Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 069 (The Son of God in the Father and the Father in him)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ج : یسُوع کی یروشلیم میں آخری آمد۔ (يوحنَّا ۷: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴) تاریکی اور نُور کی علحدگی٠

۔۳ : یسُوع ،اچھا چرواہا ( یُوحنّا ۱۰: ۱۔۳۹)٠

ھ : خدا کا بیٹا باپ میں اور باپ اُس میں (یُوحنّا ۱۰: ۳۱۔۳۶)٠


یُوحنّا ۱۰: ۳۱۔۳۶
۔۳۱ یہودیوں نے اُسے سنگسار کرنے کے لیے پتھّر اُٹھائے۔ ۳۲ یسُوع نے اُنہیں جواب دیا کہ میں نے تُم کو باپ کی طرف سے بہتیرے اچھےکام دکھائے ہیں۔اُن میں سے کس کام کے سبب سے مجھے سنگسار کرتے ہو؟ ۳۳ یہودیوں نے اُسے جواب دیا کہ اچھے کام کے سبب سے نہیں بلکہ کُفر کے سبب سے تُجھے سنگسار کرتے ہیں اور اِس لیے کہ آدمی ہوکر اپنے آپ کو خدا بناتا ہے۔ ۳۴ یسُوع نے اُنہیں جواب دیا: کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا کہ میں نے کہا، تُم خدا ہو؟ ۳۵ جب اُس نے اُنہیں خدا کہا جن کے پاس خدا کا کلام آیا (اور کتابِ مُقدّس کا باطل ہونا ممکن نہیں)؟ ۳۶ یا تُم اُس شخص سے جسے باپ نے مُقدّس کرکے دنیا میں بھیجا، کہتے ہو کہ تُو کُفر بکتا ہے اِس لیے کہ میں نے کہا، میں خدا کا بیٹا ہُوں؟

جوں ہی یسُوع نے کہا کہ "میں اور باپ ایک ہیں،"یہودی آپ سے نفرت کرنے لگے۔اُنہوں نے آپ کی خود اپنے بارے میں دی ہُوئی گواہی کو کفر قرار دیا اور آپ کو شریعت کے تقاضہ کے مطابق سنگسار کرنے کے لیے بےقرار ہُوئے ورنہ یہوواہ کا قہر قوم پر نازل ہوتا۔چنانچہ وہ دوڑتے ہُوئے صحن میں گئے اور آپ کو سنگسار کرنے کے لیے پتھر لے کر آئے ۔

یسُوع سکون کے ساتھ اُن کے روبرو کھڑے رہے اور اُن سے پُوچھا:"میں نے تمہارے ساتھ کون سا بُرا کام کیا ہے؟میں نے تمہاری خدمت کی، تمہارے مریضوں کو شفا بخشی، بدرُوحوں کو نکال دیا، تُم میں سے جو اندھے تھے اُنہیں بینائی بخشی۔ میں نے جذام کے مریضوں کو پاک کیا اور غریبوں میں اِنجیل کی منادی کی۔اِن میں سے کن کاموں کے لیے تُم مُجھے قتل کرنا چاہتے ہو؟ تُم اپنے محسن کو ہی تباہ کرنا چاہتے ہو۔میں نے کی ہُوئی خدمت کے لیے، جسے میں نےنہایت حلیمی کے ساتھ اپنے باپ کے کام کہا، نہ اعزاز اور نہ پیسے چاہتا ہُوں۔میں یہاں تمہارا خادم بن کر آیا ہُوں"۔

یہودیوں نے چینخ کر کہا:"ہم تجھےتیرے کیے ہُوئےکام کے لیے نہیں بلکہ تیرے کفر بکنے کے لیے پتھر مارتے ہیں۔تُو نے خود کو خدا کے درجہ تک بلند کیا حالانکہ تُو ہمارے درمیان ایک فانی انسان کی طرح کھڑا ہے۔ہم تیرا خُون بہا کر بتائیں گے کہ تُو محض فانی انسان ہے۔تُونے خود کو خدا کہنے کی جرأت کیسے کی گویا تُو اور خدائی قُدّوس ایک ہیں؟تُجھ میں ضرور کوئی بد رُوح ہے اور تو فوراً قتل کیے جانے کا مستحق ہے"۔

یسُوع نے پُورے یقین کے ساتھ جواب دیا:"کیا تُم نے اپنی شریعت میں نہیں پڑھا کہ خدا اپنے برگزیدہ لوگوں کو "تُم خدا ہو اور تُم سب خدا تعالیٰ کے بیٹے ہو" کہا کرتا تھا (زبور ۸۲: ۶)، حالانکہ تُم خود برباد ہو رہے ہو اور ایک گناہ سے دوسرے گناہ میں مبتلا ہوتے جا رہے ہو۔اس میں شک نہیں کہ سب گنہگار ہیں اور غلط راہ پر بھٹک رہے ہیں۔ پھر بھی خدا نے اُنہیں اپنے ایزدی نام کی خاطر"خدا اور بیٹے" کہا۔ وہ نہیں چاہتا کہ تُم ہلاک ہو جاؤ بلکہ یہ کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤ۔اپنے خدا کی طرف واپس لوٹو اور جیسےوہ مقدّس ہے،تُم بھی ویسے ہی بنو"۔

۔"لہٰذا تُم مُجھے سنگسار کیوں کرنا چاہتے ہو؟خدا خود تمہیں "خدا اور بیٹے" کہہ کر پکارتا ہے۔میں نے تمہاری طرح کوئی گناہ نہیں کیا۔میں کلام اور کام دونوں میں مقدّس ہُوں۔مجھے خدا کے حقیقی بیٹے کے طور پرابد تک جینے کا حق ہے۔اپنی شریعت میں جو لکھا ہے اُسے پڑھو تو تُم مُجھے جان لوگے لیکن تُم خود اپنی آسمانی کتابوں پر اعتماد نہیں رکھتے اور میری اُلوہیّت کو نہیں مانتے"۔

۔"میں نے اپنے آپ کو نہیں بھیجا بلکہ مقدّس باپ نے مُجھے بھیجا ہے۔میں اُس کا بیٹا ہُوں اور وہ میرا باپ ہے۔اُس کا تقدُّس مُجھ میں ہے۔میں خدا سے خدا، نُور سے نُور،خدا سے نکلا ہُوا، نہ کہ مولیق ہُوں اور وہی جوہر رکھتا ہُوں جو باپ کا ہے"۔

یسُوع نے یہودیوں کی اپنی آسمانی کتابوں کے حوالے دےکر اُن پر سبقت حاصل کر لی اور اُن کی دلیلوں کوغلط ثابت کردیا۔لیکن اُن کی آنکھوں میں نفرت کا کینسر باقی تھا۔البتّہ اُنہوں نے ہتھیار ڈال دیے کیونکہ یسُوع نے خود اُن کی آسمانی کتابوں سے ایزدی ابنیّت کے امکانات ثابت کر دیے جو پرانے عہدنامہ میں عام لوگوں کے لیے اور خود آپ کے لیے لاحق تھے۔

یُوحنّا ۱۰: ۳۷۔۳۹
۔۳۷ اگر میں اپنے باپ کے کام نہیں کرتا تو میرا یقین نہ کرو۔ ۳۸ لیکن اگر میں کرتا ہُوں تو گو میرا یقین نہ کرومگر اُن کاموں کا تو یقین کرو تاکہ تُم جانو اور سمجھو کہ باپ مُجھ میں ہے اور میں باپ میں۔ ۳۹ اُنہوں نے پھر اُسے پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اُن کے ہاتھ سے نکل گیا۔

یسُوع نے واضح کردیا کہ اس کا مطلب یہ ہُوا کہ تُم مُجھ پر ایمان لاؤ کیونکہ میں وہی کرتا ہُوں جو خدا کرتا ہے یعنی شفقّت کے کام۔اگر میں خدا کے رحم و کرم کی نمائندگی نہ کروں تو حکومت میری نہیں ہوسکتی۔چونکہ اُس کی محبّت کی تجسیم مُجھ میں ہو چُکی ہے اس لیے مجھے خدا کے کام کرنے کا اختیار ہے کیونکہ وہ واقعی خدا کے کام ہیں"۔

ممکن ہے تمہارے دماغ انسانیت میں اُلوہیّت کا مطلب سمجھ نہ سکے۔بہر حال میرے کام پرکھو: کون سی ہستی مرُدوں کو اپنے کلام سے زندہ کر سکتی ہے، یا اندھی آنکھیں کھول سکتی ہے،یا طوفان کو ساکن کر سکتی ہے یا پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں سے پانچ ہزار بھوکی جانوں کو سیر ہوکر کھانا کھلا سکتی ہے؟کیا تُم چاہوگے کہ پاک رُوح تمہارے دماغ کھول دے تاکہ تُم خدا کی آواز سُن کر یہ جانو کہ خدا خود مُجھ میں ہے۔جب تُم پاک رُوح سے معمور ہو جاؤگے تب تُم اس ضروری معلومات کو اپنا لوگے اور جان لوگے کہ میرا بدن اُلوہیّت سے معمور ہے"۔

یہاں اور اتنی بڑی بھیڑ کے سامنے یسُوع نے وہ عظہم الفاظ کہے کہ آپ باپ میں ہیں اور جس طرح ڈالی انگور کی بیل میں پیوست رہتی ہے اور جڑوں سے قوّت پاتی ہے اسی طرح مسیح باپ سے نکل کر اُس میں پیوست رہتے ہیں۔دونوں کی ہم آہنگی اور اتّحاد مکمل ہوتے ہیں جو جدا نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ آپ کے باپ کو ظاہر کرکے اُس کا احترام کرنے کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بیٹا باپ میں پوشیدہ ہے۔ لہٰذا دعاؤں میں سب سے زیادہ مشہور اور عام دعائےربّانی، اِن الفاظ سے شروع ہوتی ہے:"اے ہمارے باپ ،تُو جو آسمان پر ہے،تیرا نام پاک مانا جائے"۔

جو کوئی اپنی دعا اور مراقبہ میں یسُوع کی اُلوہیّت سے متعلق آپ کی اپنی گواہی کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے وہ جان لیتا ہے کہ یہ گواہی مقدّس تثلیث کی اوپری معلومات ہی نہیں دیتی بلکہ اُس کا قطعی ثبوت پیش کرتی ہے۔مقدّس تثلیث تین الگ الگ خداؤں کا وجود نہیں ظاہر کرتی بلکہ یہ واحد خدا کا تین اقانیم میں مکمل اتّحاد واضح کرتی ہے۔ لہٰذا ہم نہایت خوشی سے گواہی دیتے ہیں کہ خدا ایک ہے۔

جب یہودیوں نےوہ گواہی بار بار سُنی جو یسُوع کا باپ کے ساتھ مکمل اتّحادجتاتی ہےتو وہ پیچھے ہٹ گیے اور آپ پر پتھر نہ پھینکے۔پھر بھی وہ آپ کو گرفتار کرکے عدالتِ عالیہ کے روبرو پیش کرنا چاہتے تھے تاکہ وہاں آپ کا مقصد دریافت کر سکیں۔لیکن یسُوع اُن کے ہاتھ سے بچ کر نکل گیے۔ کوئی انسان خدا کی اولاد میں سے کسی ایک کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ اُس کے باپ کی مرضی اُس کا تحفُّظ کرتی رہتی ہے۔یسُوع نے کہا:"کوئی اُنہیں میرے باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا"۔

دعا: اے باپ اور خدا کے برّہ، ہم آپ کی محبّت میں مکمل اتّحاد پاتے ہیں۔ ہمارے دماغ آپ کی انسانیت میں پائی جانے والی اُلوہیّت کو سمجھ نہیں پاتے۔آپ کی رُوح نے اُس عظیم محبّت کو اور آپ کے نجات بخش کاموں کو سمجھنے کے لیے ہمیں منوّر کیا ہے۔ اے باپ، تُونے ہمیں اپنی اولاد بنا لیا۔ ہمیں اپنے ارادوں،کلام اور اعمال میں تیرے نام کو پاک ماننے میں مدد کر اور جیسے تُو مقدّس ہے ویسے ہی ہماری بھی تقدیس کر۔

سوال ۷۳۔ یسُوع نے اپنی اُلوہیّت کا اعلان کیسے کیا؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 07, 2012, at 02:42 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)