Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- John - 102 (Jesus intercedes for his apostles)

This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ سوّم : رسُولوں کے حلقہ میں نُورچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۱: ۵۵۔۱۷: ۲۶)٠

ھ : یسُوع کی شافعانہ دعا (یُوحنّا ۱۷: ۱۔۲۶)٠

۔۳ : یسُوع اپنے رسُولوں کی شفاعت کرتے ہیں ( یُوحنّا ۱۷: ۶۔۱۹)٠


یُوحنّا ۱۷: ۹۔۱۰
۔۹ میں اُن کے لیے درخواست کرتا ہُوں ۔میں دنیا کے لیے درخواست نہیں کرتا بلکہ اُن کے لیے جنہیں تُو نے مُجھے دیا کیونکہ وہ تیرے ہیں۔ ۱۰ اور جو کچھ میرا ہے وہ سب تیرا ہے اورجو تیرا ہے وہ میرا ہے اور اِن سے میرا جلال ظاہر ہُوا ہے۔

یسُوع کی دعا اُن سب کے لیے تھی جو خدا باپ پر ایمان لائے تھے جو اوّل سے بیٹے سے متّحِد تھا۔یسُوع یہاں ساری دنیا کے لیے نہیں آئے کیونکہ نوعِ انساں نے خداوند کی رُوح کو مسترد کیا تھا اور سزا کو منخب کیا۔یسُوع نے جو محبّت اور فکر و التفات دکھائی وہ آپ کی کلیسیا اور خدا کے چُنے ہُوئے لوگوں کے متعلق تھی۔مسیحیت عالمی کلیسیا کی حامی نہیں ہے جو تمام نوعِ انساں پر مشتمل ہوتی ہے کیونکہ سب لوگوں میں سے چُنی ہُوئی کلیسیا مخصوص، چُنی ہُوئی اور مسیح کی مَوت میں پہلا پھل ہوتی ہے۔

یسُوع نے اپنی کسی خصوصی ملکیت کا دعویٰ نہیں کیا لیکن بار بار کہا کہ وہ آپ کے باپ کی خصوصی ملکیت تھیں حالانکہ باپ نے وہ سب آپ کو بخش دی تھیں۔ بیٹا ہمیشہ فروتن رہا اور اپنا سب کچھ دعا میں باپ کو دے دیا۔

یسُوع نے تسلیم کر لیا کہ جو لوگ آپ پر اعتقاد رکھتے ہیں اُن کی بدولت آپ کی تمجید ہوتی ہے لیکن ہم عجلت میں نکتہ چینی کرتے ہُوئے کہتے ہیں کہ ہماری کلیسیا ئیں کمزور ہیں اور مسیح کے لیے بدنامی کا باعث ہیں۔مسیح اس سے بھی زیادہ گہری چھان بین کرتے ہیں۔باپ ہمیں صلیب کی روشنی میں دیکھتا ہے۔اس نے بیٹے کی معرفت پاک رُوح کومعتقدوں میں اُنڈیل دیا۔یہ رُوحانی طور پر لبریز ہونا ،صلیب کے مقوّی و متاثر ہونے کا ثبوت ہے۔مسیح نے خوامخواہ جان نہیں دی بلکہآپ کا بخشا ہُوا پاک رُوح کثرت سے پھل لاتا ہے۔چنانچہ ہر نئی پیدایش سے مسیح کی تمجید ہوتی ہے۔

یُوحنّا ۱۷: ۱۱
۔۱۱ میں آگے کو دنیا میں نہ ہُوں گا مگر یہ دنیا میں ہیں اور میں تیرے پاس آتا ہُوں۔اے قدُّوس باپ!اپنے اُس نام کے وسیلہ سےجو تُو نے مُجھے بخشا ہے،اُن کی حفاظت کر تاکہ وہ ہماری طرح ایک ہوں۔

مسیح اپنے باپ کی طرف لَوٹ رہے تھے اور آپ کو یقین تھا کہ یہ ہو کر رہے گا، گو آپ کو پکڑوانے والا سپاہیوں کا ایک دستہ لے کر آپ کو پھندے میں پھنسانے کے لیے آ رہا تھا۔یسُوع اپنی مَوت سے پرے اپنے باپ کا جلال دیکھ رہے تھے اور یہ پیش گوئی کی کہ، میں اب دنیا میں نہیں ہُوں، حالانکہ آپ اب تک دنیا میں ہی تھے۔

یسُوع نے دنیا کو ایک چوڑی ندی سمجھا جس کا پانی تیز رفتار سے بہتا ہو جو کبھی کبھار اونچائی سے گرتا ہوا آبشار بن جاتا ہے۔مسیح بہاؤ کی مخالف سمت میں تیر رہے تھے اور اس طرح آپ نے انسانی جوار کو اُلٹ کر رکھ دیا۔آپ جانتے تھے کہ آپ کے شاگردوں میں بدی کی مخالفت کرنے کی قوّت نہ ہوگی۔لہٰذا آپ نے اپنے باپ سے درخواست کی کہ وہ آپ کے محبوب شاگردوں کو اپنے نام میں قائم رکھے۔

اپنی گذارش میں یسُوع نے دنیا کی بکثرت بدی کے باوجود ایک انوکھا کلمہ استعمال کیا، اے مقدّس باپ،۔بیٹے نے باپ کے تقدُّس کی گواہی دی جو بے گناہ، بے ریا اور بے عیب ہے۔خدا پاک اور مقدّس ہے۔اُس کا قُدس اُس کی محبّت کا لباس ہے جب کہ اس کا جلال، محبّت کی درخشانی میں ظاہر ہوتا ہے۔ لہٰذا خدا کا مقدّس نام وہ جائے پناہ ہے جہاں شاگرد آزمانے والے کے تسلّط سے پناہ پاتے ہیں۔جو کوئی مسیح میں ہو کر جیتا ہے وہ باپ میں جیتا ہے۔جو بیٹے میں قائم ہوتا ہے وہ باپ میں بھی قائم ہوتا ہے۔خدا کی ابّویت اس کے فرزندوں کو یقین دلاتی ہے کہ وہ اُن کو رِزق پہنچاتا رہے گا اور محفوظ رکھے گا۔شیطان اُنہیں باپ کے ہاتھ سے کھینچ کر نہیں لے جا سکتا۔

جس شرط پر ان کے تحفُّظ کی ضمانت دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ نفرت اور تنازع میں نہ جئیں بلکہ روزانہ ایک دوسرے کی خطائیں متواتر جاری رہنے والی آپسی محبّت سے معاف کریں۔یہ محبّت انسان میں سے فطرتاً نہیں اُبھر آتی بلکہ جو کوئی مقدّس تثلیث کی محبّت میں قائم رہتا ہے وہ قوّت، صبر اور دوسروں کے لیے محبّت پاتا ہے۔یسُوع نے اپنے باپ سے درخواست کی کہ وہ ہمیں اپنی رفاقت میں رکھے تاکہ ہم ہمیشہ اس کے ساتھ ایک ہو کر رہیں جیسا کہ بیٹا ،باپ کے ساتھ ایک ہے۔یہ قول ہمارے باپ کے ساتھ تعلق کا کوئی اصول کے مطابق (ادّعائی طور پر) یا خیالی بیان نہیں ہے بلکہ یسُوع کی الوداعی گذارش کا باپ کی طرف سے جواب ہے۔ہمارا ایمان متکبر یا پُر اسرار نہیں ہے بلکہ وہ یسُوع کی دعا کا اور آپ نے ہماری خاطر سہی ہُوئی اذیّت کا پھل ہے۔

یُوحنّا ۱۷: ۱۲۔۱۳
۔۱۲ جب تک میں اُن کے ساتھ رہا۔ میں نے تیرے اُس نام کے وسیلہ سے جو تُو نے مُجھے بخشا ہے، ان کی حفاظت کی۔ میں نے ان کی نگہبانی کی اور ہلاکت کے فرزند کے سوا اُن میں سے کویٔ ہلاک نہ ہُوا تاکہ کتابِ مقدّس کا لکھا پورا ہو۔ ۱۳ لیکن اب میں تیرے پاس آتا ہُوں اور یہ باتیں دنیا میں کہتا ہُوں تاکہ میری خوشی اُنہیں پوری پوری حاصل ہو۔

یسُوع نے صبر اور سمجھ بُوجھ سے اپنے شاگردوں کو اُن کے مختلف چال چلن اور مزاج کے باوجود شیطان کی آزمائشوں سے بچائے رکھا۔آپ نے پطرس کو کہا:شیطان نے گڑگڑاکر اجازت مانگی کہ تُجھے جھپٹ لے اور گندم کی طرح پھٹکے لیکن میں نے تیرے لیے دعا کی کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے۔(لُوقا ۲۲: ۳۱۔۳۲)۔چنانچہ ہمارا ایمان آپ کی شفاعت کے باعث قائم رہتا ہے اور ہم صرف فضل کے باعث نجات پاتے ہیں۔

اپنے پیروؤں کو صحیح و سالم رکھنے کی یہ قابلیت یہوداہ کی حد تک یسُوع سے چھین لی گئی تھی کیونکہ وہ تباہی کی رُوح کا مطیع ہوگیا تھا اور سچّائی کی رُوح کی مدافعت کرتا تھا اور جہنم کے عذاب کا حقدار ہو گیا تھا۔ہمارا آسمانی باپ کسی کو متبنٰی(لے پالک بیٹا)ہونے کے لیے مجبور نہیں کرتا۔وہ پہلے سے ہی جانتا ہے کہ لوگوں کے سینہ میں کیا ہے اور حالات کیا موڑ لیں گے۔یہاں تک کہ یہوداہ کا یسُوع کو پکڑوانے کا معاملہ وقوع میں آنے سے ایک ہزار سال قبل ہی پرانے عہدنامہ میں درج کیا جا چُکا تھا۔بہر حال یسُوع کی یہوداہ کے لیے فکر و التفات کو مسترد کرنے کے لیے وہ خود ذمّہ دار ہے۔ہمارا قادرِ مطلق خدا حاکمِ مطلق نہیں بلکہ دانشمند باپ ہے اور اس کی محبّت کا ایک پہلو نوعِ انساں کو عنایت کی ہُوئی آزادی ہے،ٹھیک اسی طرح جس طرح دنیاوی باپ اپنے بالغ بچّوں کو ذمّہ دار ہونے کی آزادی دے دیتے ہیں۔

یسُوع کو باپ کی طرف جانے والی اپنی راہ، تاریکی میں روشن کیا ہُوا راستہ نظر آیا۔نہ شیطان، نہ گناہ اور نہ ہی موت آپ کو خدا کی طرف لَوٹ جانے سے باز رکھ سکتے تھے۔بیٹا ہمیشہ پاک رہا اور اسی لیے آپ کی ہستی ہمیشہ خوشی سے معمور رہی۔گناہ نے کبھی آپ کے ضمیر کو نہ کترا۔نہ خوف کبھی آپ کی دعاؤں پر چھا پایا۔بیٹا آزاد تھا اور اپنے باپ کی نگہبانی میں تھا۔آپ ہمیشہ فرماں بردار رہے۔ہمارا خدا خوشی اور شادمانی کا خداوند ہے۔یسُوع نے اپنے باپ سے التجا کی کہ یہ ایزدی شادمانی آپ کے شاگردوں کے دلوں میں سرایت کر جائے۔آپ نہ چاہتے تھے کہ آپ کے پیرو غمگین رہیں بلکہ چاہتے تھے کہ وہ مسرور اور شادمان رہیں اور دنیا کی تاریکی اور مایوسی میں رہنے کے باوجود جنّت کی خوشیاں اُن کے آغوش میں سِمٹی ہُوئی رہیں۔معافی پانے کی خوشی اور خدا کے خاندان میں شرکت کے لیے شکر گزاری، مسیح نے ہماری خاطر کی ہُوئی دعا کے پھل ہیں۔

دعا: خداوند یسُوع، باپ سے ہماری شفاعت کرنے کے لیے ہم شکر گزار ہیں۔اپنی شفاعت کے ذریعہ آپ نے ہمیں ایمان میں قائم رکھا اس لیے ہم آپ کی تمجید کرتے ہیں۔ہم آپ کی عبادت بھی کرتے ہیں تاکہ آپ ہم میں خوش رہیں۔آپ کی موجودگی اور باپ کا رُوح ہم پر رُوحانی طور سے زندگی اور خزانے اور ابدی برکتیں نچھاور کرتے ہیں۔آپ نے ہمارے حق میں کی ہُوئی دعاؤں کے لیے ہم آپ کے مشکور ہیں کیونکہ ہم آپ کی شفاعت کے باعث ہی جیتے ہیں۔

سوال ۱۰۶۔ باپ کے نام میں ہمارا تحفُّظ کیا اہمیت رکھتا ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on May 28, 2012, at 10:30 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)