Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 057 (Jesus the light of the world)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ج : یسُوع کی یروشلیم میں آخری آمد۔ (يوحنَّا ۷: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴﴾ تاریکی اور نُور کی علحدگی٠

۔۱۔ عیدِ خیام کے موقع پر یسُوع کا کلام (یُوحنّا ۷: ۱ ۔ ۸: ۵۹)٠

د ۔ یسُوع دُنیا کا نُور ہیں (یُوحنّا ۸: ۱۲۔۲۹)٠


یُوحناّ ۸: ۲۵۔۲۷
۔۲۵ اُنہوں نے اُس سے کہا: تُو کون ہے؟ یسُوع نے اُن سے کہا: وہی ہُوں جو شروع سے تُم سے کہتا آیا ہُوں۔ ۲٦ مجھے تمہاری نسبت بہت کچھ کہنا اور فیصلہ کرنا ہے لیکن جس نے مجھے بھیجا وہ سچّا ہے اور جو میں نے اُس سے سُنا وہی دنیا سے کہتا ہُوں۔ ۲۷ وہ نہ سمجھے کہ ہم سے باپ کی نسبت کہتا ہے۔

مسیح کا اپنی اُلوہیّت پر مصر رہنے کے باوجودیہودی متواتر یہ پوچھتے رہے کہ "آپ کون ہیں؟اِس سِلسِلہ میں ہمیں کوئی اشارہ دیجیے اور اِس مسلہ کی ایسے الفاظ میں صفائی پیش کیجیے جسے ہم سمجھ سکیں!"حالانکہ آپ نے اُن کے پوچھنے سے پہلے ہی نہایت صاف الفاظ میں اپنے بارے میں اُنہیں سب کچھ بتادیا تھا۔

یسُوع نے اُنہیں جوب دیا:"میں شروع ہی سے حقیقی خدا ہُوں، پھر بھی تُم میرا کلام نہ سمجھ پائے۔ میری رُوح نے تمہارے دلوں میں پاؤں رکھنے کی جگہ بھی نہیں پائی ۔میرے نام اور القاب کے متعلق انکشاف تمہارے لیے کسی فائدہ کا نہیں۔ میں خدا کا کلام ہُوں جو مُجسِّم ہُوا۔لیکن تُم میرا کلام نہ سُنتے ہو اور نہ سمجھتے ہو کیونکہ تُم اِس نیچے کی دُنیا کے ہو، خدا کی طرف سے نہیں ہو۔اِس لیے تُم میری رُوح کو موقع ہی نہیں دیتے کہ وہ تمہاری توجہ ان باتوں کی طرف مبذول کرے۔ میرے بار بار کہنے کے باوجود کچھ فائدہ نہ ہُوا کیونکہ تُم سخت دل ہو۔ اسی لیے میرا کلام تمہارا انصاف کرے گا حالانکہ میں تُم سے پیار کرتا ہُوں اور اپنے آپ کو تُم پر منکشف کرتا ہُوں۔تم میں سے ایک یا دو افراد شاید میری عظمت کو جاننے لگیں کیونکہ میں چاپتا ہُوں کہ تمہیں نجات بخشوں اور تمہاری تجدید کروں۔ خدا جھوٹا نہیں ہے بلکہ وہ سچّا ہے جس طرح کہ میں سچّاہُوں۔ لیکن وہ سچّائی تمہیں تباہ کر دے گی کیونکہ تُم رُوح کو اپنے دل میں اُترنے سے روکتے ہو۔"پھر بھی یہودی اِن مکاشفوں کا خفیہ مطلب نہ سمجھ پائے اور نہ آپ کی باپ کے ساتھ وحدت کا مقصد و اہمیت ہی دیکھ سکے۔انہوں نے آپ کا کلام تو سُنا لیکن کچھ بھی سمجھ نہ پائے کیونکہ وہ آپ کا یقین ہی نہ کرتے تھے۔آپ پر محض ایمان لانے سے ہمارے دماغ پرسبھی سچّائیاں واضح ہو جاتی ہیں۔

یُوحناّ ۸: ۲۸۔۲۹
۔۲۸ پس یسُوع نے کہا کہ جب تُم ابنِ آدم کو اونچے پر چڑھاؤگے تو جانوگے کہ میں وہی ہُوں اور اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتا بلکہ جس طرح باپ نے مجھے سکھایا اسی طرح یہ باتیں کہتا ہُوں۔ ۲۹ اور جس نے مجھے بھیجا وہ میرے ساتھ ہے۔ اس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا کیونکہ میں ہمیشہ وہی کام کرتا ہُوں جو اُسے پسند آتے ہیں۔

یسُوع جانتے تھے کہ آپ کے دشمن، یہاں تک کہ آپ کے شاگرد بھی آپ کے بارے میں سچّائیاں جان نہ سکے۔ کیونکہ پاک رُوح اب تک اُنڈیلا نہ گیا تھا۔لیکن یسُوع کو یقین تھا کہ آپ کے صلیب پر لٹکائے جانے سے دنیا کے گناہ مٹا دئیے جائیں گے اور آپ کے آسمان پر اپنے باپ کے پاس صعود فرمانے سے پاک رُوح اُنڈیلا جائے گا۔اُس وقت آپ کی ہستی کا ادراک یہودیوں اور غیر قوموں کے دماغ پر بجلی کی طرح کوندے گا۔یسُوع کی وحدانیت کا اندازہ پاک رُوح کے کام کے بغیر نہیں ہو سکتا۔منطقی دلائل سے کام لینا بے سود ہے۔از سرِ نَو پیدایش ہی نمایاں ایمان پیدا کرتی ہے ٹھیک اسی طرح جیسے مسیح کی شرافت میں پختہ ایمان انسان کو دوبارہ پیدا کرتا ہے۔

مسیح نے یہ نہ کہا کہ آپ اپنے میں جداگانہ اور مکمل ایزدی ہستی ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ آپ نے یہ اعلان کیا کہ آپ اور باپ ایک ہیں اور آپ اپنےباپ کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔مزید یہ کہ آپ بذاتِ خود کچھ نہیں کرتے بلکہ باپ آپ میں ہو کر کام کرتا ہے۔آپ کی عجز و انکساری کا اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو "خدا کا رسُول" مانا۔حالانکہ اُسی جملہ میں آپ نے خود کو"زمانہ کا خداوند" بھی قرار دیا۔

ہمارا باپ سلیمُ الطبع نہیں ہے بلکہ جیسا کہ پاک رُوح بتاتا ہے، سادہ لوح ہے۔یسُوع نے ظاہر کی ہُوئی مُقدّس تثلیث کے اتحاد کی پُر جلال سچّائی کے مطابق ہی یُوحنّا نے اِن اعلیٰ معانی کو قلمبند کیا۔یسُوع نے اپنا بیان جاری رکھا،"باپ ہمیشہ میرے ساتھ رہا اور اب بھی ہے اور مجھے ایک پل کے لیے بھی ترک نہیں کیا۔ بیٹے نے بھی اپنے آسمانی باپ کو ترک نہ کیا یا اُس کے خلاف بغاوت نہ کی بلکہ اس کی مرضی کے مطابق اُس کا وفادار رہا۔آپ اپنے باپ کی مرضی کے مطابق آسمان سے آئے اور انسان بنے۔" آپ کا یہ بیان کس قدر خوبصورت ہے:"میں ہر وقت وہی کرتا ہُوں جس سے میرا باپ خوش ہوتا ہے۔"صرف بیٹا ہی ایسے الفاظ کہہ سکتا ہے جو ہمیشہ پاک رُوح کی معموری میں اپنے باپ کے ساتھ ہم آہنگ رہتا ہے۔ یسُوع شریعت کے پابند رہے۔ اس سے بھی بڑھ کریہ کہ آپ خود نئے عہدنامہ کی معقول شریعت رہے۔ پھر بھی یہودی آپ کو کافر قرار دیتے ہُوئے شریعت کی مخالفت کرنے والا اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا ٹھرواتے تھے حالانکہ صرف آپ ہی شریعت کے پابند رہے۔

مسیح نے اپنے بارے میں جو اعلانات کیے، کیا اُن میں تمہیں رُوح کی صدا سُنائی دی؟کیا تمہیں یسُوع کی عظمت و حلیمی اور آپ کی آزادی و باپ کی اطاعت کا احساس ہُوا؟اسی طرح آپ تمہیں فوراً اطاعت اور آزادی کے ساتھ اپنی محبّت کی رفاقت میں لینا چاہتے ہیں۔آپ اپنی موجودگی سے تمہیں رہائی اور خدمت کی جانب راغب کریں گے۔آپ تمہارے اُستاد ہوں گے اور تُم آپ کے بغیر کچھ بھی نہ کرسکوگے اور ہمیشہ ایسے کام کروگے جن سے یسُوع خوش ہوں ۔

دعا: اے خداوند یسُوع، میں اپنی ضد ،مکاری اورقصورپر شرمندہ ہُوں۔میری خطاکاری معاف کیجیے۔ میری تقدیس کیجیے تاکہ میں آپ کے پاک رُوح کی ہدایت پر عمل کر سکوں۔میرے رہنما اور اُستاد بن جائیے اور میرے دل و دماغ کو آپ کی ابدی محبّت کے لیے کھول دیجیے۔

سوال ٦۱۔ یسُوع نے مقدّس تثلیث میں اپنی استقامت کا کیسے اعلان کیا؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:54 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)