Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 048 (Jesus and his brothers)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ج : یسُوع کی یروشلیم میں آخری آمد۔ (يوحنَّا ۷: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴﴾ تاریکی اور نُور کی علحدگی٠

۔۱۔ عیدِ خیام کے موقع پر یسُوع کا کلام (یُوحنّا ۷: ۱ ۔ ۸: ۵۹)٠

الف ۔ یسُوع اور آپ کے بھائی (یُوحنّا ۷: ۱۔۱۳)٠


یُوحناّ ۷: ۱۔۵
۔۱ اِن باتوں کے بعد یسُوع گلیل میں پھرتا رہا کیونکہ یہودیہ میں پھرنا نہ چاہتا تھا، اِس لیے کہ یہودی اُس کے قتل کی کوشش میں تھے ۲ اور یہودیوں کی عیدِ خیام نزدیک تھی۔ ۳ پس اُس کے بھائیوں نے اُس سے کہا: یہاں سے روانہ ہوکر یہودیہ کو چلا جا تاکہ جو کام تُو کرتا ہے اُنہیں تیرے شاگرد بھی دیکھیں۔ ۴ کیونکہ ایسا کوئی نہیں جو مشہور ہونا چاہے اور چھُپ کر کام کرے۔ اگر تُو یہ کام کرتا ہے تو اپنے آپ کو دُنیا پر ظاہر کر۔ ۵ کیونکہ اُس کے بھائی بھی اُس پر ایمان نہ لائے تھے۔

یسُوع کی اپنے جلال کے متعلق گواہی سُن کر عوام حیرت زدہ ہوگیے۔ یروشلیم میں آپ کے چند دوستوں نے آپ سے قطع تعلق کر لیا اور گلیل میں کئی پیروؤں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ دارُ الحکومت کے تنگ نظریہ والے لوگ یہ ماننے کو تیّار نہ تھے کہ یہ نوجوان آدمی مرُدوں کو جِلانے والا اور دُنیا کی عدالت کرنے والا شخص ہی ہے۔اور گلیل کے پارسا لوگ یہ سُن کر بدظن ہو گیے تھے کہ آپ کا گوشت کھانا اور خُون پینا نہایت ضروری ہے۔وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ عشائے ربّانی کی علامتیں ہیں۔

یروشلیم کی عدالتِ عالیہ کے چند اراکین نے آپ کی جان لینے کی ٹھان لی۔اُنہوں نے آپ کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا اور جو یہودی آپ پر ایمان لائے تھے اُنہیں دھمکی دی کہ اگر وہ آپ کی پیروی کرنا چھوڑ نہ دیں تو عبادت خانوں سے خارج اور برکتوں سے محروم کیے جائیں گے۔ عدالتِ عالیہ کے جاسوس گلیل کے علاقہ میں گشت لگا رہے تھے تاکہ یسُوع کے متعلق معلومات فراہم کریں۔تعجب نہیں جو بھِیڑ آپ سے الگ ہو گئی کیونکہ اسے قوم کے سربراہوں سے اذیّت رسانی اور مسیح میں پائے جانی والی ابدی نجات میں سے کوئی ایک طریقہ چُننا تھا۔اُنہوں نے اِس جہاں کو آنجہاں پر یعنی اپنے تحفُّظ کو خدا کی نعمت پر ترجیح دی۔

آپ کے بھائیوں کو اپنی قوم کی معاشری زندگی سے خارج کیے جانے کا خطرہ لاحق تھا۔لہٰذا وہ آپ کی تشہیر سے الگ ہو گیے تاکہ یہودی عبادت خانوں سے خارج نہ کیے جائیں (مرقس کی اِنجیل ۶: ۳)۔اُنہوں نے آپ کو گلیل سے چلے جانے کو کہا تاکہ وہ آپ کے متعلق ذمّہ داری سے بری ہو جائیں اور اِس لیے بھی کہ آپ یروشلیم جاکر اپنا جلال ظاہر کرنے پر مجبور ہو جائیں۔برسوں تک آپ کے ساتھ رہنے کے باوجود وہ آپ کی اُلوہیّت پر ایمان نہ لائے اور آپ کی محبّت اور شفقّت کو معمولی چیز گردانا۔افسوس اس بات کا ہے کہ کئی معتقد آپ کی سچّائی کو سمجھے بنا محض آپ کی محبّت کی خاطر آپ کا احترام کرتے ہیں۔

یسُوع کے بھائیوں نے آپ کے معجزے دیکھے تھے۔اِس کے باوجود اُنہیں یقین نہ ہُوا کہ آپ ہی موعودہ مسیح ہیں جس کے آگے ہر گھُٹنہ جھُکے گا۔ آپ کی تحریک کمزور ہوتی دیکھ کر اور آپ کے پیرو آپ کو چھوڑ کر جاتے ہُوئے دیکھ کر اُنہیں بہت برا لگا۔ اُنہوں نے یسُوع کو آزمایا، ٹھیک اُسی طرح جیسے شیطان نے آپ کو بیابان میں آزمایا تھا۔اُس وقت شیطان نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ آپ ہیکل میں عبادت گزاروں کے روبرو اپنا جلال ظاہر کریں تاکہ ڈرامائی انداز میں اُن کا دل جیت لیں۔ یسُوع کو اپنی تعظیم سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔آپ نے حلیمی اور اِنسانی فطرت کی کمزوری کو پسند کیا اور یہ کبھی نہ چاہا کہ آپ کسی اعلیٰ طریقہ سے لوگوں کو نقلِ مذہب کی ترغیب دیں۔

یُوحناّ ۷: ٦۔۹
۔٦ پس یسُوع نے اُن سے کہا کہ میرا تو ابھی وقت نہیں آیا مگر تمہارے لیے سب وقت ہیں۔ ۷ دُنیا تُم سے عداوت نہیں رکھ سکتی لیکن مُجھ سے رکھتی ہے کیونکہ میں اُس پر گواہی دیتا ہُوں کہ اُس کے کام بُرے ہیں۔ ۸ تُم عید میں جاؤ۔ میں ابھی اِس عید میں نہیں جاتا کیونکہ ابھی تک میرا وقت پورا نہیں ہُوا۔ ۹ یہ باتیں اُن سے کہہ کروہ گلیل ہی میں رہا۔

لوگ مغرور ہو گیے ہیں کیونکہ شیطان کی رُوح نے اُنہیں ناپاک کر دیا ہے۔ غرور، رُوحانی بیماری اور دماغی علالت کی نشانی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر کوئی خدا کے مقابلہ میں کمتر اور کمزور ہے اور مَوت اُس کی قسمت میں لکھی ہُوئی ہے۔وہ اپنی کمزوری پر پردہ ڈالنے کے لیے شاندار پوشاک پہنتا ہے۔ مغرور انسان اپنے آپ کو خدائے صغیر سمجھتا ہے جو اپنی مرضی سےجو چاہے کرے یا کچھ بھی نہ کرے۔وہ خدا کو نظر انداز کرکے اپنے روز مرّہ کے کاموں اور راہ وروش کے منصوبے خود بناتا ہے۔ فطرتاً وہ اپنے خالق سے بغاوت کرتا ہے۔انسان خود اپنے آپ سے ہی محبّت کرتا ہے، خدا سے نہیں؛ خود اپنے نام کو سراہتا ہےلیکن آسمانی باپ کے نام کی تمجید نہیں کرتا۔

لوگوں کے نہ صرف خیالات اور ارادے بلکہ تمام اعمال برے ہوتے ہیں۔کیونکہ جو کوئی اپنے خداوند کے بنا جیتا ہے وہ اس کے خلاف جیتا ہے۔ سائنس کی اکثر ایجادیں اور دریافتیں، سیاسی اُصول اور فلسفی طریقے، گناہ ہی کے حلقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن میں مَوت کے بیج ہوتے ہیں۔

مسیح نے بتایا کہ دُنیا آپ سے نفرت کرتی ہے۔آپ اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے کے لیے نہیں آئے۔آپ اور باپ ایک ہیں اور آپ باپ کی شراکت میں کام کرتے ہیں۔پارسا لوگوں کے لیے بھی آپ سنگِ راہ ثابت ہُوئے کیونکہ جو محبّت آپ عنایت کرتے ہںب وہ شرعی نہیں بلکہ ایزدی ہے۔وہ آپ سے نفرت کرتے تھے کیونکہ آپ نے دعوئی اِلقا (خود ساز راستبازی) کو موقوف کردیا تھا۔

مسیح کے بھائیوں نے پاک رُوح کو قبول نہ کیا تھا بلکہ وہ دُنیاوی رُوح سے معمور ہو چُکے تھے اور اِس طرح سے وہ اصول کی بنا پر فریسیوں کے ہم خیال تھے۔اُن کے ایمان کی کمی یہ ثابت کرتی تھی کہ خدا کی پُر محبّت رُوح اُن میں نہ تھی بلکہ کوئی اور رُوح اُن کی رہنمائی کرتی تھی جو اپنے آپ پر فخر کرتی تھی اور خدا سے بغاوت۔وہ اپنے نیک اعمال کی قدروقیمت پر یقین کر کے خود کو دھوکا دے رہے تھے۔

یُوحناّ ۷: ۱۰۔۱۳
۔۱۰ لیکن جب اُس کے بھائی عید میں چلے گیے اُس وقت وہ بھی گیا؛ ظاہر نہیں بلکہ گویا پوشیدہ۔ ۱۱ پس یہودی اُسے عید میں یہ کہہ کر ڈھونڈنے لگے کہ وہ کہاں ہے؟ ۱۲ اور لوگوں میں اُس کی بابت چُپکے چُپکے بہت سی گفتگو ہُوئی۔ بعض کہتے تھے وہ نیک ہے اور بعض کہتے تھے نہیں بلکہ وہ لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔ ۱۳ تو بھی یہودیوں کے ڈر سے کوئی شخص اُس کی بابت صاف صاف نہ کہتا تھا۔

یہودی ہر سال عیدِ خیام نہایت جوش و خروش کے ساتھ منایا کرتے تھے۔درختوں کی شاخوں سے وہ گھروں کی چھتوں پر یا سڑک کے کنارے خیمے بناتے تھے، جس میں آرام کرتے تھے۔اس عید کے موقع پر لوگ ایک دوسرے سے ملاقات کرتے اور لذیذ کھانوں کا لطف اُٹھاتے تھے۔خدا نے کثرت سے فصل اُگانے کی شکر گزاری میں یہ عید منائی جاتی ہے۔یہ کُنج یا خیمے اُنہیں بیابان کے سفر کی یاد دلاتے ہیں کیونکہ اُن دِنوں میں اُن کے پاس زمین پر بسنے کے لیے کوئی شہر نہ تھا۔

یسُوع نے اِس عید کی مسرّتوں پر بحث نہ کی کیونکہ آپ اور آپ کے شاگردوں کو مسلسل اذیّتیں پہنچائی جا رہی تھیں۔ آپ نے اپنے بھائیوں کو جانے دیا لیکن بعد میں خود بھی یروشلیم گیے اور گلیل کو الوداع کہا جو کہ آپ کا دُنیاوی مسکن تھا۔قطعی گھڑی آ پہنچی تھی جو دَنیا کی تاریخ میں انتہائی گھڑی تھی یعنی خدا کے غضب کے باعث ہماری نجات کی خاطر آپ کی مَوت۔یہودی، یسُوع کے متعلق الگ الگ خیالات اور رائے رکھتے تھے۔بعض یہودی آپ کو خدا کی طرف سے آئے ہُوئے نیک انسان اور اصلاح کرانے والا شخص سمجھتے تھے لیکن کچھ اور یہودی آپ کو لوگوں کو گمراہ کرنے والا قرار دے کر مَوت کا حقدار سمجھتے تھے۔اِس لیے آپ کی موجودگی اُن پر خدا کا غضب نازل کرے گی اور اُن کی عید کی خوشیاں حرام ہو جائیں گی۔عدالتِ عالیہ نے حکم جاری کر کے لوگوں میں اِس اُمّید سے اعلان کیا تھا کہ آپ کے پیرو آپ کی پیروی کرنے سے ہِچکِچائیں۔اس کے بعد کسی نے یسُوع کے متعلق علانیہ بات کرنے کی جرأت نہ کی۔

دعا: خداوند یسُوع،آپ کی حلیمی کی خاطر اور خدا کی اطاعت کرنے کے لیے ہم آپ کے شکرگزار ہیں۔ہمیں دُنیاوی روّیہ سے آزاد کیجیے تاکہ ہم آپ کی رُوح سے معمور ہو جائیں۔ہمیں بُری روش سے بچائیے اور ہمارے باطن کو شفا عنایت کیجیے تاکہ ہم آپ کی ایسی خدمت کریں جو آپ کو سزاوار ہے۔

سوال ۵۲۔ دُنیا یسُوع سے نفرت کیوں کرتی ہے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 17, 2012, at 10:45 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)