Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- John - 116 (Peter and John race to the tomb)

This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ چہارم : نُور تاریکی پرچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۸: ۱۔۲۱: ۲۵)٠

ب : یسُوع کا مرُدوں میں سے جی اُٹھنا اور لوگوں پر ظاہر ہونا (یُوحنّا ۲۰: ۱۔۲۱: ۲۵)٠

۔۱ : فسح کی طلوعِ صبح کے واقعات (ایسٹر) (یُوحنّا ۲۰: ۱۔۱۰)٠

ب : پطرس اور یُوحنّا کا قبر تک دوڑ لگانا (یُوحنّا ۲۰: ۳۔۱۰)٠


یُوحنّا ۲۰: ۶۔۸
۔۶ شمعون پطرس اُس کے پیچھے پیچھے پہنچا اور اس نے قبر کے اندر جا کر دیکھا کہ سُوتی کپڑے پڑے ہیں۔ ۷ اور وہ رُومال جو اُس کے سر سے بندھا ہُوا تھا، سُوتی کپڑوں کے ساتھ نہیں بلکہ لِپٹا ہُوا ایک جگہ الگ پڑا ہے۔ ۸ اِس پر دوسرا شاگرد بھی جو پہلے قبر پر آیا تھا، اندر گیا اور اُس نے دیکھ کر یقین کیا۔

یُوحنّا، پطرس کا انتظار کرتے ہُوئے قبر کے باہر کھڑے رہے۔ یہ اُنہوں نے اعلیٰ رسُول کے اعزاز میں کیا تاکہ پطرس پہلے شخص ہوں جو خالی قبر کو اس حالت میں دیکھیں۔نوجوان یُوحنّا نے جب وہاں پہلی نظر ڈالی تو پتھر کو لُڑھکایا ہُوا، قبر کو کھُلا ہُوا اور لاش کو غائب پایا اور وہ کپکپا گئے۔کفن کے کپڑے بھی سلیقہ سے رکھے ہُوئے تھے۔اُن کے دماغ میں کئی خیالات اُمنڈ آئے۔ لہٰذا اُنہوں نے خداوند سےاستددعاکی کہ وہاں جو کچھ بھی ہُوا اس پر آپ روشنی ڈالیں۔

جلد ہی پطرس بھی وہاں پہنچے اور سیدھے کھُلی ہُوئی قبر میں میں داخل ہُوئے۔اُنہوں نے دیکھا کہ جو رُومال یسُوع کے چہرہ پر لِپٹا ہُوا تھا وہ الگ تہہ کرکے رکھا ہُوا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہُوا کہ لاش چُرائی نہیں گئی کیونکہ آپ کا قبر میں سے نکلنا سلیقہ سے اور بغیر کسی شورو شر کے ہُوا تھا۔

پطرس قبر میں ایسے داخل ہُوئےجیسے وہ کوئی انسپیکٹر ہوں لیکن وہ ان واضح نشانیوں کا مطلب سمجھ نہ پائے۔ یُوحنّا نے پُر اسرار طور پر حالات پر غور کیا، دعا کی اور اُنہیں اُمیّد کی جھلک نظر آئی۔جب وہ پطرس کے بُلانے پر اندر گئے تب اُن کی جان کو بصیرت ملی اور اُنہوں نے مسیح کے مرُدوں میں سے جی اُٹھنے پر ایمان لایا۔آپ کے دل میں ایمان اس لیے نہیں جاگ اُٹھا کہ آپ کی زندہ ہُوئے ہُوئے مسیح سے ملاقات ہُوئی تھی بلکہ اس لےو کہ خالی قبر اور کفن کے کپڑے جو سلیقہ سے تہہ کر کے رکھے گئے تھے وہ حق کی طرف اور ایمان لانے کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

یُوحنّا ۲۰: ۹۔۱۰
۔۹ کیونکہ وہ اب تک اُس نوشتہ کو نہ جانتے تھے جس کے مطابق اُس کا مرُدوں میں سے جی اُٹھنا ضرور تھا۔ ۱۰ پس یہ شاگرد اپنے گھر کو واپس گیے۔

یسُوع اور لوگوں، فلسفیوں، نبیوں اور گنہگاروں کی طرح قبر میں نہ رہے بلکہ جی اُٹھے اور مَوت کو ایسے چھوڑ گئے جیسے کوئی کپڑوں کو پھینک دیتا ہے۔خدائے قدّوس بے گناہ رہے۔مَوت کو آپ پر کوئی اختیار نہ تھا۔ خدا کی محبّت کبھی ناکام نہیں ہوتی۔

مسیح کے دشمن کبھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ یسُوع کا بدن قبر میں سڑ گیا کیونکہ وہ قبر خالی تھی۔مسیح نہ فرار ہُوئے اور نہ اغوا کیے گیے کیونکہ جس قبر میں آپ کی لاش رکھی گئی تھی وہاں ہر چیز سلیقہ سے رکھی ہوُئی پائی گئی۔ان باتوں نے یُوحنّا کو گواہی دی کہ یسُوع نے اپنی دنیاوی اشیاء ترک کر دیں کیونکہ اب آپ کو ان کی ضرورت نہ رہی۔چرنی میں پہنے ہُوئے کپڑوں کے ساتھ آپ نے زندگی کا سفر شروع کیا اور کفن کے کپڑے چھوڑ کر رحلت فرمائی۔لہٰذا مرُدوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد آپ کے وجود کا نیا دور آسمانی سطح پر شروع ہُوا حالانکہ اب بھی آپ نے اپنی انسانی فطرت برقرار رکھی۔

جب یُوحنّاکھُلی قبر پر سے واپس لَوٹے تب یہ خیالات ان کے دماغ میں گھوم رہے تھے۔یُوحنّا پہلے شخص تھے جنہیں خدا کے بیٹے کا مرُدوں میں سے فاتحانہ طور پر جی اُٹھنے کا تجربہ ہُوا تھا۔پھر بھی اُنہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار نہ کیا بلکہ یہ اقرار کیا کہ اُنہوں نےاس معجزہ پر بہت دیر کے بعد ایمان لایا حالانکہ اسے آسمانی نوشتوں میں پہلے ہی واضح کیا گیا تھا۔انہوں نےجو کچھ نیابتی مَوت کے متعلق اور خدا کے خادم کی فتح کے متعلق یسعیاہ نبی کی کتاب کے باب ۵۳ میں پڑھا تھا اس کی طرف اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں اور نہ ہی وہ اس موضوع پر داؤد کی پیش گوئیوں کا مطلب سمجھ سکے (لُوقا ۲۴: ۴۴۔۴۸؛ اعمال ۲: ۲۵۔۳۲؛ زبور ۱۴: ۴۔۱۱)۔

اس عظیم عید کی صبح دو شاگرد گھر لَوٹے۔ گو وہ پریشان تھے لیکن اُن کی اُمیّد قائم تھی۔ وہ اعتقاد رکھتے تھے لیکن یسُوع سے سوال کرتے اور آپ سے دعا کرتے رہے جو اپنا اتا پتا بتائے بِنا قبر چھوڑ کر چلے گیے۔

دعا: خداوند یسُوع!ہم آپ کا تہہِ دل سے شکر بجا لاتے ہیں کیونکہ آپ اپنے شاگردوں کے دلوں میں فاتح کی طرح بیٹھ چُکے ہو اور اُن کے دل میں آپ کے مرُدوں میں سے جی اُٹھنے پر اعتقاد قائم کر چُکے ہو۔آپ نے ہمیں ابدی زندگی کی عظیم امیّد دلائی ہے۔ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ آپ ابدی خدا ہیں اور آپ کے فضل سے ہم لافانی بن جاتے ہیں۔ہمارے دوستوں کو ان کے گناہوں میں مرنے سے بچائیے اور اُنہیں آپ کی قربانی پر ایمان لانے کی بدولت ابدی زندگی عنایت کیجیے۔

سوال ۱۲۰۔ جب یُوھنّا خالی قبر کے اندر تھے تب اُنہوں نے کس چیز پر اعتقاد کیا؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on May 29, 2012, at 09:16 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)