Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 060 (The devil, murderer and liar)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ج : یسُوع کی یروشلیم میں آخری آمد۔ (يوحنَّا ۷: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴) تاریکی اور نُور کی علحدگی٠

۔۱۔ عیدِ خیام کے موقع پر یسُوع کا کلام (یُوحنّا ۷: ۱ ۔ ۸: ۵۹)٠

و ۔ شیطان قاتل اور جھُوٹا ہے (یُوحنّا ۸: ۳۷۔۴۷)٠


یُوحنّا ۸: ۴۴
۔۴۴ تُم اپنے باپ ابلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پُورا کرنا چاہتے ہو۔ وہ شروع ہی سے خُونی ہے اور سچّائی پر قائم نہیں رہا کیونکہ اُس میں سچّائی ہے نہیں۔، جب وہ جھُوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے کیونکہ وہ جھُوٹا ہے بلکہ جھُوٹ کا باپ ہے۔

یسُوع ہر اُس شخص کے متعلق جو آپ سے محبّت نہ رکھتا تھا، یہی کہتے تھے کہ وہ شیطان کی اولاد ہے۔اس طرح آپ نے یہودیوں کو خود اُن کے اپنے بارے میں سچ بتا دیا حالانکہ وہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ خدا کو جانتے ہیں۔ عالمِ شرع خدا سے بہت بعید تھے۔ بدی کا سرغنہ اُن کا سرپرست تھا۔

شیطان جہاں کہیں جاتا ہے ہنگامہ برپا کرتا ہے۔اُس کا نصبُ العین خدا کی خلقت کو زوال پہچانا ہے۔ وہ ہر شخص کی کمزوریوں کو بھانپتا ہے اور اُسے دھوکا دے کر آزمایش میں لاتا ہے اور اُس پر قابو پا لیتا ہے اور اِس طرح اُسے گناہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔پھر وہ خدا کے تخت کی طرف دوڑ لگاتا ہے اور گنہگار پر الزام لگاتا ہے تاکہ مُنصِف اُس بدنصیب کو سزا دے ؛فریب کس قدر مُہیب ہوتا ہے!۔

یسُوع نے شیطان کو بری شہوتوں کا مُجسِّمہ قرار دیا تھا جس کی بدولت وہ نیک ارادوں سے محروم رہا۔ وہ خود اپنا غلام بن گیا اور ہر کسی سے نفرت کرنے لگا۔ مسیح کے سبھی دشمنوں نے یہی رُوح پایا ہے جو دوسروں کے ساتھ ساتھ خود کوبھی شہوت میں گھسیٹ کر ہلاک کرتے ہیں۔ وہ سب لوگ جو خداوند سے علٰحدگی اختیار کر لیتے ہیں،شیطان کے ورغلانے سے بدی کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔

شیطان کی شہوتیں کیا ہیں؟ یسُوع ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ شروع سے ہی قاتل تھا۔ اس کا مطلب یہ ہُوا کہ چونکہ وہ انسان میں پائی جانے والی خدا کی شبیہہ سے سخت نفرت کرتا ہے اور اِسی لیے اُس نےاُس خدا سے علٰحدگی اختیار کر لی جو زندگی بخشتا ہے اور اب وہ ابدی مَوت کا باعث بنا۔ وہ مَوت پر حکمران ہُوا کیونکہ اُس کا ارادہ سبھی زندہ مخلوقات کا قلع قمع کرنا ہے۔

اِس سفّاکی کا سبب فریب ہے۔ شیطان نے انسان کے پہلے جوڑے، آدم و حوّا کو جھُوٹ بول کر دھوکا دیا اور اُن کے ایمان کو ٹھیس پہنچائی اور خدا کے حکم کی نافرمانی کرنے کی رغبت دی۔ اُس نے خود کو، جب وہ سب فرشتوں کا سردار تھا، خدا سے بالا و برتر، خوبصورت اور طاقتور تصوّر کرکے اپنے آپ کو بھی اُلوّ بنایا۔

خود کو دھوکے میں ڈالنا شیطان کا جوہر ہے جسے اپنے منصوبوں کے حدود کا اندازہ نہ تھا اور اسی لیےوہ اتھاہ گڑھے میں جا گرا۔مسیح اس کے بالکل برعکس ہیں کیونکہ آپ حلیم اور مُنکسر المزاج ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگ وسوسہ اور شیخی بگھارنے کو مسیح کی حلیمی اور نفس کُشی پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے یہ دھوکے باز جھوٹوں کی فوج جمع کرتا ہے جن کے مُنہ سے جھُوٹ نکلتا ہے ٹھیک اُسی طرح جیسے سانپ کے مُنہ سے نکلا ہُوا زہرلوگوں کی زندگیوں کو تباہ کرتا ہے۔ایسے لوگ ایک دوسرے پر یقین نہیں کرتے۔

ایک دفعہ ایک خاتون نے اپنی ماں سے کہا:"سب لوگ جھُوٹے ہیں۔ وہ مسکرا کر ایک دوسرے کی خوشامد کرتے ہیں۔ ہر شخص خود اپنے ہی عزّت چاہتا ہے، طلبہ امتحان میں بے ایمانی کرتے ہیں، تجّار دھوکا دیتے ہیں۔گھر میں بھی میاں بیوی ایک دوسرے کو دھوکا دیتے ہیں۔ایک شخص دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتا پھر بھی ہر کوئی صرف اپنے آپ کو ہی راستباز سمجھتا ہے۔" شیطان کی اشتعال انگیزی جھُوٹ ہی تو ہوتی ہے! ایسے اکثر جھُوٹ میں نیم سچّائی ہوتی ہے۔ شیطان ہر جھُوٹ کو ایسے پیش کرتا ہے کہ وہ سچ معلوم دیتا ہے۔وہ دھوکے باز اور جھُوٹ کا باپ ہے۔

یُوحنّا ۸: ۴۵۔۴۷
۔۴۵ لیکن میں جو سچ بولتا ہُوں اِسی لیے تُم میرا یقین نہیں کرتے۔ ۴۶ تُم میں کون مُجھ پر گناہ ثابت کرتا ہے؟ اگر میں سچ بولتا ہُوں تو میرا یقین کیوں نہیں کرتے؟ ۴۷ جو خدا سے ہوتا ہے وہ خدا کی باتیں سُنتا ہے۔تُم اِس لیے نہیں سُنتے کہ خدا سے نہیں ہو۔

صرف یسُوع ہی سچ بولتے ہیں اور خدا کی طرف سے سچّائی ظاہر کرتے ہیں۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو آپ کے کلام پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ آپ کُل کائنات کا سچ جانتے ہیں لیکن آپ جو کچھ کہتے ہیں نہایت حلیمی اور ایمانداری سے کہتے ہیں۔

اکثر لوگ اس سچّائی کی خوش خبری کو قبول نہیں کرتے محض اِس لیے کہ اُسے یسُوع نے کہا ہے۔جو یسُوع کہتے ہیں اُسے اگر کوئی سیاسی لیڈر یا کسی مذہب کا بانی کہے تو لوگ اُسے قبول کریں گے۔لیکن جب یسُوع ایک معمولی انسان کی طرح بولتے تھےتو لوگ کھُلّم کھلاّ اسے مسترد کر دیتے تھے کیونکہ وہ نفس کُشی کی بجائے عظمت اور اقتدار پسند کرتے تھے۔

یسُوع نےخاص طور سے یہودیوں سے پوچھا: "تُم یقین کیوں نہیں کرتے؟ کیا تُم نے مُجھ میں فریب یا گھمنڈ یا کوئی بدچلنی پائی ہے؟ ہرگز نہیں۔میں ہمیشہ سچ بولتا رہا اور اُسی کے مطابق چلتا رہا۔ میں ہی تجسیم شدہ حق ہُوں، معصوم اوردیانتدار، جس میں کوئی عیّاری یا فریب نہیں ہے"۔

بلآخر یسُوع نے اپنے خلاف بغاوت کرنے والے لوگوں سے کہا:"جو کوئی خدا کی طرف سے ہے وہ اُس کا کلام سُنتا ہے اور اُس کی آواز پہچانتا ہے۔ ٹھیک اُسی طرح جیسے ایک بچّہ اپنے والدین کی آواز کو دوسروں کی آواز کے مقابلہ میں پہچان لیتا ہے۔ایک ماں بھی جب اپنے نوزاد بچّہ کی رونے کی آواز سُنتی ہے تو اُس کی طرف دوڑتی ہُوئی جاتی ہے۔اسی طرح خدا کے بُلائے ہُوئے لوگ آسمانی باپ کی آواز سُنتے ہیں لیکن جو اِنجیل کو سمجھ نہیں پاتے وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتے۔"کوئی شخص دینی ہو، دعا کرتا ہو اور روزے بھی رکھتا ہو پھر بھی وہ شیطان کی ولاد ہو سکتا ہے۔ہماری پارسائی ہمیں نجات نہیں دلا سکتی بلکہ صرف مسیح کے خون کے ذریعہ پائی ہُوئی از سرِ نَو پیدایش ہی ہمیں نجات دلا سکتی ہے کیونکہ اس سے خدا کا رُوح ہم پر نازل ہوتا ہے اور ہم میں مقیم ہوتا ہے۔تمہارا باپ کون ہے، خدا یا شیطان؟جواب دینے میں جلدبازی نہ کیجیے بلکہ اپنے عزم و ارادوں کا موازنہ پہلے شیطان سے اور پھر مسیح کے اعمال سے کیجیے اور تب توبہ کیجیے۔

دعا: اے آسمانی باپ،ہم شکر گزار ہیں کہ تُو نے ہمیں ہمارے گناہوں اور تیری محبّت کے بارے میں تعلیم دی۔ میری دروغ گوئی کو معاف فرما اور مجھے سبھی نفرت اور غرور سے آزاد کر دے۔مجھے شیطان کے شکنجہ سے کھینچ نکال تاکہ میں نفس کُشی کر لُوں اور کسی مغالطہ میں نہ رہوں۔ تیری اِنجیل کے لیےمیرے کان اور دل کو کھول دے اور مجھے حلیم اور وفادار شخص بنا دے۔

سوال ۶۴۔ شیطان کی وہ کون سی خصوصیات ہیں جنہیں یسُوع نے ہم پر صاف طور سے واضح کر دیں؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 07, 2012, at 06:16 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)