Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 051 (Disparate views on Jesus)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ج : یسُوع کی یروشلیم میں آخری آمد۔ (يوحنَّا ۷: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴﴾ تاریکی اور نُور کی علحدگی٠

۔۱۔ عیدِ خیام کے موقع پر یسُوع کا کلام (یُوحنّا ۷: ۱ ۔ ۸: ۵۹)٠

ب ۔ لوگوں اور عدالتِ عالیہ کے اراکین میں یسُوع کے متعلق مایوسانہ خیالات (یُوحنّا ۷: ۱۴۔۵۳)٠


یُوحناّ ۷: ۳۱۔۳۲
۔۳۱ مگر بھیڑ میں سے بہتیرے اُس پر ایمان لائے اور کہنے لگے کہ مسیح جب آئے گا تو کیا اِن سے زیادہ معجزے دکھائے گا جو اِس نے دکھائے؟ ۳۲ فریسیوں نے لوگوں کو سُنا کہ اُس کی بابت چُپکے چُپکے یہ گُفتگو کرتے ہیں۔ پس سردار کاہنوں اور فریسیوں نے اُسے پکڑنے کو پیادے بھیجے۔

یروشلیم میں تناؤ کے حالات ہونے کے باوجود کئی لوگ یسُوع میں کام کرنے والی قوّت کے قائل ہو نے لگے۔اُنہوں نے کہا:"ممکن ہے یہی مسیح ہوں کیونکہ آپ نے عظیم کارنامے کیے ہیں تاکہ جو لوگ کم انتہا پسند ہیں وہ سوچنے پر مجبور ہوں اور آپ پر ایمان لائیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ یسُوع کے پیرو صدر مقام میں بھی ہیں“۔

جب فریسیوں کو اُن کے جاسوسوں کی مہربانی سے اِس بات کا احساس ہُوا کہ لوگوں میں تجدید شروع ہو چُکی ہے اور آپ کی تحریک یروشلیم میں جڑ پکڑ رہی ہے، تب وہ پریشان ہو گئے اور اپنی مخالف پارٹیوں یعنی کاہنوں اور صُدوقیوں سے تعاؤں کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ یہ اِس لیے کیا گیا تاکہ ہیکل کے لیے زمہ دار لوگوں کو یسُوع پر امتناعی حکم صادر کرنے کے لیے مجبور کیا جا سکے۔سردار کاہنوں نے یہ رائے مان لی اور فریسیوں کے ساتھ مل کے یسُوع کو گرفتار کرنےکے لیے راضی ہو گئے۔

خداوند کے فرشتے ہیکل کے صحن میں ایزدی اُستاد کے اِرد گِرد تھے اور خادموں کو اُن کے حکمرانوں کے حکم کی اطاعت کرنے سے روک رہے تھے۔یسُوع نے اُن خادموں کو اپنے قریب آتے دیکھا لیکن آپ فرار نہ ہُوئے بلکہ اپنا جلال ظاہر کیا جسے مُبشِّر یُوحنّا نے ہماری خاطر خدا کے نجات بخشنے والے منصوبہ کی پیش گوئی کے طور پر قلمبند کیا۔

یُوحناّ ۷: ۳۳۔۳٦
۔۳۳ یسُوع نے کہا: میں اور تھوڑے دِنوں تک تمہارے پاس ہُوں۔پھر اپنے بھیجنے والے کے پاس چلاجاؤں گا۔ ۳۴ تُم مُجھے ڈھونڈوگے مگر نہ پاؤگے اور جہاں میں ہُوں، تُم نہیں آسکتے۔ ۳۵ یہودیوں نے آپس میں کہا :یہ کہاں جائے گا کہ ہم اِسے نہ پائیں گے؟ کیا اُن کے پاس جائے گا جو یونانیوں میں جابجا رہتے ہیں اور یونانیوں کو تعلیم دے گا؟ ۳۶ یہ کیا بات ہے جو اُس نے کہی کہ تُم مجھے ڈھونڈوگے مگر نہ پاؤگے اور جہاں میں ہُوں، تُم نہیں آسکتے۔

یسُوع نے اپنے دشمنوں سے کہاکہ آپ کچھ عرصہ تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہیں گے۔ آپ پہلے سے ہی جانتے تھے کہ آپ خدا کے برّہ کے طور پر مر جائیں گے۔ساتھ ہی ساتھ آپ مرنے کے بعد دوبارہ جی اُٹھنے کا، اپنے صعود اور باپ کی طرف لَوٹنے کا وقت بھی جانتے تھے۔یسُوع اپنے باپ سے ملنے کے مُتمنّی تھے جس نے آپ کو ہمیں نجات بخشنے کے لیے بھیجا تھا۔ہماری محبّت کی خاطر آپ اپنے آسمانی گھر سے دور، اِس دُنیا میں رہے۔

یسُوع نے قبل از وقت ہی یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ آپ کے پیرو آپ کے مرُدوں میں سے جی اُٹھنے اور آسمان پر صعود فرمانے سے کس قدر غمزدہ ہوں گے وہ افسوس کرتے ہُوئے لَوٹیں گے کیونکہ اُن میں وہ رُوحانی بدن نہ تھے جو آپ کے ساتھ آسمان پر پرواز کرتے۔ آپ یہ بھی جانتے تھے کہ آپ کے حریف آپ کی "کھوئی ہُوئی"لاش کو تلاش کریں گےجو مہر لگائی ہُوئی قبر سے غائب ہو جائے گی۔اُن لوگوں پر افسوس ہے جو مُنجی سے مبّت نہیں کرتے!وہ آپ کے جلال میں شریک ہونے یا جنّت میں داخل ہونے سے قاصر ہیں۔اُن کے گناہ اُنہیں خدا سے الگ کریں گےاوربے اعتقادی اُنہیں فضل کے دائرےسے باہر رکھے گی۔

یہودی، یسُوع کے کلام کا مطلب نہ سمجھ پائے کیونکہ وہ دنیاوی نقطۂ نگاہ سے دیکھتے تھے کہ آپ بحیرۂ رُوم کے خطہ کے یونانی شہروں کے عبادت گاہوں میں فرار ہونا چاہتے تھے۔اس سے آپ کا مقصد یہ ہوتا کہ جو لوگ عبرانی آسمانی کتابوں سے ناواقف تھے اُنہیں اپنے پیرو بنا لیتے۔بعض لوگوں نے مضحکہ اُڑایا اور کہا:"ممکن ہے آپ ایک فصیح مقرِّر بن جانا چاہتے ہوں تاکہ اپنے خیالات یونانی فلسفیوں کو پیش کریں اور اُنہیں زندہ خدا کی جانب راغب کریں۔

جب یُوحنّا نے یسُوع کے مقالات اور اِن حادثات کو قلمبند کیا تب وہ اِفِسُس میں یونانیوں کے درمیان مقیم تھے۔نجات کی خوشخبری وہاں بسے ہُوئے یہودیوں تک پہنچ چُکی تھی اور کئی یونانی مسیح پر ایمان لا چُکے تھے۔ مبشِّر یُوحنّا کو یسُوع کے کلام اور یہودیوں کے مضحکہ میں باضابطہ اعلان نظر آیا کہ یسُوع یونانیوں کے درمیان عظیم ترین اُستاد ہیں۔آپ نے کھوکھلا فلسفہ نہیں پیش کیا جو قنوطیّت کی رغبت دلاتا ہے۔آپ زندگی بخشتے ہیں اور آپ ہی سے وہ قوّت پیدا ہوتی ہے جو کبھی ناکام نہیں ہوتی۔

سوال ۵۵۔ یسُوع نے اپنے مستقبل کے متعلق کیا پیش گوئی کی؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:48 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)