Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 072 (Jesus meets Martha and Mary)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ج : یسُوع کی یروشلیم میں آخری آمد۔ (يوحنَّا ۷: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴) تاریکی اور نُور کی علحدگی٠

۔۴ : لعزر کا زندہ کیا جانا اور اُس کے نتائج ( یُوحنّا ۱۰: ۴۰۔۱۱: ۵۴)٠

ب : یسُوع کی مرتھا اور مریم سے ملاقات (یُوحنّا ۱۱: ۱۷۔۳۳)٠


یُوحنّا ۱۱: ۱۷۔۱۹
۔۱۷ پس یسُوع کو آکر معلوم ہُوا کہ اُسے قبر میں رکھے چار دن ہُوئے۔ ۱۸ بیت عنیاہ، یروشلیم کے نزدیک قریباً دو میل کے فاصلہ پر تھا۔ ۱۹ اور بہت سارے یہودی مرتھا اور مریم کو اُن کے بھائی کے بارے میں تسلّی دینے آئے تھے۔

لعزر کو دفن کیے ہُوئے چار دن گزر چُکے تھے؛جس دن موت ہُوئی اُسی دن اسے دفنایا گیا تھا اور یسُوع کو بھی یہ خبر اُسی دن ملی تھی اس لیے آپ کے فوراً وہاں آنے میں کوئی مطلب ہی نہ تھا کونکہ آپ کا دوست دفن کیا جا چُکا تھا۔اس سے موت کی تصدیق ہو چُکی تھی اور اب اُس میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔

بیت عنیاہ، زیتون کے پہاڑ کے مشرق میں واقع تھا اور وہاں سےایک ہزار میٹر کی دوری پر نیچے یردن کا علاقہ تھا اور اُس سے پرے بحیرۂ مرُدار تھا۔۔یہاں سے تین کلومیٹر مغرب کی جانب یروشلیم شہر تھا جو کِدرون کی گھاٹی کے اُس پار ایک پہاڑ پر بسا ہُوا تھا۔

مرحوم کے کئی دوست و احباب اس کے گھر آئے تھے جو آہ و زاری کر رہے تھے اور اپنی چھاتی پیٹ رہے تھے۔ گھر میں غم کا ماحول تھا کیونکہ خاندان میں کمانے والا صرف لعزر ہی تھا۔ جو لوگ جمع ہُوئے تھے اُن پر موت کا سایہ منڈلا رہا تھا۔

یُوحنّا ۱۱: ۲۰۔۲۴
۔۲۰ پس مرتھا یسُوع کے آنے کی خبر سُن کر اُس سے ملنے کو گئی لیکن مریم گھر میں بیٹھی رہی۔ ۲۱ مرتھا نے یسُوع سے کہا: اے خداوند! اگر تُو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔ ۲۲ اور اب بھی میں جانتی ہُوں کہ جو کُچھ تُو خدا سے مانگے گا وہ تُجھے دے گا۔ ۲۳ یسُوع نے اُس سے کہا: تیرا بھائی جی اُٹھے گا۔ ۲۴ مرتھا نے اُس سے کہا: میں جانتی ہُوں کہ قیامت میں آخری دن جی اُٹھے گا۔

جب مرتھا کو پتہ چلا کہ یسُوع قریب آ چُکے ہیں تو وہ ماتم کرتی ہُوئی اور اپنے دل میں یہ سوچتی ہُوئی آپ کے پاس گئی کہ اگر آپ وقت پر پہنچے ہوتے تو یہ آفت نہ آتی۔جب اُس کی ملاقات یسُوع سے ہُوئی تو اُس نے اپنے ایمان کا اعادہ کیا کیونکہ اُسے آپ کی غیر محدود قدرت کایقین تھا۔اس نے اپنا غم جتانے میں وقت برباد نہیں کیا اور کہا:" آپ یہ موت روک سکتے تھے۔" لیکن اُسے معلوم نہ تھا کہ کس طرح۔ وہ آپ کے مطلق العنان اختیار اور آپ کے خدا کے ساتھ نہایت قریبی تعلقات پر اعتماد رکھتی تھی اور اسے یقین تھا کہ خدا ،بیٹے کی دعا کا ہمیشہ جوب دیا کرتا ہے۔

یسُوع نے فوراً اس کے ایمان کا ایک عظیم وعدہ کی صورت میں جواب دیا:"تیرا بھائی جی اُٹھے گا۔" وہ آپ کے کلام کا مطلب سمجھ نہ پائی اورسوچا کہ شاید آپ قیامت کے دن مرُدوں کے جِلائے جانے کے متعلق کہہ رہے ہیں۔اب اُس کی اُمیّد بندھ گئی اور وہ سمجھ گئی کہ موت زندگی کا اختتام نہیں ہوتی۔معتقد، مرنے کے بعد جی اُٹھنے کی توقع رکھتے ہیں۔

یُوحنّا ۱۱: ۲۵۔۲۷
۔۲۵ یسُوع نے اُس سے کہا: قیامت اور زندگی تو میں ہُوں۔جو مُجھ پر ایمان لاتا ہے، گو وہ مر جائے تو بھی زندہ رہے گا۔ ۲۶ اور جو کوئی زندہ ہے اور مُجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا۔ کیا تُو اِس پر ایمان رکھتی ہے؟ ۲۷ اُ س نے اُس سے کہا:ہاں اے خداوند میں ایمان لا چُکی ہُوں کہ خدا کا بیٹا ،مسیح جو دنیا میں آنے والا تھا، تُو ہی ہے۔

اپنے شاگردوں کے سامنے یسُوع نے مرتھا سے مخاطب ہو کر یہ عظیم الفاظ کہے:"قیامت یقیناً واقع ہوگی۔ وہ یہاں میری اپنی ہستی میں ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ لعزر قیامت کے دن زندہ کیا جائے گا بلکہ وہ آج ہی میری حاضری کے باعث جی اُٹھے گا۔میں خالق ہُوں اور مُجھ ہی میں سے پاک رُوح تُم میں آ جاتا ہے۔تمہاری بجائے میں اپنی جان دے دُوں گا اور تمہارے گناہ اُٹھا لے جاؤں گا تاکہ تمہیں ایزدی زندگی بخشُوں۔موت تُم پر حکومت نہ کرے گی ۔بہت جلد میں مرُدوں میں سے جی اُٹھوں گا جو تمہاری قیامت کی ضمانت ہو گا تاکہ تُم ایمان کی بدولت میرے ساتھ دفن ہو جاؤ اورمیرے ہی ساتھ دوبارہ زندہ کیے جاؤ۔میری موت تمہاری موت ہے اور میری زندگی تمہاری زندگی ہے۔میں تُم میں زندہ ہُوں اور تُم مُجھ میں زندہ رہوگے"۔

مسیح کی زندگی پانے کے لیے ایک ہی شرط لازمی ہے، وہ یہ کہ آپ کے ساتھ ایمان کا عہد کیا جائے۔جب تک تُم یسُوع سے پیوست نہیں ہوتے، آپ کی زندگی کی رَو آپ میں سے تُم میں سرایت نہیں کرتی۔مسیح پر ایمان لانے سے ہمیں باپ اور ابدی زندگی کا ادراک ہوتا ہے۔آپ کی محبّت ہمارے اندر خوشی، اطمئنان اور محبّت داخل کرتی ہے جو ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔جو شخص مسیح کی محبّت سے معمور ہو جاتا ہے وہ کبھی نہیں مرے گا کیوںکہ خدا کا رُوح ابدی ہے۔ یہ رُوح اُن لوگوں کے دلوں میں بس جاتا ہے جو مسیح پر ایمان لاتے ہیں۔

لعزر کو مرُدوں میں سے زندہ کرنے کے بعد یسُوع نے زور و شور سےکوئی تقریر کرکے آپ نے موت پر حاصل کی ہُوئی فتح کا اعلان نہیں کیا۔ جو لوگ آپ کی رُوح میں زندہ تھے اُنہیں آپ نے یقین دلایا کہ موت کا اُن پر کوئی اختیار نہ رہا کیونکہ وہ خود آپ کے مرُدوں میں سے زندہ کیے جانے میں پہلے ہی سے شریک ہو چُکے ہیں۔کیاتُم کویسُوع کے لبوں سے نکلے ہُوئے اس غیر مشروط وعدہ کی قوّت کا اندازہ ہے؟ اگرتُم یسُوع پر ایمان لاؤگے تو مروگے نہیں۔تُم آنے والی موت یا کھُلی قبر کے متعلق سوچو ہی نہیں بلکہ اپنی نگاہیں یسُوع پر جمائے رکھو۔اپنی اس پابندی کے لیے یسُوع کا شکر بجا لاؤکیونکہ آپ تمہیں ابدی زندگی بخشیں گے۔

عزیز بھائی!کیا تُم زندگی بخشنے والےیسُوع پر ایمان لاتے ہو؟کیا تُمہیں یہ ذاتی تجربہ ہُوا ہے کہ آپ نے تمہیں موت کی حکمرانی سے آزاد کیا ہے اور گناہوں کی ناپاکی سے بری کیا ہے؟اگر تُمہیں اس رُوحانی ارتقا کا تجربہ نہ ہُوا ہو تو ہم تُمہیں یقین دلاتے ہیں کہ زندگی بخشنے والا خداوند تمارے روبرو کھڑے ہوکر اپنے ہاتھ پھیلا رہا ہے۔آپ کی محبّت اور قدرت پر ایمان لائیے۔آپ کا ہاتھ تھام لیجیے، آپ تمہارے گناہ معاف کرکے تمہیں ابدی زندگی عطا کریں گے۔ آپ ہی تمہارے وفادار مُنجی ہیں۔

مرتھا نے مسیح کے وعدے کو قبول کیا۔اُسے نہ صرف ابدی زندگی کا بلکہ زندگی بخشنے والے کا بھی تجربہ ہُوا تھا۔ اس نے ایمان لایا کہ یسُوع ہی موعودہ مسیح ہیں جنہیں مرُدوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت حاصل ہے۔آپ کو آخری عدالت کرنے کا بھی اختیار ہے۔اُس نے آپ کی قوّت خود اپنے اندر سرایت ہوتی ہُوئی محسوس کی جو اسے جگا رہی تھی اور اس کی تقدیس کر رہی تھی۔ اُس نے راہ میں ہی اپنی گواہی پیش کرنے کی جرأت کی حالانکہ وہ جانتی تھی کہ یہودیوں نے یسُوع کو سنگسار کرنے کا قصد کیا ہے کیونکہ آپ نے خود کو خدا کا بیٹا کہا تھا۔اسے موت کا خوف نہ تھا بلکہ وہ اپنے منجی سے محبّت کرتی تھی۔وہ ایسی عورت تھی جس کی ہمّت مرَدوں کو شرم دلاتی تھی۔اس کی محبّت کے ساتھ اس کا یقین بھی مستحکم ہوتا گیا۔

دعا: اے خداوند یسُوع! آپ ازل سے ابد تک عظیم ہیں۔ موت کو آپ پر کوئی اختیار نہیں۔آپ ہماری موت مرے اور خود مرُدوں میں سے جی اُٹھ کر ہمیں بھی جِلایا۔ہم آپ کی عبادت کرتے اور شکر بجا لاتے ہیں۔آپ نے اپنی زندگی میں ہمیں شامل کر لیا تاکہ موت ہم پر حکمرانی نہ کرے۔ہم آپ سے محبّت کرتے ہیں اورہمیں خطاؤں، خوف اور موت سے آزادی بخشنے کے لیے ہم آپ کے مشکور ہیں۔

سوال ۷۶۔ آج ہم موت کے بعد دوبارہ زندہ کیسے ہوتے ہیں؟

یُوحنّا ۱۱: ۲۸۔۳۱
۔۲۸ یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور چُپکے سے اپنی بہن مرین کو بُلا کر کہا کہ اُستاد یہیں ہے اور تُجھے بُلاتا ہے۔ ۲۹ وہ سُنتے ہی جلد اُٹھ کر اُس کے پاس آئی۔ ۳۰ (یسُوع ابھی گاؤں میں نہیں پہنچا تھا بلکہ اُسی جگہ تھا جہاں مرتھا اُس سے ملی تھی)۔ ۳۱ پس جو یہودی گھر میں اُس کے پاس تھے اور اُسے تسلّی دے رہے تھے، یہ دیکھ کر کہ مریم جلد اُٹھ کر باہر گئی، اِس خیال سے اُس کے پیچھے ہو لیے کہ وہ قبر پر رونے جاتی ہے۔

یسُوع نے مرتھا سے گذارش کی کہ وہ مریم کو آپ کے پاس لے آئے تاکہ وہ ماتم کرنے والوں کے شور و غل سے دور آکرآپ سے اعتقاد اور اطمئنان کے الفاظ سُنے۔اس سے وہ آپ کی محبّت کی بدولت اپنے ایمان کو تقویّت دے سکے۔یسُوع قنوطیت اور غم سے نہیں بلکہ ایمان کی جرأت سے فتحیاب ہوتے ہیں۔آپ غمزدہ مریم کو خدا کی حضُوری کی روشنی میں لانا چاہتے تھے تاکہ وہ جئیے اور رُوحانی طور سے مستعد رہے۔

مریم کو یسُوع کے آنے کی خبرشاید نہ پہنچی ہو کیونکہ وہ غم میں ڈوب گئی تھی۔البتّہ جب مرتھا اس کے پاس واپس لوٹی اور اُس سے کہا کہ یسُوع تمہیں بُلا رہے ہیں تو وہ پریشان حال اُٹھی اور کچھ ایسی جلد بازی سے خداوند سے ملنے چلی گئی کہ حاضرین تعجب کرنے لگے اور پوچھنے لگے کہ کہیں وہ قبر پر رونے کے لیے تو نہیں جا رہی؟وہ سب اُٹھ کر اُس کے پیچھے قبر تک گئے۔یہ گویا ایک مثال تھی انساں کے خیالی پیکر کی جسے آفت اور مایوسی نے نگل لیا ہو اور اُس کی زندگی،جہنّم کے عذاب کی طرف جانے کے لیے قدم بڑھا رہی ہو۔ جہاں فلسفہ اور مذہب زندگی اور موت کے مسلہ کا صحیح حل نہیں پیش کرسکتے وہاں موت میں مسیحی کو جواُمیّد ہوتی ہے اُس کی سچّائی اور اس کا مکمل اطمئنان واضح ہو جاتا ہے۔

یُوحنّا ۱۱: ۳۲۔۳۳
۔۳۲ جب مریم اُس جگہ پہنچی جہاں یسُوع تھا اور اُسے دیکھا تو اُس کے قدموں پر گر کر اُس سے کہا:"اے خداوند، اگر تُو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔" ۳۳ جب یسُوع نے اُسے اور اُن یہودیوں کو جو اُس کے ساتھ آئے تھے، روتے دیکھا تو دل میں نہایت رنجیدہ ہُوا اور گھبرا کر کہا:"تُم نے اُسے کہاں رکھا ہے؟

مریم نے یسُوع کو دیکھا اور جذبات سے مغلوب ہوکر شکستہ حالت میں آپ کے قدموں پر گر پڑی۔اس نے سر بسجود ہو کر اپنے ایمان کا ، اس یقین کے ساتھ اقرار کیا کہ آپ ایزدی معجزہ دکھا سکتے ہیں کیونکہ اگر آپ اس سے پہلے وہاں پہنچے ہوتے تو اُس کا بھائی نہ مرتا۔یہ اُس پکّے ایمان کی طرف اشارہ ہے جو اس خاندان کو تھا کہ خدا یسُوع میں موجود تھا۔ لیکن موت نے اس ایمان کو جھنجھوڑا تھا اور اُن بہنوں کو الجھن میں ڈالا تھا۔جب یسُوع نے اپنے وفادار پیروؤں کے ایمان کو اُلجھن میں پڑا ہُوا اور بھیڑ کی لاعلمی دیکھی تو آپ کی رُوح پریشان ہُوئی۔آپ نے دیکھا کہ کس طرح وہ سب موت کے اثر سے مغلوب ہو چُکے تھے۔آپ رونا دھونا دیکھ کر رنجیدہ ہُوئے اور محسوس کیا کہ دنیا بدی کی قوّت کا شکار ہو چُکی ہے۔پھر ایک بار آپ نے محسوس کیا کہ دنیا کے گناہ کا بوجھ آپ کے کندھوں کو دبا رہا ہے۔آپ نے رُوحانی طور پر صلیب کی ضرورت اور اس کھلی قبر کو دیکھا جو ایسےغم پر غلبہ پانے کا واحد ذریعہ تھا۔ آپ کو لعزر کے دوبارہ جی اُٹھنے کا پورا یقین تھا جو ابھی کچھ دیر میں ہونے والا تھا۔ وہ موت، بے اعتقادی اور مصیبت کا قطعی فیصلہ تھا۔

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 07, 2012, at 03:11 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)