Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 045 (Jesus offers people the choice)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ب : یسُوع زندگی کی روٹی ہیں۔ (یُوحنّا ٦: ١- ٧١)٠

۔۴۔ یسُوع لوگوں کو اپنی پسندکے مطابق انتخاب کرنے کا موقع دیتے ہیں: "قبول کرلو یا ٹھُکرادو" (یُوحنّا ٦: ۲۲۔۵۹)٠


یُوحناّ ٦: ۵۱
۔۵۱ میں ہُوں وہ زندگی کی راٹی جو آسمان سے اُتری۔اگر کوئی اِس روٹی میں سے کھائے تو ابد تک زندہ رہے گا بلکہ جو روٹی میں جہان کی زندگی کے لیے دُوں گا وہ میرا گوشت ہے۔

کیا آپ نے روٹی کو کبھی حرکت کرتے ہُوئے یا بولتے ہُوئے دیکھا ہے؟ یسُوع خود کو زندگی کی روٹی کہتے ہیں۔ وہ روٹی جو زندہ ہے۔ آپ آسمان سے اُتری ہُوئی مادّی روٹی کے متعلق نہیں کہہ رہے بلکہ رُوحانی اور ایزدی غذا کے متعلق کہہ رہے ہیں۔ آپ کا یہ مطلب نہیں کہ آپ لفظی معنوں میں ہمیں واقعی اپنا گوشت کھانے کو کہہ رہے ہیں۔ ہم آدم خور نہیں ہیں۔

بہت جلد یسُوع اپنی مَوت کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ وہ آپ کی رُوحانیّت نہ تھی جس نے نُوعِ اِنساں کو مُخلصی بخشی بلکہ آپ کی تجسیم تھی۔ آپ انسان بنے تاکہ ہمارے گناہوں کے خاطر اپنی جان دے دیتے۔ آپ کے سامعین کو یہ بیان ناگوار گزرا کیونکہ آپ ایک معمولی اِنسان تھے جو ایک مُنکسر خاندان میں پیدا ہُوئے تھے۔اگر آسمان سے کوئی فرشتہ نازل ہُوا ہوتا تو اُنہوں نے اُس کا نہایت گرمجوشی سے استقبال کیا ہوتا۔ یسُوع نے واضح کر دیا کہ آپ کا جلال اور رُوح لوگوں کو نجات نہیں بخشے گا بلکہ آپ کا بدن یہ کام انجام دے گا جو نُوعِ اِنساں کے لیے قربان کیا جائے گا۔

یُوحناّ ٦: ۵۲۔۵٦
۔۵۲ پس یہودی یہ کہہ کہ آپس میں جھگڑنے لگے کہ یہ شخص اپنا گوشت ہمیں کیونکر کھانے کو دے سکتا ہے؟ ۵۳ یسُوع نے اُن سے کہا: میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک تُم اَبنِ آدم کا گوشت نہ کھاؤ اور اُس کا خُون نہ پِیو، تُم میں زندگی نہیں۔ ۵۴ جو میرا گوشت کھاتا اور میرا خُون پیتا ہے ہمیشہ کی زندگی اُس کی ہے اور میں اُسے آخری دِن پھر زندہ کروں گا۔ ۵۵ کیونکہ میرا گوشت فی الحقیقت کھانے کی چیز اور میرا خُون فی الحقیقت پینے کی چیز ہے۔ ۵٦ جو میرا گوشت کھاتا اور میرا خُون پیتا ہے وہ مُجھ میں قائم رہتا ہے اور میں اُس میں۔

یہودیوں میں آپ پر ایمان لانے والے اور آپ کا اِنکار کرنے والے، دونوں قسم کے لوگ تھے اور دونوں فریقین نہایت شدید بحث میں مبتلا تھے۔یسُوع کے دشمن آپ کا گوشت کھانے اور آپ کا خُون پینے کے خیال کو لے کر مُتنفر اور برانگیختہ ہو گئے تھے۔یسُوع نے اُن دو فریقوں میں پھُوٹ ڈال دی تاکہ اُن لوگوں کو الگ کر لیتے جو آپ پر اعتماد رکھتے تھے۔آپ نے ایمان لائے ہُوئے لوگوں کی محبّت کو پرکھا لیکن دوسرے فریق کو جتایا کہ وہ اندھے ہیں۔آپ نے یہ ضرور کہا:"میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جب تک تُم میرا گوشت نہ کھاؤگے اور میرے پیالہ میں سے نہ پِیوگےتب تک تُم ابدی زندگی حاصل نہ کر پاؤگے۔"یہ الفاظ اُن کے کانوں میں گُونجتے رہے اور اُنہیں ایسے لگا گویا یسُوع کُفر بک رہے ہوں۔گویا یسُوع جو انسان ہیں اُنہیں للکار رہے ہں : "مُجھے جان سے مار ڈالو اور میرا گوشت کھا لو کوننکہ میں بذاتِ خُود ایک معجزہ ہُوں۔ میرا بدن روٹی ہے یعنی وہ ایزدی زندگی جو تمہیں عنایت کی جا چُکی ہے۔" اُن کا خُون کھولنے لگا اور وہ آگ بگولہ ہو گئے۔ البتّہ جو لوگ آپ پر ایمان لائے وہ پاک رُوح کی شفقت سے آپ کی طرف راغب ہُوئے اور ایسے ناقابلِ یقین بیان پر یقین کرکے یسُوع کے کلام کا پورا پورا فائدہ اُٹھانے کے لیے آپ پر بھروسہ کرنے لگے۔ اگر اُنہوں نے عید فسح کے موقع پر بپتسمہ دینے والے یُوحنّا نے جو کہا تھا اُس پر ذرا بھی غور کیا ہوتا تو جان جاتے تھے کہ یُوحنّا نے آپ کو خدا کا برّہ کہا تھا۔ تمام یہودی عید فسح میں شرکت کرتے ہیں اور اس موقع پر ذبح کیے ہُوئے برّوں کا گوشت کھاتے ہیں۔ اِن قربانیوں میں شریک ہوکر خدا کے غضب کو ٹالا جاتا تھا۔ یسُوع نے اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہا کہ خدا کا حقیقی برّہ آپ خود ہیں جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔

آج کل ہم جانتے ہیں کہ عشائے ربّانی کی علامتیں یہ وااضح کرتی ہیں کہ مسیح کے گوشت کو ہم جُزوِ بدن بنا لیتے ہیں اور آپ کا خُون ہمیں گناہوں سے پاک کرتا ہے، اِس فضل کے لیے ہم آپ کا شکر بجا لاتے ہیں۔ اُس وقت اہلِ گلیل اِس راز کو نہ جانتے تھے اور آپ کا کلام اُن کے ذہن کو بدحواس کر رہا تھا۔یسُوع اُن کے ایمان کو پرکھ رہے تھے لکنی اُن کی ضِد بہت جلد شعلہ کے رُوپ میں بھڑک اُٹھی۔

ہم نہایت خوشی اور شکرگزاری کے ساتھ مسیح کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ آپ نے عشائے ربّانی کو علامتوں کے ذریعہ ہم پر واضح کیا اور یہ کہ آپ کس طرح اپنے رُوح کے ذریعہ ہمارے اندر آتے ہیں۔ آپ کی قربانی کے بِنا ہم خدا کی قُربت حاصل نہیں کر سکتے اور نہ ہی آپ میں جی سکتے ہیں۔ ہمارے گناہوں کی مکمل معافی ہمیں اِس قابل بنا دیتی ہے کہ آپ ہمارے اندر آ سکیں۔ آپ پر ایمان لانے سے یہ معجزہ پیش آتا ہے اور ہمیں آپ کے پُر جلال دوبارہ جی اُٹھنے میں شرکت کا موقع بخشتا ہے۔ہم برّہ کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ آپ نے ہمیں نجات بخشی۔ یسُوع ہماری خاطر صرف صلیب پر اپنی جان دے کر ہی مطمئن نہیں ہیں بلکہ آپ ہمیں معمور کرنا بھی چاہتے ہیں اور اِس طرح ہم مُقدّس بن جاتے ہیں جس کی بدولت ہمیشہ جیتے بھی رہیں گے۔

یُوحناّ ٦: ۵۷۔۵۹
۔۵۷ جس طرح زندہ باپ نے مُجھے بھیجا اور میں باپ کے سبب سے زندہ ہُوں، اُسی طرح وہ بھی جو مُجھے کھائے گا میرے سبب سے زندہ رہے گا۔ ۵۸ جو روٹی آسمان سے اُتری یہی ہے۔ باپ دادا کی طرح نہیں کہ کھائے اور مر گئے۔ جو یہ روٹی کھائے گا، ابد تک زندہ رہے گا۔ ۵۹ یہ باتیں اُس نے کُفرنحوم کے عبادت خانہ میں تعلیم دیتے وقت کیںگ۔

مسیح ہمیں قادرِ مُطلق خدا میں زندگی کے بارے میں بتاتے ہیں جو زندہ باپ ہے۔ وہ ازل سے ابد تک باپ ہے اور محبّت کا سرچشمہ ہے۔ مسیح باپ میں رہتے ہیں اور خود اپنی خاطر نہیں بلکہ باپ کی خاطر موجود ہیں۔آپ کی زندگی کا مقصد خود اپنی خواہش پوری کرنے میں نہیں ہے بلکہ اپنے باپ کی مکمل اطاعت میں ہے جس نے آپ کو اپنی ذات سے پیدا کیا۔ بیٹا باپ کی خدمت کرتا ہے اور باپ بیٹے سے محبّت کرتا ہے اور اپنی معموری میں بیٹے کے ذریعہ کام کرتا ہے۔

یسُوع نے شدید مخالفت کے درمیان اپنے اور باپ کے اتّحاد کا راز فاش کیا۔ آپ نے لوگوں کو ایک اعلیٰ انکشاف پیش کیا:"جس طرح میں باپ کے لیے جیتا ہُوں اور اُس میں ہُوں اُسی طرح میں تمہاری خاطر اور تُم میں جینا چاہتا ہُوں۔ تاکہ تُم میرے لیے اور مُجھ میں جِیو۔" عزیز بھائی، کیا تُم مسیح کے ساتھ ایسا انتہائی قریبی رشتہ قائم کرنے کے لیے تیّار ہو؟ تُم یسُوع کو اپنے تمام ارادوں اور اپنی ہستی کی تمام قوّتوں کے ساتھ قبول کروگے یا نہیں؟ کیا تُم اپنے ضمیر کو مَوت کے حوالہ کروگے تاکہ خداوند تُم میں جی سکے؟

مسیح عملی اصلاحات کے ساتھ اِس دُنیا میں نہیں آئے، نہ ہی آپ ہماری مدد کی خاطر دولت بھیجتے ہیں، نہ آپ دیہات سُدھار کے منصوبے بناتے ہںی۔ نہںک! بلکہ آپ دلوں کو بدلتے ہیں تاکہ لوگ ہمیشہ خدا پرست و مُتّقی زندگی گزاریں۔آپ نے ایمانداروں کو اپنی اُلوہیّت میں شریک ہونے کی پیشکش کی۔ اس طرح آپ ہم میں ایک نہ مرنے والا نیا اِنسان پیدا کرتے ہیں جو زندہ رہتا ہے، محبّت کرتا ہے اور خدمت کرتا ہے۔اُس کا نصبُ العین خدا ہوتا ہے۔

اِس اِنجیل کے چھٹے باب کا پھر سے مطالعہ کیجیے اور گِن لیجیے کہ اُس میں مسیح نے کتنی بار، "باپ"، "زندگی" اور "دوبارہ جی اُٹھنا" جیسے الفاظ اور اُن سے اخذ کیے ہُوئے فقرے استعمال کیے ہیں۔ اِس سے آپ فوراً یُوحنّا کی اِنجیل کا اصل مطلب سمجھ پائںپ گے۔ مسیح پر ایمان لانے والا شخص باپ کے رُوح میں جیتا ہے اور جلال کے ساتھ دوبارہ جی اُٹھنے کی جانب قدم بڑھاتا ہے۔

دعا: اے خداوند یسُوع مسیح،ہمارے پاس آنے اور ہمیں خُوشی سے معمور باپ کی زندگی بخشنے کے لیے ہم آپ کے شکرگزار ہیں۔ ہمارے گناہ بخش دیجیے اور ہماری تقدیس کیجیے تاکہ ہم نہایت صبر اور پیار کے ساتھ آپ کی خدمت کر سکں اور نہایت فروتنی کے ساتھ آپ کی پیروی کرتے رہںہ اور صرف اپنے لیے ہی نہ جِئیں۔

سوال ۴۹۔ یسُوع نے اپنے سامعین سے یہ کیوں کہا کہ اُنہیں آپ کا گوشت کھانا ہے اور آپ کا خُون پینا ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:42 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)