Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 082 (The traitor exposed and disconcerted)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حِصّہ سوّم : رسُولوں کے حلقہ میں نُورچمکتا ہے (یُوحنّا ۱۱: ۵۵۔۱۷: ۲۶)٠

ب : عشائے رباّنی کے بعد کے واقعات (یُوحنّا ۱۳: ۱۔۳۸)٠

۔۲ : نمک حرام کا پردہ فاش ہُوا اور وہ مضطرب ہُوا ( یُوحنّا ۱۳: ۱۸۔۳۲)٠


یُوحنّا ۱۳: ۱۸۔۱۹
۔۱۸ میں تُم سب کی بابت نہیں کہتا۔جن کو میں نے چُنا اُنہیں میں جانتا ہُوں لیکن یہ اس لیے ہے کہ یہ نوشتہ پورا ہو کہ جو میری روٹی کھاتا ہے اُس نے مجھ پر لات اُٹھائی۔ ۱۹ اب میں اُس کے ہونے سے پہلے تُم کو جتائے دیتا ہُوں تاکہ جب ہو جائے تو تُم ایمان لاؤ کہ میں وہی ہُوں۔

یہوداہ غمگین زندگی جیتا رہا۔ اسے مسکینی اور خدمت سے کوئی لگاؤ نہ تھا۔اس نے تشدّد، اقتدار اور غدّاری اختیار کی اور یہ سب یسُوع کے ساتھ دھوکا دہی سے کرنا چاہتا تھا۔ اس نے یہ بھی چاہا ہوگا کہ یسُوع طاقت کے بل پر اقتدار حاصل کرتےحالانکہ دل میں وہ یسُوع کا مخالف تھا اور چاہتا تھا کہ آپ کو پامال کرکے آپ کے قتل کا منصوبہ بناتا۔وہ نہ جانتا تھا کہ محبّت کا مقصد کیا ہوتا ہے چنانچہ مغرور بنا، حالانکہ یسُوع فرتن بنے۔ یہوداہ تکبّر، اقتدار اور تشدّد کے ذرائع استعمال کرنا چاہتا تھا لیکن یسُوع نے فروتن اور شریف خادم بن کر جینا پسند کیا۔

یسُوع اپنے شاگردوں کو آپ کے پکڑوائے جانے کی گھڑی کے لیے تیاّر کر رہے تھے تاکہ وہ آپ کی اُلوہیّت میں شک نہ کریں، خواہ آپ کو غیر قوموں کے حوالہ ہی کیوں نہ کیا جاتا۔یسُوع اپنی ہستی میں خداوند ہیں اور اپنی کمزوری کی گھڑی کی ، خود کو " میں جو ہُوں" کہہ کرقبل از وقت ہی گواہی دے رہے تھے۔اِن الفاظ میں خدا نے خود کو جلتی ہُوئی جھاڑی میں موسیٰ پر ظاہر کیا تھا۔آپ اپنے شاگردوں کا اپنی اُلوہیّت کے متعلق ایمان،ایسی یقین دہانی سے برقرار رکھنا چاہتے تھے تاکہ وہ شک اور آزمائش میں نہ پڑیں۔

یُوحنّا ۱۳: ۲۰
۔۲۰ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو میرے بھیجے ہُوئے کو قبول کرتا ہے وہ مجھے قبول کرتا ہے اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قبول کرتا ہے۔

یسُوع نے اپنے شاگردوں کو اپنی گرفتاری اور موت کے خوف سے بری کر دیا۔آپ نے اُنہیں دئیے ہُوئے حکم اور آپ کا سایۂ عاطفت اُن کی حفاظت کرتا رہے گا۔ یسُوع اپنے پیروؤں کو بھیجا کرتے تھے اور اُن کے ساتھ بھی جایا کرتے تھے۔آپ کے خادم اُن کے اپنے انفرادی ناموں سے نہیں بلکہ اپنے خداوند کے بلند پایہ نام سے جاتے تھے۔جو کوئی اُن کا استقبال کرتا، مقدّس تثلیث پاتا اور جوکوئی اُن کے کلام پر ایمان لاتا، خدا کا فرزند بن جاتا تھا۔یہ خدمت بہت مشکل ہے؛اس کے لیے نفس کُشی، دشمنوں سے محبّت رکھنے اور غریبی اور تذلیل میں ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ وہ جانتے تھےکہ خود خدا اُن کے اندر قیام کرتا ہے۔جہاں وہ جاتے ہیں وہاں وہ اُن کے ساتھ ہوتا ہے اور جہاں وہ اُن سے خدمت کراناچاہتا ہے وہاں آپ کا پاک رُوح اُنہیں ہدایت دیتا ہے تاکہ اُس کے مقاصد حاصل ہوں اور اُس کے مقررّہ کام تکمیل کو پہنچیں۔

دعا: خداوند یسُوع مسیح!جب تک میں آپ کا خادم نہیں بنتا میں آپ کے اندر نہیں رہ سکتا۔ یہ بھید جاننے کے لیے میری مدد کیجیے۔میں آپ کو اپنی زندگی کا نمونہ بنانا چاہتا ہُوں اور یہ بھی کہ اپنے اجتماع میں فروتن اور اپنے خاندانوں میں خادم بنا رہوں۔شیطان کو میں اپنے دل میں جگہ نہ دینے پاؤں اور خدمت صرف اپنی زبان سے نہیں بلکہ آپ کی قدرت اور حکمت کی بدولت باقاعدہ کر کے دکھاؤں ایسی مجھے توفیق دیجیے۔

سوال ۸۶۔ مسیح کی مثال سے ہم کیا سبق سیکھتے ہیں؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 08, 2012, at 06:22 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)