Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 029 (Jesus leads the adulteress to repentance)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ اوّل ۔ایزدی نُور کا چمکنا (یُوحنّا ۱: ۱ ۔ ۴: ۵۴)۔

ج ۔ مسیح کی یروشلیم میں پہلی تشریف آوری ۔ (یُوحنّا ۲: ۱۳۔ ۴: ۵۴) ۔ حقیقی عبادت کیا ہے؟

٤ - یسُوع سامریہ میں ﴿يوحنا ۴: ١- ۴٢﴾٠

أ- مسیح ایک زانیہ کو توبہ کرنےکی توفیق عنایت کرتے ہیں (یُوحنّا ۴: ۱۔۲٦)٠


یُوحناّ ۴: ۱٦۔۲۴
۔۱٦ یسُوع نے اس سے کہا جا اپنے شوہر کو یہاں بلا لا۔ ۱۷ عورت نے جواب میں اس سے کہاکہ میں بے شوہر ہوں۔یسُوع نے اس سے کہاکہ تو نے خوب کہا کہ میں بے شوہر ہوں۔ ۱۸ کیونکہ تو پانچ شوہر کر چکی ہے اور جس کے پاس تو اب ہے وہ تیرا شوہر نہیں۔یہ تو نے سچ کہا۔ ۱۹ عورت نے اس سے کہا،اے خداوند مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تو نبی ہے۔ ۲۰ ہمارے باپ دادا نے اس پہاڑ پر پرستش کی اور تم کہتے ہو کہ وہ جگہ جہاں پرستش کرناچاہئے یروشلیم میں ہے۔ ۲۱ یسُوع نے اُس سے کہا، اے عورت میری بات کا یقین کر کہ وہ وقت آتا ہے کہ تم نہ تو اس پہاڑ پر باپ کی پرستش کرو گے اور نہ یروشلیم میں۔ ۲۲ تم جسے نہیں جانتے اسکی پرستش کرتے ہو۔ہم جسے جانتے ہیں اسکی پرستش کرتے ہیں کیونکہ نجات یہودیوں میں سے ہے۔ ۲۳ مگر وہ وقت آتا ہے بلکہ اب ہی ہے کہ سچے پرستار باپ کی پرستش رُوح اور سچائی سے کرینگے کیونکہ باپ اپنے لیے ایسے ہی پرستار ڈھونڈتا ہے۔ ۲۴ خدا رُوح ہے اور ضرور ہے کہ اسکے پرستا ر رُوح اور سچائی سے پرستش کریں۔

یسُوع نے اس عورت میں زندگی کے پانی کی پیاس جگانے کے بعدخدا کی نعمت حاصل کرنے کی اُس کی خواہش بھی پوری کردی اور اُسے بتایا کہ اُس کا گناہ اُسے خدا کی یہ نعمت حاصل کرنے سے محروم رکھے ہُوئے تھا۔آپ نےتلخ الفاظ میں یہ کہہ کر کہ "توزانیہ ہے،" اُسے قصوروار نہیں ٹھہرایابلکہ نہایت نرمی سے اسے اپنے خاوند کو اپنے پاس لے آنے کو کہا۔اس گزارش سے وہ دہل گئی۔ سب عورتوں کی طرح وہ بھی شوہر کےسایۂ عاطفت اور فکر و التفات کی خواہاں تھی۔لیکن وہ تنہا اور حقیر تھی اور یسُوع پر اپنی شرمندگی ظاہر کرنا نہیں چاہتی تھی۔لہٰذا اس نے یہ کہہ کرکہ" میں بے شوہر ہوں،"اپنی عِصمت پر پردہ ڈالنا چاہا۔

یسُوع نے اپنے دعوے کی تصدیق کی کہ آپ ہی حق ہیں جو سب راز جانتے ہیں۔آپ جانتے تھے کہ وہ عورت آوارہ اور تنہاتھی،جو شہوت میں محبت ڈھونڈتی رہی اور اِس طرح گناہ پر گناہ کرتی رہی۔

زِناکا ہر فعل بدبختی اور تباہی لاتا ہے۔وہ ضمیر کو مروڑ تا اور ہمارے اندرونی احساسات کوبے چین کر دیتا ہے،جیسا کہ عورتوں میں دیکھا جاتا ہے۔ایک عورت جو صحبت اور مفاہمت کے لیے مضطرب اور پریشان ہوتی ہے، ایسے تفرقہ کے باوجود بھی چاہتی ہے کہ اُس کا بھی کوئی خاوند ہو۔

اب اُس عورت نے جان لیا کہ یسُوع کوئی معمولی انسان نہیں ہیں بلکہ کسی نبی کے جیسی بصیرت رکھتے ہیں۔اُس کا ضمیر جانتا تھا کہ صرف خدا ہی اسکی مدد کر سکتا ہے۔لیکن وہ اسے کہاں ملے گا؟ اور اُسے پانے کا ذریعہ کیا ہے؟ دعا اور مذہبی رسوم سے وہ بیگانہ ہو چُکی تھی ۔برسوں سے اس نے کسی مذہبی رسم میں شرکت نہیں کی تھی لیکن پھر بھی وہ مُخلصی اور خدا کے ساتھ اِطمئنان حاصل کرنے کی خواہاں تھی۔

اُس کے اندر پاک ہونے کی پیاس جگا نے کے بعدیسُوع نےاسے احساس دلایا کہ اہم مسلہ یہ نہیں کہ عبادت کس جگہ کی جائے بلکہ یہ کہ کس کی عبادت کی جائے۔آپ نے اعلان کیا کہ خدا، آسمانی باپ ہے۔لہٰذاخدا کی پہچان کے طور پر آپ نے اُسے اپنی نجات بخشی۔آپ نے بنیادی لفظ، "باپ" تین مرتبہ استعمال کیا۔مسیح پر ایمان لانے سے ہی خدا کا اِدراک حاصل ہوتا ہے، ذوق یا تقویٰ سے نہیں۔

یسُوع نے واضح کردیا کہ ہرمعبود باپ کہلانے کے لائق نہیں ہوتا۔سامری مختلف معبودوں کی تعظیم کرتےتھےلیکن یہودی اُس خداوند کوجانتے تھے جس نے دنیا پر ظاہر ہوکر وعدہ کیا تھا کہ داؤدکی نسل سے دنیاکے لیےمُنجّی پیدا ہو گا۔

کتابِ مقدّس میں بیان کیا ہُوا مذہب ساری دنیا پر چھا جانے والا تھا۔تب سے خدا کی عبادت مخصوص عبادت خانوں تک محدود نہیں رہی۔سبھی معتقدوں کو خداکا مندر بننا تھا جن میں پاک رُوح سکونت کرتا اور انکی ساری زندگی خدا کے جلال کی پرستش میں گزر نی تھی۔جیسے ہی وہ مسیح کی محبت کے وسیع دائرے میں داخل ہو جاتے، آپ کی نجات اُن کی پہچان بن جاتی۔انہوں نے ایسی زندگی اختیار کی جوآپ کی قوّت سے راست، مخلص اورپاک تھی۔اُن کےآسمانی باپ نے اُن کی تجدید کی ہے۔انکی مخلص عبادت تمجید سے لبریز ہوتی ہے۔جب خدا کے فرزندخودبخود، شکرگزاری اور انتہائی خلوص و عقیدت کے ساتھ اس سے "ہمارا آسمانی باپ" کہہ کر مخا طب ہوتے ہیں تو اُسے انتہائی خوشی ہوتی ہے۔

خدا روح ہے،وہ کوئی بُت یا بھُوت نہیں ہے۔وہ ہمارا باپ ہے او ر ہم اسکی رُوح سے واقف ہیں۔ وہ ہماری کمزوریوں سے واقف ہے اور جانتا ہے کہ ہماری اُس تک رسائی نہیں ہو سکتی ۔وہ بیٹے میں ہو کرہمارے پاس آیا اور اپنی قربانی سے ہمیں پاک کیا تاکہ ہم اُس کا رُوح پائیں ۔خدا چاہتا ہے کہ اسکے بہت سےفرزند ہوں،کیونکہ صرف اسکے فرزند ہی رُوح اور سچائی کے ساتھ اسکی عبادت کر سکتے ہیں۔ہم اپنے آسمانی باپ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنے رُوح ، سچائی اور فضل سےمعمور کردےتاکہ ہماری زندگیاں اس کی محبت کا جواب بن جائیں۔

کوئی شخص باپ کی مناسب طور سےعبادت نہیں کرسکتا اِس لیے یسُوع نے ہمیں رُوح کی نعمت بخشی۔اُس رُوح میں ہوکر ہم وفادارملتجی،خوش مزاج خادم اور نڈر گواہ بن جاتے ہیں۔ تب ہماری زندگیاںمسیح کی صلیب سے نکلنے والی رُوحانی طاقت کی بدولت اپنے پیارے باپ کی عبادت کر پائیں گیں۔

مسیح نے ہیکل کی صفائی کی تاکہ وہاں حقیقی عبادت ہوسکے۔اُس گنہگار عورت کے سامنے باپ مسیح کی صورت میں ظاہر ہُوا۔

جب اُس نےاپنے گناہوں کا اقرار کیا اور زندگی کے پانی کے لیے اپنی پیاس کا اِظہار کیا تب یسُوع نے اس پر فضل کیا۔

دعا: اےآسمانی باپ،ہم تیرے شکرگزار ہیں کیونکہ تو چاہتا ہے کہ ہم تہہِ دل سے تیراحترام کریں اور اپنے چال چلن میں پاک رہتے ہوئے تیرے فضل کی تمجید کریں۔ہماری عبادت کو پاک کر۔ہمیں ایسے خادم بنا جو تیرے بیٹے کی پیروی کریں،جس نے ہمیشہ تیری تمجید کی۔ہمیں اپنی رُوح سے معمور کرتاکہ وہ ہمیں دعا کرنا سکھائے اورجس کی بدولت ہم ہمیشہ انجیل میں درج کیے ہُوئے تیرے کلام پرعمل کرتے رہیں۔

سوال ۳۳۔ حقیق عبادت میں مزاحمت کیسے ہوتی ہے؟حقیقی عبادت کیسے کی جاتی ہے؟

یُوحناّ ۴: ۲۵۔۲٦
۔۲۵ عورت نے اس سے کہا میں جانتی ہوں کہ مسیح جو خرستُس کہلاتا ہے آنے والا ہے۔جب وہ آئیگا تو ہمیں سب باتیں بتا دیگا۔ ۲٦ یسوع نے اس سے کہامیں جو تجھ سے بول رہا ہوں، وہی ہوں۔

عورت نے یسُوع کے پیار بھرے الفاظ کی قوّت اور سچاّئی کو محسوس کیا اوروہ آپ نے اُس سےکیے ہُوئے وعدے پورے ہوتے ہُوئے دیکھنا چاہتی تھی ۔اُسے مسیح کے دوبارہ آنے کے متعلق پیش گوئی یاد تھی۔اُس کی اُمیّدیں آپ کے نام سے وابستہ تھیں اور اُسے یقین تھا کہ صرف آپ ہی اسے خدا کی سچی عبادت کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔

تعجب اِس بات کا ہے کہ یسُوع نےاِس سے پہلے اس قدر صاف الفاظ میں اپنا تعارف کسی اور کے سامنے نہیں کیا جیسا کہ اِس عورت کے سامنے کیا۔آپ نے کہا کہ آپ ہی وہ موعودہ مسیح ہیں جو خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور رُوحُ القُدس سے معمور ہیں۔"میں خودنوعِ انسان کے لیے خدا کی عنایت ہُوں یعنی خدا کا کلام جو مُجسِّم ہُوا اور وہ نجات جو سب کے لیے تیّار کی گئی ہے"۔

وہ عورت یہ سمجھ نہ پائی کہ مسیح کا مطلب بادشاہوں کا بادشاہ،نبیوں کاپیشوا اور سردار کاہن ہوتاہے۔اس نے شایدیہ سنا ہو گا کہ مسیح کی آمد کا تعلق مرُدوں میں سے جی اُٹھنے اور زمین پر اِطمئنان قائم ہونے سے ہے۔ممکن ہے کہ اُس نے مسیح کے نام سے جُڑے ہوئے یہودیوں کے سیاسی خوابوں کے بارے میں بھی سُنا ہو۔ مگر اسے صرف ایک مُنجّی کی ضرورت تھی جو اُسے گناہ سے مُخلصی دلاتااور اِسی لیے اُسے یقین تھا کہ مسیح ایسا کرسکتے ہیں۔

یہ سُن کر یسُوع نے کہا،"میں جو تُجھ سے باتیں کر رہا ہُوں،وہی توہوں‘‘۔اس اسلوبِ بیان ،"میں ہوں" میں آسمانی منصوبے اور نبیوں کے وعدے پورے ہو جاتے ہیں۔کوئی عام آدمی اِس طرح واضح طور پر یہ دعویٰ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ مسیح ہے۔خلافِ مسیح بھی آنے والا ہے جو ایسا جھوٹا دعویٰ کرے گا ۔لیکن مسیح میں ایسی محّبت تجسیم ہُوئی ہے جوکسی لا علم گناہگار کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھتی بلکہ ایک اجنبی سامری عورت پر بھی رحم کرتی ہے۔مسیح رحمک ہیں،مُنصِف نہیں۔

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 11:05 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)