Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 042 (Jesus offers people the choice)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ب : یسُوع زندگی کی روٹی ہیں۔ (یُوحنّا ٦: ١- ٧١)٠

۔۴۔ یسُوع لوگوں کو اپنی پسندکے مطابق انتخاب کرنے کا موقع دیتے ہیں: "قبول کرلو یا ٹھُکرادو" (یُوحنّا ٦: ۲۲۔۵۹)٠


یُوحناّ ٦: ۲۲۔۲۵
۔۲۲ دوسرے دِن اُس بھِیڑ نے جو جھیل کے پار کھڑی تھی، یہ دیکھا کہ یہاں ایک کے سِوا اور کوئی چھوٹی کشتی نہ تھی اور یسُوع اپنے شاگردوں کے ساتھ کشتی پر سوار نہ ہُوا تھا بلکہ اُس کے شاگرد چلے گےہ تھے ۲۳ (لیکن بعض چھوٹی کشتیاں تبریاس سے اُس جگہ کے نزدیک آئیں جہاں اُنہوں نے خداوند کے شکر کرنے کے بعد روٹی کھائی تھی۔) ۲۴ پس جب بھیڑ نے دیکھا کہ یہاں نہ یسُوع ہے نہ اُس کے شاگرد تو وہ خود چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر یسُوع کی تلاش میں کُفر نحوم كو آئے ۲۵ اور جھیل کے پار اُس سے مِل کر کہا: اے ربّی! تُو یہاں کب آیا؟

جب بھیڑ کو یقین ہو گیا کہ یسُوع کشتی میں سوار ہو کر چلے نہیں گئے تھے تب اُنہیں تعجب ہُوا کہ آپ اُنہیں چکمہ دے کر نکل گئے۔آپ رات کی تاریکی میں وہاں سے بچ کر نکل پڑے تھے۔

ہزاروں لوگ کفرنحوم لَوٹ آئے اور اُس روٹی کی خبر دیتے رہے جو اُنہیں مُفت پیش کی گئی تھی۔ لوگ متعجب ہُوئے اور یہ کہہ کر رشک کرنے لگے کہ کاش وہ بھی اِس فیض میں شریک ہو پاتے۔بھیڑ یسُوع کو ڈھُونڈتے ہُوئے آپ کے شاگردوں کے گھروں تک پہنچی اور آپ کو اُن کے بیچ میں پایا۔یوں اُنہوں نے مسیحی اُصول کی سچّائی کا تجربہ حاصل کیا جس میں کہا گیا ہے کہ "جہاں دو یا تین میرے نام پر اِکٹھّے ہوتے ہیں، وہاں میں اُن کے درمیان موجود ہوتا ہُوں"۔

جو معجزے دیکھنے کے لیے بے چین تھے وہ اِس نئے عجوبہ سے واقف تھے۔ اُنہوں نےیسُوع سے پُوچھا: "آپ یہاںکب اور کیسے پہنچے؟" یسُوع نے اُس سوال کی جواب نہیں دیا بلکہ رُوحانی تشویش کے باعث آپ نے ایمان کا مطلب واضح کیا کیونکہ آپ چاہتے تھے کہ اُن جوشیلے لوگوں میں سے جو مخلص ہیں اُنہیں اپنی محبّت کی طرف راغب کریں اوراُن پر اپنے دشمنوں کی مکاّری کا راز ظاہرکر دیں۔ یسُوع کو لوگوں کے سرد مہر حالات پسند نہ تھے اور آپ ایمان لائے ہُوئے حلقہ کونام نہاد دینی لوگوں کی بہت بڑی تعداد سے الگ کرنا چاہتے تھے۔

یُوحناّ ٦: ۲٦۔۲۷
۔۲٦ یسُوع نے اُن کے جواب میں کہا:میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ تُم مُجھے اِس لیے نہیں ڈھُونڈتے کہ معجزے دیکھے بلکہ اِس لیے کہ تُم روٹیاں کھا کر سَیر ہُوئے۔ ۲۷ فانی خوراک کے لیے محنت نہ کرو بلکہ اُس خوراک کے لیے جو ہمیشہ کی زندگی تک باقی رہتی ہے، جسے اِبنِ آدم تمہیں دے گا کیونکہ باپ یعنی خدا نے اُسی کے اوپر مُہر کی ہے۔

یسُوع نے بھیڑ کو صاف لفظوں میں مُتنبہ کیا :تُم مجھے اِس لیے نہیں ڈھُونڈ رہے ہو کیونکہ تمہیں مُجھ سے محبّت ہے ، نہ ہی تمہارے خیاات خدا کے بارے میں درست ہیں لیکن تمہیں اپنے پیٹ اور روٹی کی فکر لگی ہُوئی ہے۔تُم اُس معجزے کو سمجھ نہ پائے کیونکہ میرا مقصد اُس روٹی سے صرف تمہاری بھوک مٹانا نہ تھا بلکہ یہ کہ تُم مجھے اور میری قوّت کو جانو۔تُم صرف نعمت کے خواہاں ہو لیکن اُسے دینے والے کو بھُلا دیتے ہو۔تُم دُنیاوی معاملات پر بحث کرتے ہو لکن میری اُلوہیت پر ایمان نہیں لاتے۔

محض کھانے اور پینے کی خاطر دن بھر محنت نہ کرو بلکہ خدا کی قدرت پر غور کرو۔درندوں کی طرح نہ بنو جو صرف کھانے کے لیے جیتے ہیں بلکہ خدا کے قریب آؤ جو رُوح ہے۔ وہ آپ کو اپنی ابدی زندگی دینے کے لیے تیّار ہے۔

یسُوع نے مزید واضح کیا: میں دُنیا میں آیا تاکہ تمہیں خدا کی عظیم نعمت عنایت کروں۔میں وہ آدمی نہیں جومحض گوشت اور خون کا مجسِّمہ ہوتا ہے۔ لیکن مجھ میں خدا کی وہ نعمت ہے جو تمہارے لیے برکت کا باعث بن سکتی ہے۔خدا نے مجھ پر اپنے پاک رُوح سے مہر لگا دی ہے تاکہ میں تُم کو رُوحانی زندگی بخشوں اور آسمانی قوّت سے تمہاری تجدید کروں۔

اِس بیان کے ساتھ یسُوع نے اُس عظیم راز کا اعلان کیا کہ خدا سب کی فکر برکھتا ہے، نوعِ اِنساں کو رِزق پہنچاتا ہے اور اُن سے محبّت رکھتا ہے۔وہ کوئی غضبناک دیوتا نہیں ہے جو برکت دینے سے پہلے شریعت کی پابندی پر بضِد رہتا ہے۔وہ راستباز اور بدکار، دونوں کو برکت دیتا ہے اور بلا اِمتیاز اپنا سورج سب پر چمکاتا ہے، یہاں تک کہ مُلحد اور منکروں پر بھی۔خدا محبّت ہے اور مسیح لوگوں کو اُن کے مادہ پرست خیالات سے آزاد کرکے واپس خدا باپ پر ایمان لانے کے لیے راغب کرنا چاہتے تھے۔لہٰذا آپ نے دعویٰ کیا کہ آپ کی بادشاہی دنیاوی نہ تھی جو اشیائے خُوردنی، مال و زر اور تسلُّط پر مبنی ہوتی ہے بلکہ رُوحانی تھی جو ایزدی زندگی سے لبریز تھی جو مسیح کی ہستی میں اُن تک پہنچی تھی جو ہر اُس شخص کو پاک رُوح عنایت کرتے ہیں جو آپ سے طلب کرتا ہے۔

یُوحناّ ٦: ۲۸۔۲۹
۔۲۸ پس اُنہوں نے اُس سے کہا کہ ہم کیا کریں تاکہ خدا کے کام انجام دیں۔ ۲۹ یسُوع نے جواب میں اُن سے کہا: خدا کا کام یہ ہے کہ جسے اُس نے بھیجا ہے اُس پر ایمان لاؤ۔

وہ بھیڑ یسُوع کی تعلیم کو صاف طور سے سمجھ نہ پائی لیکن اُسےیہ ضرور محسوس ہُوا کہ آپ خدا کی طرف سے بہت بڑی نعمت عنایت کرنا چاہتے ہیں اور سب لوگ اِس ابدی زندگی کو پانا چاہتے تھے۔وہ اِس نعمت کو پانے کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ وہ شریعت کے پابند رہنے کے لیے، قربانیاں گزراننے کے لیے، روزہ رکھنے، دعا اور عبادت کرنے اور حج کر نے کے لیے راضی تھے تاکہ اپنے اعمال کے ذریعہ خدا کی نعمت حاصل کرتے۔یہاں ہمیں اُن کا اندھاپن نظر آتا ہے۔ وہ سب شریعت پرست تھے جو خود اپنی کوششوں کے ذریعہ نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہ یہ ناممکن ہے کیونکہ وہ خطا کار اور کھوئے ہُوئے تھے۔اُنہوں نے یہ مان کر کہ اُن میں پاکیزگی اور قوّت ہے، نہایت فخر کے ساتھ خدا کا کام کرنے کے متعلق سوچا۔انسان اس قدر اندھا ہوتا ہے کہ وہ اپنے دل کی صحیح کیفیت کا اندازہ نہیں لگا سکتا بلکہ خود کو خدائے صغیر سمجھتا ہے اور توقع رکھتا ہے کہ خدا اُس سے خُوش ہوگا۔

یسُوع نے اُنہیں بتایا کہ اُنہیں کوئی خدمت یا کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اُنہیں صرف آپ کی ہستی پر ایمان لانا ہے۔ خدا کسی کوشش یا قوّت کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ ہم یسُوع کی اِطاعت کریں اور آپ پر ایمان لائیں۔یہ الفاظ لوگوں کے لیے سنگِ راہ بن گئے اور اس طرح سے یسُوع اورلوگوں کے درمیان تفرقہ پیدا ہُوا۔آپ نے مزید واضح کیا کہ خدا کا کام یہ ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائیں۔"اگر تُم اپنی جان کو پاک رُوح کے لیے کھول دو تو تُم میرے اختیار، ارادہ اور محبّت کو جان لوگے۔تب تُم جان لوگے کہ میں محض نبی نہیں ہُوں بلکہ خالق اور خدا کا بیٹا ہُوں جسے باپ نے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ تُم اپنے دنیاوی تعلق کو چھوڑ کر خدا کےفرزند بن جاؤگے"۔

یسُوع پر ایمان لانے کا مطلب آپ کو تھامے رہنا اور آپ کو اپنی زندگی میں کام کرنے دینا ہے؛ نیزآپ کی رہنمائی تسلیم کر کے آپ کی قدرت سے ابدی زندگی پانا ہے۔ایمان کا مطلب اِس زمانہ میں اور ابد تک یسُوع کےمطیع بن کررہنا ہے۔یہی خدا کا کام ہے جو ایمان لائے ہُوئے لوگوں کو اپنے بیٹے سے پیوست کرتا ہے تاکہ گناہ اُن کی زندگی سے غائب ہو جائے اور وہ ہمیشہ کے لیے یسُوع میں جیتے رہیں۔

یُوحناّ ٦: ۳۰۔۳۳
۔۳۰ پس اُنہوں نے اُس سے کہا: پھر تُو کون سا نشان دکھاتا ہے تاکہ ہم دیکھ کر تیرا یقین کریں؟ تُو کون سا کام کرتا ہے؟ ۳۱ ہمارے باپ دادا نے بیابان میں منّ کھایا۔چنانچہ لکھا ہے کہ اُس نے اُنہیں کھانے کے لیے آسمان سے روٹی دی۔ ۳۲ یسُوع نے اُن سے کہا: میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ موسیٰ نے تو وہ روٹی آسمان سے تُمہیں نہ دی لیکن میرا باپ تمہیں آسمان سے حقیقی روٹی دیتا ہے۔ ۳۳ کیونکہ خدا کی روٹی وہ ہے جو آسمان سے اُتر کر دُنیا کو زندگی بخشتی ہے۔

یسُوع کے مکمل اطاعت کے تقاضہ سے بھیڑ کو سخت صدمہ پہنچا۔اُنہیں ایسا لگاگویا یسُوع نے کسی ایسی چیز کی فرمائش کی ہے جو صرٖف خدا کو ہی دی جا سکتی ہے۔لہٰذا اُنہوں نے آپ سے اپنے دعوے کے ثبوت میں آسمانی نوشتوں میں سے ثبوت طلب کیا۔گویا وہ کہہ رہے ہوں کہ" ہمیں اپنی اُلوہیت کا ثبوت دیجیے۔ موسیٰ نے بیابان میں لوگوں کو روٹی (منّ) دی جو روز بروز ملتی رہی لیکن آپ نے ہمیں صرف ایک ہی بار روٹی کھلائی۔ موسیٰ نے لاکھوں لوگوں کو روٹی بہم پہنچائی لیکن آپ نے محض پانچ ہزار لوگوں کو ہی کھلایا۔ہمیں کوئی اور معجزہ دکھائیے تاکہ ہم ایمان لائیں۔" یہ انسانی بیماری ہے۔ انسان ، بنا شرط یسُوع کی محبّت کا مطیع ہونے سے انکار کرتا ہے بلکہ پہلے ثبوت طلب کرتا ہے۔ لیکن یسُوع کہتے ہیں؛" مبارک وہ ہیں جنہوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں پھر بھی ایمان لے آئے۔یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ایمان کی بدولت میرا احترام کرتے ہںا"۔

یسُوع اعلیٰ درجہ کے رہنما ہںا جو اپنے سامعین کورفتہ رفتہ اُن کے شریعت پرست نظریہ سے بری کر کے خود آپ پر ایمان لانے کی رغبت دلاتے ہیں۔ آپ نے لوگوں کو کھانے کی انتہائی خواہش سے بری کر کے اُنہیں روشن ضمیری بخشی کیونکہ آپ خود خدا کی عظیم نعمت ہیں۔

اس طرح بتدریج صفائی پیش کرتے ہُوئے یسُوع نے اُنہیں آسمانی نوشتوں کے متعلق اُن کے باطل خیالات سےآزاد کر دیا جیسے کہ وہ سمجھتے تھےکہ موسیٰ نے اُنہیں منّ دیا تھا۔دراصل وہ خدا تھا جس نے یہ کیا تھا کیونکہ صرف وہی ہر نعمت عنایت کرتا ہے، ۔آپ نے اُنہیں یہ نقطہ سمجھا کر ساقط کردیا کہ خدا اُنہیں عمدہ روٹی عنایت کرتا ہے اور وہ آسمانی غذا جو کبھی برباد نہںت ہوتی۔اِن باتوں پر غور کرنے سے وہ جان جاتے کہ یسُوع دعویٰ کر رہے ہیں کہ آپ خود خدا کے بیٹے ہیں کیونکہ آپ نے خدا کو اپنا باپ کہا تھا۔البتّہ بھیڑ اب تک دنیاوی روٹی کے متعلق ہی سوچتی رہی جو موسیٰ کے ہاتھوں آسمان سے آئی تھی۔

یسُوع نے اُن کے شعور کو اس قدر بلند کیا کہ وہ سمجھ سکیں کہ خدا کی روٹی ایسی شَے نہیں ہے کہ جسے پیٹ میں نگل لیا جائے بلکہ وہ مسیح کی ہستی ہے جو حق اور کثرت سے زندگی پانے کی لوگوں کی بھوک مٹاتی ہے۔جو یہ چیز عنایت کرتا ہے وہ خدا کی برکتوں اور بہت زیادہ قوّت سے آراستہ ہوکر آسمان سے آ چُکا ہے۔ خدا کی روٹی مادّی یا برباد ہونے والی نہیں ہے بلکہ رُوحانی اور مستقل طور سے قائم رہنے والی ہے۔ وہ منّ کی طرح زمین سے نہیں اُگی بلکہ خدا کی طرف سے آئی، جو تمام نوعِ اِنساں کو ابد تک بسر آئے ایسی ہے۔وہ ابرہام کی نسل کے لیے ہی محدود نہیں ہے کیونکہ خدا باپ ساری دُنیا کی فکر رکھتا ہے۔

دعا: اے خداوند یسُوع، ہمیں اپنی خود غرض سرگرمیوں سے بچائے رکھیے۔ ہم میں فروتن ایمان پیدا کیجیے تاکہ جو آپ چاہتے ہیں کہ ہم کریں، اُسے سُن سکیں۔اپنی قوّت کے مطابق ہم میں کام کیجیے۔ہمیں توفیق دیجیے کہ ہمارا آپ کے ساتھ مکمل اتّحاد ہو۔ہمارے اندر اپنی موجودگی سے ہمارے دل کی بھوک مِٹا دیجیے۔ہمیشہ کی زندگی کے لیے ہمیں محفوظ رکھیے۔اے آسمانی باپ، ہمارے پاس آکر ہمیں قوّت اور برکت دینے کے لیے ہم تیراشکربجا لاتے ہیں۔

سوال ۴٦۔ یسُوع نے لوگوں کو روٹی کی خواہش کرنے کی جائےخودآپ پر ایمان لانے کے لیے کیسے راغب کیا؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:34 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)