناہ سےکھیلتے رہتے ہیں اور اپنے تخیُّل میں اُس میں لوٹتے رہتے ہیں۔بلآخر وہ اُس میں اُلجھنے کا قصد کر لیتے ہیں اور دھوکے میں آکر غلط راہ اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ کسی بھی عِلّت میں پڑ جاتےہیں اور بار بار اُس کو دہرا تے رہتے ہیں یہاں تک کہ اُس کے عادی ہو جاتے ہیں۔لیکن جب اُنہیں اُس کی گندگی اور بیہودگی کا احساس ہوجاتا ہے اوراِس س،لسِلہ میں خود اپنے ضمیر کی ملامت کو سُن لیتے ہیں تب بہت دیر ہو چُکی ہوتی ہے۔تب تک وہ اپنے گناہوں کے غلام بن چُکے ہوتے ہیں۔اب با دلِ ناخواستہ اُن کے قدم ارتکابِ جُرم کی جانب بڑھنے لگتے ہیں۔تب وہ اُس گھڑی پر لعنت بھیجنے لگتے ہیں جب وہ اپنے بُرے خیالات کے مطیع ہوگئے تھے۔لوگ بدکار بن چُکے ہوتےہیں حالانکہ جھوٹی پارسائی کے نقاب کے پیچھے وہ حقیقت چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ہر وہ آدمی جو مسیح کے بغیر جیتا ہے وہ اپنی نفسانی خواہشوں کا غلام ہوتا ہے۔ شیطان بھی اُن کو ویسے ہی دق کرتا ہے جیسے طوفان میں سوکھے پتّے کا حشر ہو جاتا ہے۔

تب خدا کا بیٹا اپنا شاہی فرمان جاری کرتا ہے،"اِس وقت میں تمہارے ساتھ ہُوں اور تمہاری زنجیروں سے واقف ہُوں۔میں تمہارے گناہ مٹا کر تمہیں بری کر سکتا ہُوں اور اس کے لیے مستعد و تیّار بھی ہُوں۔ میں دُنیا کی اُوپری اصلاح کرنے یا تمہیں کسی سخت خانون کے ذریعہ تادیب کر نے کے لیے نہیں آیا۔ ہرگز نہیں، بلکہ میں تمہیں گناہ کی طاقت اور مَوت کی قوّت اور اُن حُقوق سے جن کا شیطان دعویٰ کرتا ہے،آزاد کرنے آیا ہُوں۔میں تمہاری نئے سرے سے تخلیق و تجدید کروں گا تاکہ تمہارے اندر موجود خدا کی طاقت تمہارے گناہ کا تریاق بن جائے۔ اس میں شک نہیں کہ شیطان تمہیں ہزار طرح سے آزمائے گا۔ تُم ڈگمگاؤگے لیکن غلام کی طرح نہیں بلکہ اس اولاد کی طرح جو نہایت سنجیدگی کے ساتھ اپنے نئے حقوق لیے ہوتے ہیں"۔

۔"تُم ہمیشہ کے لیے مخلصی پاؤگے،جس کا کفّارہ میرے خون سے ادا کیا جا چُکا ہے اور تمہیں گناہ کے بازار سے خریدا گیا ہے۔تُم خدا کے لیے ایک مخصوص شخصیت ہو۔اُس نے تمیں مُخلصی بخشی تاکہ تُم آزادبیٹے بن سکو۔ گناہ سے آزاد کیے ہُوئے اور میں تمہیں خدا کی رفاقت میں پہنچا دُوں گا تاکہ تُم اپنی مرضی سے شکرگزاری کے ساتھ اُس کی خدمت کر سکو۔ میں ہی وہ مُنجی ہُوں جو تمہیں خطاؤں کی قید سےنجات دلاکرخدا کی بادشاہی میں لے آتا ہے۔میں خدا کا بیٹا ہُوں جسے اُن سب لوگوں کو نجات بخشنے کا اختیار ہے جومیری آواز سُنتے ہیں "۔

دعا: اے خداوند یسُوع، ہم آپ کی عبادت اور تمجید کرتے ہیں کیونکہ آپ قادرِ مُطلق مُنجی ہیں جنہوں نے آخر کار صلیب پر ہمیں شیطان کے ظلم سے نجات دلادی۔آپ نے ہماری سبھی خطائیں بخش دیں۔آپ ہمیں پاک کیجیے تاکہ ہم تلخی (کڑواہٹ) اور نفرت کے غلام نہ رہیں بلکہ خدا کے آزاد اور شادمان بیٹوں کی طرح اُس کی خدمت کرتے رہیں۔

سوال ٦۲۔ ہم یقینی طور پر مخلصی (نجات)کیسے پا سکتے ہیں؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:55 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)