Waters of Life

Biblical Studies in Multiple Languages

Search in "Urdu":
Home -- Urdu -- John - 067 (Jesus is the Good Shepherd)
This page in: -- Arabic -- Armenian -- Bengali -- Burmese -- Cebuano -- Chinese -- English -- Farsi? -- French -- Georgian -- Hausa -- Hindi -- Igbo -- Indonesian -- Javanese -- Kiswahili -- Kyrgyz -- Malayalam -- Peul -- Portuguese -- Russian -- Serbian -- Somali -- Spanish? -- Tamil -- Telugu -- Thai -- Turkish -- URDU -- Uyghur? -- Uzbek -- Vietnamese -- Yiddish -- Yoruba

Previous Lesson -- Next Lesson

یُوحنّا کی اِنجیل - نُور تاریکی میں چمکتا ہے

کتابِ مقُدّس میں مُندرج، یُوحنّا کے مطابق مسیح کی اِنجیل پر مبنی سِلسِلۂ اسباق

حصّہ دوّم : نُور تاریکی میں چمکتا ہے (یُوحنّا ۵: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴)٠

ج : یسُوع کی یروشلیم میں آخری آمد۔ (يوحنَّا ۷: ۱ ۔ ۱۱: ۵۴) تاریکی اور نُور کی علحدگی٠

۔۳ : یسُوع ،اچھا چرواہا ( یُوحنّا ۱۰: ۱۔۳۹)٠

ج : یسُوع ،اچھا چرواہ ہیں ( یُوحنّا ۱۰: ۱۱۔۲۱)٠


یُوحنّا ۱۰: ۱۱۔۱۳
۔۱۱ اچھا چرواہا میں ہُوں۔اچھا چرواہا بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا ہے۔ ۱۲ مزدور جو نہ چرواہا ہے، نہ بھیڑوں کا مالک، بھیڑئے کو آتے دیکھ کر بھیڑوں کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے اور بھیڑیا اُن کو پکڑ کر پراگندہ کرتا ہے ۱۳ وہ اِس لیے بھاگ جاتا ہے کہ مزدور ہے اور اُس کو بھیڑوں کی فکر نہیں۔

خدا نے نہایت صبر کے ساتھ ان بادشاہوں، جھُوٹے نبیوں اور کاہنوں کو برداشت کیا جو دھوکا دیتے رہے اور اُس کے مُنتشر لوگوں کو بِن چرواہے کی بھیڑیں سمجھتے رہے۔چنانچہ اُس نے ہماری خاطر مسیح کو اچھے چرواہے کے طور پر بھیجا۔آپ نے آکر کہا:"میں حقیقی بادشاہ،سردار کاہن اور نبی ہُوں جو آخری مکاشفہ کے ساتھ تیّار ہے۔" مسیح کی ہستی میں ہم چرواہے کی سبھی ذمّہ داریاں اِکٹھی پاتے ہیں۔آپ بجا طور سے فرما سکتے ہیں:"اے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو!میرے پاس آؤ، میں تمہیں آرام بخشوں گا۔" میں تمہارا ناجائز فائدہ نہ اُٹھاؤں گا بلکہ تمہیں گمراہ زندگی اور ہر خطرہ سے بچا لُوں گا۔

آپ ہی اکیلے اچھے چرواہے ہیں، اس کا ثبوت اس بات میں ملتا ہے کہ شروع ہی سے آپ اپنی بھیڑوں کی خاطر اپنی جان دینے کے لیے راضی تھی۔ آپ نے محض یہ نہ کہا کہ آپ اپنا بدن قربان کریں گے بلکہ آپ نے اپنا بدن، جان اور رُوح، سبھی خدا کے گلّہ کی نجات کے لیے پیش کیا۔آپ نے پہلے لمحہ سے ہی اپنے پیروؤں کی خدمت کے لیے جانفشانی کی۔آپ کی جسمانی مَوت آپ کی جانفشانی کا تاج تھا۔یاد رکھیے کہ یسُوع محض اپنے ہی لیے نہ جیے یا صرف اپنے ہی لیے جان نہ دےدی۔یسُوع جیے اور مرے تو صرف آپ کے لیے۔

ایمان نہ رکھنے والے چرواہے جلد پہچانے جاتے ہیں کیونکہ خطرہ کے موقع پر وہ بھاگ کر چھُپ جاتے ہیں اور اِس طرح صرف اپنی جان کی فکر لیتے ہیں۔وہ بھیڑوں کو بھیڑیوں کے لیے چھوڑ جاتے ہیں کیونکہ وہ ضرور آہی جاتے ہیں۔ وہ خود درندے نہیں ہوتے لیکن اُن ہی کی طرح عمل کرتے ہیں۔ شیطان اُن کا باپ ہے۔ابتدائی بھیڑئے کی طرح شیطان کا منشا بھی اُنہیں تباہ و تلف کرنا ہوتا ہے۔اُس کے حملے نفرت بھرے اور کینہ پرور ہوتے ہیں،جو سخت اذیّت پہنچاتےہیں اور جان لیوا ہوتے ہیں۔ وہ دلکش آزمائشوں اور سفید جھُوٹ لے کر آتا ہے۔ ہم پادریوں کو محبّت کا عذر پیش کرتے ہُوئے جھُوٹی تعلیم کو نہ تو برداشت کرنا چاہئے اور نہ نظر انداز ہی کرنا چاہئے۔لیکن محبّت کی خاطر اگر ضرورت ہو تو ہمیں نہایت عقلمندی اور پوری قوّت سے سچّائی کا تحفُّظ کرنا چاہئے۔مسیح کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ آپ کا دوزخ کی رُوحوں کے ساتھ ہمیشہ تصادم رہا۔آپ نے سبھی سچّائی نہایت پیا رکے ساتھ اپنے خادموں کو بتائی تاکہ وہ خاطر خواہ طریقہ سے گلّہ بانی کریں اور اُس کا شیطانی ارواح کے حملوں سے بچاؤ کریں۔بھوکے بھیڑیوں کا ارادہ صاف ہوتا ہے کیونکہ وہ جھُوٹے الزام لگا کر اور شدید اذیّت رسانی کے ذریعہ خدا کی کلیسیا کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ خدا کے گلّہ میں خدمت کرنا اور احترام حاصل کرنا چاہتے ہیں؟نوٹ کر لیجیے کہ اس کا مطلب جھگڑا ،اذیّت اور قربانی ہو سکتا ہے۔ اور اُس سے آرام تو درکنار، کوئی فائدہ یا خوشی بھی نصیب نہیں ہوتی۔

یُوحنّا ۱۰: ۱۴۔۱۵
۔۱۴ اچھا چرواہا میں ہُوں جس طرح باپ مُجھے جانتا ہے اور میں باپ کو جانتا ہُوں، ۱۵ اُسی طرح میں اپنی بھیڑوں کو جانتا ہُوں اور میری بھیڑیں مُجھے جانتی ہیں اور میں بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا ہُوں۔

یسُوع نے دوسری بار دعویٰ کیا کہ آپ ایک انوکھے چرواہے ہیں۔ ہم سب ناکامی سے دوچار ہوتے ہیں اور جیسا چاہتے ہیں ویسی خدمت کر نہیں پاتے کیونکہ ہم اپنے دشمن کو بخوبی نہیں جانتے اور ہم بھیڑوں کی ذہنیت کو بھی مکمل طور سے سمجھ نہیں پاتے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ اُنہیں بہترین چراگاہ کی طرف کیسے لے جائیں۔مسیح ہر شخص کو اُس کے نام سے جانتے ہیں اور اُس کے ماضی، اُس کے خیالات اور اُس کے مستقبل کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔

مسیح نے اپنی بھیڑیں آپ چُن لیں اور اُنہیں آپ کو بخوبی جاننے کی توفیق بخشی۔جوں ہی وہ آپ کو بہتر طور پر جاننے لگتے ہیں، تعجب کرنے لگتے ہیں کہ آپ نے اُنہیں اب تک ترک کیوں نہ کیا۔آپ کی موجودگی ہی ہمیں اپنی کمزوریاں بتاتی ہے۔یہ مُڈبھیڑ گہری محبّت پیدا کرتی ہے جو شکرگزاری اور ابدی عہد یا بندھن قائم کرتی ہے۔

یسُوع اور آپ کے گلّہ کے درمیان کی آپسی معلومات اوپری یا دنیاوی نہیں ہوتی بلکہ وہ پاک رُوح کی عنایت ہوتی ہے کیونکہ ہم یسُوع کو ایسے محسوس کرتے ہیں جیسے آپ اپنے آسمانی باپ کو دیکھتے ہیں اور جیسے باپ بیٹے کو جانتا ہے۔یہ ایک راز ہے کہ ہر مسیحی، پاک رُوح کے نازل ہونے سے خدا کے عرفان کی سچّائی مسیح کے ذریعہ جان لیتا ہے۔اس کا یہ بھی مطلب ہُوا کی خدا کا رُوح اس کے گلّہ میں قائم رہتا ہے اور اُنہیں معمور کرتا ہے۔ کسی کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔

یُوحنّا ۱۰: ۱۶
۔۱۶ اور میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اِس بھیڑ خانہ کی نہیں۔ مُجھے اُن کو بھی لانا ضرور ہے اور وہ میری آواز سُنیں گی۔پھر ایک ہی گلّہ ور ایک ہی چرواہا ہوگا۔

مسیح نے کسی خاص قوم کے لیے نہیں بلکہ سبھی کے لیے اپنی جان دی۔آپ نے صرف پرانے عہد کے ضِدّی لوگوں کو ہی نہیں بلکہ دوسری قوموں میں پائے جانے والے بدکاروں کو بھی نجات بخشی۔آپ نے پیش گوئی کی کہ آپ کی موت ساری دُنیا کی کئی بھیڑوں کو نجات بخشے گی۔کوئی شخص خود اپنی کوشش کے باعث خدا کے پاس نہیں آتا۔ اُنہیں ایک رہنما اور اچھے چرواہے کی ضرورت ہوتی ہے۔اور یہ چرواہا مسیح کو ہونا تھا۔آپ بذاتِ خود قو موں اور ہر خاص و عام کے طاقتور حکمران ہیں۔آپ کی رُوحانی ہدایت آپ کے کلام سے ہوتی ہے۔جس طرح بھیڑیں اپنے چرواہے کی آواز پہچانتی ہیں اسی طرح ہر طرف لوگ مسیح کی آواز سُننے کے لیے تیّار کیے جاتے ہیں اور وہ بہت جلد ایمان لاتے ہیں۔ پرانے عہدنامہ کےمنتخب لوگوں اور دوسری قوموں کے معتقدوں کے اکٹھے ہونے سے مسیح کی قیادت میں ایک نئی رُوحانی جماعت وجود میں آئی۔آج نئے عہدنامہ کے لوگ خدا کا گلّہ بن گئے ہیں اور یسُوع ہمارے چرواہا ہیں۔ وہ سب لوگ جو خوشی سے اِنجیل کا پیغام سُنتے ہیں اور خدا کے بیٹے،مسیح پر ایمان لاتے ہیں وہ حقیقی کلیسیا کے اراکین ہوتے ہیں، خواہ وہ مختلف فرقوں میں کیوں نہ شریک ہوں۔ہمارا ایک رُوح، ایک خداوند، ایک ہی باپ ہے۔یہ رُوح اُن سب پر نازل ہوتا ہے جو مسیح کے خُون سے پاک کیے گیے ہیں۔مسیح کے گلّہ کا اتحاد ہمارے تخیُّل سے عظیم تر ہے۔اِس گلّہ میں دنیا کے ہر کونہ سے بھیڑیں جمع کی گئی ہیں۔اچھا چرواہا بذاتِ خود آکر اپنے وفادار اور معمولی پیروؤں کی قیادت کرکے اُنہیں جلالی بنائیں گے۔تب صرف ایک ہی گلّہ اور ایک چرواہا ہوگا۔لیکن آج اگر کوئی انسانی طریقوں اور رواجوں اور دنیاوی ارادوں کے ذریعہ کلیسیا قائم کرنے کی کوشش کرتا ہےاُسے کسی بڑے بھیڑئے کے جال میں پھنس جانے کا اندیشہ ہوسکتا ہے جو گلّہ کا دھیان اُن کے چرواہے پر سے ہٹا کر اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔البتّہ ہم اُس وقت تک ایک دو سرے کے قریب نہیں آ سکتے جب تک مسیح کے قریب نہ آئیں۔

یُوحنّا ۱۰: ۱۷۔۱۸
۔۱۷ باپ مُجھ سے اِس لیے محبّت رکھتا ہے کہ میں اپنی جان دیتا ہُوں تاکہ اُسے پھر سے لُوں۔ ۱۸ کوئی اُسے مُجھ سے چھینتا نہیں بلکہ میں اُسے آپ ہی دیتا ہُوں۔مُجھے اُسے دینے کا بھی اختیار ہے اور اُسے پھر لینے کا بھی اختیار ہے۔ یہ حکم میرے باپ سے مُجھے ملا۔

ہمارا ایمان ہے کہ خدا مبّتس ہےاور وہ ہمیشہ اپنے بیٹے سے محبّت کرتا ہے۔ کیونکہ یسُوع نے ہمیشہ وہی کیا جس سے آپ کا باپ خوش ہوتا تھا۔اب ہم پڑھتے ہیں کہ خدا کو سچ میں کیا پسند ہے: وہ صرف صلیب ہے۔مسیح کی مَوت ہی وہ غرض و غائت تھی جسے خدا نے طَے کیا تھا۔ گلّہ کو گناہ سے بچانے کا کوئی اور ذریعہ ہی نہیں ہےسوائےکفّارہ کی ادائگی اور برّہ کے خُون سے گلّہ کی تقدیس کی جانا۔

یسُوع کی موت اور آپ کا مرُدوں میں سے دوبارہ جی اُٹھنا، عظیم معجزے ہیں۔ آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ آپ جینے کے لیے مریں گے۔آپ نے اپنی جان دینے کی پیشکش کسی زبردستی کے ماتحت نہیں کی بلکہ خودبخود یہ ارادہ کیا کیونکہ آپ گنہگاروں کو نجات بخشنا چاہتے تھے ۔آپ حقیقی محبّت ہیں۔آپ کے باپ نے آپ کو ساری دنیا کو نجات بخشنے کا اختیار بخشا اور مرنے کے بعد دوبارہ جی اُٹھنے کا بھی اختیار بخشا۔کوئی شخص صلیب پر مسیح کی فتح یابی کی تکمیل کو روک نہ سکتا تھا۔شیطان اور اُس کے پیروؤں نے آپ کے نجات بخشنے کے عمل کو روکنے کی کوشش کی لیکن یہ بُغض پرور ہستی مسیح کی عظیم محبّت کے سامنے ناکام رہی۔نہ کائفا، نہ پیلاطُس اور نہ کسی اور شخص نے آپ کو اپنی جان دینے پر مجبور کیا۔یہ صرف آپ کا اپنا فیصلہ تھا۔ آپ بھیڑئے کو اپنی طرف آتے ہُوئے دیکھ کر بھاگ نہ گیے بلکہ آپ نے ہمیں بچانے کے لیے اپنی جان پیش کی۔ یہ خدا کی کامل مرضی تھی۔ یسُوع نے صلیب پر جنّت اور جہنّم کے بیچ کا جھگڑا جیت لیا۔اُس دن سے آپ کے گلّہ کو یقین دلایا گیا اور اُس پر برّہ کے خُون سے مہر لگا دی گئی۔یسُوع ہمیں ہر بحران اور تکلیف سے نکال کر اپنے جلال میں شامل کر لیتے ہیں۔

یُوحنّا ۱۰: ۱۹۔۲۱
۔۱۹ اِن باتوں کے سبب سے یہودیوں میں پھر اختلاف ہُوا۔ ۲۰ اُن میں سے بہتیرے تو کہنے لگے کہ اُس میں بدرُوح ہے اور وہ دیوانہ ہے۔ تُم اُس کی کیوں سُنتے ہو؟ ۲۱ اوروں نے کہا: یہ ایسے شخص کی باتیں نہیں جس میں بدرُوح ہو۔ کیا بدرُوح اندھوں کی آنکھیں کھول سکتی ہے؟

یہودی لیڈروں نے بھیجے ہُوئے جاسوسوں نے جب یسُوع کو یہودی حکمرانوں کو لٹیرے اور شیطان کے ایجنٹ بتاتے ہُوئے سُنا تو آگ بگولہ ہو گئے۔جب اُنہوں نے آپ کا یہ دعویٰ بھی سُنا کہ آپ اچھا چرواہا ہیں اور خصوصاً تمام قوموں کا چرواہا،تو اور بھی خفا ہو گئے کیونکہ ایسے دعوے کو یہودی برا تصوّر کرتے تھے۔وہ خود کو خدا کی برگزیدہ قوم سمجھتے تھے۔اُنہوں نے کہا کہ یسُوع میں بدرُوح ہے اور آپ کوپاگل قرار دیا اور سب کے سب آپ سے بدظن ہو گئے۔اکثر تماشہ بین اِس الزام سے متّفِق رائے تھے۔ ساری آبادی یسُوع کے خلاف اُتر آئی تھی کیونکہ آپ کی آسمانی تعلیم اُن کی سمجھ سے بعید تھی۔

پھر بھی آپ کے بعض سامعین مین اتنی ہمّت تھی کہ اُنہوں نے عوام کے روبرو گواہی دی کہ یسُوع کے کلام میں وہ خدا کی آواز سُن رہے تھے۔ آپ کا کلام کھوکھلا تخیُّل نہ تھا بلکہ قدرت اور تخلیق سے معمور تھا۔ آپ نے اندھے کے گناہ معاف کیے تھے۔گو عوام میں یسُوع کے خلاف دشمنی بڑھتی گئی لیکن آپ کی محبّت چند گنہگاروں میں جڑ پکڑتی گئی۔یسُوع قیادت کرتے ہیں اور آپ نے اپنے گلّہ کی ہمیشہ رُوح میں نہایت سکون کے ساتھ کسی خاص نصبُ العین کی جانب قیادت کی۔

دعا: اے خداوند یسُوع جو بیڑ وں کے چرواہے ہو، آپ نے ضِدّی بھیڑوں کو مسترد نہیں کیا بلکہ اُنہیں ڈھونڈتے رہے یہاں تک کہ اُنہیں پالیا اور اُن کے لیے اپنی جان دے دی۔ ہمارے گناہ بخش دیجیے۔ ہمیں عرفان کا رُوح عنایت کیاتاکہ ہم آپ کو جان سکیں جیسے آپ باپ کو جانتے ہیں۔اِس فضل کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔ آپ ہمارے نام جانتے ہیں اور ہمیں بھول نہیں جاتے۔ آپ اپنے تمام پیروؤں کے ساتھ ہماری خبر گیری لیتے ہیں ۔قوموں میں سے ایسے لوگوں کو چُن لیجیے جو آپ کا کلام سُنیں اور مُتّحِد رکھیں۔اُنہیں خونخوار بھیڑئے سے محفوظ رکھئے۔

سوال ۷۱۔ یسُوع اچھے چرواہے کیسے بنے؟

www.Waters-of-Life.net

Page last modified on April 07, 2012, at 01:19 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.2.109)